کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: جو حضرات گھر وں میں تصاویر کے ہوتے ہوئے اندر داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں
❮
❯
٢٦٨٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر عن أبيه قال: سمعت الحسن يقول أو لم يكن أصحاب محمد يدخلون الخانات فيها التصاوير (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معتمر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حسن کو کہتے سُنا : کیا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ایسی دو کانوں میں نہیں داخل ہوتے تھے جن میں تصاویر ہوتی تھیں ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26840
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26840، ترقيم محمد عوامة 25714)
٢٦٨٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي الضحى قال: دخلت مع مسروق صفة فيها تماثيل فنظر إلى تماثيل منها فقال: ما هذا؟ قالوا: تمثال مريم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالضحیٰ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت مسروق کے ہمراہ اس چبوترے میں داخل ہوا جس میں تصویریں تھیں۔ پس آپ کی نظر ایک تصویر پر پڑی تو آپ نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا۔ حضرت مریم کی تصویر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26841
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26841، ترقيم محمد عوامة 25715)
٢٦٨٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير (١) عن مغيرة قال: كان في بيت إبراهيم تابوت فيه تماثيل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابراہیم کے گھر میں ایک تابوت تھا جس میں تصاویر تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26842
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26842، ترقيم محمد عوامة 25716)
٢٦٨٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة (عن حماد) (١) عن إبراهيم قال: لا بأس بالتمثال في حلية السيف، ولا بأس بها في سماء البيت، إنما يكره (منها) (٢) ما (ينصب) (٣) نصبًا -يعني الصورة-.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تلوار کی تزئین میں تصویر ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور گھر کی چھت میں بھی تصویر ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ صرف وہ تصاویر مکروہ ہیں جن کو سیدھا کھڑا کیا جائے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26843
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26843، ترقيم محمد عوامة 25717)