حدیث نمبر: 26193
٢٦١٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن يزيد بن أبي زياد عن أبي جعفر أنه أتي (بسلحفاة) (١) فأكلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابی زیاد ، حضرت ابو جعفر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس کچھوا لایا گیا تو انہوں نے اس کو کھایا۔
حدیث نمبر: 26194
٢٦١٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن (الأشعث) (١) عن (أبي هبيرة) (٢) قال: كان فقهاء المدينة يشترون (الرق) (٣) ويغالون بها حتى بلغ ثمنها دينارًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ فقہاء مدینہ بڑے کچھوے کو خریدتے تھے اور اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت لگاتے تھے۔ یہاں تک کہ اس کی قیمت ایک دینار تک پہنچ جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 26195
٢٦١٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عائذ) (١) بن حبيب عن حجاج عن عطاء قال: لا بأس بأكلها -يعني السلحفاة-.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس کے کھانے میں یعنی کچھوے کے کھانے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 26196
٢٦١٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن زمعة عن ابن طاوس عن أبيه أنه كان لا يرى بأكل (السلحفاة) (١) بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاؤس، اپنے والد کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ کچھوا کھانے میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 26197
٢٦١٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن مبارك عن الحسن قال: لا بأس بأكلها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