حدیث نمبر: 25997
٢٥٩٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: (حدثنا) (١) أبو حمزة قال: سمعت ابن عباس وسئل عن الجبن قال: ضع السكين فيه واذكر اسم اللَّه وكل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حمزہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا جبکہ ان سے پنیر کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ انہوں نے فرمایا : اس میں چھری رکھو اور اللہ کا نام لو اور کھا جاؤ۔
حدیث نمبر: 25998
٢٥٩٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن (أبي حيان الأزدي) (١) قال: سألت ابن عمر عن الجبن فقال: ما يأتينا من العراق شيء هو أعجب إلينا منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حیان ازدی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پنیر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : ہمیں عراق سے آنے والی اشیاء میں سے کوئی چیز اس سے زیادہ محبوب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 25999
٢٥٩٩٩ - [حدثنا أبو بكر قال: أخبرنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن قرظة قال: قال عمر: كلوا الجبن فإنه لبأ، ولبن] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قرطۃ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا : تم پنیر کھالیا کرو کیونکہ یہ کھیس اور دودھ ہے۔
حدیث نمبر: 26000
٢٦٠٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن (تملك) (١) (قالت) (٢): سألت أم سلمة (فقالت) (٣): ضع فيه سكينك واذكر اسم اللَّه جل وعز وكل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تملک سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا۔ تو انہوں نے فرماما۔: تم اس میں اپنی چھری رکھو اور اللہ عزوجل کا نام لو اور کھالو۔
حدیث نمبر: 26001
٢٦٠٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سلام عن سعيد (بن) (١) مسروق عن (منذر) (٢) عن ابن الحنفية قالوا: كلوا الجبن (عرضا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن الحنفیہ سے لوگ روایت کرتے ہیں کہ تم پنیر کو پہلو سے کھاؤ۔
حدیث نمبر: 26002
٢٦٠٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن (سعيد) (١) عن ابن عجلان عن ربيعة عن خالته قالت: جاءنا جبن من العراق فأرسلت إلى عائشة فقالت: كلي وأطعميني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیعہ، اپنی خالہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : ہمیں عراق سے پنیرآیا پس میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا تو انہوں نے فرمایا۔ تم خود بھی کھاؤ اور مجھے بھی کھلاؤ۔
حدیث نمبر: 26003
٢٦٠٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: (حدثنا) (١) مغيرة عن إبراهيم [قال: كتب عمر (اذكروا) (٢) اسم اللَّه على الجبن وكلوا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک تحریر میں فرمایا : پنیر پر اللہ کا نام لو اور اس کو کھاؤ۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ پس جب ہم نے ان پہاڑوں کی جانب سفر کیا تو ہم نے عجمی لوگوں کے مصنوعات میں جو کچھ دیکھا تو ہم نے اس کو ناپسند سمجھا۔ اِلّا یہ کہ ہم اس کے بارے میں سوال کریں۔
حدیث نمبر: 26004
٢٦٠٠٤ - قال إبراهيم] (١): فلما سافرنا إلى هذه الجبال، فرأينا من صنيع الأعاجم ما رأينا كرهناه، إلا أن نسأل عنه.
