کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کیا جہاد کرنا واجب ہے
حدیث نمبر: 20715
٢٠٧١٥ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج قال: قال معمر: كان مكحول يستقبل القبلة ثم يحلف عشرة (أيمان) (٢) أن (الغزو) (٣) (لواجب) (٤) عليكم، ثم يقول: إن شئتم زدتكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مکحول نے قبلہ کی طرف رخ کر کے دس مرتبہ قسم کھائی ، پھر فرمایا کہ جہاد تم پر واجب ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں اس سے زیادہ بھی قسم کھا سکتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20715
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20715، ترقيم محمد عوامة 19906)
حدیث نمبر: 20716
٢٠٧١٦ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج قال لي داود: قلت لسعيد ابن المسيب: قد أعلم أن الغزو (واجب) (٢) على الناس أجمعين، قال: فسكت قال: (فقال) (٣): (قد) (٤) علمت لو أَنكر ما قلت لبَيّن لي، فقلت لسعيد بن المسيب: (تجهزت) (٥)، لا ينهزني إلا ذلك حتى رابطت؟ قال: قد (أجزأت) (٦) عنك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ جہاد تمام لوگوں پر واجب ہے۔ یہ سن کر وہ خاموش رہے۔ میں جانتا تھا کہ اگر انہیں میری بات سے اختلاف ہوگا تو وہ اسے ضرور ظاہرکریں گے۔ میں نے پھر حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے کہا کہ میں نے جہاد کے لیے تیاری کرلی ہے اور میں جہاد کے لیے روانہ ہونے لگا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ میں تمہاری ذمہ اریاں انجام دوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20716
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20716، ترقيم محمد عوامة 19907)
حدیث نمبر: 20717
٢٠٧١٧ - حدثنا ابن المبارك قال: قلت لعطاء الغزو واجب؟ فقال هو وعمرو ابن دينار: ما علمنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا جہاد واجب ہے۔ انہوں نے اور حضرت عمرو بن دینار نے فرمایا کہ ہم نہیں جانتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20717
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20717، ترقيم محمد عوامة 19908)
حدیث نمبر: 20718
٢٠٧١٨ - حدثنا ابن (فضيل) (١) عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة قال: قال عمر: عُرى الإيمان (أربعة) (٢): الصلاة والزكاة والجهاد والأمانة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایمان کی بنیاد چار چیزیں ہیں۔ نماز B زکوٰۃ C جہاد D امانت۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20718
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20718، ترقيم محمد عوامة 19909)
حدیث نمبر: 20719
٢٠٧١٩ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن أبي إسحاق) (١) عن صلة قال حذيفة: (الإسلام) (٢) ثمانية أسهم: الصلاة سهم، والزكاة سهم، والجهاد سهم، والحج سهم، وصوم رمضان سهم، والأمر بالمعروف سهم، والنهي عن المنكر سهم، وقد خاب من لا سهم له (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسلام کے آٹھ حصے ہیں، نماز ایک حصہ ہے، زکوٰۃ ایک حصہ ہے، جہاد ایک حصہ ہے، حج ایک حصہ ہے، رمضان کا روزہ ایک حصہ ہے، اچھے کام کا حکم دینا ایک حصہ ہے، برے کام سے روکنا ایک حصہ ہے۔ وہ شخص نامراد ہے جس کے پاس کوئی نہیں حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20719
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الطيالسي (٤١٣)، وعبد الرزاق (٩٢٨٠)، والبزار (٢٩٢٨)، وابن الأعرابي في مجمعه (١٦٦)، والبيهقي في الشعب (٧٥٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20719، ترقيم محمد عوامة 19910)
حدیث نمبر: 20720
٢٠٧٢٠ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج عن عبد الكريم عن عائشة قالت: إذا أحس (أحدكم) (٢) من نفسه جبنًا فلا (يغزون) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کو بزدلی لاحق ہو تو وہ ہرگز جہاد نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20720
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ عبد الكريم ضعيف ولم يرو عن عائشة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20720، ترقيم محمد عوامة 19911)
حدیث نمبر: 20721
٢٠٧٢١ - حدثنا جرير عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن عطية مولى بني عامر عن يزيد بن بشر السكسكي قال: (قدمت) (١) المدينة (فدخلت) (٢) على ⦗١٣١⦘ عبد اللَّه ابن عمر فأتاه رجل من أهل العراق فقال: يا عبد اللَّه بن عمر! ما لك تحج و (تعتمر) (٣) وقد تركت الغزو في سبيل اللَّه؟ قال: ويلك إن الإيمان بني على خمس: تعبد اللَّه (وتقيم) (٤) الصلاة (وتؤتي) (٥) الزكاة وتحج وتصوم رمضان [قال: (فردها) (٦) عليَّ، فقال: يا عبد اللَّه، تعبد اللَّه وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتحج وتصوم رمضان] (٧) كذلك (قال) (٨) لنا رسول اللَّه ﷺ (ثم) (٩) الجهاد حسن (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن بشر سکسکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت ان کے پاس ایک عراقی شخص آیا اور اس نے کہا کہ اے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ! کیا بات ہے آپ حج اور عمرہ تو کرتے ہیں لیکن آپ نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنا چھوڑ دیا ہے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تیرا ناس ہو ! ایمان کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ یہ کہ تو اللہ کی عبادت کرے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، حج کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔ اس آدمی نے کہا کہ یہ باتیں مجھے دوبارہ بتائیں ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے بندے ! تو اللہ کی عبادت کر، نماز قائم کر، زکوٰۃ ادا کر، حج کر اور رمضان کے روزے رکھ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یونہی فرمایا ہے، ان کے بعد پھر جہاد اچھا عمل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20721
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20721، ترقيم محمد عوامة 19912)
حدیث نمبر: 20722
٢٠٧٢٢ - حدثنا (معاذ) (١) عن ابن عون عن نافع قال: كان ابن عمر (يُغزي بنيه) (٢) ويحمل على (الظهر) (٣) و (يرى) (٤) أن الجهاد في سبيل اللَّه أفضل الأعمال بعد الصلاة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے بیٹوں کو جہاد کے لیے بھیجتے تھے اور انہیں سواری پر سوار کرتے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی رائے تھی کہ نماز کے بعد افضل عمل اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20722
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20722، ترقيم محمد عوامة 19913)
حدیث نمبر: 20723
٢٠٧٢٣ - حدثنا ابن مبارك عن أمية (الشامي) (١) قال: كان مكحول ورجاء بن حيوة يختاران الساقة لا (فارقانها) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امیہ شامی فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول اور حضرت رجاء بن حیوہ لشکر کے پچھلے حصے میں رہتے تھے اور اس سے جدا نہیں ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20723
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20723، ترقيم محمد عوامة 19914)
حدیث نمبر: 20724
٢٠٧٢٤ - حدثنا خالد بن مخلد نا علي بن صالح عن (أبيه) (١) عن الشعبي قال: الغالب في سبيل اللَّه أفضل من (المقتول) (٢). (كمل) (٣) كتاب الجهاد. (والحمد للَّه حق حمده) (٤)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں غالب رہنے والا شہید سے افضل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20724
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20724، ترقيم محمد عوامة 19915)