کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
حدیث نمبر: 20690
٢٠٦٩٠ - حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: سألت ابن سيرين قلت: الرجل يريد الغزو فيعان؟ قال: ما زال المسلمون يمتع بعضهم بعضًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص جہاد کرنا چاہے تو کیا اس کی مدد کی جائے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ مسلمان ہمیشہ ایک دوسرے کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20690
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20690، ترقيم محمد عوامة 19882)
حدیث نمبر: 20691
٢٠٦٩١ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن (نسير) (١) أن الربيع كان يأخذ الجعالة فيجعلها في المساكين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نسیر فرماتے ہیں کہ حضرت ربیع رحمہ اللہ مال غنیمت میں سے مجاہد کو ملنے والے والا زیادہ حصہ لیتے تھے اور اسے مساکین میں تقسیم کردیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20691
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20691، ترقيم محمد عوامة 19883)
حدیث نمبر: 20692
٢٠٦٩٢ - حدثنا (عبيد اللَّه بن موسى عن عثمان) (١) بن الأسود عن مجاهد أنه أُعطي يوم (غزا) (٢) (شيئًا) (٣) فقبله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ کو جہاد کے ایک دن کے عوض کوئی چیز پیش کی گئی جو انہوں نے قبول فرما لی ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20692
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20692، ترقيم محمد عوامة 19884)
حدیث نمبر: 20693
٢٠٦٩٣ - حدثنا وكيع عن (إسرائيل) (١) عن جابر عن عامر عن (٢) عكرمة والأسود و (مسروق) (٣) أنهم كرهوا (الجعائل) (٤) وذلك في البعث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ ، حضرت اسود رحمہ اللہ اور حضرت مسروق رحمہ اللہ نے مال غنیمت میں سے مجاہد کو ملنے والے زائد حصہ کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20693
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20693، ترقيم محمد عوامة 19885)
حدیث نمبر: 20694
٢٠٦٩٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر عن مسروق أنه كره (الجعائل) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ نے جعائل کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20694
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20694، ترقيم محمد عوامة 19886)
حدیث نمبر: 20695
٢٠٦٩٥ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى (عن موسى) (١) بن عبيدة قال: كان النعمان بن أبي عياش وابن (قسيط) (٢) و (عمرو) (٣) بن علقمة يأخذون الجعائل ويخرجون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن ابی عیاش رحمہ اللہ ، ابن لقیط رحمہ اللہ اور حضرت عمرو بن علقمہ رحمہ اللہ مالِ غنیمت کے زائد حصے کو لیتے تھے اور جہاد کے لیے نکلتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20695
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20695، ترقيم محمد عوامة 19887)
حدیث نمبر: 20696
٢٠٦٩٦ - حدثنا وكيع عن شريك عن منصور عن إبراهيم قال: كان عبد الرحمن بن يزيد يؤالف الرجل ثم يغزو عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید رحمہ اللہ کسی آدمی سے دوستی لگاتے تھے اور پھر ا س کے حصے کا جہاد کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20696
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20696، ترقيم محمد عوامة 19888)
حدیث نمبر: 20697
