کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی کتاب
حدیث نمبر: 30991
٣٠٩٩١ - حدثنا (أبو) (١) عبد الرحمن (بقي) (٢) بن مخلد قال: حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن عبيد اللَّه بن (أبي) (٣) يزيد عن أبيه عن عمر أن رسول اللَّه ﷺ قضى بالولد للفراش (٤).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 30991
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٧٣)، وابن ماجه (٢٠٠٥)، وعبد الرزاق (٩١٥٢)، والحميدي (٢٤)، وأبو يعلى (١٩٩)، والطحاوي ٣/ ١٠٤، والبيهقي ٧/ ٤٠٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30991، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 30992
٣٠٩٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن (ابن جريج عن) (١) أبي الزبير عن جابر قال: قضى رسول اللَّه ﷺ (٢) (بالشفعة) (٣) في كل (شرك) (٤) لم (يقسم) (٥) ربعة أو حائط لا يحل له (أن يبيع) (٦) حتى يستأذن شريكه، فإن شاء أخذ، وإن شاء ترك، فإن باع ولم يؤذنه فهو أحق به (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر اس حصہ میں جس کو تقسیم نہ کیا گیا ہو گھر کی صورت میں ہو یا باغ کی صورت میں ہو یوں فیصلہ فرمایا کہ مالک کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے شریک کی اجازت کے بغیر اس کو بیچ دے۔ پس اگر وہ چاہے تو رکھ لے گا اور اگر چاہے گا تو اس کو چھوڑ دے گا اور اگر مالک نے بیچ دیا اور شریک کو بتلایا نہیں تو وہ اس حصہ کا زیادہ حق دار ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 30992
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ صرح أبو الزبير بالسماع، أخرجه مسلم (٢٨٣٥)، وأحمد (١٤٤٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30992، ترقيم محمد عوامة 29651)
حدیث نمبر: 30993
٣٠٩٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن الحكم عن علي وعبد اللَّه قالا: قضى رسول اللَّه ﷺ بالشفعة للجوار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شفعہ کا فیصلہ پڑوسی کے حق میں فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 30993
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30993، ترقيم محمد عوامة 29652)
حدیث نمبر: 30994
٣٠٩٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر العبدي قال: حدثنا نافع بن عمر عن ابن أبي مليكة عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ (قضى) (١) باليمين على المدعى عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم لے کر فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 30994
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٥١٤)، ومسلم (١٧١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30994، ترقيم محمد عوامة 29653)
حدیث نمبر: 30995
٣٠٩٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن فراس عن الشعبي عن مسروق عن عبد اللَّه أنه سئل عن رجل تزوج امرأة فمات عنها ولم يدخل بها ولم يفرض لها صداقًا قال: (فقال) (١) عبد اللَّه: لها الصداق ولها الميراث وعليها العدة، (وقال) (٢) معقل بن (سنان) (٣): شهدت رسول اللَّه ﷺ قضى في بروع بنت واشق بمثل ذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی پھر وہ مرگیا اور اس آدمی نے اس سے ہمبستری نہیں کی تھی اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا تھا، اب اس کیا ہوگا ؟ تو حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ اس عورت کو مہر مثلی ملے گا اور وراثت بھی ملے گی اور اس پر عدت بھی واجب ہوگی۔ اس پر معقل بن سنان نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بروع بنت واشق کے بارے میں بالکل ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 30995
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٤٦٤)، وأبو داود (٢١١٤)، والنسائي ٦/ ١٢٢، وابن ماجه (١٨٩١)، وابن حبان (٤٠٩٨)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٢٩٦)، والطبراني ٢٠/ (٥٤٦)، والبيهقي ٧/ ٢٤٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30995، ترقيم محمد عوامة 29654)
حدیث نمبر: 30996
٣٠٩٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن تميم بن ⦗٦٣⦘ (طرفة) (١) قال: اختصم رجلان إلى النبي ﷺ في جمل، فجاء كل واحد منهما إلى النبي ﷺ بشاهدين يشهدان أنه جمله فقضى به النبي ﷺ بينهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن طرفہ فرماتے ہیں کہ دو شخص ایک اونٹ کا جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پھر ان دونوں میں سے ہر ایک دو دو گواہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آگئے جو دونوں کے حق میں گواہی دے رہے تھے کہ یہ اونٹ اس کا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے حق میں اونٹ کا فیصلہ فرما دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 30996
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ تميم تابعي، أخرجه الطحاوي في شرح المشكل (٤٧٥٨)، والبيهقي ١٠/ ٢٥٨، وأبو داود في المراسيل (٣٣٩)، وسيأتي متصلًا ١٠/ ١٨٤ برقم [٣١٠٧٨].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30996، ترقيم محمد عوامة 29655)
حدیث نمبر: 30997
