حدیث نمبر: 26430
٢٦٤٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن أبي (سنان) (١) عن عبد اللَّه بن أبي الهذيل قال: سأل أبو بكر رسول اللَّه ﷺ عن موضع الإزار، فقال: " (مستدق) (٢) ⦗٥٢٦⦘ الساق، لا خير فيما أسفل (من ذلك) (٣)، ولا خير فيما فوق ذلك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابو الہذیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ازار کی جگہ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’ ’ پنڈلی کے باریک حصہ کے پاس ۔ اس سے نیچے ہو تو اس میں بھی کوئی خیر نہیں ہے اور اس سے اوپر میں بھی کوئی خیر نہیں ہے۔ “
حدیث نمبر: 26431
٢٦٤٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن مسلم بن (نذير) (١) عن حذيفة قال: أخذ رسول اللَّه ﷺ بأسفل عضلة ساقي أو ساقه فقال: "هذا موضع الإزار، فإن أبيت فأسفل، فإن أبيت فأسفل، فإن أبيت فلا حق للإزار في الكعبين" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری یا اپنی پنڈلی کے پٹھے کو پکڑا اور فرمایا : ” ازار کی جگہ یہ ہے۔ اگر تمہیں (اس سے) انکار ہو تو اس سے کچھ نیچے اور اگر تمہیں (اس سے) بھی انکار ہو تو اس سے کچھ نیچے، لیکن اگر تمہیں (اس سے بھی) انکار ہو تو پھر ٹخنوں میں تو ازار کا کوئی حق نہیں ہے۔ “
حدیث نمبر: 26432
٢٦٤٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يعلى بن (عبيد) (١) عن (محمد) (٢) بن إسحاق قال: سمعت أبا نبيه يقول سمعت عائشة تقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما تحت الكعب من الإزار في النار" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نبیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سُنا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ٹخنوں سے نیچے ازار، جہنم میں ہوگا۔ “
حدیث نمبر: 26433
٢٦٤٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي يعفور قال: رأيت ابن عمر، و (إن) (١) إزاره إلى نصف ساقه، أو قريب من نصف ساقه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو یعفور سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا اور ان کا ازار نصف پنڈلی تک تھا یا آپ کی نصف پنڈلی کے قریب تھا۔
حدیث نمبر: 26434
٢٦٤٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يعلى بن عبيد عن محمد بن إسحاق عن العلاء (بن) (١) عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إزرة المؤمن إلى نصف الساق، فما كان إلى الكعب فلا بأس، وما كان تحت الكعب ففي النار" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مؤمن کا ازار اس کی نصف پنڈلی تک ہوتا ہے جو ٹخنوں تک بھی ہو تو کوئی حرج نہیں اور جو ٹخنوں سے نیچے ہو تو وہ جہنم میں ہوگا۔ “
حدیث نمبر: 26435
٢٦٤٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن أبي (غفار) (١) عن أبي تميمة الهجيمي عن أبي جرى الهجيمي قال: أتيت رسول اللَّه ﷺ فقلت: عليك السلام، يا رسول اللَّه، قال: " (لا تقل) (٢): عليك السلام فإن "عليك السلام" تحية [الموتى"، قال: وقلت: يا رسول اللَّه زدني، قال: "الإزار إلى نصف الساق، فإن أبيت فإلى الكعبين، فإياك والمخيلة؛ فإن اللَّه لا يحب] (٣) المخيلة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جری ہجیمی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا۔ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! علیک السلام۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا علیک السلام نہ کہو کیونکہ یہ مردوں کا سلام ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے مزید کچھ بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” ازار کو نصف پنڈلی تک رکھو لیکن اگر تم اس سے انکار کرو تو پھر ٹخنوں تک رکھ لو۔ خبردار ! تکبر سے بچو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ تکبر کو ناپسند کرتے ہیں۔ “
حدیث نمبر: 26436
٢٦٤٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين بن علي (عن) (١) جعفر (٢) قال: كان ميمون يشمر إزاره إلى (أنصاف) (٣) ساقيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت میمون، اپنے ازار کو اپنی پنڈلیوں کے نصف تک چڑھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 26437
٢٦٤٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا وهيب قال: حدثنا داود ابن أبي هند عن أبي قزعة عن الأسقع بن الأسلع عن سمرة بن جندب عن النبي ﵇ (١) قال: "ما أسفل من الكعبين من الإزار في النار" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن جندب ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ازار کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا۔ “
حدیث نمبر: 26438