٢٠٦٩٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما من أيام العمل الصالح فيها أحبُّ إلى اللَّه من هذه الأيام"، يعني أيام العشر قالوا: يا رسول اللَّه ولا الجهاد في سبيل اللَّه؟ قال: "ولا الجهاد في سبيل اللَّه، إلا رجل خرج بنفسه، وماله فلم يرجع (من) (١) ذلك بشيء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عمل صالح کے لیے اللہ تعالیٰ کو ذوالحجہ کے دس دن سے زیادہ محبوب دن اور کوئی نہیں۔ لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کیا یہ دن اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے بھی زیادہ افضل ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ دن اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے بھی زیادہ افضل ہیں۔ البتہ اگر کوئی آدمی اللہ کے راستے میں اپنی جان اور اپنا مال لے کر جائے اور کچھ بھی واپس نہ لائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20697
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٩٦٩)، وأحمد (١٩٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20697، ترقيم محمد عوامة 19889)
حدیث نمبر: 20698
٢٠٦٩٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن محمد بن أبي يعقوب قال: أخبرني من سمع بريدة الأسلمي من وراء نهر (بلخ) (١) وهو يقول: لا عيش إلا ⦗١٢٢⦘ (لمعان) (٢) الخيل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ اسلمی رحمہ اللہ نے دریائے بلخ کے کنارے کھڑے ہو کر فرمایا کہ زندگی تو بس گھوڑوں کی چمک کے ساتھ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20698
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20698، ترقيم محمد عوامة 19890)
حدیث نمبر: 20699
٢٠٦٩٩ - حدثنا أبو أسامة عن زائدة عن الأعمش عن أبي عمرو الشيباني عن أبي مسعود عقبة بن عمرو قال: جاء (رجل إلى) (١) النبي ﷺ بناقة مخطومة فقال: يا رسول اللَّه هذه في سبيل اللَّه، فقال له رسول اللَّه ﷺ: "لك بها يوم القيامة سبع مائة (ناقة) (٢) كلها مخطومة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی ایک لگام والی اونٹنی لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یہ اونٹنی میں اللہ کے راستے میں وقف کرتا ہوں۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن تجھے اس کے بدلے سات سو اونٹنیاں ملیں گی، وہ سب کی سب بالگام اونٹنیاں ہوں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20699
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٩٢)، وأحمد (١٧٠٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20699، ترقيم محمد عوامة 19891)
حدیث نمبر: 20700
٢٠٧٠٠ - حدثنا عفان نا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس عن أبي طلحة قال: رفعت رأسي يوم أحد فجعلت أنظر، فما أرى أحدا من القوم إلا يميد تحت (حجفته) (١) من النعاس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے غزوہ احد میں اپنا سر اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ ہر شخص نیند کا شکار ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20700
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٠٦٨)، ومسلم (١٨١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20700، ترقيم محمد عوامة 19892)
حدیث نمبر: 20701
٢٠٧٠١ - حدثنا عفان نا حماد ((بن) (١) سلمة) (٢) (٣) عن هشام عن أبيه ⦗١٢٣⦘ عن الزبير مثله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20701
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الترمذي (٣٠٠٧)، وابن جرير في التفسير ٤/ ١٤، والبزار (٩٨٣)، والضياء في المختارة ٣/ (٨٦٧)، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ٢٧٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20701، ترقيم محمد عوامة 19893)
حدیث نمبر: 20702