حدیث نمبر: 26005
٢٦٠٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيدة (بن) (١) حميد عن منصور عن عبيد ابن أبي الجعد عن قيس بن (السكن) (٢) قال: قال عبد اللَّه: لا تأكلوا من الجبن إلا ما صنع المسلمون وأهل الكتاب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن سکن سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے فرمایا : صرف وہ پنیر کھاؤ جس کو مسلمان یا اہل کتاب تیار کریں۔
حدیث نمبر: 26006
٢٦٠٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي جعفر (الرازي) (١) عن الربيع عن أبي العالية عن سويد غلام (كان لسلمان) (٢) وأثنى عليه خيرًا قال: لما افتتحنا المدائن خرج الناس في طلب العدو، قال: قال سلمان: وقد أصبنا (سلة) (٣)، فقال: افتحوها فإن كان طعامًا أكلناه، وإن كان مالا دفعناه إلى هؤلاء، قال: (ففتحناها) (٤) فإذا أرغفة حُوّارى (٥)، وإذا جبنة وسكين قال: وكان أولَ ما رأت العرب (الحواري) (٦)، فجعل سلمان يصف لهم كيف يعمل، ثم أخذ السكين وجعل يقطع وقال: بسم اللَّه كلوا (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید سے روایت ہے …یہ حضرت سلمان کے غلام تھے اور ان کی اچھی تعریف کرتے تھے … وہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے مدائن کو فتح کرلیا تو لوگ دشمن کی تلاش میں نکلے… اس دوران ہمیں ایک ٹوکری ملی۔ اسے دیکھ کر حضرت سلمان نے کہا کہ اگر اس میں کھانا ہے تو ہم اسے کھائیں گے، اگر مال ہے تو ہم انہیں واپس دیں گے۔ جب ہم نے اسے کھولا تو اس میں خاص قسم کی کچھ روٹیاں، پنیر اور چھری تھی۔ یہ چیز عربوں نے پہلی بار دیکھی تھی۔ حضرت سلمان نے لوگوں کو بتایا کہ یہ کیسے بنائی جاتی ہیں پھر انہوں نے چھری سے اسے کاٹا او فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ کھاؤ۔
حدیث نمبر: 26007
٢٦٠٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن وابن سيرين (قالا) (١): لا بأس بما صنع أهل الكتاب من الجبن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین سے روایت ہے، یہ دونوں کہتے ہیں کہ اہل کتاب جو پنیر بنائیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 26008
٢٦٠٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد عن عبد الملك قال: سألت سعيد بن جبير عن الجبن فقال: ما صنع المسلمون وأهل الكتاب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے پنیر کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : مسلمان اور اہل کتاب جو تیار کریں (وہ حلال ہے) ۔
حدیث نمبر: 26009
٢٦٠٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عبد الملك قال: سمعت سعيد ابن جبير يقول: لا تأكل من الجبن إلا ما صنع المسلمون واليهود والنصارى، فأما المجوس فلا تحل لنا ذبائحهم، فكيف يحل لنا جبنهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کو کہتے سُنا۔ تم صرف وہی پنیر کھاؤ جس کو مسلمان، یہودی یا عیسائی تیار کریں۔ رہے مجوسی لوگ تو ان کا ذبیحہ ہمارے لئے حلال نہیں ہے ۔ تو ان کا پنیر ہمارے لیئے کس طرح حلال ہوگا ؟
حدیث نمبر: 26010
٢٦٠١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن أبي وائل وإبراهيم (قالا) (١): لما قدم المسلمون أصابوا من أطعمة المجوس من جبنهم وخبزهم، فأكلوا ولم يسألوا عن ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل اور ابراہیم سے روایت ہے، یہ دونوں حضرات کہتے ہیں کہ جب مسلمان پہنچے تو انہوں نے مجوسیوں کے کھانوں میں سے ان کی روٹیاں اور ان کی پنیر ملی ۔ سب انہوں نے (اس کو) کھالیا۔ اور انہوں نے اس کے متعلق کچھ معلوم نہیں کیا۔ حضرت عمر کے ہاں پنیر کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس پر اللہ کا نام لو اور اس کو کھا جاؤ۔
حدیث نمبر: 26011
٢٦٠١١ - (قال) (١): ووصف الجبن لعمر فقال: اذكروا اسم اللَّه عليه وكلوه (٢).