٣٠٩٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مسهر عن الشيباني عن سلمة بن كهيل قال: كنا جلوسًا عند شريح إذ أتاه قوم يختصمون إليه في (عمرى) (١) جعلت لرجل حياته، فقال له: هي (له) (٢) حياته وموته، (فأقبل) (٣) (عليه الذي) (٤) (قضى) (٥) عليه يناشده فقال شريح: لقد (لامني) (٦) هذا في أمر قضى به النبي ﷺ (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن کھیل فرماتے ہیں کہ ہم لوگ قاضی شریح کی مجلس میں تھے کہ چند لوگ ان کے پاس ایک ایسے گھر کا جھگڑا لے کر آئے جو کسی آدمی کو پوری زندگی کے لئے دے دیا گیا ہو۔ تو قاضی شریح نے ان کو کہا کہ یہ اس آدمی کو زندگی میں ملے گا اور موت کے بعد اس کے ورثاء کو ملے گا۔ تو جس کے خلاف فیصلہ دیا وہ آپ کی طرف متوجہ ہوا اور قسمیں دینا شروع کردیں۔ قاضی شریح نے فرمایا : یہ شخص مجھے ایک ایسے معاملہ میں ملامت کر رہا ہے جس کا فیصلہ خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 30997
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ شريح تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30997، ترقيم محمد عوامة 29656)
حدیث نمبر: 30998
٣٠٩٩٨ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه عن المسور أن عمر استشار الناس في إملاص المرأة، فقال المغيرة بن شعبة: شهدت رسول اللَّه ﷺ قضى فيه بغرة: عبد أو أمة، فقال عمر: لتأتين (بمن) (٢) يشهد ⦗٦٤⦘ (معك) (٣)، فشهد له محمد بن مسلمة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسور فرماتے ہیں کہ حضرت عمر لوگوں سے ایسی عورت کے بارے میں مشورہ طلب کر رہے تھے کہ جس کا کسی نے حمل ساقط کردیا ہو ؟ تو مغیرہ بن شعبہ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے معاملے میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم کوئی ایسا شخص لاؤ جو تمہارے ساتھ اس بات کی گواہی دے ، تو محمد بن مسلمہ نے ان کے حق میں گواہی دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 30998
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٨٣)، وأحمد (١٨٢١٣)، وأصله عند البخاري (٦٩٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30998، ترقيم محمد عوامة 29657)
حدیث نمبر: 30999
٣٠٩٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن يعلى التيمي عن منصور عن إبراهيم (عن) (١) عبيد بن (نضلة) (٢) عن المغيرة بن شعبة قال: قضى رسول اللَّه ﷺ على (عاقلتها بالدية) (٣)، وفي الحمل غرة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاندان والوں پر دیت کا اور حمل (کو) ساقط کرنے کے معاملہ میں ایک غلام یا باندی دینے کا فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 30999
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٩٠٥)، ومسلم (١٦٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30999، ترقيم محمد عوامة 29658)
حدیث نمبر: 31000
٣١٠٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي قيس عن (هزيل) (١) بن شرحبيل قال: جاء رجل إلى أبي موسى و (سلمان) (٢) بن ربيعة فسألهما عن: ابنة وابنة ابن وأخت لأب وأم، فقالا: للابنة النصف، وما بقي فللأخت، وائت ابن مسعود فاسأله فإنه سيتابعنا، (فأتى) (٣) الرجل ابن مسعود فسأله وأخبره بما قالا، فقال ابن مسعود: (قد) (٤) ضللت إذن وما أنا من المهتدين، ولكن سأقضي بما (قضى) (٥) (به) (٦) رسول اللَّه ﷺ: للابنة النصف، ولابنة الابن ⦗٦٥⦘ السدس، تكملة الثلثين، وما بقي فللأخت (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھزیل بن شرحبیل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابو موسیٰ اور سلیمان بن ربیعہ ان دونوں کے پاس آیا اور ان دونوں سے بیٹی پوتی اور حقیقی بہن کے وراثت میں حصہ سے متعلق سوال کیا ؟ تو ان دونوں حضرات نے جواب میں فرمایا کہ بیٹی کو آدھا مال ملے گا اور جو کچھ بچ جائے گا وہ بہن کو ملے گا اور ساتھ ہی یہ کہا کہ تم ابن مسعود کے پاس جاؤ اور ان سے بھی پوچھ لو وہ بھی یہی جواب دیں گے تو وہ آدمی ابن مسعود کے پاس گیا اور ان سے پوچھا اور جو بات ان دونوں حضرات نے کہی تھی اس کی خبر دی ۔ تو ابن مسعود نے کہا یقینا تب تو میں گمراہ ہوں گا اور ہدایت پانے والوں میں سے نہیں ہوں گا اور لیکن عنقریب میں وہ فیصلہ کروں گا جو فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں فرمایا تھا کہ بیٹی کو آدھا مال ملے گا اور پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا دو ثُلْث مکمل کرنے کے لئے۔ اور جو کچھ بچ جائے گا وہ بہن کو ملے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31000
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٧٤٢)، وأحمد (٣٦٩١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31000، ترقيم محمد عوامة 29659)
حدیث نمبر: 31001
