حدیث نمبر: 26072
٢٦٠٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن (عبيد اللَّه) (١) بن أبي (يزيد) (٢) (عن أبيه) (٣) عن أم أيوب (قالت) (٤): نزل علينا النبي ﷺ فصنعنا له طعامًا فيه من بعض (البقول) (٥) فكرهه، (وقال) (٦): "إني لست مثلكم، إني أخاف أن أوذي صاحبي" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن یزید، اپنے والد کے واسطہ سے ام ایوب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے پس ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بعض ترکاری میں سے کھانا بنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا اور فرمایا : ” میں تم جیسا نہیں ہوں، میں اپنے ساتھی کو اذیت دینے سے خوف کھاتا ہوں۔ “
حدیث نمبر: 26073
٢٦٠٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من أكل من هذه البقلة فلا (يقرب) (١) المسجد حتى يذهب ريحها" -يعني الثوم- (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد رفرمایا : ” جو شخص اس ترکاری (یعنی تھوم) میں سے کھائے تو وہ اس وقت تک مسجد کے قریب نہ آئے جب تک اس کی بُو ختم نہ ہوجائے۔ “
حدیث نمبر: 26074
٢٦٠٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن سالم بن عبد اللَّه بن يزيد عن طباخ حذيفة (قال: كان حذيفة) (١) (يأمرني) (٢) أن (لا) (٣) أجعل في طعامه كراثا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے باورچی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مجھے حکم کرتے تھے کہ میں ا ن کے کھانے میں کُراث (خاص تیز بُو والی سبزی) نہ ڈالا کروں۔
حدیث نمبر: 26075
٢٦٠٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عدي عن زر بن حبيش عن حذيفة قال: من أكل الثوم فلا (يقربنا) (١) ثلاثًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص تھوم کھائے تو وہ ہمارے پاس تین (دن) نہ آئے۔
حدیث نمبر: 26076
٢٦٠٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن حميد بن هلال عن أبي بردة أن النبي ﷺ وجد من المغيرة ريح ثوم فقال: "ألم أنهكم عن هذه الشجرة؟ " فقال: يا رسول اللَّه أقسمت عليك (لتدخلن) (١) يدك، (قال) (٢): وعليه ⦗٤٣١⦘ جبة أو قميص، فأدخل يده فإذا (على صدره) (٣) (عصاب) (٤) فقال: " (٥) أرى لك عذرًا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بردہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مغیرہ سے تھوم کی بُو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا ؟ “ تو انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کو قسم ہے کہ آپ اپنے ہاتھ کو (جُبہ یا قمیص میں) ضرور داخل کریں گے۔ اور ان پر (اس وقت) جُبہ یا قمیص تھی … چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ داخل کیا تو ان پر پٹی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیئے عذر ہے۔ “
حدیث نمبر: 26077
٢٦٠٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن الحكم (بن) (١) عطية (٢) عن أبي (الرباب) (٣) عن معقل بن يسار قال: سمعته يقول: كنا مع رسول اللَّه ﷺ في (مسير) (٤) فقال: من (أكل) (٥) من هذه الشجرة فلا يقربن مصلانا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الرباب، حضرت معقل بن یسار کے بارے میں روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے انہیں یہ کہتے سُنا۔ کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس درخت میں سے کھائے تو وہ ہماری نماز گاہ کے قریب نہ آئے۔ “
حدیث نمبر: 26078
٢٦٠٧٨ - حدثنا أبو بكر قال (١): حدثنا معتمر عن أبيه قال: رأى الحسن مع أمه كراثًا فقال: يا (أمّتاه) (٢) ألقِ هذه الشجرة الخبيثة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معتمر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ حسن نے اپنی والدہ کے پاس کراث کو دیکھا تو کہا۔ اے اماں جان ! اس گندے درخت کو پھینک دیں۔
حدیث نمبر: 26079
٢٦٠٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن عطاء عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أكل من هذه البقلة فلا يقربن مسجدنا أو قال: المسجد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس ترکاری میں سے کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے “ یا فرمایا : ” وہ مسجد کے قریب نہ آئے۔ “
حدیث نمبر: 26080
