حدیث نمبر: 31031
٣١٠٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم (قال) (١): حدثنا ابن ⦗٧٧⦘ أبي ذئب عن ابن شهاب عن أبي سلمة عن جابر بن عبد اللَّه قال: قضى رسول اللَّه ﷺ بالعمرى له ولعقبه (بتلة) (٢)، ليس للمعطي فيها (شرط) (٣) ولا ثنيا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کا فصلہَ اس کے آباد کرنے والے کے لیے فرمایا اور یہ کہ اس کے بعد والوں کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ اس میں دینے والے کی کسی شرط یا استثناء کا اعتبار نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 31032
٣١٠٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ قضى بابنة حمزة لجعفر وقال: إن خالتها عنده، والخالة (والدة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سید محمد باقر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حمزہ کی بیٹی کو حضرت جعفر کی پرورش میں دینے کا فیصلہ فرمایا اور کہا کہ بیشک حمزہ کی بیٹی کی خالہ جعفر کے نکاح میں ہیں اور خالہ والدہ کی طرح ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 31033
٣١٠٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى قال: حدثنا محمد بن إسحاق عن مكحول قال: قضى رسول اللَّه ﷺ في (الموضحة فصاعدًا، قضى في الموضحة بخمس من الإبل، وفي المنقلة خمس عشرة، وفي المأمومة الثلث، وفي الجائفة الثلث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر یا چہرے کے اس زخم میں جو ہڈی تک پہنچ جائے یا اس سے بڑھ جائے یوں فیصلہ فرمایا کہ جو زخم ہڈی تک پہنچ جائے اس میں پانچ اونٹ ہیں اور وہ زخم جو ہڈی کو توڑ کر اس کی جگہ سے ہٹا دے اس میں پندرہ اونٹ ہیں۔ اور جو زخم ام الدماغ تک پہنچ جائے اس میں کل دیت کے تیسرے حصہ کا فیصلہ فرمایا اور جو زخم پیٹ کے اندر تک پہنچ جائے اس میں بھی دیت کے تیسرے حصہ کا فیصلہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 31034
٣١٠٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن الزهري قال: قضى رسول اللَّه ﷺ في) (١) الصلب الدية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
امام زہری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمر کی ریڑھ کی ہڈی میں مکمل دیت کا فیصلہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 31035
٣١٠٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن داود بن أبي هند عن عبد اللَّه بن عبيد بن عمير قال: كتب إلي أخ من بني زريق: لمن قضى رسول ⦗٧٨⦘ اللَّه ﷺ بابن الملاعنة؟ فكتبت إليه: أن رسول اللَّه ﷺ قضى به لأمه، هي بمنزلة أبيه وبمنزلة أمه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ بنو زریق کے ایک بھائی نے مجھے خط لکھ کر پوچھا ؟ کہ لعان کرنے والی کے بچہ کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس کے حق میں فرمایا تھا ؟ تو میں نے جواب میں اس کی طرف لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماں کے حق میں اس بچہ کا فیصلہ فرمایا تھا کہ وہ اس بچہ کے لیے باپ کے درجہ میں بھی ہے اور ماں کے درجہ میں بھی۔
حدیث نمبر: 31036
٣١٠٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك (عن خالد) (١) بن عرعرة عن علي قال: لما أرادوا أن يرفعوا الحجر الأسود اختصموا فيه فقالوا: يحكم بيننا أول رجل يخرج من هذه السكة، قال: فكان رسول اللَّه ﷺ أول من خرج (عليهم) (٢)، فقضى بينهم أن يجعلوه في مرط ثم ترفعه جميع القبائل كلها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب قریش مکہ نے حجر اسود کو اٹھا کر اس کی جگہ پر رکھنے کا ارادہ کیا تو ان کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ تو انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان وہ شخص فیصلہ کرے گا جو سب سے پہلے اس گلی سے نکلے گا، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے شخص تھے جو ان کے پاس تشریف لائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے درمیان یوں فیصلہ فرمایا کہ سب لوگ مل کر حجرِ اسود کو ایک چادر میں رکھیں، پھر تمام قبائل والے اکٹھے اس چادر کو اٹھائیں۔
