حدیث نمبر: 25959
٢٥٩٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه أن امرأة سألت عائشة قالت: إن (لنا) (١) أطيارا من المجوس فإنه يكون لهم العيد فيهدون لنا، فقالت: أما (ما) (٢) ذبح لذلك اليوم فلا تأكلوا، ولكن كلوا من أشجارهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قابوس، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک خاتون نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا۔ اس نے کہا۔ ہماری کچھ مجوسی دائیاں ہیں۔ اور جب ان کی عید ہوتی ہے تو وہ ہمیں ہدیہ دیتے ہیں ؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ہاں ۔ اس دن کے لیے کچھ ذبح کیا جائے۔ تم اس کو تو نہ کھاؤ لیکن تم ان کے درختوں سے کھا سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 25960
٢٥٩٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الحسن بن حكيم عن أمه عن أبي برزة أنه كان له سكان مجوس، فكانوا يهدون له في النيروز والمهرجان، فكان يقول لأهله: ما كان من فاكهة فكلوه، وما كان من غير ذلك فردوه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو برزہ سے روایت ہے کہ کچھ مجوسی ان کے ہاں رہائش پذیر تھے۔ اور وہ مجوسی، حضرت ابو برزہ کو نیروز اور مہرجان کے موقع پر ہدیہ پیش کیا کرتے تھے۔ پس ابو برزہ اپنے اہل خانہ سے کہا کرتے تھے۔ جو چیز میوہ جات کے قبیل سے ہو تم اس کو کھالیا کرو اور جو چیز اس کے علاوہ ہو تم اس کو واپس کردیا کرو۔
حدیث نمبر: 25961
٢٥٩٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن أبي وائل وإبراهيم قالا: لما قدم المسلمون أصابوا من أطعمة المجوس من (جبنهم) (١) ومن (خبزهم) (٢) فأكلوا، ولم يسألوا عن شيء من ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل اور ابراہیم سے روایت ہے۔ وہ دونوں حضرات کہتے ہیں کہ جب مسلمان لوگ آئے تو انہیں مجوسیوں کے کھانے میں سے، ان کی پنیر اور ان کی روٹیاں ملیں۔ پس ان لوگوں نے اسی کو کھالیا اور ان میں سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 25962
٢٥٩٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: كان يكره أن يأكل (مما) (١) طبخ المجوس في قدورهم، (و) (٢) لم يكن يرى بأسًا أن يأكل من طعامهم مما سوى ذلك: خبزا (أو) (٣) سمنا أو كامخا أو سرارا أو لبنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام، حسن کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ مجوسی لوگ ، اپنی ہانڈیوں مں م جو کھانا پکائیں ۔ اس میں سے کھایا جائے ۔ اور وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے کہ ان کے کھانوں میں مندرجہ ذیل اشیاء کے علاوہ کچھ کھایا جائے۔ روٹی، گھی، چٹنی، پانی نکالا دودھ، یا دودھ۔
حدیث نمبر: 25963
٢٥٩٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن عطاء قال: لا بأس (بجبن) (١) المجوس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجوسیوں کی روٹی میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 25964
٢٥٩٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شريلت عن ليث عن مجاهد قال: لا تأكل من طعام المجوس إلا الفاكهة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ تم مجوسیوں کے کھانے میں سے میوہ جات کے علاوہ کچھ نہ کھاؤ۔
حدیث نمبر: 25965
٢٥٩٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن عن أبي برزة قال: كنا في غزاة لنا، فلقينا أناسا من المشركين فأجهضناهم عن مَلّة لهم فوقعنا فيها ⦗٤٠٣⦘ فجعلنا نأكل منها، وكانا نسمع في الجاهلية أنه من أكل الخبز (سمن، فلما أكلنا تلك الخبزة) (١) جعل أحدنا ينظر في عطفيه: هل سمن؟ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو برزہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے ایک جہادی سفر میں تھے کہ ہمیں مشرکین میں سے کچھ لوگ ملے۔ پس ہم نے انہیں ان کی بھوبھل سے پیچھے ہٹا دیا اور ہم اس میں چلے گئے اور ہم اس سے (تیار شدہ) کھانا کھانے لگے۔ اور ہم نے جاہلیت میں یہ بات سنی ہوئی تھی کہ جو (یہ) روٹی کھاتا ہے وہ موٹا ہوجاتا ہے۔ چناچہ جب ہم نے یہ روٹیاں کھائیں تو ہم میں سے (ہر) ایک اپنے دائیں بائیں دیکھنے لگا کہ کیا وہ موٹا ہوا ہے ؟
حدیث نمبر: 25966
٢٥٩٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد قال: أخبرنا هشام عن الحسن (ومحمَّد قالا) (١): كان المشركون يجيئون بالسمن في ظروفهم (فيشتريه) (٢) أصحاب رسول اللَّه ﷺ (والمسلمون) (٣)، فيأكلونه ونحن نأكله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد سے روایت ہے۔ یہ دونوں حضرات کہتے ہیں کہ مشرکین اپنے برتنوں میں گھی لے کر آتے تھے اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اور دیگر مسلمان خریدتے تھے اور کھاتے تھے اور ہم بھی اس کو کھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 25967
٢٥٩٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور قال: سألت (١) إبراهيم عن السمن الجبلي فقال: العربي أحب إليّ منه، وإنا لنأكل من الجبلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پہاڑی گھی کے بارے میں سوال کیا ؟ انہوں نے فرمایا : مجھے عربی گھی اس سے زیادہ پسند ہے۔ اور ہم پہاڑی گھی بھی کھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 25968
٢٥٩٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن عون عن محمد (أنه) (١) كان لا يرى بالسمن الجبلي بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون، محمد کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ پہاڑی گھی میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25969
٢٥٩٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن عاصم عن أبي عثمان قال: كنا نأكل السمن، ولا نأكل الودك، ولا نسأل عن الظروف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ گھی تو کھایا کرتے تھے لیکن ہم چربی نہیں کھایا کرتے تھے۔ اور ہم برتنوں کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25970
٢٥٩٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن محمد أن عامر ابن عبد اللَّه كان يكره من السمن ما يجيء من هذا -يعني الجبل-، ولا يرى بأسًا (بما) (١) يجيء من ها هنا، يعني: البادية.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے کہ حضرت عامر بن عبد اللہ اس جگہ … پہاڑ، کوہستان … سے آنے والے گھی کو ناپسند کرتے تھے اور اس گھی میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے۔ جو یہاں سے … جنگل سے … آتا تھا۔
حدیث نمبر: 25971
٢٥٩٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن (أنه) (١): كان لا يرى بأكل السمن المائي بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام، حسن کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ پانی والے گھی کو کھانے میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 25972
٢٥٩٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن أبي رزين قال: كانوا ينقلون السمن (الجبلي) (١) بماء الجبن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رزین سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگ پہاڑی گھی کو پنیر کے پانی کے ساتھ نقل کرتے تھے۔