٣١٠٠١ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه عن زيد بن خالد وشبل و (أبي) (٢) هريرة قالوا: كنا عند النبي ﷺ فأتاه رجل فقال: أنشدك اللَّه إلا قضيت بيننا بكتاب اللَّه، فقال خصمه وكان أفقه منه: أجل يا رسول اللَّه اقض بيننا بكتاب اللَّه وائذن لي حتى أقول، (قال: "قل" قال) (٣): إن ابني كان عسيفًا على هذا، والعسيف الأجير، وأنه زنى بامرأته فافتديت منه بمائة (شاة) (٤) وخادم، فسألت (رجالًا) (٥) من أهل العلم فأخبرت أن على ابني جلد مائة وتغريب عام، وأن على امرأة هذا الرجم، فقال: النبي ﷺ: "والذي نفسي بيده لأقضين بينكما بكتاب اللَّه: المائة شاة والخادم رد عليك، وعلى ابنك جلد مائة وتغريب عام، واغد يا أنيس على امرأة هذا، فإن اعترفت فارجمها" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن خالد اور شبل اور ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے مابین کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ تو اس کا مخالف جو کہ اس سے زیادہ سمجھ دار تھا کہنے لگا ! جی ہاں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے اجازت دیجئے کہ میں کچھ کہوں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہو ! اس نے کہا کہ میرا بیٹا اس شخص کے پاس ملازم تھا تو اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا تو میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور خادم دیا پھر علماء سے اس کے متعلق پوچھا ؟ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے سزا اور ایک سال کی جلا وطنی ہوگی اور اس شخص کی بیوی کو سنگسار کیا جائے گا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ میں ضرور بالضرور تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا ! سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس دیے جائیں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزاملے گی۔ اور اے انیس ! اس عورت کے پاس جاؤ اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31001
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وهم ابن عينية في ذكر شبل فيه، أخرجه أحمد (١٧٠٤٢)، والترمذي (١٤٣٣)، والنسائي ٨/ ٢٤١، وابن ماجه (٢٥٤٩)، والشافعي في السنن (٥٣١)، والحميدي (٨١١)، وابن الجارود (٨١١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١١١٣)، والطحاوي ٣/ ١٣٤، والبيهقي ٨/ ٢٢٢، والطبراني (٥١٩٢)، وأصله عند البخاري (٦٨٢٧)، ومسلم (١٦٩٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31001، ترقيم محمد عوامة 29660)
حدیث نمبر: 31002
٣١٠٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: (حدثنا) (٢) ⦗٦٦⦘ سيف ابن سليمان المكي قال: أخبرني قيس بن سعد عن عمرو بن دينار عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ قضى بيمين وشاهد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم کے ساتھ فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31002
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧١٢)، وأحمد (٢٢٢٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31002، ترقيم محمد عوامة 29661)
حدیث نمبر: 31003
٣١٠٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: قضى رسول اللَّه ﷺ بالدين قبل الوصية، وأنتم تقرأون: ﴿مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ﴾ [النساء: ١٢]، وأن أعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلات (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض کے متعلق فیصلہ فرمایا ہے حالانکہ تم لوگ قرآن کی یہ آیت پڑھتے ہو ” بعد وصیت کے جو ہوچکی ہے یا قرض کے بعد اور یقینا حقیقی بہن، بھائی وارث بنتے ہیں نہ کہ باپ شریک۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31003
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف الحارث، أخرجه أحمد (١٠٩١)، وابن ماجه (٢٧١٥)، وأبو يعلى (٦٢٥)، والترمذي (٢٠٩٤)، والحاكم ٤/ ٣٣٦، والدراقطني ٤/ ٨٦، وعبد الرزاق (١٩٠٠٣)، وابن الجارود (٩٥٠)، والطبراني ٤/ ٢٨٠، وسيأتي ١١/ ٤٠٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31003، ترقيم محمد عوامة 29662)
حدیث نمبر: 31004
٣١٠٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن مهدي بن ميمون عن محمد بن أبي يعقوب عن الحسن بن سعد قال: حدثني رباح عن عثمان أن رسول اللَّه ﷺ قضى أن الولد للفراش (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچہ کا فیصلہ خاوند کے حق میں فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31004
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31004، ترقيم محمد عوامة 29663)
حدیث نمبر: 31005
٣١٠٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين عن شيبة بن مساور قال: كتب عمر بن عبد العزيز فقرئ علينا كتابه أن رسول اللَّه ﷺ قضى في الموضحة بخمس من الإبل، ولم يقض فيما سوى ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبہ بن مساور فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے ایک دستاویز لکھی اور پھر ہمیں پڑھ کر سنائی کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر کے زخم میں پانچ اونٹوں کا فیصلہ فرمایا اور اس کے علاوہ کسی اور چیز کا فیصلہ نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31005
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمر بن عبد العزيز تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31005، ترقيم محمد عوامة 29664)
حدیث نمبر: 31006
