حدیث نمبر: 25930
٢٥٩٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) الأعمش عن زيد ابن وهب عن عبد الرحمن بن حسنة قال: كنت مع رسول اللَّه ﷺ في سفر فأصبنا ضبابا، فكانت القدور تغلي، فقال رسول اللَّه ﷺ حمل: "ما هذا؟ " فقلنا: أصبناها، قال: "إن أمة من بني إسرائيل (مسخت) (٢)، وأنا أخشى أن تكون هذه" قال: (فأكفأناها) (٣) وإنا لجياع (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن حسنہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھا۔ ہمیں کچھ گوہ ملیں۔ چناچہ ہانڈیاں (گوہ کے ساتھ) اُبلنے لگیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھاـ۔ ” یہ کیا ہے ؟ “ ہم نے جواب دیا۔ ہمیں کچھ گوہ مل گیی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” بنی اسرائیل کے کچھ لوگ مسخ کر دئیے گئے تھے۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ وہی نہ ہو۔ “ راوی کہتے ہیں ۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہانڈیوں کو الٹوا دیا جبکہ ہم سخت بھوکے تھے۔
حدیث نمبر: 25931
٢٥٩٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا عبيد اللَّه بن عمر عن نافع (عن) (١) ابن عمر قال: سئل رسول اللَّه ﷺ وهو على المنبر عن الضب فقال: لا آكله ولا أحرمه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا گوہ کے بارے میں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبرپر تھے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں گوہ کو کھاتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں۔ “
حدیث نمبر: 25932
٢٥٩٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) داود بن أبي هند عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري قال: جاء رجل إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: إنا بأرض مضبة فما تأمرني؟ فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن أمة من بني إسرائيل مسخت دوابا، ولا أدري في أي الدواب هي، فلم يأمر ولم ينه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک آدمی حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا۔ ہم لوگ ایسی زمین میں رہائش پذیر ہیں جہاں گوہ بہت زیادہ ہیں۔ پس آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ جانوروں کی طرف مسخ کئے گئے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کن جانوروں کی طرف مسخ ہوئے تھے ۔ “ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نہ کھانے کا حکم دیا اور نہ اس کو گوہ سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 25933
٢٥٩٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن زيد بن وهب عن البراء بن عازب عن ثابت بن وديعة قال: أتي رسول اللَّه ﷺ بضب فقال: "أمة مسخت"، واللَّه أعلم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بن ودیعہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک گوہ لائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” ایک قوم مسخ ہوئی تھی۔ “ واللہ اعلم۔ “
حدیث نمبر: 25934
٢٥٩٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيد) (١) بن (سعيد) (٢) عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: أهدي إلى رسول اللَّه ﷺ ضب فلم يأكل منه قالت: (فقلت) (٣) يا رسول اللَّه! ألا أطعمه السُّؤَّال قال: "لا تطعمي ⦗٣٩٤⦘ السُّؤَّال (ما لا) (٤) تأكلين منه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گوہ ہدیہ کی گئی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے نہ کھایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں یہ مانگنے والوں کو نہ کھلا دوںـ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم مانگنے والوں کو بھی وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتی ہو۔ “
حدیث نمبر: 25935
٢٥٩٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن يزيد بن الاسم عن ميمونة زوج النبي ﷺ قالت: أهدي لنا ضب (فصنعته) (١) فدخل (عليها) (٢) رجلان من قومها فأتحفتهما به، فدخل رسول اللَّه ﷺ (٣) وهما (يأكلان) (٤) فوضع يده ثم رفعها (فقال: "ما هذا؟ " قالت: ضب أهدي لي فصنعته فطرحه فذهبا) (٥) (ليطرحا) (٦) ما في أيديهما فقال ﷺ (٧): "كلا فإنكما أهل نجد تأكلونها، وإنا أهل (المدينة) (٨) نعافها" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں ہدیہ میں ایک گوہ دی گئی۔ میں نے اس کو تیار کیا۔ پھر حضرت میمونہ کے پاس ان کی قوم کے دو افراد آئے تو حضرت میمونہ نے یہ گوہ ان کو تحفۃً پیش کردی۔ اس دوران جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف لائے جبکہ یہ دونوں حضرات (اس کو) کھا رہے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک رکھا پھر اس کو اٹھا لیا۔ اس پر ان دونوں کے ہاتھ میں جو لقمہ تھا اس کو انہوں نے نیچے رکھ دیا۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا : ” تم کھاؤ۔ کیونکہ تم دونوں اہل نجد ہو۔ تم اس کو کھاتے ہو۔ لیکن ہم اہل مدینہ ہیں۔ ہمیں اس سے گھن آتی ہے۔ “
حدیث نمبر: 25936
