حدیث نمبر: 26095
٢٦٠٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة ومحمد بن (بشر) (١) عن زكريا بن ⦗٤٣٧⦘ أبي زائدة عن سعيد بن أبي بردة عن أنس بن مالك قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه ليرضى عن العبد أن يأكل الأكلة (فيحمده عليها) (٢)، (أو) (٣) يشرب الشربة فيحمده عليها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یقینا اللہ تعالیٰ بندے سے راضی ہوتے ہیں اس بات پر کہ وہ کوئی لقمہ کھائے تو اس پر اللہ کی تعریف کرے یا پانی کا گھونٹ پیئے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے۔
حدیث نمبر: 26096
٢٦٠٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة قال: (حدثنا) (١) عبد الرحمن بن (يزيد) (٢) عن جابر قال: حدثنا بشر بن زياد عن سليمان بن عبد اللَّه عن (عتريس) (٣) ابن عرقوب قال: قال عبد اللَّه: من قال حين يوضع طعامه: بسم اللَّه خير الأسماء للَّه (ما) (٤) في الأرض وفي السماء، لا يضر مع اسمه داء اللهم اجعل فيه بركة (وعافيه) (٥)، وشفاء (فيضره) (٦) ذلك الطعام ما كان (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عتریس بن عرقوب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے فرمایا : جو شخص کھانا رکھے جاتے وقت یہ کہے۔ : شروع اللہ کے نام سے جو بہترین نام ہے۔ جو کچھ زمین و آسمان میں ہے وہ اللہ کے لئے ہے۔ اس کے نام کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں دیتی۔ اے اللہ ! اس کھانے میں برکت، عافیت اور شفاء پیدا فرما۔ تو یہ کھانا جیسا بھی ہو نقصان نہیں دیتا۔
حدیث نمبر: 26097
٢٦٠٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: إذا (طعمت) (١) فنسيت أن تسمي فقل: بسم اللَّه في أوله وآخره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب تم کھانا کھاؤ اور بسم اللہ پڑھنا بھول جاؤ تو یہ کہو۔ بِسْمِ اللہِ فِی أَوَّلِہِ وَآخِرِہِ ۔
حدیث نمبر: 26098
٢٦٠٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور (١) عن تميم بن سلمة قال: حدثت (أن الرجل) (٢) إذا ذكر (اسم) (٣) اللَّه على طعامه و (حمده) (٤) على آخره لم يسأل عن نعيم ذلك الطعام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن سلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث بیان کی گئی ہے کہ جب آدمی اپنے کھانے پر اللہ کا نام لے اور آخر میں اللہ کی تعریف کرے تو اس آدمی سے اس کھانے کی نعمتوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 26099
٢٦٠٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن (سويد) (١) قال: كان سلمان إذا طعم (قال) (٢): الحمد للَّه الذي كفانا المؤنة، وأوسع لنا الرزق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن سوید سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان جب کھانا کھالیتے تو کہتے۔ : تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو ہمارے لیئے مشقتوں سے کفایت کر گیا اور ہمیں خوب وسیع رزق دیا۔
حدیث نمبر: 26100
٢٦١٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) خالد الأحمر عن حجاج عن رياح ابن عَبيدة عن مولى لأبي سعيد عن (أبي) (٢) سعيد قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا أكل طعاما قال: "الحمد للَّه الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھانا تناول فرماتے تو یہ کہتے ۔ : تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔
حدیث نمبر: 26101
٢٦١٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (محمد بن) (١) بشر قال: حدثنا مسعر عن هلال عن عروة أنه كان إذا وضع الطعام قال: سبحانك، ما أحسن (ما تبلينا) (٢) سبحانك (ما أحسن) (٣) ما تعطينا، ربنا ورب (أبنائنا) (٤) (ورب) (٥) آبائنا الأولين، قال: ثم يسمي اللَّه جل ثناؤه ويضع يده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہلال ، حضرت عروہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ جب کھانا رکھ دیا جاتا تو آپ کہتے۔ تو پاک ہے۔ کس قدر خوبصورت ہے۔ تو پاک ہے۔ کسی قدر خوبصورت اشیاء تو نے ہمیں عطا کیں ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! اے ہمارے بچوں کے پروردگار اور اے ہمارے پہلے آباؤ اجداد کے پروردگار، راوی کہتے ہیں۔ پھر وہ اللہ جل شانہ کا نام لیتے اور اپنا ہاتھ (کھانے پر) رکھتے۔
حدیث نمبر: 26102
٢٦١٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم (بن) (١) أبي النجود عن ذكوان أبي صالح عن عائشة أنه قدم عليها طعام فقالت: (ائدموه) (٢)، (فقالوا) (٣): وما إدامه؟ (قالت) (٤): تحمدون اللَّه عليه إذا فرغتم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ذکوان ابی صالح، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کھانا پیش کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس کے ساتھ سالن بھی بنا لو۔ لوگوں نے پوچھا۔ اس کا سالن کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جب تم فارغ ہو چکو تو اللہ تعالیٰ کی اس پر تعریف کرو۔
حدیث نمبر: 26103