٣١٠٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن إسحاق عن أبي مالك بن ثعلبة عن أبيه ثعلبة بن أبي مالك قال: قضى رسول اللَّه ﷺ ⦗٦٧⦘ في (مهزور) (١) وادي بني قريظة: أن يحبس الماء إلى الكعبين، لا يحبس الأعلى (على) (٢) الأسفل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثعلبہ بن ابی مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مھزور کے بارے میں جو کہ بنی قریظہ کی ایک وادی ہے یہ فیصلہ فرمایا کہ پانی ٹخنوں تک روکا جائے، اور اوپر والے نیچے والوں پر اس سے زیادہ مت روکیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31006
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل مجهول؛ أبو مالك بن ثعلبة مجهول، وأبوه ثعلبة تابعي، أخرجه أبو داود (٣٦٣٨)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٤٥٠)، والطبراني (١٣٨٦)، وابن عبد البر في التمهيد ١٧/ ٤٠٨، والبيهقي ٦/ ١٥٤، وابن قانع ١/ ١٢٣، والبلاذري في شرح البلدان ص ٢٣، وبنحوه ابن ماجه (٢٤٨١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٢٠٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31006، ترقيم محمد عوامة 29665)
حدیث نمبر: 31007
٣١٠٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن (ابن) (١) طاوس عن أبيه قال: قضى رسول اللَّه ﷺ: في السن بخمس من الإبل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاو وس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دانت کی دیت میں پانچ اونٹوں کا فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31007
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ طاوس تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31007، ترقيم محمد عوامة 29666)
حدیث نمبر: 31008
٣١٠٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سعيد و (حرام) (١) بن سعد أن ناقة للبراء دخلت حائط قوم فأفسدت عليهم، فقضى رسول اللَّه ﷺ: أن حفظ الأموال على أهلها بالنهار، وأن على أهل الماشية ما أصابت الماشية بالليل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید اور حرام بن سعد دونوں فرماتے ہیں کہ حضرات براء کی ایک اونٹنی کسی قوم کے باغ میں داخل ہوگئی اور ان کے باغ کو تباہ کردیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دن میں مال کی حفاظت کرنا مالک کی ذمہ داری ہے اور مویشیوں کا مالک تاوان ادا کرے گا جبکہ مویشی نے رات کو نقصان پہنچایا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31008
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد تابعي، أخرجه أحمد (٢٣٦٩١)، ومالك ٢/ ٧٤٧، والشافعي في المسند ٢/ ١٠٧، وابن ماجه (٢٣٣٢)، وابن الجارود (٧٩٦)، والطحاوي ٣/ ٢٠٣، والدارقطني ٣/ ١٥٦، والبيهقي ٨/ ٢٧٩، وابن المبارك في المسند (١٣٩)، وابن عبد البر في التمهيد ١١/ ٨٩، وأخرجه بإسناد آخر: أبو داود (٣٥٧٠)، وابن حبان (٦٠٠٨)، والحاكم ٢/ ٤٧، وعبد الرزاق (١٨٤٣٧)، والنسائي في الكبرى (٥٧٨٥)، وابن أبي عاصم في الديات (٢٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31008، ترقيم محمد عوامة 29667)
حدیث نمبر: 31009
٣١٠٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) أسامة ومحمد بن بشر عن سعيد بن أبي عروبة عن غالب التمار عن حميد بن هلال عن مسروق بن أوس عن أبي موسى الأشعري أن رسول اللَّه ﷺ قضى في الأصابع عشرًا من الإبل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگلیوں کی دیت میں دس اونٹوں کا فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31009
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31009، ترقيم محمد عوامة 29668)
حدیث نمبر: 31010
٣١٠١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر عن سعيد عن مطر عن عمر وابن (شعيب) (١) عن أبيه عن جده أن النبي ﵇ (٢) قضى في الأصابع عشرًا عشرًا (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعیب کے دادا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگلیوں کی دیت میں دس دس اونٹوں کا فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31010
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أخرجه أحمد (٦٦٨١)، والنسائي ٨/ ٥٧، وابن ماجه (٢٦٥٣)، والدراقطني ٣/ ٢١٠، والبيهقي ٨/ ٨١، وعبد الرزاق (١٧٧٠٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31010، ترقيم محمد عوامة 29669)
حدیث نمبر: 31011
٣١٠١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن عثمان البتي عن عبد الحميد ابن سلمة عن أبيه عن جده (أن) (١) أبويه اختصما فيه إلى النبي ﷺ أحدهما كافر والآخر (مسلم) (٢)، فخيره فتوجه إلى الكافر فقال: "اللهم اهده"، فتوجه إلى المسلم ⦗٦٩⦘ فقضى له به (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الحمید کے دادا حضرت رافع بن سنان فرماتے ہیں کہ میرے والدین میرے بارے میں جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ان دونوں میں سے ایک کافر اور دوسرا مسلمان تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت رافع کو اختیار دیا تو وہ کافر کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی ” اے اللہ ا س کو ہدایت دے “ تو وہ مسلمان کی طرف متوجہ ہوگئے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمان کے لئے ہی ان کا فیصلہ فرما دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31011
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31011، ترقيم محمد عوامة 29670)
حدیث نمبر: 31012
