کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات زیادہ بالوں کو ناپسند کرتے ہیں
حدیث نمبر: 26725
٢٦٧٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن أسامة قال: كان عمر ابن عبد العزيز إذا كان يوم الجمعة بعث الأحراس فيأخذون بأبواب المسجد، ⦗٥٦⦘ (فلا) (١) يجدون رجلًا موفر (شيء من الشعر) (٢) إلا جزوه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب جمعہ کا دن ہوتا تھا تو حضرت عمر بن عبد العزیز ، چوکیداروں کو بیجتے ، پس وہ مسجد کے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے اور وہ جس آدمی کو بھی کثیر بالوں والا پاتے تو اس کے بالوں کو کاٹ دیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26725
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26725، ترقيم محمد عوامة 25602)
حدیث نمبر: 26726
٢٦٧٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاوية بن هشام وسفيان بن عقبة عن (سفيان عن) (١) عاصم (بن كليب) (٢) (عن) (٣) أبيه عن وائل بن حجر قال: (رآني) (٤) النبي ﷺ ولي شعر طويل فقال: "ذباب ذباب"، فانطلقت فأخذته، فرآني النبي ﷺ فقال: "إني لم أعنك وهذا أحسن" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل بن حجر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا جبکہ میرے بال لمبے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” مکھی، مکھی ‘ ‘ چناچہ مں ب چل دیا اور میں نے وہ بال کاٹ لیے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا : ” میری مراد (مکھی مکھی کہنے سے) تم تو نہیں تھے۔ یہ بھی اچھا ہے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26726
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ كليب بن شهاب صدوق، أخرجه أبو داود (٤١٩٠)، والنسائي ٨/ ١٣١، وفي الكبرى (٩٣٠٧)، وابن ماجه (٣٦٣٦)، والطحاوي في شرح المشكل ٨/ ٤٣٦، وابن سعد ٦/ ٢٦، والطبراني ٢٢/ (٩٩)، والمزي ٧/ ٣٥٣، والبيهقي في الشعب (٦٤٧٥)، والخطابي في غريب الحديث ١/ ٤٩٣، والعقيلي ١/ ٢١٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26726، ترقيم محمد عوامة 25603)
حدیث نمبر: 26727
٢٦٧٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مبارك عن هشام عن (أبي) (١) قدامة قال: دخل رجل على ابن سيرين وعليه شعر طويل فقال: هذا يكره، ثم دخل عليه من الغد وقد استأصله فقال: هذا يكره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن قدامہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن سیرین کے پاس حاضر ہوا اور اس آدمی کے لمبے لمبے بال تھے ۔ تو ابن سیرین نے فرمایا : یہ مکروہ ہیں۔ پھر وہ شخص اگلے دن آپ کے پاس آیا اور اس نے سر کو بالکلیہ صاف کرلیا تھا۔ تو آپ نے فرمایا : یہ بھی مکروہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26727
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26727، ترقيم محمد عوامة 25604)