کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جب آدمی نیا کپڑا پہنے تو کیا کہے؟
حدیث نمبر: 26718
٢٦٧١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي ليلى عن أخيه عيسى عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا لبس أحدكم ثوبا جديدا فليقل: الحمد للَّه الذي كساني ما أواري به عورتي، وأتجمل به في الناس" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے ۔ و ہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی نیا کپڑا پہنے تو اس کو یہ کہنا چاہیے۔ : : تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے وہ (کپڑا) پہنایا جس کے ذریعہ میں اپنے ستر کو چھپاتا ہوں اور جس کے ذریعہ میں لوگوں میں جمال حاصل کرتا ہوں۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26718
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ ابن أبي ليلى هو محمد سيئ الحفظ، ووالده عبد الرحمن تابعي، أخرجه ابن سعد ١/ ٤٦٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26718، ترقيم محمد عوامة 25595)
حدیث نمبر: 26719
٢٦٧١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أصبغ بن زيد قال: حدثنا أبو العلاء عن أبي أمامة قال: لبس عمر بن الخطاب ثوبًا جديدًا فقال: ⦗٥٤⦘ الحمد للَّه الذي كساني ما أواري به عورتي، وأتجمل به في حياتي، ثم قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من لبس ثوبًا جديدًا فقال: الحمد للَّه الذي كساني ما أواري به عورتي، وأتجمل به في حياتي، ثم (عمد) (١) إلى الثوب الذي (أخلق) (٢) أو قال: ألقى فتصدق به كان في كنف اللَّه وفي حفظ اللَّه وفي ستر اللَّه حيًا وميتًا"، قالها: ثلاثًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک نیا کپڑا پہنا، تو فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے وہ کپڑا پہنایا جس کے ذریعہ میں اپنے ستر کو چھپاتا ہوں اور جس کے ذریعہ میں اپنی زندگی میں جمال حاصل کرتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا : میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سُنا : ” جو شخص نیا کپڑا پہنے اور یہ کہے : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَانِی مَا أُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی ، وَأُجَمِّلُ بِہِ فِی حَیَاتِی ، پھر وہ اپنے پرانے، اتارے ہوئے کپڑے کو لے اور اس کو صدقہ کر دے تو یہ شخص اللہ کی رحمت ، حفاظت اور پردہ میں رہے گا ۔ زندگی میں بی اور موت کے بعد بھی “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ کہی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26719
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26719، ترقيم محمد عوامة 25596)
حدیث نمبر: 26720
٢٦٧٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبي الأشهب عن رجل من (مزينة) (١) أن رسول اللَّه ﷺ رأى على عمر ثوبا غسيلًا فقال: "أجديد ثوبك هذا؟ " قال: غسيل يا رسول اللَّه قال: فقال له رسول اللَّه ﷺ: "الْبس جديدًا، وعش حميدًا، وتوف شهيدًا، يعطك اللَّه قرة عين في الدنيا والآخرة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
قبیلہ مزینہ کا ایک شخص بیان کرتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر پر دھلا ہوا ایک کپڑا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” کیا تمہارا یہ کپڑا نیا ہے ؟ “ حضرت عمر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! دُھلا ہوا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا : ” تم نیا کپڑا پہنو اور قابل تعریف زندگی گزارو اور شہادت کی موت پاؤ، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں تمہیں آنکھ کی ٹھنڈک عطا کریں۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26720
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26720، ترقيم محمد عوامة 25597)
حدیث نمبر: 26721
٢٦٧٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين (بن) (١) علي عن أبي وهب عن منصور عن (٢) سالم بن أبي الجعد قال: إذا لبس الإنسان (الثوب) (٣) ⦗٥٥⦘ (الجديد) (٤) فقال: اللهم (اجعلها) (٥) ثيابًا مباركة، نشكر فيها نعمتك، ونحسن فيها عبادتك، ونعمل فيها بطاعتك، لم يجاوز (ترقوته) (٦) حتى يغفر له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابی الجعد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی نیا کپڑا پہنے اور پھر کہے۔ اے اللہ ! تو اس کپڑے کو مبارک بنا دے ہم اس میں تیری نعمت کا شکر کریں اور اس میں تیری اچھی طرح عبادت کریں اور اس میں تیری اطاعت کریں۔ تو یہ کپڑا گلے سے نیچے نہیں اترتا یہاں تک کہ اس آدمی کی مغفرت کردی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26721
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26721، ترقيم محمد عوامة 25598)
حدیث نمبر: 26722
٢٦٧٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن الجريري (عن) (١) أبي نضرة قال: كان أصحاب النبي ﷺ إذا رأوا على أحدهم الثوب الجديد قالوا: تبلي ويخلف اللَّه (عليك) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ جب خود میں سے کسی پر نیا کپڑا دیکھتے تو یہ کہتے۔ تُبْلِی ، وَیُخْلِفُ اللَّہُ عَلَیْک۔ (تم اس کپڑے کو پرانا کرو اور اللہ تمہیں اس کے بعد اور عطا کرے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26722
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26722، ترقيم محمد عوامة 25599)
حدیث نمبر: 26723
٢٦٧٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (ابن علية عن) (١) الجريري عن أبي نضرة قال: إنما نعيش في (الخلف) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو پرانے کپڑے میں زندگی گزارتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26723
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26723، ترقيم محمد عوامة 25600)
حدیث نمبر: 26724
٢٦٧٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر قال: حدثنا عون بن عبد اللَّه قال: لبس رجل ثوبًا جديدًا، فحمد اللَّه فأدخل الجنة أو غفر له قال: فقال رجل: لا أرجع إلى أهلي حتى ألبس ثوبًا جديدًا وأحمد اللَّه عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبد اللہ بیان کرتے ہں ا ۔ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نیا کپڑا پہنا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کی تو اس کو جنت میں داخل کردیا گیا…یا فرمایا …اس کی مغفرت کردی گئی۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر ایک آدمی نے کہا میں اپنے گھر والوں کی طرف واپس نہیں جاؤں گا یہاں تک کہ میں نیا کپڑا پہن لوں اور اس پر اللہ کی تعریف کرلوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26724
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26724، ترقيم محمد عوامة 25601)