حدیث نمبر: 31037
٣١٠٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة بن سوار (قال) (١): حدثنا ابن أبي ذئب عن (أبي) (٢) (المعتمر) (٣) (عن عمر بن) (٤) خلدة الأنصاري، قال: (جئنا أبا) (٥) هريرة في صاحب لنا أصيب بهذا الدين، يعني أفلس فقال: قضى رسول اللَّه ⦗٧٩⦘ ﷺ في رجل مات أو أفلس أن صاحب المتاع أحق بمتاعه إذا وجده إلا أن يترك صاحبه وفاء (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خلدۃ الانصاری فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابوہریرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنے ایک دوست کے معاملہ میں جو کہ قرض میں پھنس گیا تھا یعنی وہ مفلس اور دیوالیہ ہوگیا تھا تو ابوہریرہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں جو مرگیا ہو یا مفلس ہوگیا ہو یوں فیصلہ فرمایا کہ صاحب مال جب اپنا مال بعینہ اس کے پاس پائے تو وہ اپنے مال کا زیادہ حق دار ہے البتہ اگر مالک اپنا حق پورا پورا چھوڑ دے تو ٹھیک ہے۔
حدیث نمبر: 31038
٣١٠٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عمر بن راشد عن الشعبي قال: سمعته يقول قضى رسول اللَّه ﷺ بالجوار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑوس کو (شفعہ میں) معیارِ حق قرار دیا۔
حدیث نمبر: 31039
٣١٠٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (علي) (١) بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير عن يزيد بن نعيم عن سعيد بن المسيب أن (نضرة) (٢) بن أكثم تزوج امرأة وهي حامل، ففرق رسول اللَّه ﷺ بينهما وقضى لها (بالصدقة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ نضرہ بن اکثم نے ایک حاملہ عورت سے شادی کی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کردی اور عورت کے حق میں مہر کا فیصلہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 31040
٣١٠٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أن عمر قال: من يعلم قضية رسول اللَّه ﷺ في الجد؟ قال معقل بن يسار المزني: فينا قضى (به) (١) رسول اللَّه ﷺ، قال: مع من؟ ⦗٨٠⦘ قال: لا أدري، قال: لا دريت، فماذا تغني إذن؟ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک دن فرمایا کہ کون شخص دادا سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کو جانتا ہے ؟ تو معقل بن یسار المزنی کہنے لگے کہ ہمارے ایک آدمی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا تھا۔ حضرت عمر نے کہا : کہ کس چیز کا ؟ وہ کہنے لگے ! چھٹے حصہ کا ، حضرت عمر نے کہا :ـ تمہارے ساتھ کون شخص اس بات کی گواہی دے گا ؟ معقل نے کہا : کہ میں کسی کو نہیں جانتا۔ آپ نے کہا : تو نہیں جانتا ! تب کیا فائدہ ؟
حدیث نمبر: 31041
٣١٠٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن ليث عن طاوس أن امرأتين ضرتين رمت إحداهما الأخرى فأسقطت جنينًا، فقضى رسول اللَّه ﷺ فيه (١) عبدًا أو أمة أو (فرسًا) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاو وس کہتے ہیں کہ دو سوکنیں آپس میں لڑ پڑیں، اور ایک نے دوسرے کو کچھ مارا اور اس کا حمل ساقط کردیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس معاملہ میں ایک غلام یا باندی یا گھوڑے کا فیصلہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 31042
٣١٠٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد بن أبي عروبة عمن حدثه عن يحيى بن أبي كثير عن أبي الحسن مولى لبني نوفل قال: كنت أنا وامرأتي مملوكين فطلقتها ثنتين ثم أُعتقنا بعد، فأردت مراجعتها، فانطلقت إلى ابن عباس فسألته عن مراجعتها، فقال: إن راجعتها فهي عندك على واحدة ومضت اثنتان قضى بذلك رسول اللَّه ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الحسن جو کہ بنو نوفل کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ میں اور میری بیوی ہم دونوں غلام تھے پس میں نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں، پھر طلاق دینے کے بعد ہم دونوں کو آزاد کردیا گیا، تو میں نے اپنی بیوی سے رجوع کرنے کا ارادہ کیا اور مں ل رجوع سے متعلق فتویٰ لینے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، تو انہوں نے فرمایا : اگر تم اس سے رجوع کرتے ہو تو تمہارے پاس ایک طلاق کا حق ہوگا اور دو طلاقوں کا حق ختم ہوگیا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح فیصلہ فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 31043
