کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
حدیث نمبر: 20650
٢٠٦٥٠ - فقال موسى: سمعت (أشياخنا) (١) يقولون: (زوجين) (٢): (دينار ⦗١٠١⦘ ودرهم) (٣) أو درهم ودينار.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20650
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20650، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 20651
٢٠٦٥١ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) (أخبرني) (٢) موسى بن عبيدة قال: أخبرني عبد اللَّه أخي عن (شيبة) (٣) المهري (ومدرك) (٤) قالا: لا يجتمع غبار في سبيل اللَّه ودخان جهنم في صدر مؤمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو شیبہ مہری اور حضرت مدرک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک مومن کے پیٹ میں جمع نہیں ہوسکتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20651
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20651، ترقيم محمد عوامة 19846)
حدیث نمبر: 20652
٢٠٦٥٢ - حدثنا يزيد بن هارون (أنا) (١) العوام عن إبراهيم التيمي قال: أرواح الشهداء في طير خضر تسرح (في) (٢) الجنة وتأوي إلى قناديل معلقة (بالعرش) (٣) فيطلع إليهم ربك فيقول: سلوني -ثلاثًا يقولها- فيقولون: ربنا نسألك أن تردنا إلى الدنيا فنقتل في سبيلك قتلة أخرى.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شہداء کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کی شکل میں جہنم کی سیر کرتی ہیں۔ وہ عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں کی طرف جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے تین مرتبہ فرماتا ہے کہ تم مجھ سے جو چاہتے ہو مانگو۔ وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ ہم تیرے راستے میں ایک مرتبہ اور لڑائی کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20652
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20652، ترقيم محمد عوامة 19847)
حدیث نمبر: 20653
٢٠٦٥٣ - حدثنا يزيد بن هارون أنا محمد بن إسحاق عن عاصم بن (عمر) (١) ابن قتادة قال: قال (معاذ) (٢) بن (عفراء) (٣): يا رسول اللَّه ما يضحك الرب من ⦗١٠٢⦘ عبده؟ قال: " (غمسُهُ) (٤) يده في العدو (حاسرًا) (٥) "، قال: (فألقى) (٦) درعًا كانت عليه فقاتل حتى قتل (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن عفرائ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی کس بات پر مسکراتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی مجاید بغیر مسلح حالت میں دشمن پر چڑھائی کرتا ہے۔ اس پر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ پھینک دی اور دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20653
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عاصم بن عمر ليس صحابيًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20653، ترقيم محمد عوامة 19848)
حدیث نمبر: 20654
٢٠٦٥٤ - حدثنا يزيد بن هارون أنا (حريز) (١) بن عثمان عن (نمران) (٢) بن (مخمر) (٣) (الرحبي) (٤) قال: كان (أبو) (٥) عبيدة بن الجراح يسير بالجيش وهو يقول: ألا رب مبيض لثيابه مدنس (لدينه) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
نمران بن مخمر رحبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہایک لشکر کے ساتھ جا رہے تھے اور ساتھ ساتھ یہ فرما رہے تھے۔ بہت سے کپڑوں کو صاف رکھنے والے ایسے ہیں جو دین کو میلا کر رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20654
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20654، ترقيم محمد عوامة 19849)
حدیث نمبر: 20655
٢٠٦٥٥ - حدثنا يزيد بن هارون أنا (جرير) (١) بن حازم عن بشار بن أبي سيف عن الوليد بن عبد الرحمن عن عياض بن (غطيف) (٢) عن أبي عبيدة قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من أنفق نفقة فاضلة في سبيل اللَّه ⦗١٠٣⦘ فسبعمائة ضعف" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اللہ کے راستے میں اپنے زائد مال میں سے ایک روپیہ خرچ کیا اسے سات سو گنا اجر دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20655
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20655، ترقيم محمد عوامة 19850)
حدیث نمبر: 20656
٢٠٦٥٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير (نا) (١) ثابت بن (يزيد) (٢) عن عمرو بن ميمون قال: (قال) (٣) عمر: حجة هاهنا -ثم يشير بيده إلى مكة- ثم أخرج في سبيل اللَّه تعالى (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں یہاں حج کروں گا پھر اللہ کے راستے میں نکل جاؤں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20656
