حدیث نمبر: 26925
٢٦٩٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أسامة (بن) (١) زيد عن عبد الرحمن بن القاسم عن (أبيه) (٢) عن عائشة (قالت) (٣): سترت (سهوة) (٤) ⦗١١٢⦘ (لي) (٥) (تعني) (٦) الداخل (بستر) (٧) فيه تصاوير، فلما قدم النبي ﷺ هتكه فجعلت منه (منبذتين) (٨) فرأيت النبي ﷺ متكئًا على (إحداهما) (٩) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے گھر میں تصویروں والے پردے لگائے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لائے تو آپ نے وہ پردے اتار دئیے۔ میں نے ان کے تکیے بنا لیے تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تکیوں میں سے ایک سے ٹیک لگا رکھی تھی۔
حدیث نمبر: 26926
٢٦٩٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الجعد رجل من أهل المدينة قال: حدثتني (ابنة) (١) سعد أن أباها جاء من فارس بوسائد فيها تماثيل (فكنا (نبسطها)) (٢) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بنت سعد فرماتی ہیں کہ میرے والد فارس سے کچھ تکیے لائے جن پر تصویریں تھیں ہم ان تکیوں کو بچھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26927
٢٦٩٢٧ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن ليث قال: رأيت سالم بن عبد اللَّه متكئًا على وسادة حمراء فيها تماثيل) (١) فقلت له فقال: إنما يكره هذا لمن ينصبه ويصنعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبد اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے سرخ تکیے پر ٹیک لگا رکھی تھی جس میں تصاویر تھیں۔ میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تصویریں اس شخص کے لئے مکروہ ہیں جو انہیں سجائے اور آویزاں کرے۔
حدیث نمبر: 26928
٢٦٩٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن هشام بن عروة عن أبيه أنه كان يتكئ على المرافق فيها التماثيل: الطير والرجال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد ایسے تکیوں پر ٹیک لگایا کرتے تھے جن پر پرندوں اور آدمیوں کی تصویریں ہوتی تھیں۔
حدیث نمبر: 26929
٢٦٩٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن علقمة عن محمد بن سيرين ⦗١١٣⦘ قال: نبئت عن (حطان) (١) بن عبد اللَّه قال: أتى عليَّ صاحب (لي) (٢) فناداني فأشرفت عليه فقال: قرئ علينا كتاب أمير المؤمنين يعزم على من كان في بيته (ستر منصوب) (٣) فيه تصاوير لما وضعه، فكرهت أن (أبيت) (٤) عاصيًا، فقمنا إلى قرام لنا فوضعته (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حطان بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک دوست آیا اور اس نے مجھے آواز دی ، میں نے جھانک کر اسے دیکھا تو اس نے کہا کہ ہمارے سامنے امیر المؤمنین کا ایک خط پڑھا گیا ہے جس میں لکھا تھا کہ جن گھروں میں ایسے پردے ہیں جن پر تصویریں ہیں ان پر لازم ہے کہ ان پردوں کو اتار دیں۔ پس میں نے رات کو گناہ گار ہونے کی حالت میں گزارنا مناسب نہ سمجھا اور ان پردوں کو اتار دیا۔ محمد فرماتے ہیں کہ اسلاف بچھائی جانے والی چیزوں پر تصویروں کو مکروہ خیال نہ فرماتے تھے بلکہ آویزاں کی جانے والی چیزوں پر تصویروں کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 26930
٢٦٩٣٠ - قال: محمد كانوا لا يرون ما وطئ وبسط من التصاوير مثل الذي نصب.
