کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جب عقیقہ کو ذبح کیا جائے تو کیا کہا جائے
حدیث نمبر: 25851
٢٥٨٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام (الدستوائي) (١) عن قتادة قال: يسمى على العقيقة كما يسمى على الأضحية: بسم اللَّه عقيقة فلان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جس طرح قربانی پر بسم اللہ پڑھی جاتی ہے اسی طرح عقیقہ پر بسم اللہ پڑھی جائے گی۔ یعنی بسم اللہ فلاں کا عقیقہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب العقيقة / حدیث: 25851
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25851، ترقيم محمد عوامة 24753)
حدیث نمبر: 25852
٢٥٨٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عثمان بن مطر عن سعيد قال: سئل قتادة: كيف تنحر العقيقة قال: يستقبل (القبلة بها) (١) ثم يضع الشفرة على حلقها ثم يقول: اللهم منك ولك عقيقة فلان، بسم اللَّه (واللَّه) (٢) أكبر، ثم يذبحها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت قتادہ سے سوال کیا گیا کہ عقیقہ کو کیسے ذبح کیا جائے گا۔ ؟ انہوں نے جواب دیا۔ آدمی عقیقہ کو قبلہ رُخ کرے پھر اس کے حلق پر چھری چلائے ، پھر کہے۔ اے اللہ ! تیری جناب سے ہی ملی ہے اور تیرے لیے ہی ذبح ہو رہی ہے۔ فلاں کا عقیقہ ہے ۔ بسم اللہ واللہ اکبر پھر اس کو ذبح کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب العقيقة / حدیث: 25852
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25852، ترقيم محمد عوامة 24754)