٢٥٩٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا أبو عوانة قال: حدثنا عبد الملك بن عمير عن حصين رجل من بني (فزارة) (١) عن سمرة بن جندب قال: أتى (النبي) (٢) ﷺ أعرابي وهو يخطب فقطع عليه خطبته فقال: يا رسول اللَّه! كيف تقول في الضب؟ قال: "إن أمة من بني إسرائيل مسخت، فلا أدري أي الدواب مسخت" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اس نے آپ کے خطبہ کو کاٹ کر پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گوہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کردیا گیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سے جانور کی طرف مسخ ہوا ہے۔ “
حدیث نمبر: 25937
٢٥٩٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن يزيد بن الاسم قال: دعانا عروس بالمدينة، فقرب إلينا ثلاثة عشر ضبا، فآكلٌ وتاركٌ، فلقيت ابن عباس من الغد فأخبرته، فأكثر القوم حوله حتى قال بعضهم: قال رسول اللَّه ﷺ (١): " (لا آكله) (٢) ولا أنهى عنه، ولا أحله ولا أحرمه"، فقال ابن عباس: (فبئسما) (٣) قلتم، إنما بعث رسول اللَّه ﷺ محلًا ومحرمًا (٤) بينما هو عند ميمونة وعنده الفضل بن عباس وخالد بن الوليد وامرأة أخرى، إذ قرب إليهم خوان عليه لحم، فلما أراد رسول اللَّه ﷺ أن يأكل، قالت له ميمونة: إنه لحم ضب، فكف يده وقال: "إن هذا اللحم لم آكله قط" وقال لهم: "كلوا" فأكل منه الفضل ابن عباس وخالد بن الوليدل والمرأة، وقالت ميمونة: لا آكل إلا من شيء يأكل منه رسول اللَّه ﷺ (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن اصم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مدینہ میں ایک ولیمہ میں دعوت تھی۔ ہمیں تیرہ عد د گوہ پیش کی گئیں۔ پس کچھ لوگوں نے کھا لیں اور کچھ نے نہ کھائیں۔ پھر میں اگلے دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملا اور میں نے انہیں یہ بات بتائی۔ بہت سے لوگ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے گرد تھے ان میں سے کچھ نے کہا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں، میں اس کو حلال کرتا ہوں اور نہ ہی اس کو حرام قرار دیتا ہوں۔ “ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم نے بُری گفتگو کی ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تو بعثت ہی حلال اور حرام کرنے والے کے طور پر ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت میمونہ کے پاس تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حضرت فضل بن عباس، حضرت خالد بن ولید اور ایک دوسری عورت بھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دسترخوان بڑھایا گیا جس پر گوشت تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس کو) کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ یہ گوہ کا گوشت ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا۔ ” میں یہ گوشت کبھی نہیں کھاؤں گا “۔ اور لوگوں سے کہا۔ ” تم کھاؤ۔ “ چناچہ حضرت فضل ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت خالد بن ولید اور اس عورت نے (اس کو) کھایا۔ اور حضرت میمونہ نے فرمایا : میں تو اس چیز کو کھاؤں گی جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تناول فرمائیں گے۔
حدیث نمبر: 25938
٢٥٩٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن (الزبرقان) (١) قال: أهدي لشقيق بن سلمة ضب مشوي، فأكلتُ منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبرقان سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت شقیق بن سلمہ کو بھنی ہوئی گوہ ہدیہ کی گئی اور میں نے بھی اس میں سے کھایا۔
حدیث نمبر: 25939
٢٥٩٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: خرج رسول اللَّه ﷺ مخرجا، فأصابتهم مجاعة فأتاه رجل ومعه ضباب، فأهداها للنبي ﷺ فنظر إليها فقال: "مسخ (سبط) (١) من بني إسرائيل دواب في الأرض"، فلم (يأكل) (٢) ولم ينه عنه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر پر نکلے ۔ اس میں صحابہ کرام کو سخت بھوک نے آلیا۔ پس ایک صاحب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے پاس بہت سی گوہ تھیں۔ انہوں نے وہ گوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدیہ کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : ” بنو اسرائیل کا ایک طبقہ زمین کے جانوروں میں مسخ ہوگیا تھاْ ‘ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نہ خود کھایا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے منع کیا۔
حدیث نمبر: 25940
٢٥٩٤٠ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر (٢) عن (أبي) (٣) عون عن عبد الرحمن بن أبي ليلى أن النبي ﷺ وجد ريح ضب فرخص لهم في أكله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گوہ کی بُو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔
حدیث نمبر: 25941