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ثابت بن يزيد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20656، ترقيم محمد عوامة 19851)
حدیث نمبر: 20657
٢٠٦٥٧ - حدثنا (هوذة) (١) بن خليفة نا عوف عن (حسناء) (٢) (ابنة) (٣) معاوية قالت: حدثني عمي قال: قلت: يا رسول اللَّه، من في الجنة؟ قال: "النبي في الجنة، والشهيد في الجنة، (والموؤودة) (٤) في الجنة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خنساء بنت معاویہ رضی اللہ عنہ ما فرماتی ہیں کہ مجھ سے میرے چچا (اسلم بن سلیم رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! جنت میں کون جائے گا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا نبی جنت میں جائیں گے، شہید جنت میں جائے گا اور زندہ درگور کی ہوئی لڑکی جنت میں جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20657
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20657، ترقيم محمد عوامة 19852)
حدیث نمبر: 20658
٢٠٦٥٨ - حدثنا وكيع عن موسى قال: سمعت موسى بن طلحة يقول: جرح طلحة مع رسول اللَّه ﷺ (بضعًا) (١) (و) (٢) عشرين جرحًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو بیس سے زیادہ زخم آئے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20658
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل مجهول؛ موسى تابعي، وموسى الآخر هو: ابن عبد اللَّه بن إسحاق مجهول.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20658، ترقيم محمد عوامة 19853)
حدیث نمبر: 20659
٢٠٦٥٩ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "من خرج في سبيل اللَّه ابتغاء وجه اللَّه و (تنجيزًا) (١) (لموعود) (٢) اللَّه، فهو مثل الصائم القائم، حتى يرجع إلى أهله أو من حيث خرج" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کی رضا کو چاہتے ہوئے اللہ کے وعدے کے حصول کے لئے اللہ کے راستے میں نکلے، وہ اس روزہ دار، شب زندہ دار کی طرح ہے جو مجاہد کے نکلنے سے واپس آنے تک روزے میں مصروف رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20659
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٠٠٠٠)، وأصله عند البخاري (٢٧٨٧)، ومسلم (١٨٧٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20659، ترقيم محمد عوامة 19854)
حدیث نمبر: 20660
٢٠٦٦٠ - حدثنا خالد بن مخلد عن عبد الرحمن بن عبد العزيز نا الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليس جريح (يجرح) (١) في (٢) اللَّه إلا جاء (جرحه) (٣) يوم القيامة يدمي: لونه لون الدم، وريحه ريح المسك، قدموا أكثر القوم قرآنا (فاجعلوه) (٤) في (اللحد) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اللہ کے راستے میں زخم لگا، وہ جب قیامت کے دن آئے گا تو اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا۔ خون کا رنگ تو سرخ ہوگا لیکن اس کی خوشبو مشک جیسی ہوگی۔ جو قرآن زیادہ جانتا ہو اسے آگے کرو اور اسے لحد میں اتارو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20660
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ خالد وعبد الرحمن صدوقان، أخرجه الطبراني ١٩/ (١٦٧)، والبيهقي ٤/ ١١، وابن عدي ٤/ ٢٨٧، وابن سعد ٣/ ١٣، والطبراني في الدعاء (١٩٧٣)، وانظر: العلل لابن أبي حاتم ١/ ٣٥٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20660، ترقيم محمد عوامة 19855)
حدیث نمبر: 20661
٢٠٦٦١ - حدثنا يعلى بن عبيد (نا) (١) أبو (حيان) (٢) عن شيخ من أهل المدينة قال: كان بيني وبين كاتب عبيد اللَّه بن زياد صداقة معروفة فطلبت إليه أن (ينسخ) (٣) لي رسالة عبد اللَّه بن أبي أوفى إلى عبيد اللَّه فنسخها (لي) (٤) فكان فيها (أن) (٥) عبد اللَّه ابن أبي أوفى روى عن رسول اللَّه ﷺ أنه قال: "لا تسألوا لقاء العدو، فإذا لقيتموهم فاصبروا، واعلموا أن الجنة تحت ظلال السيوف". وكان ينتظر فإذا (زالت) (٦) الشمس (غدا) (٧) إلى عدوه و (هو) (٨) يقول: "اللهم مُنْزِّل الكلتاب ومجري السحاب (و) (٩) هازم الأحزاب اللهم اهزمهم وانصرنا عليهم" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
مدینہ منورہ کے ایک شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے اور عبید اللہ بن زیاد رضی اللہ عنہ کے ایک کاتب کے درمیان گہری دوستی تھی۔ میں نے اس سے کہا مجھے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے عبید اللہ بن زیاد کی طرف لکھے گئے ایک خط کا نسخہ بنا دے۔ اس نے مجھے اس کا نسخہ بنا کردیا تو اس میں تھا : حضرت عبد اللہ ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دشمن سے نبرد آزما ہونے کی دعا نہ مانگو، جب دشمن سے سامنا ہوجائے تو ثابت قدم رہو۔ یاد رکھو جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ حضور ﷺ کا معمول یہ تھا کہ زوال کے وقت تک انتظار فرماتے جب سورج زائل ہوجاتا تو دشمن پر حملہ کرتے اور فرماتے : : اے اللہ ! تو کتاب کو نازل کرنے والا ہے۔ تو بادلوں کو برسانے والا ہے، تو لشکروں کو شکست دینے والا ہے، انہیں شکست دے دے اور ہماری مدد فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20661