٣١٠٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه قال: أتيت عمر ﵁ وهو بالموسم (فناديت) (١) من وراء الفسطاط: ألا إني فلان بن فلان الجرمي، وإن ابن أخت لنا عان في بني فلان، وقد عرضنا عليه قضية رسول ⦗٨١⦘ اللَّه ﷺ، (فأبى، قال: فرفع عمر جانب الفسطاط فقال: تعرف صاحبك؟ فقال: نعم، فقال: هو ذاك انطلقا به حتى (ينفذ) (٢) لك قضية رسول اللَّه ﷺ) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلیب فرماتے ہیں کہ میں حج کے زمانے میں حضرت عمر کے پاس آیا، پس میں نے خیمہ کے پیچھے سے انہیں آواز دی، خبردار ! میں فلاں بن فلاں قبیلہ جرمی کا باشندہ ہوں، اور بیشک ہمارا بھانجھا فلاں قبیلے والوں کی قید میں ہے اور ہم نے ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ پیش کیا ہے پس انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا ہے ؟ کلیب کہتے ہیں : حضرت عمر نے خیمہ کی ایک جانب کو اٹھایا پھر فرمانے لگے : تو اپنے ساتھی کو پہچانتا ہے ؟ تو کلیب نے کہا : جی ہاں ! وہ سامنے ہے، پھر عمر نے فرمایا : تم دونوں اس کے پاس جاؤ یہاں تک کہ تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ نافذ کردیا جائے گا کلیب کہتے ہیں : ہم کہہ رہے تھے کہ فیصلہ چار اونٹوں کا تھا۔
حدیث نمبر: 31044
٣١٠٤٤ - قال: وكنا نتحدث أن القضية كانت أربعًا من الإبل (١).
حدیث نمبر: 31045
٣١٠٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن مجالد عن الشعبي قال: ضربت امرأة امرأة فقتلتها، وألقت جنينًا ميتًا، قال: فقضى النبي ﷺ بالدية على عاقلة القاتلة، ولم يجعل على ولدها ولا على زوجها شيئًا، وقضى بالدية لزوج المقتولة وولدها، ولم يجعل لعصبتها منها شيئًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی کہتے ہیں کہ ایک عورت نے دوسری عورت کو اتنی زور سے مارا کہ اس کو قتل کردیا اور اس مردہ عورت نے ایک مرا ہوا بچہ جنا۔ شعبی کہتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیت کا بوجھ قاتلہ عورت کے خاندان والوں پر ڈالا اور قاتلہ عورت کے بیٹے اور شوہر پر دیت کا کچھ بار بھی نہیں ڈالا ، اور دیت کا فیصلہ مقتولہ عورت کے شوہر اور بیٹے کے لیے کیا اور مقتولہ عورت کے عصبی رشتہ داروں کو اس دیت میں سے کچھ حصہ بھی نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 31046
٣١٠٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون (أخبرنا) (١) محمد بن إسحاق عن أبي جعفر محمد بن علي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
امام ابو جعفر محمد بن علی رضی اللہ عنہ ، سعید بن المسیب اور حضرت مجاہد یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ حمل بن مالک بن النابغۃ کی دو بیویوں نے ایک دوسرے سے غیرت کھائی، تو ان میں سے ایک نے خیمہ کی لکڑی اٹھا کر اس زور سے ماری کہ دوسری عورت نے مردہ بچہ جنا اور خود بھی مرگئی، پس یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیت کا بوجھ قاتلہ عورت کے خاندان والوں پر ڈالنے کا فیصلہ فرمایا۔ اور مردہ بچہ کی دیت میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا تو قاتلہ عورت کا باپ یا چچا کہنے لگا : کیا ہم اس کی دیت ادا کریں جس نے نہ کھایا ہے نہ کچھ پیا ہے نہ رویا ہے اور نہ ہی چلّایا ہے، اور اس قسم کا خون رائیگاں جاتا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ شخص تو شاعر وہ جیسا کلام کرتا ہے، جی ہاں ! مردہ بچہ کی دیت غلام یا باندی ہوگی۔
حدیث نمبر: 31047
٣١٠٤٧ - وعن الزهري عن سعيد بن المسيب (١).