٢٥٩٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن زياد بن علاقة أن عمر رأى رجلًا حسن الجسم، فسأله (أو) (١) أخبره فقال: من أكل الضباب؟ فقال عمر: (وددت) (٢) أن في كل (جحر) (٣) (ضب) (٤) ضبين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن علاقہ سے روایت ہے۔ کہ حضرت عمر نے ایک خوبصورت جسم والے شخص کو دیکھا تو آپ نے اس کو پوچھا یا اس نے آپ کو بتایا۔ کہا۔ یہ جسامت گوہ کی وجہ سے ہے۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا۔ مجھے یہ بات پسند ہے کہ ہر گوہ کے سوراخ میں دو گوہ ہوں۔
حدیث نمبر: 25942
٢٥٩٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه قال: سئل النبي ﷺ عن الضب فقال: "لا آكله ولا أحرمه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گوہ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” نہ میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ میں اس کو حرام قرار دیتا ہوں۔ “
حدیث نمبر: 25943
٢٥٩٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا (داود) (١) عن أبي نضرة قال: قال عمر: إن اللَّه لينفع بالضب، فإنه لطعام عامة الرعاء، ولو كان (عندي) (٢) لطعمت منه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ گوہ کے ذریعہ نفع دیتے ہیں۔ یہ عام چرواہوں کا کھانا ہے ۔ اور اگر یہ میرے پاس دستیاب ہوتی تو میں بھی اس کو کھاتا۔
حدیث نمبر: 25944
٢٥٩٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان (عن زياد) (١) بن علاقة عن سعد بن معبد أن عمر رأى رجلًا من محارب سمينا في (عام) (٢) سنة فقال: ما طعامك؟ قال: الضباب، قال: وددت أن لي في (كل) (٣) جحر (ضب) (٤) ضبين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن معبد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے قحط کے سال محارب قبیلہ کے ایک موٹے آدمی کو دیکھا تو آپ نے پوچھا تمہارا کھانا کیا ہے ؟ اس نے بتایا۔ گوہ ۔ حضرت عمر نے فرمایا : مجھے یہ بات محبوب ہے کہ گوہ کے ہر سوراخ میں دو گوہ ہوں۔
حدیث نمبر: 25945
٢٥٩٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال (١) عمر: ضب أحب إليّ من دجاجة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا : مجھے گوہ ، مرغی سے زیادہ محبوب ہے۔
حدیث نمبر: 25946
٢٥٩٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن توبة (العنبري) (١) عن الشعبي قال: سئل رسول اللَّه ﷺ عن الضب فقال: "حلال لا بأس به، ولكني أعافه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گوہ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ حلال ہے ۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن مجھے اس سے گھن آتی ہے۔ “
حدیث نمبر: 25947
٢٥٩٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي المنهال عن عمه قال: سألت أبا هريرة عن الضب فقال: لست بآكله، ولا زاجرا عنه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو المنہال ، اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ سے گوہ کے بارے میں سوال کیا ؟ انہوں نے جواب میں فرمایا : نہ میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ ہی اس سے روکتا ہوں۔
حدیث نمبر: 25948
٢٥٩٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (١) مسعر عن (٢) (أبي) (٣) عون عن عبد الرحمن بن أبي ليلى أن النبي ﷺ (٤) وجد ريح ضب فقال: إني -أو إنا- من قوم لا يأكله، ورخص لهم في أكله (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گوہ کی بُو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” میں “ یا فرمایا ” ہم اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جو اس کو نہیں کھاتی ۔ “ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اس کی اجازت عنایت فرما دی۔
حدیث نمبر: 25949
٢٥٩٤٩ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا وكيع عن إسرائيل عن عبد الأعلى (قال) (٢): سألت ابن (الحنفية) (٣) عن الضب فقال: إن أعجبك فكله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ گوہ کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25950
٢٥٩٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع عن) (١) عبد الجبار بن عباس عن (عريب) (٢) الهمداني عن الحارث عن علي أنه كره الضب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الاعلیٰ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن الحنفیہ سے سوال کیا گوہ کے بارے میں ؟ تو انہوں نے فرمایا۔ اگر وہ تمہیں پسند ہے تو تم اس کو کھالو۔
حدیث نمبر: 25951
٢٥٩٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن الرُّكين عن عصمة بن ربعي قال: قدمنا على عمر (ونحن) (١) أناس سمان حسنة هيئتنا، قال: فقال: ما طعامكم؟ قلنا: الضباب، قال: فقال عمر: ويجزيكم؟ قلنا: نعم، (فقال) (٢): وددت أن مع كل (ضب) (٣) مثله (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عصمہ بن ربعی سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ہم کچھ لوگ تھے جن کی حالت بہت اچھی تھی۔ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے پوچھا۔ تمہاری خوراک کیا ہے ؟ ہم نے کہا : گوہ۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : وہ تمہں ا کفایت کر جاتی ہے۔ ہم نے کہا : جی ہاں ! اس پر آپ نے فرمایا : مجھے یہ بات محبوب ہے کہ ہر ایک گوہ کے ساتھ اس کا مثل (ایک اور گوہ) ہو۔