کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو لوگ کہتے ہیں پالتو گدھے کھائے جائیں گے
حدیث نمبر: 25926
٢٥٩٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن واضح عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة الظفري عن سلمى بنت نصر عن رجل من بني مرة قال: أتيت رسول اللَّه ﷺ فقلت: يا رسول اللَّه (١)! إن (جل) (٢) مالي الحمر أفاصيب منها قال: "أليس ترعى الفلاة وتأكل (الشجر) (٣) ⦗٣٩١⦘ قلت: بلى قال: فأصب منها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
بنو مرہ کے ایک صاحب روایت کرتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرا زیادہ ترمال (مویشی) گدھوں پر مشتمل ہے۔ کیا میں ان میں سے کھا سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’ کیا وہ جنگل میں نہیں چرتے اور کیا وہ درخت نہیں کھاتے ؟ “ میں نے عرض کیا۔ کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر تم ان میں سے کھالو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 25926
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25926، ترقيم محمد عوامة 24823)
حدیث نمبر: 25927
٢٥٩٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن منصور عن عبيد بن الحسن (عن) (١) (٢) غالب بن (ديخ) (٣) قال: قلت: يا رسول اللَّه أصابتنا سنة، وسمين مالي في الحمر فقال: "كل من سمين مالك، فإنما قذرتها من (جوال) (٤) القرية" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غالب بن ذیخ سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمیں قحط سالی نے آلیا ہے۔ اور میرا صحت مند مال مویشی گدھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے صحت مند مال مویشی میں سے کھاؤ۔ میں نے انہیں آوارہ اور گندخوری کی وجہ سے ناپسند کیا تھا۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 25927
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25927، ترقيم محمد عوامة 24824)
حدیث نمبر: 25928
٢٥٩٢٨ - حدثنا أبو بكر قال" حدثنا شريك عن الأعمش عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: إنما كُرِهت (إبقاءً) (١) على الظهر، يعني: لحوم (الحمر) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ گدھوں کے گوشت کو باربرداری کی ضرورت کے لیے مکروہ قرار دیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 25928
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25928، ترقيم محمد عوامة 24825)
حدیث نمبر: 25929
٢٥٩٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن عبيد بن الحسن عن ابن (معقل) (١) عن (أناس) (٢) من مزينة الظاهرة قال: قال: غالب بن (أبجر) (٣) ⦗٣٩٢⦘ سألت رسول اللَّه ﷺ قلت: لم يبق (من) (٤) مالي (إلا) (٥) أحمرة، قال: "أطعم أهلك من سمين مالك، قال: إنما كرهت لكم (جوال) (٦) القرية" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
مزینہ ظاہر ہ کے کچھ لوگ روایت کرتے ہیں کہ حضرت غالب بن ابجر نے بتایا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا۔ میں نے کہا۔ میرے مال میں سے صرف گدھے باقی رہ گئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے گھر والوں کو اپنے مال کا موٹا حصہ کھلاؤ۔ “ اور فرمایا : ” مں ا تو تمہارے لئے صرف گند خور آوارہ کو ناپسند کرتا ہوں۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 25929
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25929، ترقيم محمد عوامة 24826)