٢٦٠٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (سليمان) (١) بن المغيرة عن حميد ابن هلال عن أبي بردة عن المغيرة (بن) (٢) شعبة قال: أكلت ثوما ثم أتيت مصلى النبي ﷺ فوجدته قد سبقني بركعة، فلما صلى قمت أقضي، (فوجد) (٣) الريح فقال: "من أكل (من) (٤) هذه البقلة فلا يقربن مسجدنا حتى يذهب ريحها"، قال المغيرة: فلما قضيت الصلاة أتيته فقلت: يا رسول اللَّه! إن لي عذرًا، ناولني يدك، قال: فوجدته واللَّه سهلًا، فناولني يده (فأدخلها) (٥) إلى صدري فوجده معصوبًا، فقال: "إن لك عذرا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیر ہ بن شعبہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے تھوم کھایا پھر میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے نماز کے پاس حاضر ہوا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حالت میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے پہلے ایک رکعت پڑھ چکے تھے۔ چناچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو میں کھڑا ہوا اور اپنی رہ جانے والی رکعت پڑھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بُو محسوس کی تو فرمایا : ” جو شخص اس ترکاری میں سے کھائے تو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ۔ جب تک اس کہ اس کی بُو نہ چلی جائے۔ “ حضرت مغیرہ کہتے ہیں : پس جب میں نے نماز پوری کرلی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی عُذر ہے۔ آپ مجھے اپنا ہاتھ عنایت فرمائیں۔ حضرت مغیرہ کہتے ہیں ۔ بخدا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت نرم پایا چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنا ہاتھ تھما دیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کو اپنے سینہ کی طرف لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں پٹی باندھی ہوئی محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یقینا تمہارے لیئے یہ عذر ہے۔ “
حدیث نمبر: 26081
٢٦٠٨١ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) الفضل بن دكين عن يونس (عن) (٢) أبي إسحاق عن عمير بن (قميم) (٣) عن شريك بن حنبل قال: قال رسول اللَّه ﷺ: ⦗٤٣٣⦘ "من أكل من هذه البقلة الخبيثة فلا يقربن مسجدنا يعني الثوم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریک بن حنبل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس گندی ترکاری کو کھائے (یعنی تھوم کو کھائے) تو پھر وہ ہماری جائے نماز کے قریب نہ آئے۔ “
حدیث نمبر: 26082
٢٦٠٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن سعيد عن قتادة عن سالم بن أبي الجعد عن (معدان) (١) بن أبي طلحة أن عمر بن الخطاب قال: إنكم لتأكلون شجرتين لا أراهما إلا خبيثتين. هذا الثوم وهذا البصل، كنت أرى الرجل على عهد رسول اللَّه ﷺ يوجد ريحه منه فيؤخذ بيده حتى يخرج إلى البقيع، فمن كان آكلهما (لا بد) (٢) فليمتهما طبخًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معدان بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ارشاد فرمایا۔ تم لوگ دو درخت ایسے کھاتے ہو جن کو میں گندا سمجھتا ہوں۔ یہ تھوم اور پیاز ہے۔ میں تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں اس آدمی کو دیکھتا کہ جس سے اس کی بُو آتی ہوتی تھی کہ اس کو ہاتھ سے پکڑا جاتا اور اس کو بقیع کی طرف باہر نکال دیا جاتا۔ پھر بھی تم میں سے جو اس کو ناگزیر طور پر کھائے تو اس کو چاہیئے کہ وہ ان (کی بو) کو پکا کر مار ڈالے۔
حدیث نمبر: 26083
٢٦٠٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يونس (بن) (١) محمد عن ليث عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن أبي رُهم السماعي (أن) (٢) (أبا) (٣) أيوب حدثه عن النبي ﷺ قال: " (إن فيه) (٤) بصلًا (فكلوه) (٥) (وكرهت) (٦) أكله من أجله -يعني الملك- وأما أنتم فكلوه" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رہم سماعی سے روایت ہے کہ حضرت ابو ایوب نے انہیں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس میں (کھانے میں) پیاز ہے لیکن تم اس کو کھالو ۔ اور میں اس کے کھانے کو اس (فرشتہ) کی وجہ سے ناپسند کرتا ہوں۔ البتہ تم کھا سکتے ہو۔ “
حدیث نمبر: 26084
٢٦٠٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن أنه كره أكل الثوم والبصل والكراث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام، حسن کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ تھوم ، پیاز اور کراث کے کھانے کے ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26085
٢٦٠٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عبد الكريم (١) أبي أمية عن الحسن قال: ما يسرني (أني) (٢) أكلته - (يعني) (٣) الثوم- ولا أن (لي) (٤) زنته (٥) (ذهبا) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ میں اس کو (یعنی تھوم کو) کھاؤں اور نہ یہ بات کہ مجھے اس کے ہموزن سونا ملے۔