٢٠٧٠٢ - حدثنا يزيد بن هارون أنا هشام عن الحسن قال: حدثني صعصعة (ابن) (١) معاوية قال: لقيت أبا ذر فقلت: حدثني حديثا سمعته من رسول اللَّه ﷺ، (فقال: سمعت رسول اللَّه ﷺ) (٢) يقول: "ما من مسلم أنفق (من) (٣) ماله زوجين في سبيل (اللَّه) (٤) إلا ابتدرته (حجبة) (٥) الجنة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صعصعہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب کوئی مسلمان اللہ کے راستے میں اپنے مال کے دو حصے خرچ کرتا ہے تو جنت کے فرشتے اسے اپنی طرف بلاتے ہیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ زوجین کا معنی بیان فرماتے کہ اس سے مراد یا تو دو دینار یا دو درہم یا دو غلام یا کوئی سی دو چیزیں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20702
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢١٤٥٣)، والنسائي ٤/ ٢٤، وابن حبان (٤٦٤٢)، والحاكم ٢/ ٦٨، والبخاري في الأدب المفرد (١٥٠)، وأبو عوانة (٧٤٨٣)، والدارمي (٢٤٠٣)، والبزار (٣٩٠٩)، والطبراني (١٦٤٥)، والبيهقي ٩/ ١٧١، والمزي ١٣/ ١٧٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20702، ترقيم محمد عوامة 19894)
حدیث نمبر: 20703
٢٠٧٠٣ - وكان (الحسن) (١) يقول: زوجين من ماله: (دينارين ودرهمين وعبدين (أو) (٢) اثنين) (٣) من كل شيء.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20703
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20703، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 20704
٢٠٧٠٤ - حدثنا حسين بن علي عن جعفر بن برقان عن ميمون بن (مهران) (١) ⦗١٢٤⦘ قال: كان أبو بكر إذا أراد أن يبعث بعثًا (ندب) (٢) الناس فإذا كمل له (من) (٣) العدة ما يريد جهزهم بما كان عنده، ولم تكن الأعطية فرضت على عهد أبي بكر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب کوئی لشکر بھیجنے کا ارادہ کرتے تو لوگوں کو اس کے لیے جمع فرماتے ، جب مطلوبہ مقدار پوری ہوجاتی تو اپنے پاس موجود چیزوں سے انہیں سامان جہاد فراہم کرتے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں ” اعطیہ “ فرض نہ تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20704
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20704، ترقيم محمد عوامة 19895)
حدیث نمبر: 20705
٢٠٧٠٥ - حدثنا عبيد اللَّه نا إسرائيل عن أبي إسحاق عن سعد بن عياض (قال) (١): كان رسول اللَّه ﷺ قليل الكلام قليل الحديث، فلما أمر بالقتال شمّر فكان من أشد الناس بأسًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن عیاض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ زیادہ تر خاموش رہتے اور بہت کم بات فرماتے تھے۔ جب قتال کا حکم ہوتا تو اس کے لیے مستعد ہوجاتے اور سب لوگوں سے زیادہ بہادری کا مظاہرہ فرماتے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20705
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20705، ترقيم محمد عوامة 19896)
حدیث نمبر: 20706
٢٠٧٠٦ - حدثنا عبدة عن إسماعيل بن رافع عن زيد بن (أسلم) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اغزوا (تصِحُّوا) (٢) وتغنموا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جہاد کرو تندرست رہو گے اور مال غنیمت حاصل کرو گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20706
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ زيد ليس صحابيًا، وإسماعيل بن رافع ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20706، ترقيم محمد عوامة 19897)
حدیث نمبر: 20707
٢٠٧٠٧ - حدثنا يزيد بن هارون أنا هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلام عن عبد اللَّه بن الأزرق عن عقبة بن عامر عن النبي ﷺ قال: "إن اللَّه ليدخل بالسهم الواحد ثلاثة الجنة: صانعه يحتسب في صنعته الخير، والرامي به و (الممد) (١) به"، وقال: "أرموا واركبوا، (وإن ترموا) (٢) أحب إليّ من أن ⦗١٢٥⦘ تركبوا، وكل ما يلهو به المرء المسلم (باطل) (٣) إلا رميه بقوسه، وتأديبه فرسه، وملاعبته أهله، فإنهن من الحق" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا ، اس کے بنانے والے کو جو اس کی بناوٹ میں خیر کی نیت رکھے، اس کے چلانے والے کو اور اس کے سیدھا کرنے والے کو۔ تیر چلاؤ اور جانور کی سواری کرو۔ میرے نزدیک تمہارا تیر اندازی کرنا سواری کرنے سے بہتر ہے۔ ہر کھیل مسلمان کے لیے مناسب ہے، البتہ کمان سے تیر چلانا، گھوڑے کو سدھانا اور بیوی سے دل لگی کرنا حق کے کھیل ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20707