حدیث نمبر: 31048
٣١٠٤٨ - وعن أبان بن صالح عن مجاهد (قالوا) (١): تغايرت امرأتان لحمل بن مالك بن النابغة، فحملت إحداهما على الأخرى (بعمود) (٢) فسطاط فضربتها (فألقت) (٣) ما في بطنها وماتت، فرفع ذلك إلى رسول اللَّه ﷺ فقضى بديتها على عاقلة القاتلة وقضى في الجنين بغرة عبد أو أمة، فقال أبو القاتلة أو عمها: (أنودي) (٤) من (لا) (٥) (أكل ولا شرب) (٦) ولا صاح (ولا استهل) (٧)، ومثل ذلك يُطَلُّ، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن هذا يقول بقول شاعر، نعم فيه غرة عبد أو أمة" (٨).
حدیث نمبر: 31049
٣١٠٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن جعفر عن أبيه أن النبي ﷺ قضى بشاهد ويمين (المدعي) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر کہتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گواہ ہونے کی صورت میں مدّعی سے قسم لے کر فیصلہ فرمایا ہے، پھر ابو جعفر فرمانے لگے : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طریقہ سے تمہارے درمیان فیصلہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 31050
٣١٠٥٠ - فقال أبو جعفر: وقضى به علي فيكم (١).
حدیث نمبر: 31051
٣١٠٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن إسماعيل بن أمية قال: قضى رسول اللَّه ﷺ[في رجل قتل رجلًا وأمسكه آخر: أن يقتل القاتل ويحبس الممسك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن امیہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے آدمی کے بارے میں جس نے کسی آدمی کو قتل کیا ہو اور دوسرے آدمی نے اس مقتول کو روکا ہو، یوں فیصلہ فرمایا ہے کہ قاتل کو قصاصاً قتل کیا جائے گا، اور روکنے والے کو قید میں ڈال دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 31052
٣١٠٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: أخبرنا وكيع قال: أخبرني ابن أبي ذئب عن الحكم بن مسلم السالمي عن عبد الرحمن بن هرمز الأعرج قال: قضى رسول اللَّه ﷺ (١) (ألا تجوز) (٢) شهادة (٣) الظنة (ولا الجنة) (٤) (ولا الحنة) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ھُرمُز الاعرج فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ہے کہ تہمت زدہ کی گواہی قبول کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی دشمن کی اور نہ ہی مجنون کی گواہی قبول کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 31053
٣١٠٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن حنش بن المعتمر قال: حفرت زبية باليمن للأسد، فوقع (فيها) (١) الأسد، فأصبح الناس يتدافعون على رأس البئر، فوقع فيها رجل (فتعلق) (٢) برجل، ثم تعلق الآخر بآخر، فهوى فيها أربعة فهلكوا (٣) جميعًا، فلم يدر الناس كيف يصنعون؟ فجاء ⦗٨٤⦘ علي ﵀ فقال: إن (شئتم) (٤) قضيت بينكم بقضاء يكون (حاجزًا) (٥) بينكم حتى تأتوا النبي ﷺ (٦) قال: فإني أجعل الدية على من (حضر) (٧) رأس البئر، فجعل للأول الذي هو في البئر ربع الدية، وللثاني ثلث الدية، وللثالث نصف الدية، وللرابع الدية كاملة، قال: فتراضوا على ذلك حتى أتوا النبي ﷺ فأخبروه بقضاء علي فأجاز القضاء (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنش بن المعتمر فرماتے ہیں کہ یمن میں شیر کو قید کرنے کے لئے ایک گڑھا کھودا گیا، تو شیر اس میں گرگیا، پھر لوگوں نے کنویں کے سر پر ایک دوسرے کو دھکا دینا شروع کردیا ۔ پس کنویں میں ایک آدمی گرنے لگا تو اس نے دوسرے آدمی کو پکڑ لیا پھر دوسرے نے تیسرے کو پکڑ لیا اس طرح چار آدمی کنویں میں گرگئے اور سب ہلاک ہوگئے، پس لوگ نہیں جانتے تھے کہ وہ اب کیا کریں ؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے اگر تم چاہو تو میں تمہارے درمیان ایک فیصلہ کرتا ہوں جو تمہارے درمیان رکاوٹ ہوگا یہاں تک کہ تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ، اور کہا کہ دیت ان لوگوں پر ڈالتا ہوں جو کنویں کے منہ کے ارد گرد تھے، پس پہلا شخص جو کنویں میں گرا تھا اسے دیت کا چوتھائی حصہ ملے گا اور دوسرے کو دیت کا تیسرا حصہ ملے گا اور تیسرے کو دیت کا آدھا حصّہ ملے گا اور چوتھے شخص کو کامل دیت ملے گی، حضرت حنش بن المعتمر فرماتے ہیں کہ سب لوگ اس فیصلہ پر رضا مند ہوگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے متعلق بتلایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس فیصلہ کو نافذ فرما دیا۔
حدیث نمبر: 31054
٣١٠٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن سماك عن حنش عن علي قال: قال (١) رسول اللَّه ﷺ: "إذا تقاضى إليك رجلان فلا تقضي للأول حتى تسمع ما يقول الآخر، فإنك سوف ترى (كيف تقضي) (٢) " قال علي: فما زلت بعدها قاضيا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب کبھی تیرے پاس دو آدمی کوئی مسئلہ لے کر آئیں تو کبھی بھی پہلے کے حق میں فیصلہ مت دو جب تک کہ دوسرے کی بات نہ سن لو، پھر یقینا تو عنقریب دیکھے گا کہ تو نے کیسے فیصلہ کیا ہے ! پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : پھر اس کے بعد سے میں ہمیشہ ایسے ہی فیصلہ کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 31055
٣١٠٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي البَخْتَرِي عن علي قال: بعثني النبي ﷺ إلى أهل اليمن لأقضي بينهم، قلت: يا رسول اللَّه (إنه) (١) لا علم لي بالقضاء، فضرب بيده على صدري وقال: "اللهم اهد قلبه واسدد لسانه" قال: فما شككت في قضاء بين اثنين حتى جلست مجلسي هذا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن والوں کی طرف قاضی بنا کر بھیجا تاکہ میں ان کے درمیان فیصلے کروں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے تو فیصلہ سے متعلق کوئی علم نہیں ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میرے سینہ پر مارا اور فرمایا : اے اللہ اس کے دل کو ہدایت نصیب فرما اور اس کی زبان کو سیدھا فرما دے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں اس جگہ میں بیٹھا ہوں تو مجھے کبھی بھی دو بندوں کے درمیان کسی فیصلہ میں شک نہیں ہوا۔
حدیث نمبر: 31056
٣١٠٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن يعلى التيمي عن منصور عن إبراهيم عن عبيد بن (نضيلة) (١) عن الغيرة بن شعبة قال: شهدت رسول اللَّه ﷺ قضى فيه بغرة عبدأوأمة، فقال (عمر) (٢): لتجيء بمن يشهد معك، فشهد له محمد ابن مسلمة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمل ساقط کرنے کے جھگڑے میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا، حضرت عمر فرمانے لگے : کسی آدمی کو لاؤ جو تمہارے حق میں گواہی دیں۔
حدیث نمبر: 31057
