کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات دوران جنگ عذر والے شخص کو ریشم پہننے کی اجازت دیتے ہیں اور جو حضرات اس کوناپسند کرتے ہیں
حدیث نمبر: 26269
٢٦٢٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ريحان بن سعيد عن مرزوق بن (عمرو) (١) ⦗٤٨٦⦘ قال: (٢) أبو فرقد: (٣) رأيت على (تجافيف) (٤) أبي موسى الديباج والحرير (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرزوق بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو فرقد کہتے ہیں میں نے حضرت ابو موسیٰ کی زین پر دیباج اور ریشم دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26269
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26269، ترقيم محمد عوامة 25160)
حدیث نمبر: 26270
٢٦٢٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن هشام قال: كان (أبي له) (١) (يلمق) (٢) من ديباج يلبسه في الحرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد کے پاس ایک قباء تھی، جو دیباج سے تیار شدہ تھی جس کو وہ جنگ میں پہنتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26270
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26270، ترقيم محمد عوامة 25161)
حدیث نمبر: 26271
٢٦٢٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص (١) عن ليث عن عطاء قال: لا بأس به إذا كان جبة أو سلاح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث، حضرت عطاء کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : اگر یہ جُبہ یا اسلحہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26271
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26271، ترقيم محمد عوامة 25162)
حدیث نمبر: 26272
٢٦٢٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن حجاج عن عطاء قال: لا بأس بلبس الحرير في الحرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ دوران جنگ ریشم پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26272
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26272، ترقيم محمد عوامة 25163)
حدیث نمبر: 26273
٢٦٢٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا (سعيد) (١) عن قتادة أن أنس بن مالك أنبأهم أن رسول اللَّه ﷺ رخص للزبير ابن العوام ولعبد الرحمن بن عوف في قميصين من حرير من وجع كان بهما حكة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیر بن عوام اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کو ریشم کی قمیصیں پہننے کی اجازت دی بوجہ ان کو خارش کی بیماری کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26273
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩١٩)، ومسلم (٢٠٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26273، ترقيم محمد عوامة 25164)
حدیث نمبر: 26274
٢٦٢٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن الوليد ابن هشام قال: (كتبت) (١) إلى (ابن محيريز) (٢) (أسأله) (٣) عن لبس (اليلامق) (٤) والحرير في (دار) (٥) الحرب قال: فكتب أن كن أشد (ما) (٦) كانت كراهة (لما) (٧) (يكره) (٨) عند القتال حين تعرض نفسك للشهادة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن ہشام سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن محیریز کو خط لکھا اور میں نے ان سے دارالحرب میں قباء اور ریشم پہننے کے بارے میں سوال کیا ؟ راوی کہتے ہیں پس انہوں نے لکھا جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو اس کو تم قتال کے وقت جبکہ تم اپنے آپ کو شہادت کے لئے پیش کرتے ہو اور زیادہ ناپسند کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26274
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26274، ترقيم محمد عوامة 25165)
حدیث نمبر: 26275
٢٦٢٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي مكين عن عكرمة أنه كرهه في الحرب، وقال: أرجى ما يكون للشهادة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مکین، حضرت عکرمہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ اس کو جنگ میں بھی ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ شہادت کے لئے نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26275
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26275، ترقيم محمد عوامة 25166)
حدیث نمبر: 26276
٢٦٢٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون قال: سألت محمدًا عن لبس الديباج في الحرب، فقال: من أين كانوا يجدون الديباج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد سے جنگ کے دوران دیباج پہننے سے متعلق سوال کا ا ؟ تو انہوں نے فرمایا : وہ لوگ دیباج کہاں سے لیں گے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26276
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26276، ترقيم محمد عوامة 25167)
حدیث نمبر: 26277
٢٦٢٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن (حصين) (١) عن الشعبي عن سويد بن (غفلة) (٢) قال: شهدنا اليرموك، (قال) (٣): فاستقبلنا عمر وعلينا ⦗٤٨٨⦘ الديباج والحرير، فأمر (فرمينا) (٤) بالحجارة، قال: فقلنا: ما بلغه عنا؟ قال: فنزعناه، وقلنا: كره (زينًا) (٥)، فلما (استقبلنا) (٦) رجب بنا (وقال) (٧): إنكم جئتموني في زي أهل الشرك، إن اللَّه لم يرض لمن قبلكم الديباج و (لا) (٨) الحرير (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ یرموک میں حاضر تھے۔ راوی کہتے ہیں ہمارا سامنا حضرت عمر سے ہوگیا۔ جبکہ ہم پر دیباج اور ریشم تھا تو حضرت عمر نے ہمیں پتھر مارنے کا حکم دیا۔ ہم نے (دل میں) کہا انہیں ہمارے طرف سے کیا بات پہنچی ہے ؟ راوی کہتے ہیں پھر ہم نے اس لباس کو اتار دیا اور ہم نے کہا : انہیں ہماری ہیئت پسند نہیں آئی۔ پھر جب ہمارا سامنا حضرت عمر سے ہوا تو انہوں نے ہمیں مرحبا کہا اور فرمایا : تم لوگ میرے پاس (پہلے) اہل شرک کی ہیئت میں آئے تھے۔ یقینا اللہ تعالیٰ تم سے پہلوں کے لئے بھی دیباج اور ریشم سے راضی نہ تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26277
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26277، ترقيم محمد عوامة 25168)
حدیث نمبر: 26278
٢٦٢٧٨ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن معمر عن الزهري عن أنس قال: رأيت على زينب بنت) (١) رسول اللَّه ﷺ قميص حرير سيراء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی حضرت زینب کو خالص ریشم کی قمیص پہنے دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26278
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه النسائي ٨/ ١٩٧، وابن ماجه (٣٥٩٨)، والحاكم ٤/ ٤٥، وعبد الرزاق (١٩٩٤٥)، وابن سعد ٨/ ٣٤، والطحاوي ٤/ ٢٥٤، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٩٧٢)، والطبراني ٢٢/ (١٠٦٥)، كما أخرجه البخاري (٥٨٤٢) فقال: أم كلثوم بدل زينت.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26278، ترقيم محمد عوامة 25169)