٣١٠١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر العبدي (قال) (١): حدثنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قضى رسول اللَّه ﷺ في الجنين غرة عبد أو أمة، فقال: الذي قضى عليه أنعقل من (لا شرب ولا أكل) (٢) ولا صاح ولا استهل، ومثل ذلك (بطل) (٣) فقال: رسول اللَّه ﷺ: "إن هذا ليقول بقول شاعر فيه غرة عبد أو أمة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمل ساقط کرنے کی دیت میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا تو جس کے خلاف فیصلہ فرمایا تھا وہ کہنے لگا ! کیا ہم اس کی دیت ادا کریں جس نے نہ کچھ کھایا ہے نہ پیا ہے اور نہ ہی رویا ہے اور چلّایا ہے ! اور اس قسم کا خون تو رائیگاں جاتا ہے ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص تو کسی شاعر کے مثل بات کرتا ہے۔ بہر حال حمل ساقط کرنے کی دیت ایک غلام یا باندی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31012
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، وأخرجه البخاري (٥٧٥٩)، ومسلم (١٦٨١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31012، ترقيم محمد عوامة 29671)
حدیث نمبر: 31013
٣١٠١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن عوف قال: قرئ علينا (كتاب) (١) عمر بن عبد العزيز أيما رجل أفلس فأدرك رجل (متاعه) (٢) (بعينه) (٣) فهو ⦗٧٠⦘ أحق به من سائر الغرماء، (إلا أن يكون اقتضى من ماله شيئًا فهو أسوة الغرماء) (٤)، قضى بذلك رسول ﷺ (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کا خط پڑھ کر سنایا گیا : کہ جو کوئی بھی مفلس ہوگیا پھر کسی آدمی نے اپنا ذاتی سامان اس شخص کے پاس پا لیا تو وہ اکیلا تمام قرض خواہوں سے اس مال کا زیادہ حق دار ہوگا مگر یہ کہ اس نے اس مفلس کے مال سے کچھ حصہ لے لیا ہو تو باقی مال تمام قرض خواہوں کے لیے برابر ہوگا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طریقہ سے یہ فیصلہ فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31013
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمر بن العزيز تابعي، وأخرجه البخاري (٢٤٠٢)، ومسلم (١٥٥٩) من حديث عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبد الرحمن عن أبي هريرة مرفوعًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31013، ترقيم محمد عوامة 29672)
حدیث نمبر: 31014
٣١٠١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن سواء عن سعيد بن أبي عروبة عن أبي الطفيل سعيد بن حمل عن عكرمة قال: عدة المختلعة حيضة (قضاها) (١) رسول اللَّه ﷺ في (جميلة) (٢) ابنة سلول (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ خلع یافتہ عورت کی عدت ایک حیض شمار ہوگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمیلہ بنت سلول کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31014
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل مجهول؛ عكرمة تابعي، وسعيد بن حمل مجهول، أخرجه أحمد في العلل ٣/ ٣٧٤، وعبد الرزاق (١١٨٥٨)، والبيهقي ٧/ ٤٥٠، وورد بنحوه من حديث عكرمة عن ابن عباس، أخرجه أبو داود (٢٢٢٩)، والترمذي (١١٨٥)، وابن ماجه (٢٠٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31014، ترقيم محمد عوامة 29673)
حدیث نمبر: 31015
٣١٠١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) معاوية عن (حجاج) (٢) عن أبي سعيد (الأعسم) (٣) أن رسول اللَّه ﷺ قضى في العبد وسيده قضيتين، قضى في العبد إذا خرج من دار الحرب قبل سيده فهو حر، فإن خرج سيده بعده لم (يرده) (٤) عليه، وإن خرج السيد قبل العبد من دار الحرب ثم خرج العبد (بعد) (٥) (رده) (٦) على سيده (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید الاعسم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غلام اور اس کے آقا کے بارے میں دو فیصلے فرمائے ہیں : غلام کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا کہ جب وہ دارالحرب سے اپنے آقا سے پہلے نکل آیا تو وہ آزاد ہوگا۔ پھر اگر غلام کے بعد آقا بھی نکل آیا تو غلام کو واپس لوٹایا نہیں جائے گا، اور اگر آقا غلام سے پہلے دارالحرب سے نکل آیا پھر اس کے بعد غلام نکلا تو غلام کو آقا کی طرف لوٹایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31015
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل مجهول؛ سعيد بن الأعسم ليس صحابيًا بل هو مجهول، وأخرجه سعيد (٢٨٠٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31015، ترقيم محمد عوامة 29674)
حدیث نمبر: 31016
٣١٠١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون حدثنا عباد بن منصور عن عكرمة عن ابن عباس قال: فرق رسول اللَّه ﷺ بينهما -يعني المتلاعنين- وقضى أن لا بيت لها عليه ولا قوت، من أَجل أنهما يتفرقان من غير طلاق ولا متوفى عنها، وقضى أن لا يدعى (ولدها) (١) لأب (٢) ولا ترمى هي ولا يرمى ولدها، ومن رماها أو رمى ولدها فعليه الحد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لِعان کرنے والے زوجین کے درمیان تفریق کی اور یہ فیصلہ فرمایا کہ آدمی کے ذمہ نہ ہی عورت کی رہائش ہے اور نہ ہی نفقہ ہے اس لیے کہ وہ دونوں بغیر طلاق کے جدا ہوئے ہیں اور نہ ہی یہ عورت متوفی عنھا زوجھا کے قبیل میں سے ہے اور یہ فیصلہ فرمایا کہ اس عورت کے بچہ کو باپ کی طرف منسوب نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس عورت پر تہمت لگائی جائے گی اور نہ ہی اس کے بچہ پر تہمت لگائی جائے گی اور جس نے عورت پر یا اس کے بچہ پر تہمت لگائی تو اس پر حد قذف جاری ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31016