حدیث نمبر: 26931
٢٦٩٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل عن أيوب عن عكرمة قال: [كان (يقال) (١) في التصاوير في الوسائد والبسط (التي توطأ) (٢): هو ذل لها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ ان تصویروں کے بارے میں جو چٹائیوں یا تکیوں پر بنی ہوں فرمایا کرتے تھے کہ یہ ان کی تذلیل ہے۔
حدیث نمبر: 26932
٢٦٩٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن عكرمة] (١) كانوا يكرهون ما نصب من التماثيل نصبًا، ولا يرون بأسًا بما وطئت الأقدام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اسلاف آویزاں کی جانے والی چیزوں میں تصویر کو مکروہ قرار دیتے تھے لیکن بچھائی جانے والی چیزوں میں تصویر کے ہونے پر کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 26933
٢٦٩٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين أنه كان لا يرى بأسًا بما وطئ من التصاوير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ بچھائی جانے والی چیز پر تصویر کے ہونے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 26934
٢٦٩٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن ليث عن مجاهد أنه كان يكره أن يصور الشجر المثمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد پھل دار درخت کی تصویر کو بھی مکروہ قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 26935
٢٦٩٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: كان في مجلس محمد وسائد فيها تماثيل عصافير، (فكان) (١) (أناس) (٢) يقولون في ذلك فقال: (محمد) (٣): إن هؤلاء قد أكثروا فلو حولتموها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد کی مجلس گاہ میں کچھ تکیے تھے جن پر پرندوں کی تصویریں تھیں ، لوگ ان سے اس بارے میں سوال کیا کرتے تھے، محمد نے فرمایا کہ لوگوں نے اس بارے میں بہت سی باتیں کرنا شروع کردی ہیں تم انہیں ہٹا ہی دو تو اچھا ہے۔
حدیث نمبر: 26936
٢٦٩٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن يمان عن عثمان بن الأسود عن عكرمة (ابن) (١) خالد قال: لا بأس بالصورة إذا كانت توطأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد فرماتے ہیں کہ بچھائی جانے والی چیز پر تصویر کے ہونے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 26937
٢٦٩٣٧ - (حدثنا أبو بكر قال) (١) حدثنا ابن (يمان) (٢) عن الربيع بن المنذر عن سعيد بن جبير قال: لا بأس بالصورة إذا كانت توطأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ بچھائی جانے والی چیز پر تصویر کے ہونے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 26938
٢٦٩٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك عن عطاء في التماثيل ما كان مبسوطًا (يوطأ) (١) (ويبسط) (٢) فلا بأس به، (و) (٣) ما كان (ينصب) (٤) فإني (أكرهها) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ بچھائی جانے والی چیز پر تصویر کے ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ آویزاں کی جانے والی چیز میں میں اسے مکروہ سمجھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 26939
٢٦٩٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه كان يكره التصاوير ما نصب منها وما (بسط) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری ہر چیز میں تصویر کو مکروہ سمجھتے تھے خواہ اسے بچھایا جائے یا آویزاں کیا جائے۔
حدیث نمبر: 26940
٢٦٩٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن عكرمة قال: إنما الصورة الرأس، فإذا قطع فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ تصویر سَر کا نام ہے اگر وہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 26941
٢٦٩٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى (بن) (١) سعيد عن سلمة (أبي) (٢) بشر عن عكرمة (٣) قوله: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ [الأحزاب: ٥٧]، قال: أصحاب التصاوير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ قرآن مجید کی آیت { الَّذِینَ یُؤْذُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ } (جو لوگ اللہ کو اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد تصویروں والے لوگ ہیں۔
حدیث نمبر: 26942
٢٦٩٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أزهر عن ابن عون قال: دخلت على القاسم وهو بأعلى مكة في بيته فرأيت في بيته حجلة فيها تصاوير القندس والعنقاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں حضرت قاسم کے پاس حاضر ہوا وہ مکہ میں اپنے گھر میں تھے۔ میں نے ان کی خواب گاہ میں دیکھا کہ اس پر دریائی کتے اور عنقاء نامی پرندے کی تصویریں تھیں۔
حدیث نمبر: 26943
٢٦٩٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عمرو بن دينار عن سالم بن عبد اللَّه قال: كانوا لا يرون بما وطئ من التصاوير بأسًا. [تم كتاب اللباس (والزينة) (١) والحمد للَّه رب العالمين] (٢) (واللَّه أعلم) (٣) [وصلى اللَّه على سيدنا محمد وعلى آله وسلم] (٤)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ اسلاف ان چیزوں پر تصویروں میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے جنہیں بچھایا جاتا ہو۔