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20707، ترقيم محمد عوامة 19898)
حدیث نمبر: 20708
٢٠٧٠٨ - حدثنا زيد بن الحباب نا عبد الرحمن بن شريح عن محمد بن (سمير) (١) الرعيني أنه سمع أبا علي (التجيبي) (٢) أنه سمع أبا ريحانة يقول: غزونا مع رسول اللَّه ﷺ فأصابنا برد ليلة فلقد رأيت الرجل يحفر الحفرة ثم يدخل فيها ويضع ترسه عليه فقال رسول اللَّه ﷺ (٣): "من يحرسنا الليلة؟ " فقال رجل من الأنصار: أنا، فقال: " (مِمَّنْ) (٤) أنت؟ " فانتسب له فدعا له بخير ثم قال: "من يحرسنا الليلة" فقلت: أنا، فقال: " (من) (٥) أنت؟ " فقلت: أبو ريحانة، فدعا (لي بدون (ما دعا)) (٦) (٧) للأنصاري، ثم قال: "حُرِّمَتْ النار على ثلاثة أعين: عين ⦗١٢٦⦘ (سهرت) (٨) في سبيل اللَّه، وعين بكت أو دمعت من خشية اللَّه"، وسكت محمد بن سمير عن (الثالثة) (٩)، (لم) (١٠) يذكرها (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ریحانہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور ﷺ کے ساتھ ایک جہاد پر نکلے۔ ایک رات بہت شدید سردی تھی سردی کی وجہ سے لوگوں کا یہ حال تھا کہ گڑھا کھود کر اس میں داخل ہوتے اور اس پر اپنی زین ڈال دیتے۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا ؟ ایک انصاری آدمی نے کہا کہ میں پہرہ دوں گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم کون ہو ؟ اس پر اس نے اپنا نسب نامہ بیان کیا تو حضور ﷺ نے اسے خیر کی دعا دی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا ؟ میں نے کہا میں پہرہ دوں گا۔ حضور ﷺ نے پوچھا تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں ابو ریحانہ ہوں۔ حضور ﷺ نے میرے لیے ان انصاری صحابی کے علاوہ کوئی دعا فرمائی پھر فرمایا کہ تین آنکھیں ایسی ہیں جن پر جہنم کی آگ حرام ہے، ایک وہ آنکھ جو اللہ کے راستے میں بیدار رہی اور دوسری وہ آنکھ جس نے اللہ کے خوف سے آنسو بہایا۔ راوی محمد بن سمیر نے تیسری آنکھ کا ذکر نہیں کیا۔ (شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ تیسری آنکھ وہ ہے جو غیر محرم کو دیکھنے سے جھک گئی) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20708
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20708، ترقيم محمد عوامة 19899)
حدیث نمبر: 20709
٢٠٧٠٩ - حدثنا وكيع نا الأعمش عن سليمان بن ميسرة والمغيرة بن (شبل) (١) (عن) (٢) طارق بن شهاب قال: كان (سلمان) (٣) إذا قدم من الغزو (نزل) (٤) القادسية وإذا قدم (من) (٥) الحج نزل المدائن (غازيًا) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ جب جہاد سے واپس آتے تو قادسیہ ٹھہرتے اور جب حج سے واپس ہوتے تو جہاد کے لیے مدائن میں قیام فرماتے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20709
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20709، ترقيم محمد عوامة 19900)
حدیث نمبر: 20710
٢٠٧١٠ - حدثنا معاوية بن عمرو نا زائدة عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة أن النبي ﷺ قال: "من كُلِمَ في سبيل اللَّه -واللَّه أعلم بمن كلم في سبيله- يجيء يوم القيامة (و) (١) جرحه كهيئته يوم جرح" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اللہ کے راستے میں زخم لگا (اللہ ہر اس شخص کو جانتا ہے جسے اللہ کے راستے میں زخم لگا) قیامت کے دن اس کا زخم اسی حالت میں ہوگا جس دن سے زخم لگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20710
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٨٠٣)، ومسلم (١٨٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20710، ترقيم محمد عوامة 19901)
حدیث نمبر: 20711