٢٦٤٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي مكين عن (خاله) (١) أبي أمية أن عليًا أتزر فلحق إزاره بركبتيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امیہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ازار پہنا تو آپ کا ازار آپ کے گھٹنوں کو لگ رہا تھا۔
حدیث نمبر: 26439
٢٦٤٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: موضع الإزار (مستدق) (١) (الساق) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ازار کی جگہ پنڈلی کا باریک حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 26440
٢٦٤٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن أنس قال: ⦗٥٢٩⦘ الإزار إلى نصف الساق أو إلى الكعبين، لا خير فيما هو أسفل (من) (١) ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ازار، نصف پنڈلی تک ہو یا ٹخنوں تک ہو جو ازار اس سے نیچے ہو اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 26441
٢٦٤٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (ابن) (١) عون عن ابن سيرين قال: كانوا يكرهون الإزار فوق نصف الساق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگ، نصف پنڈلی سے اوپر ازار کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26442
٢٦٤٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن سليمان بن مسهر عن خرشة أن (عمر) (١) دعا بشفرة فرفع إزار رجل عن كعبيه ثم قطع ما كان أسفل من ذلك، قال: فكأني أنظر إلى (ذباذبه) (٢) (تسيل) (٣) على (عقبيه) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حرشہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے استرا منگوایا پھر ایک آدمی کا ازار اس کے ٹخنوں سے اوپر کیا پھر جو اس سے نیچے تھے ا س کو کاٹ دیا۔ راوی کہتے ہیں گویا کہ میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر ہے کہ کپڑے کے ٹکڑے اس کی ایڑیوں پر گر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 26443
٢٦٤٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسحاق بن سليمان عن أبي سنان عن أبي إسحاق قال: رأيت ناسًا من أصحاب رسول اللَّه ﷺ يأتزرون على أنصاف سوقهم، فذكر أسامة بن زيد وابن عمر وزيد بن أرقم والبراء بن عازب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے جو اپنی نصف پنڈلیوں پر ازار باندھتے تھے۔ پھر آپ نے حضرت اسامہ بن زید ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور حضرت براء بن عازب کا ذکر فرمایا۔
حدیث نمبر: 26444
٢٦٤٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن محمد بن أبي يحيى عن عكرمة قال: رأيت ابن عباس يأتزر (فأرسل) (١) إزاره من بين يديه حتى تقع ⦗٥٣٠⦘ (حاشيتهما) (٢) على ظهر قدميه (ويرفعهما) (٣) من مؤخره (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ازار باندھتے ہوئے دیکھا۔ چناچہ وہ اپنا ازار ، اپنے آگے سے لٹکا دیتے تھے ۔ یہاں تک کہ اس کے دونوں کنارے آپ کے قدموں کی پشت پر آجاتے اور (پھر) آپ ان کو پچھلی جانب سے اٹھا لیتے۔
حدیث نمبر: 26445
٢٦٤٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا أبو سليمان المكتب عن أبيه قال: (١) رأيت عليًا عليه إزار (٢) (نجراني) (٣) إلى أنصاف ساقيه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلیمان مکتب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ (کے جسم) پر نجرانی ازار تھا اور آپ کی پنڈلیوں کے نصف میں تھا۔
حدیث نمبر: 26446
٢٦٤٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن موسى بن دهقان قال: رأيت أبا سعيد وابن عمر إزارهما إلى أنصاف سوقهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن دہقان سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا۔ ان دونوں حضرات کے ازار، ان کی پنڈلیوں کے نصف تک تھے۔
حدیث نمبر: 26447
٢٦٤٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا موسى بن (عبيدة) (١) عن إياس بن سلمة عن أبيه عن عثمان بن عفان: كان إزاره إلى نصف ساقيه (قال) (٢): فقيل له في ذلك، فقال: هذه إزرة حبيبي -يعني- النبي ﵇ (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن سلمہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان کا ازار، ان کی نصف پنڈلی تک تھا۔ راوی کہتے ہیں چناچہ ان سے اس کے بارے میں کہا گیا تو انہوں نے فرمایا : یہ میرے محبوب کا ازار ہے یعنی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ازار کا طریقہ یہی ہے۔
حدیث نمبر: 26448
٢٦٤٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) شريك عن عبد الملك بن عمير عن (حصين) (٢) بن قبيصة عن المغيرة بن شعبة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يا سفيان بن سهل! لا تسبل، فإن اللَّه لا يحب المسبلين" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے سفیان بن سہل ! تو کپڑا نہ لٹکا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کپڑا لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ “