کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ریشم پہننے کے بارے میں اور اس کے پہننے میں کراہت کے بارے میں
حدیث نمبر: 26242
٢٦٢٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من لبس الحرير في (الدنيا) (١) لم يلبسه في الآخرة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے دنیا میں ریشم کو پہن لیا تو وہ آخرت میں ریشم کو نہیں پہنے گا۔
حدیث نمبر: 26243
٢٦٢٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن هبيرة قال: أهدي لرسول اللَّه ﷺ حلة من حرير، (فأهداها) (١) لعلي فلبسها عليٌ، فلما رآه النبي ﷺ قال: "أني أكره لك ما أكره لنفسي، أجعلها (خمرًا) (٢) بين النساء" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت ہبیرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ریشم سے تیار کردہ ایک جوڑا ہدیہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ جوڑا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہدیہ کردیا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو پہن لیا۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جوڑے کو دیکھا تو فرمایا : جو چیزیں اپنے لیئے ناپسند کرتا ہوں، اس کو میں تیرے لیئے بھی ناپسند کرتا ہوں۔ اس کو عورتوں کے درمیان دوپٹہ بنا کر دے دو ۔ “
حدیث نمبر: 26244
٢٦٢٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم (بن) (١) سليمان وابن نمير وأبو أسامة عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن سعيد بن أبي هند عن أبي موسى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الحرير والذهب حرام على ذكور أمتي حل لإناثهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ریشم اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہے۔
حدیث نمبر: 26245
٢٦٢٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن أشعث بن أبي الشعثاء عن معاوية بن سويد عن البراء قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الديباج ⦗٤٧٨⦘ والحرير والإستبرق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیباج، حریر اور استبرق سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 26246
٢٦٢٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن يزيد بن أبي زياد عن أبي فاختة قال: حدثني هبيرة بن (يَرِيم) (١) عن علي أنه أهدي إلى رسول اللَّه ﷺ حلة مسيرة بحرير إما سداها أو (لحمتها) (٢)، فأرسل بها إلي، فأتيته فقلت (له) (٣): يا رسول اللَّه! ما أصنع بها، ألبسها؟ قال: "لا إني لا أرضى لك ما أكره لنفسي، ولكن أجعلها خمرًا بين الفواطم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو فاختہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے ہبیرہ بن یریم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ریشمی تار کا ایک جوڑا … جس کا تانا یا بانا ریشم کا تھا … ہدیہ میں آیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ جوڑا مجھے (حضرت علی رضی اللہ عنہ کو) بھیج دیا پس میں (اس کو لے کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس کا کیا کروں ؟ اس کو پہن لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں۔ جو چیز میں اپنے لیئے پسند نہیں کرتا وہ تیرے لیئے بھی پسند نہیں کرتا۔ لیکن تم اس کپڑے کو فواطم … فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، فاطمہ بنت اسد اور فاطمہ بنت حمزہ… کے درمیان دوپٹہ بنا کر تقسیم کردو۔
حدیث نمبر: 26247
٢٦٢٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن يزيد بن أبي زياد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى (عن) (١) حذيفة أن رسول اللَّه ﷺ (نهانا) (٢) أن نلبس الحرير والديباج وقال: "هو لهم في (الدنيا) (٣) ولكم في الآخرة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا کہ ہم دیباج اور ریشم پہنیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ چیزیں کفار کے لئے دنیا میں ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں ہیں۔
حدیث نمبر: 26248
٢٦٢٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن أبي فاختة قال: حدثني (جعدة) (١) بن هبيرة عن علي عن النبي ﷺ (٢) بنحو حديث عبد الرحيم عن يزيد بن أبي زياد عن أبي فاختة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ابو فاختہ والی حدیث کی طرح حدیث روایت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 26249
٢٦٢٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة [عن الحكم عن عبد الرحمن ابن أبي ليلى عن حذيفة قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن لبس الحرير] (١) والذهب وقال: "هو لهم في (الدنيا) (٢) ولنا في الآخرة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم اور سونے کے پہننے سے منع فرمایا ۔ اور ارشاد فرمایا : یہ چیزیں کفار کے لئے دنیا میں ہیں اور ہمارے لیئے آخرت میں ہیں۔
حدیث نمبر: 26250
٢٦٢٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن (عبد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع أن ابن عمر (أخبره) (٢) أن عمر (٣) رأى حلة سيراء من (حرير) (٤) فقال: يا رسول اللَّه لو ابتعت هذه الحلة للوفد وليوم الجمعة (فقال) (٥): "إنما يلبس ⦗٤٨٠⦘ هذه من (لا) (٦) خلاق له في الآخرة" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ خبر دی کہ حضرت عمر بن خطاب نے خالص ریشم کا ایک جوڑا دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اگر آپ یہ جوڑا وفود اور جمعہ کے لئے خرید لیں ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 26251
٢٦٢٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن عبيد ويزيد بن هارون عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن مرثد بن عبد اللَّه اليزني عن عقبة بن عامر الجهني قال: صلى بنا رسول اللَّه ﷺ المغرب وعليه فروج يعني (قباء) (١) من حرير، فلما قضى صلاته نزعه نزعًا عنيفًا، فقلت: يا رسول اللَّه! صليت وهو عليك، (قال) (٢): "أن هذا لا ينبغي للمتقين" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر جہنی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز مغرب پڑھائی درآنحالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ریشم کی ایک قباء تھی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو انتہائی ترش روئی کے ساتھ اتار دیا۔ اس پر میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے (ابھی) نماز پڑھائی تب تو یہ آپ پر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقینا متقین کے لئے یہ مناسب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 26252
٢٦٢٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن عاصم عن أبي عثمان عن عمر أنه كان ينهى عن الحرير والديباج إلا ما كان هكذا، (وأشار) (١) بإصبعه ثم الثانية ثم الثالثة ثم الرابعة وقال: كان رسول اللَّه ﷺ (٢) ينهانا عنه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان ، حضرت عمر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ آپ ریشم اور دیباج سے منع کیا کرتے تھے مگر اتنی مقدار، اس کے بعد راوی اپنی ایک انگلی پھر دوسری انگلی پھر تیسری انگلی اور پھر چوتھی انگلی سے اشارہ کیا اور فرمایا ، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اس سے منع کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26253
٢٦٢٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن أبي كنف قال: انطلقت مع عبد اللَّه حتى أتيت داره، فأتاه بنون له عليهم قمص حرير فخرقها، وقال: انطلقوا إلى أمكم (فلتكسكم) (١) غير هذا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو کنف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ میں ان کے گھر آپہنچا، پس آپ کے پاس آپ کے بیٹے آئے اور ان کے جسم پر ریشم کی قمیصیں تھیں۔ حضرت عبد اللہ نے انہیں پھاڑ دیا، اور فرمایا : تم اپنی والدہ کے پاس چلے جاؤ تاکہ وہ تمہیں اس کے علاوہ لباس پہنائے۔
حدیث نمبر: 26254
٢٦٢٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن فضيل بن غزوان عن المهاجر بن شماس عن عمه قال: رأى ابن مسعو ابنًا له، عليه قميص من حرير، فشقه وقال: إنما هذا للنساء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مہاجر بن شماس اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے اپنے ایک بیٹے کو اس طرح دیکھا کہ اس پر ریشم کی قمیص تھی تو آپ نے قمیص کو پھاڑ دیا اور فرمایا : یہ صرف عورتوں کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 26255
٢٦٢٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان (عن سليمان) (١) ابن (أبي) (٢) المغيرة العبسي عن سعيد بن جبير قال: قدم حذيفة بن اليمان من سفر وقد كسي ولده (الحرير) (٣)، فنزع منه ما كان على ذكور ولده، وترك منه ما كان على بناته (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان ایک سفر سے واپس تشریف لائے ۔ اور ان کے بچوں کو ریشم پہنایا ہوا تھا، پس انہوں نے اپنی اولاد میں سے مذکر اولاد پر سے وہ کپڑے اتار دئیے اور اپنی مؤنث اولاد کے جسم پر وہ کپڑے رہنے دئیے۔
حدیث نمبر: 26256
٢٦٢٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبيه قال: دخل عبد الرحمن بن عوف -ومعه ابن له- على عمر، عليه قميص حرير، فشق القميص (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابراہیم، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ، اپنے بیٹے کے ہمراہ … حضرت عمر کے پاس گئے اور بیٹے نے ریشم کی قمیص پہنی ہوئی تھی تو حضرت عمر نے وہ قمیص پھاڑ دی۔
حدیث نمبر: 26257
٢٦٢٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيد) (١) بن سعيد (عن شعبة) (٢) عن ⦗٤٨٢⦘ خليفة بن كعب أنه قال: (قال) (٣): سمعت (عبد اللَّه) (٤) بن الزبير يخطب، قال: قال: ألا، لا (تلبسوا) (٥) نساءكم الحرير، فإني سمعت عمر بن الخطاب يقول: قال رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (٦) وسلم: "لا تلبسوا الحرير فإنه من لبسه في (الدنيا) (٧) لم يلبسه في الآخرة" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلیفہ بن کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبدا للہ بن زبیر کو خطبہ دیتے ہوئے سُنا۔ انہوں نے کہا خبردار ! تم اپنی عورتوں کو (بھی) ریشم نہ پہناؤ، کیونکہ میں نے حضر ت عمر بن خطاب کو کہتے سُنا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم ریشم نہ پہنو کیونکہ جو دنیا میں پہن لے گا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا۔ “
حدیث نمبر: 26258
٢٦٢٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان (عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب) (١) عن عبد العزيز بن أبي الصعبة عن أبي أفلح الهمداني عن عبد اللَّه بن (زرير) (٢) الغافقي سمعته يقول: سمعت علي بن أبي طالب يقول أخذ رسول اللَّه ﷺ حريرًا بشماله وذهبًا بيمينه ثم رفع بهما يديه (فقال) (٣): "إن (هذين) (٤) حرام على ذكور أمتي (حل) (٥) لإناثهم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن زریر غافقی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کو کہتے ہوئے سُنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ پر ریشم اور اپنے دائیں ہاتھ میں سونے کو پکڑا پھر ان دونوں کو لے کر اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے اور فرمایا : ” یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اور ان کی عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ “
حدیث نمبر: 26259
٢٦٢٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: أخبرنا (حماد بن سلمة) (١) قال: أخبرنا (أنس) (٢) بن سيرين عن أبي مجلز عن حفصة (أن) (٣) (عطارد) (٤) (بن حاجب) (٥) جاء بثوب ديباج كساه إياه كسرى فقال عمر: ألا (أشتريه) (٦) لك يا رسول اللَّه قال: "إنما يلبسه من لا خلاق له" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفصہ سے روایت ہے کہ عطارد بن حاجب دیباج کا ایک کپڑا لے کر آئے جو انہیں کسریٰ نے پہنایا تھا تو حضرت عمر نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں یہ کپڑا آپ کے لئے خرید لوں ؟ ّ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اس کپڑے کو صرف وہی پہنتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 26260
٢٦٢٦٠ - (حدثنا) (١) أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن أبي التياح عن حفص الليثي عن عمران بن حصين أن النبي اللَّه ﷺ نهى عن الحنتم والتختم بالذهب والحرير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنتم (ہرے رنگ کے گھڑے) ، سونے کی انگوٹھی اور ریشم پہننے سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 26261
٢٦٢٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن الإفريقي عن عبد الرحمن بن رافع عن عبد اللَّه بن عمرو قال: خرج إلينا رسول ﷺ وفي (إحدى) (١) يديه ثوب من حرير، وفي الأخرى ذهب فقال: "إن هذين محرم على ⦗٤٨٤⦘ ذكور أمتي حل لإناثهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس اس حالت میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک ہاتھ میں ریشم کا کپڑا تھا اور دوسرے ہاتھ میں سونا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بلاشبہ یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام کردہ ہں ح اور ان کی عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ “
حدیث نمبر: 26262
٢٦٢٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن عمر بن سعيد ابن أبي حسين عن علي بن عبد اللَّه بن علي قال: أخبرني أبي أنه سمع معاوية وهو على المنبر يقول نهى رسول اللَّه ﷺ عن لبس الحرير والذهب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن عبد اللہ بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بتایا کہ انہوں نے حضرت معاویہ کو منبر پر کہتے سُنا : جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم اور سونے کو پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 26263
٢٦٢٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن حميد قال: سئل أنس عن الحرير فقال: نعوذ باللَّه من شره، كنا نسمع أنه من لبسه في الدنيا لم يلبسه في الآخرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت انس سے ریشم کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : ہم اس کے شر سے اللہ کی پناہ پکڑتے ہیں، ہم یہ بات سُنا کرتے تھے کہ جو آدمی اس کو دنیا میں پہنے گا تو وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا۔
حدیث نمبر: 26264
٢٦٢٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ليث (١) عن طاوس أنه كان يكره لبس الحرير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت طاؤس کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ ریشم کے پہننے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 26265
٢٦٢٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر عن يونس عن الحسن كان يكره قليل الحرير (و) (١) كثيره.
مولانا محمد اویس سرور
یونس، حسن کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ آپ تھوڑے ریشم اور زیادہ ریشم کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 26266
٢٦٢٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن حصين قال: كتب عمر ابن عبد العزيز لا تلبسوا من الحرير إلا ما كان سداه قطنًا أو كتانًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک تحریر لکھی، تم لوگ ریشم میں سے صرف وہ کپڑا پہنو جس کا تانا روئی کا یا کتان کا ہو۔
حدیث نمبر: 26267
٢٦٢٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن عبد الملك بن ميسرة عن زيد بن وهب عن علي قال: كساني رسول اللَّه ﷺ حلة سيراء، فخرجت فيها، فرأيت الغضب في وجهه قال: "فشققتها بين نسائي" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک خالص (ریشم کا) جوڑا دیا، چناچہ میں اس کو پہن کر نکلا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک میں آثارغضب دیکھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پس میں نے اس جوڑے کو اپنی عورتوں کے درمیان تقسیم کردیا۔
حدیث نمبر: 26268
٢٦٢٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن سعيد عن قتادة عن داود السراج عن أبي سعيد قال: من لبس الحرير في الدنيا لم يلبسه في الآخرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا تو وہ شخص آخرت میں ریشم نہیں پہنے گا۔