٢٠٧١١ - حدثنا يونس بن محمد نا ليث بن سعد عن يزيد بن عبد اللَّه بن أسامة عن الوليد بن أبي الوليد عن عثمان بن عبد اللَّه بن سراقة عن عمر بن الخطاب قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ (يقول) (١): "من أظل رأس غاز أظله اللَّه يوم القيامة، ومن جهز (غازيًا) (٢) حتى يستقل كان له مثل أجره حتى يموت أو يرجع، ومن بنى مسجدًا يذكر فيه اسم اللَّه بنى اللَّه (له) (٣) بيتًا في الجنة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے مجاہد کے سر پر سایہ کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سایہ نصیب فرمائیں گے جس شخص نے مجاہد کو جہاد کی تیاری کرائی اس کے لیے مجاہد کی شہادت یا واپس آنے تک اس کے برابر اجر ہے، جس شخص نے کوئی ایسی مسجد بنائی جس میں اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20711
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ متصل على الأرجح، أخرجه أحمد (١٢٦)، وابن ماجة (٢٧٥٨)، وابن حبان (٤٦٢٨)، والحاكم ٢/ ٨٩، وأبو يعلى (٢٥٣)، والبزار (٣٠٤)، والضياء في المختارة ١/ (٢٤٤)، والبيهقي ٩/ ١٧٢، والمزي ١٩/ ٤١٦، والخطيب في الموضح ١/ ١٧٥، وابن أبي عاصم في الجهاد (٩٢)، والفاكهي (١٩٤٣)، والبيهقي في الشعب (٤٢٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20711، ترقيم محمد عوامة 19902)
حدیث نمبر: 20712
٢٠٧١٢ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) نا زهير بن محمد عن عبد اللَّه (بن محمد ابن عبد اللَّه) (٢) بن سهل بن حنيف أن سهلا (حدثه) (٣) أن النبي ﷺ قال: "من أعان مجاهدا في سبيل اللَّه أو (غارمًا) (٤) في عسرته أو مكاتبًا في رقبته (أظله) (٥) اللَّه يوم لا ظل إلا ظله" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سھل بن حنیف سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اللہ کے راستے میں مجاہد کی مدد کی، یا مشکل کے وقت میں کسی مقروض کی مدد کی یا مکاتب غلام کی اس کی آزاری کے لیے مد د کی تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن سایہ عطا فرمائیں گے جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20712
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20712، ترقيم محمد عوامة 19903)
حدیث نمبر: 20713
٢٠٧١٣ - حدثنا وكيع نا ابن أبي ليلى عن عطاء عن زيد بن (خالد) (١) الجهني قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من فطَّر صائمًا أو جهَّزَ غازيًا أو حاجًّا (أو) (٢) خلفه في أهله كان له مثل أجورهم من غير أن (ينتقص) (٣) من أجورهم (شيئًا) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس آدمی نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا یا کسی مجاہد کو تیار کرایا یا کسی حاجی کا انتظام کیا یا ان کے جانے کے بعد ان کے گھر والوں کا خیال رکھا تو اس کے لیے ان کے اجر کے برابر اجر ہوگا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہ کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20713
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20713، ترقيم محمد عوامة 19904)
حدیث نمبر: 20714
٢٠٧١٤ - حدثنا يزيد بن هارون أنا هشام (الدستوائي) (١) عن يحيى بن أبي كثير عن عامر العقيلي عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: (عُرض عليَّ (أول) (٢) ثلاثة يدخلون الجنة من أمتي: الشهيد وعبد مملوك لم (يشغله) (٣) (رق) (٤) الدنيا عن طاعة ربه وفقير متعفف ذو عيال" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے ان تین لوگوں کے بارے میں بتایا گیا جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، ایک شہید، دوسرا وہ غلام جو اپنے آقا کی خدمت کے باوجود اپنی رب کی اطاعت میں کوتاہی نہ کرے اور تیسرا وہ نادار جو اہل و عیال والا ہو لیکن کسی سے سوال نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20714
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20714، ترقيم محمد عوامة 19905)