٣١٠٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي عون عن الحارث ابن (عمرو) (١) (الهذلي) (٢) عن رجل من أهل حمص من أصحاب معاذ عن معاذ أن النبي ﷺ لما بعثه قال: "كيف تقضي؟ " قال: أقضي بكتاب اللَّه، قال: "فإن لم يكن كتاب؟ " قال: أقضي بسنة (رسول اللَّه ﷺ) (٣)، قال: "فإن لم تكن سنة من رسول ⦗٨٦⦘ اللَّه (٤)؟ "، قال: أجتهد (رأيي) (٥) قال: فقال النبي (صلى اللَّه عليه و (سلم)) (٦) (٧): "الحمد للَّه الذي وفق رسول رسول اللَّه" (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قاضی بنا کر بھیجا تو فرمانے لگے تم کیسے فیصلہ کرو گے ؟ حضرت معاذ نے کہا : کتاب اللہ کے ذریعہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا : اگر کوئی بات کتاب اللہ میں نہ ہوئی ؟ حضرت معاذ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت میں نہ ہوئی ؟ حضرت معاذ نے کہا میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، حضرت معاذ کہتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاصد ( پیامبر) کو حق سے موافقت کی توفیق عطا فرمائی۔
حدیث نمبر: 31058
٣١٠٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين بن علي عن (زائدة) (١) عن محمد ابن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن الحكم عن عبد اللَّه بن شداد عن (ابنة) (٢) حمزة -قال: محمد وهي أخت ابن شداد لأمه- قالت: مات (مولى لي) (٣) وترك ابنته فقسم رسول اللَّه ﷺ ماله بيني وبين ابنته، فجعل لي النصف ولها النصف (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بنت حمزہ جو کہ ابن شداد کی ماں شریک بہن ہیں فرماتی ہیں کہ میرا ایک آزاد کردہ غلام فوت ہوگیا اور اپنی ایک بیٹی چھوڑی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا مال میرے اور اس کی بیٹ کے درمیان تقسیم فرما دیا، آدھا حصہ مجھے دیا اور آدھا حصہ اس کی بیٹی کو دیا۔
حدیث نمبر: 31059
٣١٠٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: قضى رسول اللَّه ﷺ في الركاز الخمس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدفون خزانہ میں خمس کا فیصلہ فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 31060
٣١٠٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن الأعمش عن إبراهيم قال: قضى رسول اللَّه ﷺ بالعقل على العصبة والدية ميراث (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیت کا بوجھ عصبہ رشتہ داروں پر ڈالا، اور دیت کو مقتول کی وراثت شمار فرمایا۔
حدیث نمبر: 31061
٣١٠٦١ - حدثنا أبو بكر (قال: حدثنا أبو بكر) (١) (٢) بن عياش عن عبد العزيز بن رفيع عن ابن أبي مليكة قال: قضى رسول اللَّه ﷺ بالشفعة في كل شيء: الأرض والدار (٣) والجارية والدابة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے ! زمین ہو، گھر ہو ، باندی ہو ، جانور ہو، تو عطاء کہنے لگے : شفعہ تو صرف زمین اور گھر میں ہوتا ہے۔ حضرت ابن ابی ملیکہ نے ان سے کہا : تیری ماں مرے، تو سنتا ہی نہیں ہے میں کہہ رہا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے اور تو یہ بات کر رہا ہے ؟ !۔
حدیث نمبر: 31062
٣١٠٦٢ - (قال) (١): فقال عطاء: إنما الشفعة في الأرض والدار، فقال ابن أبي مليكة: تسمعني لا أم لك أقول: قال رسول اللَّه ﷺ، وتقول هذا.
