حدیث نمبر: 26062
٢٦٠٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن عيسى بن حطان عن مصعب (بن) (١) سعد عن أبيه أنه كان إذا اشتكى (صدره) (٢) صنع له الحسو فيه الثوم فيحسوه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد، اپنے والد کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ان کے سینہ میں جب شکایت ہوتی تو ان کے لئے تھوم کا سوپ تیار کرلیا جاتا تھا وہ اس کو تھوڑا تھوڑا پیتے تھے۔
حدیث نمبر: 26063
٢٦٠٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن عبد اللَّه بن الحارث عن نافع أدن ابن عمر كان إذا اشتكى صدره صنع له الحساء فيه الثوم (فيحسوه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سینہ میں جب شکایت ہوتی تو ان کے لئے تھوم کا سوپ بنایا جاتا تھا جس کو وہ آہستہ آہستہ پیتے تھے۔
حدیث نمبر: 26064
٢٦٠٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن أبي عبيد (حاجب) (١) سليمان عن نعيم بن (سلامة) (٢) قال: دخلت على عمر بن عبد العزيز فوجدته يأكل ثومًا مسلوقًا بملح وزيت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعیم بن سلامہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبد العزیز کے ہاں گیا تو میں نے ان کو نمک اور زیتون کے تیل کے ساتھ ملا ہوا صاف کیا ہو اتھوم کھاتے پایا۔
حدیث نمبر: 26065
٢٦٠٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن عمران بن (حدير) (١) قال: سئل عكرمة عنه فقال: إنا لنأكله الأسبوع (أو) (٢) الأسبوعين، (ولكنا) (٣) نخرج من المدينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عکرمہ سے اس کے بارے میں سوال ہوا ؟ تو انہوں نے فرمایا : ہم اس کو ہفتہ ، دو ہفتہ بعدکھاتے ہیں۔ لیکن (پھر) ہم مدینہ سے باہر نکل جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 26066
٢٦٠٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا خلف بن خليفة عن منصور عن ابن سيرين أنه كان لا يرى بالثوم والبصل (نيئًا) (١) بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت منصور، حضرت ابن سیرین کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ کچے تھوم اور پیاز میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 26067
٢٦٠٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن أبي جعفر قال: إنا لنأكل الثوم والبصل والكراث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یقینا ہم لوگ تھوم، پیاز اور کر اث (ایک تیز بُو والی سبزی) کھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26068
٢٦٠٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا بأس بالثوم في (الطبيخ) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پختہ سالن میں تھوم ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 26069
٢٦٠٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن محمد قال: قال عمر: (من أكل) (١) من هاتين الشجرتين (شيئًا) (٢) فليذهب (ريحهما) (٣) (بنضجهما) (٤)، - (يعني) (٥) البصل والكراث- (٦).
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کا ارشاد ہے۔ جو شخص ان دو درختوں سے کھائے تو اس کو چاہیئے کہ وہ ان کی بُو کو پکا کر ختم کرلے یعنی پیاز اور کر اث (ایک سبزی)
حدیث نمبر: 26070
٢٦٠٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن محمد قال: ما أعلم بأكل الثوم بأسا إلا أن يكره رجلٌ (ريحَه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں تھوم کھانے میں کوئی حرج نہیں جانتا اِلَّا یہ کہ آدمی اس کی بُو کو ناپسند کرتا ہو۔
حدیث نمبر: 26071
٢٦٠٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن نافع عن ابن عمر أنه كان (ينضجه) (١) في القدور ويأكله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ تھوم کو ہانڈیوں میں پکاتے اور پھر کھاتے تھے۔