٢٦٥٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين بن علي عن (سعيد) (١) عن مغيرة قال: كان إبراهيم لا يرى بأسًا أن يلبس الرجل الثوب بخمسين درهمًا -يعني الطيلسان-.
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت مغیرہ سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ابراہیم اس بات میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے کہ آدمی پچاس درہم کا کپڑا پہنے …یعنی شال ۔
٢٦٥٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن مسروق قال: كان لا يغالي بثوب (إلا) (١) بطيلسان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن محمد، اپنے والد سے حضرت مسروق کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ شال کے علاوہ کسی کپڑے کو مہنگا نہیں خریدتے تھے۔
٢٦٥٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن همام عن قتادة عن محمد قال: كان لتميم رداء اشتراه بألف (فيصلي) (١) فيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت تمیم کے پاس ایک چادر تھی جو انہوں نے ایک ہزار میں خریدی تھی اور وہ اس میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
٢٦٥٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عثمان بن واقد عن نافع عن ابن عمر قال: كان عمر يكسو الرجل من أصحاب ⦗١٢⦘ محمد ﷺ (١) الحلة (بتسع مائة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی کو نو سو کا ایک جوڑا پہناتے تھے۔
٢٦٥٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر (١) قال: كان مسروق لا يغالي بثوب إلا (بطيلسان) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن محمد بن منتشر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسروق کسی کپڑے کو مہنگا نہیں لیتے تھے مگر شال کو۔