حدیث نمبر: 26693
٢٦٦٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا المطلب بن زياد عن السدي قال: رأيت الحسين بن علي وجمته خارجة من تحت عمامته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سدی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور ان کی زلفیں ان کے عمامہ سے باہر آرہی تھیں۔
حدیث نمبر: 26694
٢٦٦٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: قالت أم هانئ: دخل النبي ﷺ (مكة) (١) وله أربع غدائر-تعني ضفائر- (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ام ہانی فرماتی ہیں۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں اس حالت میں داخل ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار مینڈھیاں تھیں۔
حدیث نمبر: 26695
٢٦٦٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام قال: رأيت ابن عمر وجابرًا ولكل واحد منهما جمة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت جابر کو دیکھا اور ان میں سے ہر ایک کی زلفیں تھیں۔
حدیث نمبر: 26696
٢٦٦٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن هبيرة قال: كان لعبد اللَّه شعر (يضعه) (١) على أذنيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہبیرہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کے بال تھے اور وہ ان کو اپنے کانوں پر رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 26697
٢٦٦٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا أفلح رأيت للقاسم جمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت افلح بیان کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم کی زلفیں دیکھیں ہیں۔
حدیث نمبر: 26698
٢٦٦٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء قال: كان لعبيد بن (عمير) (١) خصلتان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمر کی دو چوٹیاں تھیں۔
حدیث نمبر: 26699
٢٦٦٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن يحيى بن عبد اللَّه بن أبي قتادة قال: مازح النبي ﷺ أبا قتادة قال: " (لأجزنّ) (١) جمتك"، (قال) (٢): لك مكانها استر فقال له بعد ذلك: "أكرمها"، فكان يتخذ لها بعد ذلك (السك) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عبد اللہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت قتادہ سے مزاح کیا۔ فرمایا : ” میں ضرور بالضرور تمہاری زلفیں کاٹ دوں گا۔ “ حضرت ابو قتادہ نے فرمایا : آپ کے لئے ان کی جگہ ایک قید ی ہے۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” ان کا خیال کرو۔ “ چناچہ حضرت قتادہ اس کے بعد زلفوں کے لیے خاص خوشبو بنایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26700
٢٦٧٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن الحسن ابن زيد عن أبيه أنه كان في رأس الحسن بن علي (ذؤابة) (١)، وأن الحسين (بن علي) (٢) جبذه بها حتى (أدماه) (٣) أو (أقرحه) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن زید، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے سر میں بالوں کی لِٹ تیت اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس لِٹ کے ذریعہ کھینچا ۔ یہاں تک کہ ان کا خون نکل گیا یا آپ نے ان کو زخمی کردیا۔
حدیث نمبر: 26701
٢٦٧٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن (ابن) (١) إسحاق عن عبيد اللَّه بن المغيرة بن معيقيب قال: وكان (يفقه) (٢) قال: حدثني من لا أتهم من أهلي أنه رأى معيقيبًا مرسلًا ناصيته بين عينيه، ورأى سعد بن مالك كذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن مغیرہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے یہ بات بیان کی۔ جس میں میں متہم نہیں سمجھتا کہ اس نے حضرت معیقیب کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے سامنے کے بالوں کو اپنی آنکھوں کے آگے چھوڑا ہوا تھا۔ اور انہوں نے حضرت سعد بن مالک کو بھی اسی طرح دیکھا تھا۔
حدیث نمبر: 26702
٢٦٧٠٢ - (حدثنا) (١) أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم عن إبراهيم بن سعد عن (الزهري) (٢) عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه عن ابن عباس قال: كان أهل الكتاب يسدلون أشعارهم، وكان المشركون يفرقون رؤوسهم، وكان رسول اللَّه ﷺ يحب موافقة أهل الكتاب فيما لم يؤمر به، قال: فسدل رسول اللَّه ﷺ (ناصيته) (٣) ثم فرق بعد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کا سدل کیا کرتے تھے اور مشرکین اپنے سروں میں مانگ نکالا کرتے تھے۔ جن کاموں میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ ان کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل کتاب کی موافقت کو پسند کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سامنے والے بالوں کو سدل یعنی کھلا چھوڑا پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مانگ نکالی۔
حدیث نمبر: 26703
٢٦٧٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسحاق بن منصور عن إبراهيم بن سعد عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن (عباد) (١) (عن أبيه) (٢) عن عائشة قالت: كنت أفرق خلف يافوخ رسول اللَّه ﷺ ثم أسدل (ناصيته) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے اوپر کے حصہ کے پیچھے سے مانگ نکالتی تھی پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کے بالوں کو چھوڑ دیا کرتی تھی۔
حدیث نمبر: 26704