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عباد بن منصور، أخرجه أحمد (٢١٣١)، وأبو داود (٢٢٥٦)، والطيالسي (٢٦٦٧)، وأبو يعلى (٢٧٤٠)، وابن جرير في التفسير ١٨/ ٨٣، والبغوي في التفسير ٣/ ٣٢٤، والبيهقي ٧/ ٣٩٤، وابن عبد البر في التمهيد ١٥/ ٤٢، وابن شبه في تاريخ المدينة (٧٤٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31016، ترقيم محمد عوامة 29675)
حدیث نمبر: 31017
٣١٠١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: قال علي: من باع عبدًا وله مال فماله للبائع، إلا أن يشترط المبتاع قضى (به) (١) رسول اللَّه ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے کوئی غلام فروخت کیا اور اس غلام کے پاس کچھ مال تھا تو وہ مال فروخت کرنے والے کو ملے گا مگر یہ کہ خریدنے والا شرط لگا دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی فیصلہ فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31017
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31017، ترقيم محمد عوامة 29676)
حدیث نمبر: 31018
٣١٠١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن أبي بكر بن عبد اللَّه ابن أبي مريم عن (ضمرة) (١) بن حبيب قال: قضى رسول اللَّه ﷺ على ابنته فاطمة بخدمة البيت، وقضى على علي (بما) (٢) كان خارجًا من البيت من الخدمة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضمرہ بن حبیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر کے کام کاج کی ذمہ داری حضرت فاطمہ کے ذمہ لگائی اور گھر سے باہر کے کام کاج کی ذمہ داری حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سونپی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31018
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ ضمرة بن حبيب ليس صحابيًا، وأبو بكر بن عبد اللَّه بن أبي مريم ضعيف، أخرجه مسدد كما في المطالب العالية (١٦٤٩)، وأبو نعيم في الحلية ٦/ ١٠٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31018، ترقيم محمد عوامة 29677)
حدیث نمبر: 31019
٣١٠١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن عبد العزيز بن رفيع عن ابن أبي مليكة (قال) (١): قضى رسول اللَّه ﷺ بالشفعة في كل شيء: في الأرض والدار والجارية والدابة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا : زمین ہو، گھر ہو ، باندی ہو، جانور ہو ، تو عطاء نے کہا کہ شفعہ تو صرف گھر اور زمین میں ہوتا ہے تو ابن ابی ملیکہ نے فرمایا ! تیری ماں مرے ! تو نے سنا نہیں ؟ میں کہہ رہا ہوں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے، اور تو یہ بات کہہ رہا ہے ؟ !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31019
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن أبي ملكية تابعي، أخرجه عبد الرزاق (١٤٤٣١)، والترمذي (١٣٧١)، والبيهقي ٦/ ١٠٩، وابن عبد البر في الاستذكار ٧/ ٨٦، وورد من حديث ابن عباس أخرجه الترمذي (١٣٧١)، والطحاوي ٤/ ١٢٥، والخطيب ١١/ ١٩٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31019، ترقيم محمد عوامة 29678)
حدیث نمبر: 31020
٣١٠٢٠ - وقال عطاء: إنما الشفعة في (الأرض) (١) (والدار) (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31020
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31020، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 31021
٣١٠٢١ - فقال ابن أبي مليكة: تسمعني لا أم لك أقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "وتقول هذا".
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31021
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31021، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 31022
٣١٠٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عكرمة قال: قضى النبي ﷺ لرجل من الأنصار قتله مولى بني عدي بالدية اثني عشر ألفًا، وفيهم نزلت: ﴿وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ﴾ (١) [التوبة: ٧٤].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے ایک آدمی کے لئے جس کو بنو عدی کے آزاد کردہ غلا م نے قتل کردیا تھا بارہ ہزار (12000) کی دیت کا فیصلہ فرمایا۔ اور انہیں لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ” اور نہیں دیا ان لوگوں نے بدلہ مگر یہ کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کردیا۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31022
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي، أخرجه عبد الرزاق (١٧٢٧٣)، وسعيد بن منصور ٢/ (١٠٢٥)، وابن أبي حاتم في التفسير ٦/ ١٨٤٥، وابن جرير ١٠/ ١٨٧، وورد الخبر من طريق عكرمة عن ابن عباس أخرجه أبو داود (٢٥٤٦)، والترمذي (١٣٨٨)، والنسائي في الكبرى (٧٠٠٧)، وابن ماجه (٢٦٣٢)، والدارمي (٢٣٦٣)، والطحاوي في شرح المشكل (٤٥٢٩)، وابن أبي عاصم في الديات (٣٢٧٥)، والدارقطني ٣/ ١٣٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31022، ترقيم محمد عوامة 29679)