٢٦١٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن إسماعيل (عن) (١) أبي سعيد قال: كان أبو سعيد الخدري إذا وضع (له) (٢) الطعام ⦗٤٤٠⦘ قال: الحمد للَّه الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت اسماعیل بن ابی سعید سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو سعید خدری کے پاس کھانا رکھا جاتا تو آپ کہتے : تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔
حدیث نمبر: 26104
٢٦١٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن حصين عن إسماعيل (عن) (٢) أبي سعيد عن أبيه بمثله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی سعید، اپنے والد سے ایسی ہی روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 26105
٢٦١٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن الجريري عن أبي الورد عن (ابن) (١) (أعبد) (٢) أو ابن معبد قال: قال علي: (تدري) (٣) ما حق الطعام؟ قلت: وما حقه؟ قال: تقول بسم اللَّه اللهم بارك لنا فيما رزقتنا (٤)، قال: تدري (ما) (٥) شكره؟ (قال) (٦): قلت وما شكره؟ قال: تقول [الحمد للَّه الذي أطعمنا وسقانا (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن اعبد … یا ابن معبد … سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تمہیں پتہ ہے کہ کھانے کا حق کیا ہے ؟ میں نے پوچھا : اس کا کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم کہو۔ بسم اللہ ! اے اللہ ! جو کچھ آپ ہمیں رزق دیں اس میں برکت (بھی) دیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ جانتے ہو کہ کھانے کا شکر کیا ہے ؟ میں نے پوچھا۔ اس کا شکر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم کہو۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھانا کھلایا اور ہمیں پلایا اور جس نے ہمیں مسلمان بنایا۔
حدیث نمبر: 26106
٢٦١٠٦ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن إبراهيم التيمي أنه كان يقول] (٢): الحمد للَّه الذي كفانا المؤنة وأحسن (٣) (٤) الرزق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے : تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔
حدیث نمبر: 26107
٢٦١٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام قال: كان أبي لا يؤتى بطعام ولا شراب حتى الشربة من الدواء فيطعمه أو يشربه حتى يقول: الحمد للَّه الذي هدانا وأطعمنا وسقنا ونعمنا، (١) اللَّه أكبر، (اللهم) (٢) (أَلْفَتْنا) (٣) نعمتك بكل شر، وأصبحنا (وأمسينا) (٤) منها بكل خير، نسألك تمامها وشكرها، لا خير إلا خيرك، ولا إله غيرك، إله الصالحين ورب العالمين الحمد للَّه رب العالمين، لا إله إلا اللَّه، ما شاء اللَّه، لا قوة إلا باللَّه اللهم بارك لنا فيما رزقتنا وقنا عذاب النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے والد کے پاس کوئی کھانا یا مشروب نہیں لایا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ دوائی کا ایک گھونٹ بھی لایا جاتا۔ جس کو وہ کھاتے یا پیتے تو یہ کہتے۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں کھلایا۔ ہمں ہ پلایا اور ہمیں نعمتوں سے نوازا۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اے اللہ ! تیری نعمتوں نے ہمیں ہر شر کے باوجود ہمیں پا لیا اور ہم نے صبح و شام، مکمل خیر کے ساتھ کی۔ ہم آپ سے مکمل نعمتوں اور ان کے شکریہ کا سوال کرتے ہیں۔ آپ کی (عطا کردہ) خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں ہے۔ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اے صالحین کے معبود ! اے جہانوں کے پرور دگار۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو جہانوں کا پروردگار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نیں ے ہے۔ (وہی ہوتا ہے) جو اللہ چاہتا ہے۔ طاقت اللہ کی طرف سے ہے۔ اے اللہ ! آپ نے ہمیں جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں برکت دیجئے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لیجئے۔
حدیث نمبر: 26108
٢٦١٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الحسن بن موسى عن حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير أنه كان إذا فرغ من طعامه قال: اللهم أشبعت وأرويت فهَنِّئنا، (ورزقتَنا) (١) فأكثرت (وأطيبت) (٢) فزدنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن السائب ، حضرت سعید بن جبیر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ جب اپنے کھانے سے فارغ ہوجاتے تو کہتے۔ : اے اللہ ! آپ نے (ہمیں) سپرد کردیا ہے اور آپ نے (ہمیں) سیراب کردیا ہے پس آپ (اس کو) ہمارے لیے خوشگوار بنا دیجئے اور آپ نے ہمیں رزق دیا اور بہت دیا اور خوب دیا پس ہمیں اور عطاء فرمائیے۔
حدیث نمبر: 26109
٢٦١٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) معاوية بن هشام قال: (أخبرنا) (٢) (٣) عمار ابن (رزيق) (٤) عن إبراهيم بن أبي حفصة عن سعيد بن جبير أنه قال: إذا (وضع) (٥) الطعام فسميت (فكل) (٦) ما جيء به، فإنه (مجزئك) (٧) التسمية (الأولى) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : کہ جب کھانا رکھ دیا جائے تو تم (ایک مرتبہ) بسم اللہ پڑھ دو تو پھر جو کچھ لایا جائے تم اس کو کھالو اور تمہارے لیے وہی پہلی بسم اللہ کفایت کر جائے گی۔