٢٦٧٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) جرير بن حازم عن قتادة عن أنس قال: كان شعر رسول اللَّه ﷺ (٢) رَجِلًا بين (أذنيه) (٣) ومنكبيه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال مبارک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کانوں اور مونڈھوں کے درمیان کنگھی کیے ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 26705
٢٦٧٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن البراء قال: ما رأيت أجمل من رسول اللَّه ﷺ مترجلًا في حلة حمراء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سرخ جوڑے میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی جمیل نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 26706
٢٦٧٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر عن علي بن صالح قال: حدثني أياد بن لقيط عن أبي رمثة قال: أقبلت فرأيت رجلًا جالسًا في ظل الكعبة فقال أبي: تدري من هذا؟ هذا رسول اللَّه ﷺ، فلما انتهينا إليه إذا رجل ذو وفرة وبه ⦗٥١⦘ ردع (١) عليه ثوبان أخضران (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رمثہ سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں۔ میں آیا اور میں نے بیت اللہ کے سایہ میں ایک آدمی کو بیٹھے دیکھا۔ میرے والد نے کہا تم جانتے ہو، یہ کون ہے ؟ یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ پس جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے بالوں والی ایک ہستی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر زعفران کی زردی کا اثر تھا اور دو سبز کپڑے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تھے۔
حدیث نمبر: 26707
٢٦٧٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل عن عبد الواحد بن أيمن قال: رأيت ابن الزبير وله جمة إلى العنق وكان يَفْرُق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الواحد بن ایمن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ میں نے حضرت ابن زبیر کو دیکھا جبکہ ان کی زلفیں گردن تک تھیں اور وہ مانگ نکالے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 26708
٢٦٧٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عبد الواحد بن (أيمن) (١) قال: رأيت عبيد بن عمير وابن الحنفية لكل واحد منهما جمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الواحد بن ایمن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ میں نے حضرت عبید بن عمیر اور حضرت ابن الحنفیہ کو دیکھا۔ ان دونوں میں سے ہر ایک کی زلفیں تھیں۔
حدیث نمبر: 26709
٢٦٧٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن فطر عن حبيب قال: رأيت ابن عباس وله جمة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا اور آپ کی زلفیں تھیں۔
حدیث نمبر: 26710
٢٦٧١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأحوص بن حكيم عن راشد بن سعد قال: أمر رسول اللَّه ﷺ بالفرق، ونهى عن (السكينية) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت راشد بن سعد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مانگ نکالنے کا حکم دیا اور مانگ کے بغیر چھوڑنے سے منع کیا۔
حدیث نمبر: 26711
٢٦٧١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل عن فطر عن أبي إسحاق عن (هبيرة) (١) قال: كنا جلوسًا عند علي فدعا ابنا له يقال له: عثمان فجاء غلام له (ذؤابة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہبیرہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو بلایا جس کو عثمان کہا جاتا تھا۔ پس ایک نوجوان آیا جس کے بڑے بڑے بال تھے۔
حدیث نمبر: 26712
٢٦٧١٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن رضى بن أبي عقيل عن أبيه قال: كنا على باب ابن الحنفية، فخرج (ابن له) (١) ذؤابة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رضی بن ابی عقیل ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن الحنفیہ کے دروازے پر کھڑے تھے کہ ان کا ایک زلفوں والا بیٹا باہر آیا۔
حدیث نمبر: 26713
٢٦٧١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مالك قال: حدثنا زهير قال: حدثنا (عمارة) (١) بن غزية عن عبد الرحمن بن القاسم، -قال زهير: يرى (عمارة) (٢) أنه عن أبيه-، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن الشعر الحسن أو الجميل من كسوة (اللَّه) (٣) فأكرموه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن قاسم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یقینا حسین …یا … جمیل بال اللہ تعالیٰ کے لباس میں سے ہیں۔ پس تم ان کی عزت کرو۔ “ راوی کہتے ہیں۔ یہ حضرت ان بالوں کو صاف کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ حضرت زہیرکا گمان تو یہ ہے کہ یہ ضائع کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 26714
٢٦٧١٤ - (قال) (١): (وكان) (٢) يكره (إذالته) (٣).
حدیث نمبر: 26715
٢٦٧١٥ - زعم زهير أنه (التضييع) (١).
حدیث نمبر: 26716
٢٦٧١٦ - حدثنا أبو بكر قال. حدثنا أبو أسامة عن هشام قال: رأيت لابن عمر جمة مفروقة تضرب منكبيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی کندھوں تک زلفیں دیکھیں جو مانگ نکالی ہوئی تھیں۔
حدیث نمبر: 26717
٢٦٧١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مالك عن كامل عن حبيب قال: كأني أنظر إلى ابن عباس (وله) (١) جمة (فينانه) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں ۔ کہ گویا میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھ رہا ہوں۔ ان کی موٹی موٹی زلفیں تھیں۔