حدیث نمبر: 31023
٣١٠٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة (عن داود) (١) ⦗٧٣⦘ عن الشعبي عن علقمة قال: جاء رجل إلى ابن مسعود فقال: إن رجلًا منا تزوج امرأة (و) (٢) لم يفرض لها ولم يجامعها حتى مات، فقال ابن مسعود: ما سئلت عن شيء منذ فارقت النبي ﷺ أشد علي من هذا، (قال) (٣): فتردد فيها شهرًا فقال: سأقول فيها برأيي فإن كان صوابًا فمن اللَّه، وإن كان خطأ فمني والشيطان، أرى أن لها مهر نسائها لا وكس ولا شطط، ولها الميراث، وعليها عدة المتوفى عنها زوجها، فقام ناس من أشجع فقالوا: نشهد أن رسول اللَّه ﷺ قضى بمثل الذي (قضيت) (٤) في امرأة منا (يقال) (٥) لها (بَرْوع) (٦) ابنة واشق قال: فما رأيت ابن مسعود فرح (كما) (٧) فرح يومئذ (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ ہمارے ایک آدمی نے ایک عورت سے نکاح کیا اور ابھی نہ اس کا مہر مقرر کیا تھا اور نہ ہی ہمبستری کی تھی کہ وہ آدمی مرگیا ؟ تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب سے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا ہوا ہوں تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا جو اس سوال سے زیادہ بھاری ہو ! عکرمہ فرماتے ہیں کہ آپ اس مسئلہ میں ایک مہینہ تک شک و شبہ میں مبتلا رہے پھر فرمایا کہ عنقریب میں اس مسئلہ میں اپنی ذاتی رائے پیش کرتا ہوں پس اگر وہ درست ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوگی اور اگر غلط ہوئی تو وہ رائے میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہوگی، میری رائے یہ ہے کہ اس عورت کو مہر مثلی ملے گا نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، اور اس عورت کو وراثت بھی ملے گی اور اس عورت پر فوت شدہ زوج کی عدت گزارنا واجب ہوگی تو قبیلہ اشجع کے چند لوگ کھڑے ہوئے اور کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری ایک عورت کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا جو آپ نے فیصلہ کیا ہے اور اس عورت کا نام بِرْوع بنت واشق تھا۔ عکرمہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود کو جتنا اس دن خوش دیکھا کبھی اتنا خوش نہیں دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31023
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد وابنه (١٨٤٦٣)، والنسائي ٦/ ١٢٢، وابن حبان (٤١٠١)، والحاكم ٢/ ١٨٠، والظهراني ٢٠/ (٥٤٢)، والبيهقي ٧/ ٢٤٥، وأخرجه مرسلًا عبد الرزاق (٨٩٩)، وسعيد بن منصور (٩٣٠)، والنسائي في الكبرى (٥٥٢١)، وبنحوه من طريق إبراهيم عن علقمة عن ابن مسعود أخرجه أبو داود (٢١١٥)، والترمذي (١١٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31023، ترقيم محمد عوامة 29680)
حدیث نمبر: 31024
٣١٠٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (يحيى بن) (١) زكريا عن أبيه عن حبيب بن أبي ثابت عن حميد عن جابر بن عبد اللَّه قال: نحل (رجل) (٢) منا أمه (نخلا) (٣) ⦗٧٤⦘ (حياتها) (٤) فلما ماتت قال: أنا أحق (بنخلي) (٥) فقضى (النبي) (٦) ﷺ أنها ميراث (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ایک آدمی نے اپنی والدہ کو ان کی زندگی میں ایک کھجور کا درخت دے دیا۔ جب اس کی والدہ فوت ہوگئیں تو وہ کہنے لگا کہ میں اپنے کھجور کے درخت کا زیادہ حق دار ہوں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس درخت کے میراث ہونے کا فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31024
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31024، ترقيم محمد عوامة 29681)
حدیث نمبر: 31025
٣١٠٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (يحيى بن) (١) زكريا عن أبيه عن خالد بن سلمة قال: حدثني محمد بن أبي (ضرار) (٢) قال: اختصم رجلان إلى النبي ﷺ فقضى على أحدهما، (قال) (٣): (فأحدَّ كأنه) (٤) ينكر (ويرى) (٥) غير ذلك فقال: النبي ﷺ: "أنما أنا بشر أقضي بما (أرى) (٦)، فمن قضيت من (حق) (٧) أخيه شيئًا فلا يأخذه" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابی ضرار فرماتے ہیں کہ دو آدمی کوئی جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں میں سے ایک کے خلاف فیصلہ فرما دیا، محمد بن ابی ضرار فرماتے ہیں کہ وہ آدمی گھورنے لگا، گویا وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کا انکار کر رہا تھا اور اس کے برخلاف چاہ رہا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف انسان ہوں جو مناسب سمجھتا ہوں میں وہ فیصلہ کردیتا ہوں۔ پس اگر میں نے کسی کے لیے اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کردیا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اس حق کو نہ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31025
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ محمد بن عمرو بن الحارث بن أبي ضرار تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31025، ترقيم محمد عوامة 29682)
حدیث نمبر: 31026
٣١٠٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (قال) (١): حدثنا ابن أبي ذئب عن ⦗٧٥⦘ مخلد بن خفاف بن إيماء بن (رحضة) (٢) الغفاري عن عروة بن الزبير عن عائشة قالت: قضى رسول اللَّه ﷺ أن (خراج) (٣) العبد بضمانه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غلام سے استفادے کا فیصلہ اس کے حق میں فرمایا ہے جو اس کی ذمہ داری اٹھا تا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31026