حدیث نمبر: 26012
٢٦٠١٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لما أتينا الجبل (١) (رأينا) (٢) (صنيعهم) (٣) كرهناه] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب ہم پہاڑی علاقہ میں آئے اور ہم نے اُن (پہاڑیوں) کی مصنوعات دیکھیں تو ہم نے اس کو ناپسند کیا۔
حدیث نمبر: 26013
٢٦٠١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن أم موسى عن علي قال: إذا لم (تدروا) (١) من صنعه فاذكروا اسم اللَّه عليه وكلوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب تمہیں یہ بات معلوم نہ ہو کہ پنیر کس نے تیار کیا ہے تو تم اس پر اللہ کا نام لو اور اس کو کھا جاؤ۔
حدیث نمبر: 26014
٢٦٠١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن عمرو بن شرحبيل قال: ذكرنا الجبن عند عمر فقلنا له: إنه يصنع فيه (أنافح) (١) الميتة فقال: سموا عليه وكلوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شرحبییل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر کے ہاں پنیر کا ذکر کیا اور ہم نے ان سے کہا۔ یہ اس طرح سے تیار کی جاتی ہے کہ اس میں مردار کے اعضاء کی آمیزش ہوتی ہے۔ تو حضرت عمر نے فرمایا ! تم اس پر خدا کا نام لے لو اور اس کو کھا جاؤ۔
حدیث نمبر: 26015
٢٦٠١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (جحش) (١) عن معاوية بن قرة عن الحسن (بن) (٢) علي أنه سئل عن الجبن فقال: لا بأس به، ضع السكين واذكر اسم اللَّه (عليه) (٣) وكل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ ان سے پنیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تم اس پر چھری رکھ دو اور اس پر اللہ کا نام لے دو اور کھا جاؤ۔ “
حدیث نمبر: 26016
٢٦٠١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن عمرو بن عثمان عن موسى بن طلحة قال: سمعته يذكر أن طلحة كان يضع السكين ويذكر اسم اللَّه ويقطع ويأكل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن عثمان، حضرت موسیٰ بن طلحہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے موسیٰ کو یہ کہتے سُنا کہ حضرت طلحہ چھری (پنیر پر) رکھتے اور اللہ کا نام پڑھتے اور پنیر کو کاٹ کر کھالیتے۔
حدیث نمبر: 26017
٢٦٠١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الزبرقان عن أبي رزين قال: لا بأس بالجبن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رزین سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ پنیر میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 26018
٢٦٠١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الأعمش عن عمارة عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث قال: كانوا يتزودون الجبن في أسفارهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ لوگ اپنے سفروں میں پنیر کو زاد راہ کے طور پر لے جاتے تھے۔
حدیث نمبر: 26019
٢٦٠١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن عمرو بن منصور عن الشعبي قال: أتي النبي ﷺ في غزوة تبوك بجبنة، فقيل: إن هذا طعام يصنعه المجوس، فقال: " (اذكروا) (١) اسم اللَّه عليه وكلوه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں غزوہ تبو ک کے موقع پر پنیر لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا۔ یہ وہ کھانا ہے جس کو مجوسی لوگ تیار کتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس پر اللہ کا نام لو اور اس کو کھاؤ۔ “
حدیث نمبر: 26020
٢٦٠٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عبيد (اللَّه) (١) بن عمر عن سالم أنه كان يأكل الجبن الكوفي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، حضرت سالم کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ کوفی پنیر کھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26021
٢٦٠٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عثمان الشحام قال: (حدثنا) (١) (النوشجان) (٢) أبو المغيرة (قال) (٣): سألت ابن عباس عن الجبن فقال: ما يأتينا من العراق (فاكهة) (٤) أعجب إلينا من الجبن (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نوشجان ابو المغیرہ بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پنیر کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : ہمیں ملک عراق سے کوئی ایسا میوہ نہیں آتا جو ہمیں اس سے زیادہ پسند ہو۔
حدیث نمبر: 26022
٢٦٠٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيدة بن حميد عن عطاء بن السائب عن (سعيد) (١) بن عبيدة قال: سأل رجل ابن عمر عن الجبن فقال له ابن عمر: [وما ⦗٤١٦⦘ الجبن قال: من اللبن فقال له ابن عمر] (٢): كل الجبن واشربه فقال: (إن) (٣) فيه ميتة فقال (له) (٤) ابن عمر: فلا تأكل الميتة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن عبیدہ سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پنیر کے بارے میں سوال کیا ؟ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے پوچھا۔ پنیر کیا ہوتا ہے ؟ اس نے کہا۔ دودھ سے بنتا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا۔ پنیر کو کھاؤ بھی اور پیو بھی ۔ اس آدمی نے کہا اس میں مردار بھی ہوتا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ا س سے کہا۔ تم مردار کو نہ کھاؤ۔