حدیث نمبر: 26180
٢٦١٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمر بن (شوذب) (١) عن عمرة بنت الطبيخ قالت: أرسلتني أمي فاشتريت جرِّيا فجعلته في زنبيل، فخرج رأسه من جانب وذنبه من جانب، فمر (بي) (٢) علي أمير المؤمنين فرآه فقال: هذا كثير طيب (يشبع) (٣) العيال (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرہ بنت طبیخ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میری والدہ نے مجھے بھیجا تو میں نے بام مچھلی خریدی اور اس کو ٹوکری میں ڈالا، پس اس کا سرا ایک جانب سے اور اس کی دُم ایک (دوسری) جانب سے باہر نکل پڑی۔ اسی دوران امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے اور اس کو دیکھا تو فرمایا : یہ بہت پاکیزہ چیز ہے اہل و عیال کو سیراب کردیتی ہے۔
حدیث نمبر: 26181
٢٦١٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مجاشع (١) (أبي) (٢) الربيع عن ⦗٤٦٢⦘ كهيل عن أبيه قال: كان علي يمر علينا والجري على سفرنا ونحن نأكله (و) (٣) لا يرى به بأسًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کہیل ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، ہمارے پاس سے گزرتے تھے جبکہ ہمارے دسترخوان پر بام مچھلی پڑی ہوتی تھی اور ہم اس کو کھا رہے ہوتے تو آپ اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26182
٢٦١٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن عكرمة قال: (سئل) (١) ابن عباس عن الجري فقال: لا بأس به، إنما تحرمه اليهود ونحن نأكله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بام مچھلی کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس کے علاوہ کوئی بات نہیں کہ یہود نے اس کو حرام قرار دے رکھا تھا اور ہم اس کو کھاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 26183
٢٦١٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن الحسن (بن) (١) عمرو عن فضيل عن إبراهيم قال: لا بأس بالجري إنما هذا شيء (يروونه) (٢) عن علي ﵀ في الصحف.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بام مچھلی میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صحیفہ میں اس کا ذکر تھا۔
حدیث نمبر: 26184
٢٦١٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن عبد الأعلى قال: سألت سعيد بن جبير عن الجري، فقال: هو من السمك إن أعجبك فكله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الاعلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے بام مچھلی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ مچھلی کی جنس میں سے ہے۔ اگر یہ تمہیں پسند ہے تو تم اس کو کھاؤ۔
حدیث نمبر: 26185
٢٦١٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (فطر) (١) عن منذر الثوري أبي يعلى قال: سئل ابن الحنفية عن الجري والطحال (وأشباههما) (٢) مما يكره، فتلا هذه الآية: ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ [الأنعام: ١٤٥]، (الآية) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منذر ثوری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن الحنفیہ سے بام مچھلی، تلی، اور اس جیسی چیزوں کے بارے میں سوال کیا گیا جن کو ناپسند کیا جاتا ہے تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی قُلْ لاَ أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا۔
حدیث نمبر: 26186
٢٦١٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي سلمة الصائغ قال: سألت عطاء بن أبي رباح عن الجري، قال: كل (ذنب) (١) سمين منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ صائغ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء بن ابی رباح سے بام مچھلی کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : اس میں سے موٹی دُم کو کھالو۔
حدیث نمبر: 26187
٢٦١٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي حمزة عن إبراهيم قال: عليك بأذنابه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ تم پر اس کی دُم لازم ہے (یعنی موٹی دم والی کھاؤ) ۔
حدیث نمبر: 26188
٢٦١٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن فضيل (بن) (١) مرزوق عن إبراهيم بن عبد اللَّه (بن) (٢) الحسن قال: الجري من صيد البحر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن عبد اللہ بن حسن سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بام مچھلی سمندر کے شکار میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 26189
٢٦١٨٩ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ربيع عن الحسن قالا: لا بأس بالجري والمارماهيك] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بام مچھلی اور مار ماہی میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 26190
٢٦١٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص قال: سمعت جعفرا يقول ما ليس فيه قشر من السمك فإنا نعافه ولا نأكله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفص کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جعفر کو کہتے سُنا کہ جس مچھلی میں چھلکا نہیں ہوتاتو ہم اس سے گھن کھاتے ہیں اور اس کو نہیں کھاتے۔
حدیث نمبر: 26191
٢٦١٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: لا بأس (بالجريث) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بام مچھلی میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 26192
٢٦١٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن أنه كان لا يرى بأكل (الجريث) (١) بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام، حسن کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ بام مچھلی کھانے میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے۔