حدیث نمبر: 26128
٢٦١٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن حبيب بن (شهيد) (١) عن (ابن) (٢) بريدة أن سلمان كان (يصنع) (٣) الطعام من كسبه، فيدعو المجذومين فيأكل معهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدۃ سے روایت ہے کہ حضرت سلمان، بذات خود اپنی کمائی سے کھانا تیار کرتے پھر جذام والوں کو بلاتے اور ان کے ہمراہ کھانا کھاتے۔
حدیث نمبر: 26129
٢٦١٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي معشر عن رجل أنه رأى ابن عمر يأكل مع مجذوم، فجعل يضع يده موضع يد المجذوم (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک آدمی سے روایت ہے کہ اس نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جُذام والے آدمی کے ساتھ کھانا کھاتے دیکھا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ، جذام والے کے ہاتھ کی جگہ اپنا ہاتھ رکھ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 26130
٢٦١٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه قال: قدم على أبي بكر وفدٌ من ثقيف، فأتي بطعام فدنا القوم، وتنحى رجل به هذا الداء -يعني الجذام- فقال (له) (١) أبو بكر: ادنه، فدنا (فقال) (٢): كل، فأكل، وجعل أبو بكر يضع يده موضع يده (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن قاسم، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کے پاس قبیلہ ثقیف کا ایک وفد آیا، چناچہ کھانا لایا گیا تو سب لوگ قریب ہوگئے اور ایک آدمی جس کو یہ جذام والی بیماری تھی ایک طرف ہوگیا۔ حضرت ابوبکر نے اس سے کہا قریب ہو جاؤ ، چناچہ وہ قریب ہوگیا۔ پھر حضرت ابوبکر نے کہا کھاؤ۔ پس اس نے کھایا اور حضرت ابوبکر نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کی جگہ رکھنا شروع کیا۔
حدیث نمبر: 26131
٢٦١٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يونس بن محمد عن مفضل بن فضالة عن حبيب بن شهيد عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد اللَّه أن رسول اللَّه ﷺ أخذ بيد مجذوم فوضعها معه في قصعة، فقال: كل بسم اللَّه ثقة باللَّه وتوكلا (على اللَّه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جذام والے آدمی کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اپنے ساتھ پیالہ میں شامل کیا اور فرمایا : ” کھاؤ، بسم اللہ، اللہ پر اعتماد اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے۔ “
حدیث نمبر: 26132
٢٦١٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن يحيى بن جعدة قال: جاء رجل أسود به جدري قد تقشر، لا يجلس (١) جنب أحد إلا أقامه، فأخذه رسول اللَّه ﷺ فأجلسه إلى جنبه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک سیا ہ رنگ، چیچک زدہ آدمی آیا، جس کے چھلکے اتر رہے تھے۔ وہ جس کے پہلو میں بیٹھتا وہی اس کو اٹھا دیتا تھا، لیکن جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔
حدیث نمبر: 26133
٢٦١٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي (بكير) (١) عن عكرمة قال: لزق (بابن) (٢) عباس مجذوم فقلت له: تلزق بمجذوم؟ قال: (فامض) (٣) (فلعله) (٤) خير مني ومنك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایک مجذوم چمٹ گیا تو میں نے آپ سے کہا آپ مجذوم کے ساتھ چمٹے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : چھوڑو، ہوسکتا ہے کہ وہ تم سے اور مجھ سے بہتر ہو۔
حدیث نمبر: 26134
٢٦١٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن قيس (عن) (١) مقسم قال: كانوا (يتقون) (٢) أن يأكلوا مع الأعمى والأعرج والمريض حتى نزلت هذه الآية: ﴿لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ﴾ [النور: ٦١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مقسم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ اندھے، لنگڑے اور مریض کے ہمراہ کھانا کھانے سے پرہیز کرتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ : نابینا، اپاہج اور مریض پر کچھ حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 26135
٢٦١٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأعمش عن منذر عن الربيع بن (خثيم) (١) أنه قال لأهله: اصنعوا لي خبيصًا، قال: فصنعوا فدعا رجلا كان به خبل قال: فجعل الربيع (٢) يلقمه ولعابه يسيل، فلما أكل وخرج، قالت له أهله: تكلفنا وصنعنا فيه أطعمته ما (يدري) (٣) هذا ما أكل؟ قال الربيع: لكن اللَّه يدري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم میرے لیے کھجور اور گھی کا حلوہ تیار کرو۔ راوی کہتے ہیں۔ گھر والوں نے یہ تیار کردیا۔ پھر انہوں نے ایک ایسے آدمی کو بلایا جس کو دیوانگی تھی۔ تو حضرت ربیع نے اس کو لقمہ بنا کر کھلانا شروع کیا حالانکہ اس کا تھوک بہہ رہا تھا۔ چناچہ جب اس نے کھانا کھالیا اور چلا گیا تو حضرت ربیع سے ان کی گھر والی نے کہا۔ ہم نے اس حلوہ کو بنانے میں اس قدر تکلف کیا اور آپ نے اس کو کھلا دیا ؟ اس کو کیا معلوم کہ اس نے کیا کھایا ہے ؟ حضرت ربیع نے جواب دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو تو معلوم ہے۔
حدیث نمبر: 26136
٢٦١٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن نافع (بن) (١) القاسم عن جدته ⦗٤٥٠⦘ أم القاسم عن عائشة قالت: كان لي مولى مجذوم، فكان ينام على فراشي ويأكل في صحافي، ولو كان عاش كان (٢) على ذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرا ایک مجذوم آزاد کردہ غلام تھا۔ اور وہ میرے بستر پر سو جاتا تھا۔ اور میرے پیالہ میں کھا لیتا تھا۔ اگر وہ (اب) زندہ ہوتا تو اسی طرح (معاملہ) باقی ہوتا۔