حدیث نمبر: 31063
٣١٠٦٣ - حدثنا محمد بن بشر (قال) (١): (حدثنا) (٢) ابن أبي عروبة عن قتادة ⦗٨٨⦘ (أن) (٣) سليمان بن يسار (٤) قال: القسامة حق قضى بها النبي ﷺ: بينما الأنصار عند رسول اللَّه ﷺ إذ خرج رجل منهم، ثم خرجوا من عند رسول اللَّه ﷺ فإذا هم (بصاحبهم) (٥) يتشحط في دمه، فرجعوا إلى رسول اللَّه ﷺ فقالوا: قتلتنا (يهود) (٦) وسموا رجلًا منهم ولم تكن لهم بينة، فقال لهم رسول اللَّه ﷺ: "شاهدان من غيركم، حتى ادفعه إليكم برمته"، (فلم يكن لهم بينة فقال: استحقوا (بخمسين) (٧) قسامة، أدفعه إليكم برمته) (٨)، قالوا: إنا نكره إن نحلف على غيب، فأراد رسول اللَّه ﷺ أن يأخذ قسامة اليهود بخمسين منهم، فقالت الأنصار: يا رسول اللَّه، إن اليهود لا يبالون الحلف، متى نقبل هذا منهم يأتونا على آخرنا، فوداه رسول اللَّه ﷺ من عنده (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ قسامت کا معاملہ برحق ہے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ہم انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی نکل گیا ، اچانک انہوں نے اپنے ساتھی کو دیکھا کہ وہ خون میں لت پت پڑا تڑپ رہا ہے ! تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس لوٹے اور کہنے لگے کہ یہود نے ہمارے آدمی کو قتل کردیا اور انہوں نے یہود کے ایک آدمی کا نام لیا، اور ان لوگوں کے پاس گواہی نہیں تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تمہارے علاوہ اگر دو گواہ گواہی دیں تو میں اس کو تمہارے حوالے کر دوں ؟ پس ان کے پاس گواہی نہیں تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ پچاس قسمیں اٹھا لو میں اس کو تمہارے حوالہ کر دوں گا ؟ تو انصار کہنے لگے : ہم ناپسند کرتے ہیں کہ اَن دیکھی بات پر قسم اٹھائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچاس یہودیوں سے قسمیں لینا چاہیں تو انصار کہنے لگے : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک یہود قسم کی پروا نہیں کرتے ہم کس طرح ان کی قسمیں قبول کرلیں یہ تو پھر ہمارے دوسرے لوگوں کو مار دیا کریں گے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقتول کی اپنے پاس سے دیت عطاء فرمائی۔
حدیث نمبر: 31064
٣١٠٦٤ - حدثنا إسماعيل بن علية عن داود عن الشعبي قال: كان رسول اللَّه ﷺ يقضي (بالقضاء) (١)، ثم ينزل القرآن بغير الذي قضى به، فلا يرده ويستأنف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی فیصلہ فرماتے تھے پھر قرآن اس فیصلہ کے برعکس نازل ہوتا تھا جو فیصلہ آپ نے کیا ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو لوٹاتے نہیں تھے اور ازسر نو فیصلہ فرماتے ۔
حدیث نمبر: 31065
٣١٠٦٥ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن النجراني قال: قلت لعبد اللَّه ابن عمر: أُسلِم في (نخل) (١) قبل أن تطلع، قال: لا، قلت: لم؟ قال: إن رجلًا (أسلم) (٢) في عهد رسول اللَّه ﷺ في حديقة نخل قبل أن تطلع، فلم تطلع شيئًا ذلك العام، فقال المشتري: هو لي حتى تطلع، وقال البائع: إنما بعتك النخل هذه السنة، فاختصما إلى رسول اللَّه ﷺ فقال رسول اللَّه ﷺ للبائع: " (أجد) (٣) من نخلك شيئا؟ " قال: لا، قال رسول اللَّه ﷺ: "فبم تستحل ماله؟ أردد عليه ما أخذت منه، ولا تسلموا في نخل حتى يبدو صلاحه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت النجرانی فرماتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا : کھجور کے درختوں میں شگوفے نکلنے سے پہلے بیع سلم کی جاسکتی ہے ؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نہیں کی جاسکتی۔ میں نے پوچھا : کیوں نہیں ہوسکتی ؟ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے کھجور کے درختوں میں شگوفے نکلنے سے پہلے بیع سلم کی تھی، تو اس سال کوئی شگوفہ نہیں نکلا تو مشتری کہنے لگا : یہ میری ملکیت میں ہوں گے جب تک کہ شگوفے نکل آئیں اور بائع نے کہا : میں نے تو درخت صرف اس سال کے لیے فروخت کیے تھے، تو دونوں آدمی جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بائع سے فرمایا : کیا مشتری نے تمہارے درخت میں سے کچھ کاٹا ہے ؟ بائع نے کہا : کچھ نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو پھر اس کا مال تمہارے لیے کیونکر حلال ہوسکتا ہے ؟ جو کچھ تم نے اس سے لیا ہے اس کو واپس کر ۔ اور آئندہ کوئی کھجور کے درخت میں بیع سلم نہ کرے یہاں تک کہ پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہوجائے۔
حدیث نمبر: 31066
٣١٠٦٦ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا إسرائيل عن عبد اللَّه بن المختار عن الحسن قال: قضى رسول اللَّه ﷺ في رجل عض يد رجل فنزع الرجل يده من فيه فانتزعت ثنيته، فانطلق الرجل إلى رسول اللَّه ﷺ فقال رسول اللَّه ﷺ (١): "إنه لم يدعك تأكل يده"، فلم يقض له من الدية شيئًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے آدمی کے بارے میں فیصلہ فرمایا جس نے کسی آدمی کا ہاتھ دانتوں سے کاٹا تو اس آدمی نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے سامنے والے نیچے کے دانت ٹوٹ گئے۔ پس وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک اس نے تجھے نہ چھوڑا تاکہ تو اس کا ہاتھ کھا جاتا ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں کچھ بھی دیت کا فیصلہ نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 31067
٣١٠٦٧ - حدثنا شبابة بن سوار (قال) (١): حدثنا ابن أبي ذئب عن الزهري عن الغيرة بن شعبة أن النبي ﷺ قضى في المرأة تقتل: يرثها ولدها ⦗٩٠⦘ والعقل على عصبتها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی عورت کے بارے میں جس کو قتل کردیا گیا ہو یوں فصلہ فرمایا : اس کا بیٹا اس کا وارث بنے گا اور دیت کا بوجھ عصبی رشتہ داروں پر ہوگا۔
حدیث نمبر: 31068
٣١٠٦٨ - حدثنا شبابة (قال) (١): (حدثنا) (٢) ابن أبي ذئب عن الزهري عن سعيد بن المسيب قال: قضى (النبي) (٣) ﷺ لا يرث قاتل من قتل وليه شيئا من الدية عمدا أو خطأ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ہے کہ وہ قاتل جس نے اپنے ولی کو قتل کردیا ہو قتل عمد یا قتل خطاء کی صورت میں تو وہ دیت میں سے کچھ حصہ کا بھی وارث نہیں بنے گا۔
حدیث نمبر: 31069
٣١٠٦٩ - حدثنا شبابة (حدثنا) (١) بن أبي ذئب عن الزهري أن النبي ﷺ قضى في القسامة أن اليمين على المدعى عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
امام زہری فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلف کے بارے میں یوں فیصلہ فرمایا ہے کہ حلف مدعیٰ علیہ کے ذمہ ہے۔
حدیث نمبر: 31070
٣١٠٧٠ - حدثنا شبابة قال: حدثنا ابن أبي ذئب عن (أبي) (١) جابر البياضي عن سعيد بن المسيب قال: قضى رسول اللَّه ﷺ في الرجل يغير شهادته قال: يؤخذ بالأولى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے آدمی کے بارے میں جس نے اپنی گواہی کو تبدیل کردیا ہو، فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ پہلی گواہی کو لیا جائے گا۔
…