حدیث نمبر: 26090
٢٦٠٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا يعقوب بن محمد ابن طحلاء قال: حدثنا أبو الرجال عن أمه عمرة عن عائشة قالت: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "يا عائشة! بيت ليس فيه تمر جياع (أهله) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’ ’ اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! وہ گھر والے بھوکے ہوتے ہیں جن کے گھر میں کھجور نہ ہو۔ “
حدیث نمبر: 26091
٢٦٠٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن (أبي) (١) منصور عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون أن لا يفارق بيوتَهم التمر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے کہ پہلے لوگ اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ ان کے گھروں سے کھجور ختم نہ ہو۔ ابراہیم کہتے ہیں۔ میں اس کی تفسیر بیان کرتا ہوں جب ان لوگوں کے ہاں کوئی داخل ہوتا اور وہ اس کی عزت و اکرام کرنا چاہتے تو اس کو روک لے تے اور اس کو کھانا پیش کرتے۔ پس اگر وہ اس کو کھا لیتا تو اس کا اکرام کرتے اور اگر وہ اس کو نہ کھا تا تو یہی ان کے لئے کفایت کرجاتا۔ ابراہیم کہتے ہیں ۔ ایک دوسری تشریح کے مطابق، کوئی سائل آتا اور گھر والوں کے پاس روٹی نہ ہوتی اور وہ گھر والے، خود کو اس بات پر آمادہ پاتے کہ اس سائل کو گندم یا آٹے میں سے دیں تو وہ اس کو ایک ، دو کھجوریں وغیرہ دے دیتے۔ پس یہ گھر والوں کو بھی کفایت کر جاتی اور سائل کا کام بھی چل جاتا۔
حدیث نمبر: 26092
٢٦٠٩٢ - قال إبراهيم: وسأفسره: كان إذا دخل عليهم الداخل فأرادوا كرامته حبسوه وقربوه من قريب، فإن أكل منه (أكرموه) (١)، وإن لم يأكل فقد أجزأ عنهم.
حدیث نمبر: 26093
٢٦٠٩٣ - قال إبراهيم: وأخرى يجيء السائل وليس عند أهل البيت خبز، (ولا يواتي) (١) أنفسهم أن يحثوا له من الدقيق والحنطة، فيعطونه (التمرة و) (٢) التمرتين ونحو ذلك، (فيعبر) (٣) عن أهل البيت ويستقيم (به) (٤) السائل.
حدیث نمبر: 26094
٢٦٠٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن مصعب بن سليم عن أنس قال: رأيت النبي ﷺ يأكل (مقعيًا) (١) تمرًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حالت میں کھجوریں کھاتے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پنڈلی اور ران کو ملا کر کھڑا کیا ہوا تھا اور کو لہوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