کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو لوگ تکیہ لگا کر کھاتے تھے
حدیث نمبر: 26110
٢٦١١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن يزيد (١) بن أبي زياد قال: أخبرني من رأى ابن عباس يأكل متكئا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابی زیاد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے بتایا جس نے (خود) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو تکیہ لگا کر کھاتے دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 26110
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26110، ترقيم محمد عوامة 25003)
حدیث نمبر: 26111
٢٦١١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) فضيل بن عياض عن عبد العزيز بن رفيع عن مجاهد قال: ما أكل رسول اللَّه ﷺ متكئًا (قط) (٢) إلا ⦗٤٤٣⦘ مرة (٣)، فقال: "اللهم إني عبدك ورسولك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ایک مرتبہ تکیہ لگا کر کھانا کھایا تھا اور فرمایا تھا : ” اے اللہ ! یقینا میں تیرا بندہ ہوں اور تیرا رسول ہوں۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 26111
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مجاهد تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26111، ترقيم محمد عوامة 25004)
حدیث نمبر: 26112
٢٦١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن حصين قال: قدم خالد بن الوليد ها هنا إذا هو (بمسلحة) (٢) لآل فارس عليهم رجل يقال له: هزار مرد، قال: فذكروا من (عظم) (٣) خلقه وشجاعته، قال: فقتله خالد بن الوليد ثم دعا بغدائه فتغدى وهو متكئ على (جيفته) (٤) يعني جسده (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید ، یہاں پر تشریف لائے تو آپ کا گزر اہل فارس کی ایک چوکی پر ہوا جہاں ان پر ایک مرد نگران تھا جس کو ” ہزار مرد “ کہا جاتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پس لوگوں نے اس کی جسامت کا حجم اور اس کی شجاعت کا ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں، حضرت خالد بن ولید نے اس کو قتل کردیا پھر آپ نے ناشتہ منگوایا اور آپ نے اس کے مردار جسم پر تکیہ لگائے ہوئے ناشتہ کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 26112
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26112، ترقيم محمد عوامة 25005)
حدیث نمبر: 26113
٢٦١١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عطاء قال: (إن) (١) كنا نأكل ونحن متكئون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کھایا کرتے تھے درآنحالیکہ ہم تکیہ لگائے ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 26113
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26113، ترقيم محمد عوامة 25006)
حدیث نمبر: 26114
٢٦١١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون أن يأكلوا تكاة نحافة أن تعظم بطونهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگ تکیہ لگا کر کھانے کو اس خوف سے ناپسند کرتے تھے کہ کہیں ان کے پیٹ نہ بڑھ جائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 26114
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26114، ترقيم محمد عوامة 25007)
حدیث نمبر: 26115
٢٦١١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن أبي هلال قال: رأيت ابن سيرين يأكل متكئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہلال سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین کو تکیہ لگائے کھاتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 26115
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26115، ترقيم محمد عوامة 25008)
حدیث نمبر: 26116
٢٦١١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن علي بن الأقمر عن أبي جحيفة يرفعه قال: أما أنا فلا آكل متكئًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ححیفہ سے روایت ہے اور وہ اس کو مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ بہر حال میں تو تکیہ لگا کر نہیں کھاتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 26116
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق على الصحيح؛ أخرجه البخاري (٥٣٩٩)، وأحمد (١٨٧٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26116، ترقيم محمد عوامة 25009)
حدیث نمبر: 26117
٢٦١١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) (حسام) (٢) ابن (مصك) (٣) (عن) (٤) ابن سيرين قال: دخلت على عبيدة فسألته عن الرجل يأكل متكئًا، فأكل متكئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبیدہ کے ہاں حاضر ہوا اور ان سے میں نے تکیہ لگا کر کھانے والے شخص کے متعلق سوال کیا ؟ تو انہوں نے مجھے تکیہ لگا کر کھا کر دکھایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 26117
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26117، ترقيم محمد عوامة 25010)