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ مخلد صدوق، والحديث أخرجه أحمد (٢٥٧٤٥)، وأبو داود (٣٥٠٨)، والترمذي (١٢٨٥)، والنسائي ١/ ٢٥٤، وابن ماجه (٢٢٤٢)، وابن حبان (٤٩٢٨)، والحاكم ٢/ ١٥، والطيالسي (١٤٦٤)، والشافعي في المسند ٢/ ١٤٣، وعبد الرزاق (١٤٧٧٧)، وابن الجارود (٦٢٧)، وإسحاق (٧٥٠)، وابن زنجويه (٢٨٠)، وأبو يعلى (٤٥٧٥)، والطحاوي ٤/ ٢١، والعقيلي ٤/ ٢٣٠، والبغوي في الجعديات (٢٨٣٠)، وابن عدي ٦/ ٢٤٣٦، والدارقطني ٣/ ٥٣، وتمام (٦٩١)، والبيهقي ٥/ ٣٢١، والبغوي (٢١١٩)، وابن عبد البر ١٨/ ٢٠٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31026، ترقيم محمد عوامة 29683)
حدیث نمبر: 31027
٣١٠٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه عن زينب (بنت) (١) أم سلمة (عن أم سلمة) (٢) قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنكم تختصمون الي وإنما أنا بشر، (ولعل) (٣) بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض، وإنما أقضي بينكم على نحو (مما) (٤) أسمع منكم، فمن قضيت له من حق أخيه شيئًا فلا يأخذه، فإنما أقطع له قطعة من النار يأتي (بها) (٥) يوم القيامة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو ، اور میں تو ایک انسان ہی ہوں، اور شاید کہ تم میں سے کچھ لوگ دوسروں کی نسبت اپنی دلیل کو اچھا کر کے بیان کرتے ہیں تو میں جو کچھ تم سے سنتا ہوں اس کی بنیاد پر تمہارے درمیان فیصلہ کردیتا ہوں۔ پس جس کسی کے لیے بھی میں نے اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کردیا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اس حق کو نہ لے کیونکہ میں نے اس کو آگ کا ایک ٹکڑا دیا ہے جو وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31027
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٩٦٧)، ومسلم (٧١٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31027، ترقيم محمد عوامة 29684)
حدیث نمبر: 31028
٣١٠٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن أبي بردة عن أبي موسى أن رجلين ادعيا دابة ليس لواحد منهما بينة، فقضى بها رسول اللَّه ﷺ بينهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے ایک جانور کے بارے میں دعویٰ کیا، ان دونوں میں سے کسی کے پاس بھی گواہ نہیں تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جانور کا دونوں کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31028
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ ورواية الأكثر كذلك فلا تضرها رواية الأقل، ولا يبعد من مثل سعيد وقتادة رواية الحديث من طرق بعضها متصل، وبعضها مرسل، وأخرجه أحمد (١٩٦٠٣)، وأبو داود (٣٦١٣)، والنسائي ٨/ ٢٤٨، وابن ماجه (٢٣٣٥)، والحاكم ٤/ ٩٤، والترمذي في العلل ١/ ٥٦٥، والطحاوي في شرح المشكل (٤٧٥٣)، والبيهقي ١٠/ ٢٥٤، وأبو يعلى (٧٢٨٥)، والبزار (٣٥٩٨)، والذهبي في سير أعلام النبلاء ٢٠/ ٣١٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31028، ترقيم محمد عوامة 29685)
حدیث نمبر: 31029
٣١٠٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن الزهري قال: قضى رسول اللَّه ﷺ في الذكر إذا استؤصل أو قطعت حشفته الدية (١) مائة من الإبل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زھری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آلۂ تناسل کے بارے میں جبکہ اسے جڑ سے کاٹ دیا گیا ہو یا اس کے سرے کو کاٹا گیا ہو دیت یعنی سو اونٹوں کا فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31029
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف، الزهري تابعي وأشعث ضعيف، أخرجه عبد الرزاق (١٧٦٣٣)، وأبو داود في المراسيل (٢٦٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31029، ترقيم محمد عوامة 29686)
حدیث نمبر: 31030
٣١٠٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى (بن عبد الأعلى) (١) عن معمر عن الزهري قال: دعاني عمر بن عبد العزيز فسألني عن القسامة فقال: إنه قد بدا لي أن أردها إن الأعرابي يشهد، والرجل الغائب يجيء فيشهد، فقلت: يا أمير المؤمنين إنك لن تستطيع ردها، قضى بها رسول اللَّه ﷺ والخلفاء بعده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
امام زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے مجھے بلایا اور قسامت کے متعلق پوچھا ؟ اور کہنے لگے کہ میرا یہ خیال ہو رہا ہے کہ میں اس کو ختم کر دوں۔ کیونکہ ایک بدّو آ کر گواہی دیتا ہے اور اسی طریقہ سے ایک ایسا آدمی جو موقع سے غائب ہوتا ہے وہ آتا ہے اور وہ گواہی دے دیتا ہے۔ تو امام زہری فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! اس کو ختم کرنا آپ کی استطاعت میں نہیں ہے کیونکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور ان کے بعد خلفاء راشدین نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31030
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الزهري تابعي، أخرجه أحمد (٢٣٦٦٨)، وعبد الرزاق (١٨٢٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31030، ترقيم محمد عوامة 29687)