حدیث نمبر: 26905
٢٦٩٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل (بن) (١) إبراهيم عن ليث (عن) (٢) المهاجر قال: قال ابن عمر: من لبس رداء شهرة أو ثوب شهرة ألبسه اللَّه نارًا يوم القيامة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس شخص نے شہرت کی چادر یا شہرت کا کپڑا پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کا لباس پہنائیں گے۔
حدیث نمبر: 26906
٢٦٩٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن الحصين قال: كان زبيد اليامي يلبس برنسًا قال: فسمعت إبراهيم عابه عليه قال: فقلت له: إن الناس (١) كانوا يلبسونها، قال: أجل، ولكن قد فني من كان يلبسها، (فإن) (٢) لبسها (أحد) (٣) اليوم شهروه وأشاروا إليه بالأصابع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ زبید یامی برنس (ایک خاص ٹوپی) پہنا کرتے تھے۔ میں نے ابراہیم کو اس کو معیوب کہتے سنا۔ میں نے ان سے کہا کہ اسلاف تو یہ پہنا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ اب اس کو پہننے والا کوئی نہ رہا ، اب اگر کوئی پہنے تو لوگ اس کی باتں ا کرتے ہیں اور اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 26907
٢٦٩٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن ليث عن شهر عن أبي الدرداء قال: من ركب مشهورًا من الدواب أو لبس مشهورًا من الثياب أعرض اللَّه عنه ما دام عليه وإن كان عليه كريمًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو دردائ فرماتے ہیں کہ جو کسی مشہور سواری پر سوار ہو یا مشہور کپڑے پہنے تو جب تک اس پر رہے اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرمائیں گے ، خواہ وہ مالدار اور سخی شخص ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 26908
٢٦٩٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن ليث عن (المهاجر) (١) أبي ⦗١٠٧⦘ الحسن عن ابن عمر قال: من لبس شهرة من الثياب ألبسه اللَّه (ذلة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے شہرت کے لئے لباس پہنا اللہ تعالیٰ اسے ذلت کا لباس پہنائے گا۔