کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو لوگ ریشم کی نشانی لگانے کو (بھی) مکروہ سمجھتے ہیں اور اس کی اجازت نہیں دیتے
حدیث نمبر: 26296
٢٦٢٩٦ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل ابن سميع عن مسلم البطين عن أبي عمرو الشيباني قال: جاء شيخ فسلم على علي وعليه جبة من طيالسة في مقدمها ديباج، فقال علي: ما هذا (النتن) (٢) تحت (لحيتك) (٣)؟ فنظر الشيخ يمينًا وشمالًا، فقال: ما أرى شيئًا، قال: يقول رجل: إنما يعني الديباج، قال: يقول الرجل: إذن نلقيه، (ولا) (٤) (نعود) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمرو شیبانی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک بوڑھا آیا اور اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سلام کیا اس بوڑھے نے شال کے کپڑے کا ایک جُبہ پہنا ہوا تھا۔ جس کے آگے دیباج لگا ہوا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری داڑھی کے نچے ب یہ کیا بدبودار چیز ہے ؟ اس پر بوڑھے شخص نے اپنے دائیں بائیں دیکھا اور کہا مجھے تو کچھ نظر نہیں آیا ۔ راوی کہتے ہیں کسی نے کہا : ان کی مراد دیباج ہے۔ اس آدمی نے کہا : تب تو ہم اس کو پھینک دیں گے اور دوبارہ نہیں پہنیں گے۔
حدیث نمبر: 26297
٢٦٢٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن حذيفة (أمر) (١) رجلًا عليه طيلسان عليه أزرار ديباج، فقال: متقلد قلائد الشيطان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مرہ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک آدمی کو شال اوڑھے دیکھا کہ اس پر دیباج کے بٹن ہیں تو انہوں نے فرمایا : شیطان کے ہار کے ساتھ ہار پہنے ہوئے ہے۔
حدیث نمبر: 26298
٢٦٢٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن ومحمد أنهما كرها العلم في الثوب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام، حسن اور محمد کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ یہ دونوں حضرات کپڑے میں نشان کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 26299
٢٦٢٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن مجاهد أن ابن عمر اشترى عمامة فرأى فيها علمًا فقطعه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک عمامہ خریدا تو آپ نے اس میں نشان دیکھا، پس آپ نے اس نشان کو کاٹ دیا۔
حدیث نمبر: 26300
٢٦٣٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الحكم بن عطية عن النضر ابن عبد اللَّه أن قيس بن عباد وفد إلى معاوية فكساه (ريطة) (١) ففتق علمها وارتدى بها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نضر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ قیس بن عباد، حضرت معاویہ کے پاس وفد میں آئے۔ اور انہوں نے ایک ملائم کپڑا آپ کو پہننے کو دیا۔ آپ نے اس کے نشان کو علیحدہ کرلیا اور اس کو چادر کے طور پر اوڑھ لیا۔
حدیث نمبر: 26301
٢٦٣٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن موسى بن (عبيدة) (١) ابن يسار عن جابر بن عبد اللَّه قال: كنا نقطع الأعلام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نشانات (ریشم) کو کاٹ دیا کرتے تھے۔