حدیث نمبر: 26086
٢٦٠٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الشيباني عن جبلة (بن) (١) سحيم عن ابن عمر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن (الإقران) (٢) إلا أن تستأذن أصحابك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دو کھجوروں کے) ملانے سے منع کیا ہے مگر یہ کہ تم اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لو۔
حدیث نمبر: 26087
٢٦٠٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن موسى بن دهقان قال: رأيت سالم بن عبد اللَّه يأكل التمر (كفًا كفًا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن دہقان سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبد اللہ کو ہتھیلیوں میں کھجوریں بھر کر کھاتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 26088
٢٦٠٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي (جحيش) (١) عن أبي هريرة أنه (أكل) (٢) مع أصحابه تمرًا فقال: (إني) (٣) قد قارنت فقارنوا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حجش، حضرت ابوہریرہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھجوریں کھائیں تو فرمایا : میں ملا رہا ہوں ، تم بھی ملا کر کھاؤ۔
حدیث نمبر: 26089
٢٦٠٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (حبيبة) (١) بنت عباد عن أمها قالت: سألت عائشة عن القران (بين التمرتين) (٢) (فقالت) (٣): لو كان (حلالًا) (٤) كان دناءة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیبہ بنت عباد، اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو کھجوروں کے ملانے کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے جواب دیا۔ اگر یہ کام حلال ہو تب بھی یہ کمینگی ہے۔