حدیث نمبر: 31071
٣١٠٧١ - حدثنا عبدة عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم في الرجل يقر بالولد ثم ينتفي منه قال: يلاعن بكتاب اللَّه، ويلزم الولد (بقضاء رسول اللَّه ﷺ) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو آدمی پہلے تو اپنے بچہ کا اقرار کرے پھر اس سے نسب کی نفی کر دے، تو کتاب اللہ کے حکم کی وجہ سے وہ لعان کرے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کی وجہ سے بچہ اس کے لیے لازم قرار دے دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 31072
٣١٠٧٢ - حدثنا عفان (قال: حدثنا همام قال) (١): حدثنا قتادة عن عكرمة عن ابن عباس قال: إن زوج بريرة كان عبدًا أسود يسمى مغيثًا، فقضى النبي ﷺ فيها أربع قضيات: فقضى أن مواليها اشترطوا الولاء، فقضى أن الولاء لمن أعطى الثمن، وخيرها (فأمرها) (٢) أن تعتد، وتُصدق عليها بصدقة، فأهدت منه إلى عائشة فذكرت ذلك للنبي ﷺ فقال: "هو لها صدقة ولنا هدية" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بریرہ کا شوہر حبشی کالا غلام تھا جس کا نام مغیث تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بریرہ کے بارے میں چار فیصلے فرمائے تھے ! بریرہ کے آزاد کرنے والوں نے حق ولاء کی شرط لگائی تھی پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ حق ولاء اس شخص کو ملے گا جو ثمن ادا کرے گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو زوج کے بارے میں اختیار دیا تھا اور ان کو حکم دیا کہ وہ عدت گزاریں۔ اور بریرہ کو کچھ صدقہ ملا تھا انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ دیا تھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر فرمائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ صدقہ ہے اس کے لیے اور ہدیہ ہے ہمارے لیے۔
حدیث نمبر: 31073
٣١٠٧٣ - حدثنا شبابة (قال) (١): حدثنا ليث بن سعد عن ابن شهاب عن سعيد ابن المسيب عن أبي هريرة قال: قضى رسول اللَّه ﷺ (٢) في جنين امرأة من بني لحيان سقط ميتا بغرة: عبد أو أمة، ثم إن المرأة التي قضى عليها بالغرة توفيت فقضى رسول اللَّه ﷺ أن ميراثها لزوجها وبنيها، وأن العقل على عصبتها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو لحیان کی عورت جس نے مردہ بچہ جنا تھا اس کے حق میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا۔ پھر وہ عورت جس کے خلاف غرّہ کا فیصلہ فرمایا تھا وہ مرگئی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی میراث اس کے شوہر اور اس کے بیٹے کو ملے گی، اور دیت کا ادا کرنا عورت کے عصبی رشتہ داروں کی ذمہ داری ہوگی۔
حدیث نمبر: 31074
٣١٠٧٤ - حدثنا معاوية بن هشام (حدثنا) (١) الثوري عن حميد الأعرج عن طارق المكي عن جابر قال: قضى رسول اللَّه ﷺ في (امرأة) (٢) من الأنصار أعطاها ابنها حديقة من تحل (فماتت) (٣) فقال ابنها: إنما أعطيتها (حياتها) (٤)، وله إخوة فقال (له) (٥) رسول اللَّه ﷺ: " (هي) (٦) (لها) (٧) حياتها وموتها"، قال: (فإني) (٨) كنت تصدقت بها عليه، قال: "فذاك (أبعد) (٩) لك" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کی ایک عورت کے بارے میں فیصلہ فرمایا جسے اس کے بیٹے نے کھجور کا ایک باغ عطیہ دیا تھا پس وہ عورت مرگئی تو اس کا بیٹا کہنے لگا میں نے تو یہ باغ اپنی ماں کو صرف ان کی زندگی کے لیے دیا تھا ، اور اس انصاری کا بھائی بھی تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہدیہ ان کی زندگی اور موت دونوں کے لیے شمار ہوگا ۔ انصاری کہنے لگے : یقینا میں نے تو یہ باغ ان پر صدقہ کیا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس اب تو یہ تیرے لیے بہت بعید ہے۔
حدیث نمبر: 31075
٣١٠٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن جريج عن عطاء (أو) (١) ابن أبي مليكة وعمرو بن دينار (قالوا) (٢): ما زلنا نسمع أن رسول اللَّه ﷺ قضى في ⦗٩٣⦘ العبد الآبق يوجد خارجا من الحرم دينارا (أو) (٣) عشرة دراهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت ابن ابی ملیکہ اور عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ ہم ہمیشہ سے یہی سنتے رہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھگوڑے غلام کے بارے میں جس کو حرم سے باہر پکڑا گیا ہو ایک دینار یا دس دراہم کا فیصلہ فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 31076
٣١٠٧٦ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن محمد أن النبي ﷺ (لما) (١) قضى الولد لابن زمعة قال: " (يا سودة) (٢) احتجبي منه"، وقال: "إني لو لم أفعل هذا لم يشأ رجل أن يدعي ولد رجل إلا ادعاه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچہ کا فیصلہ ابن زمعہ کے حق میں فرمایا تو کہا : اے سودہ تم اس بچہ سے پردہ کرو، اور فرمانے لگے : کہ اگر میں یہ فیصلہ نہ کرتا تو جس آدمی کا بھی دل چاہتا کہ وہ کسی کے بچہ کے بارے میں دعویٰ کرے تو وہ دعویٰ کردیتا۔
حدیث نمبر: 31077
٣١٠٧٧ - حدثنا عفان (قال) (١): حدثنا همام (حدثنا) (٢) قتادة عن سعيد بن أبي بردة عن أبيه عن جده أن رجلين ادعيا بعيرا، فبعث كل منهما بشاهدين فقضى فيه النبي ﷺ بينهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ کے والد فرماتے ہیں : کہ دو آدمیوں نے ایک اونٹ کے بارے میں دعویٰ کردیا ، پس ان دونوں میں سے ہر ایک دو دو گواہ لے آیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اونٹ کا دونوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔
حدیث نمبر: 31078
٣١٠٧٨ - حدثنا يزيد بن هارون (١): أخبرنا (جويرية) (٢) بن أسماء عن عبد اللَّه ابن يزيد مولى المنبعث عن رجل (٣) عن (سرق) (٤) أن رسول اللَّه ﷺ ⦗٩٤⦘ قضى بشاهدين ويمين (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سُرَّق فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گواہ ہونے کی صورت میں مدّعی سے قسم لے کر فیصلہ فرمایا ہے۔