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20661، ترقيم محمد عوامة 19856)
حدیث نمبر: 20662
٢٠٦٦٢ - حدثنا إسحاق بن منصور (نا) (١) (هريم) (٢) عن ليث عن يحيى ابن عباد قال: فضل الغازي في البحر على الغازي في البر كفضل الغازي في ⦗١٠٦⦘ البر على (القاعد) (٣) في بيته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سمندر میں جہاد کرنے والے کی خشکی میں جہاد کرنے والے پر اتنی فضیلت ہے جتنی خشکی میں جہاد کرنے والے کی گھر میں بیٹھنے والے پر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20662
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20662، ترقيم محمد عوامة 19857)
حدیث نمبر: 20663
٢٠٦٦٣ - حدثنا شبابة (نا) (١) (ليث) (٢) بن سعد عن (يزيد) (٣) بن (أبي) (٤) حبيب عن أبي الخير عن أبي الخطاب عن أبي سعيد الخدري أنه قال: إن النبي ﷺ خطب الناس عام تبوك وهو مسند (ظهره) (٥) إلى نخلة فقال: "ألا (أخبركم) (٦) (بخير) (٧) الناس وشر الناس؟ إن من خير الناس (رجلًا) (٨) (يحمل) (٩) في سبيل اللَّه على ظهر (فرسه) (١٠) أو (١١) ظهر بعيره أو على قدمه حتى يأتيه الموت (١٢) وإن من شر الناس (رجلًا) (١٣) (فاجرًا) (١٤) (جريئًا) (١٥) يقرأ كتاب اللَّه لا ⦗١٠٧⦘ يرعوي إلى (شيءٍ) (١٦) منه" (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال حضور ﷺ نے کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں بہترین اور بدترین آدمی کے بارے میں بتاتا ہوں۔ بہترین آدمی وہ ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے یا اونٹ پر سوار ہو یا پیدل ہو اور اسے موت آجائے۔ بدترین آدمی وہ، جو فاجر اور بےحیا آدمی ہے جو اللہ کی کتاب پڑھتا تو ہے لیکن اس کے مضامین پر کان نہیں دھرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20663
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20663، ترقيم محمد عوامة 19858)
حدیث نمبر: 20664
٢٠٦٦٤ - حدثنا حسين بن علي عن ابن (عيينة) (١) عن علي بن زيد بن جدعان قال: قال أبو طلحة: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: ٤١]، قال: كهولًا و (شبابًا) (٢) قال: ما أرى اللَّه (عذر) (٣) (أحدًا) (٤)، فخرج إلى الشام فجاهد (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی آیت (انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاً ) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس میں جوانوں اور بوڑھوں ہر دو کو حکم ہے۔ پھر فرمایا کہ میرے خیال میں اس آیت نے کسی کے لیے کسی عذر کو نہیں چھوڑا، پھر وہ شام چلے گئے اور جہاد کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20664
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ علي بن زيد ضعيف، وهو لم يدرك أبا طلحة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20664، ترقيم محمد عوامة 19859)
حدیث نمبر: 20665
٢٠٦٦٥ - حدثنا يزيد بن هارون أنا (ابن) (١) عون عن ابن سيرين عن أبي (العجفاء) (٢) السلمي قال: قال عمر بن الخطاب: قال محمد ﷺ: "من قتل في سبيل اللَّه أو مات فهو في الجنة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں قتل کردیا گیا یا مرگیا تو وہ جنت میں جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20665
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو العجاء صدوق، أخرجه أحمد (٢٨٥)، والنسائي ٦/ ١١٧، وفي الكبرى (٥٥١١)، وابن حبان (٤٦٢٠)، والحاكم ٢/ ١٧٥، والبيهقي ٣/ ٣١٤، وسعيد بن منصور ١/ (٢٥٤٧)، وعبد الرزاق (١٠٣٩٩)، وابن عبد البر في التمهيد ١٨/ ٣٤٥، وابن أبي خيثمة في أخبار المكيين ١/ ٤٠٦ (٤٣٣)، والطحاوي في شرح المشكل (٥١٠٢)، والحميدي (٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20665، ترقيم محمد عوامة 19860)
حدیث نمبر: 20666
٢٠٦٦٦ - حدثنا محمد بن بشر نا عبد العزيز بن عمر حدثني يزيد (بن يزيد) (١) (ابن) (٢) جابر عن مكحول عن بعض أصحاب النبي ﷺ أن الدعاء كان يستحب عند نزول القطر وإقامة الصلاة والتقاء (الصفين) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین مواقع ہیں جب دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ بارش کے وقت B نماز کی اقامت کے وقت C جنگ میں صفوں میں کھڑا ہونے کے وقت۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20666
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد العزيز صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20666، ترقيم محمد عوامة 19861)
حدیث نمبر: 20667
٢٠٦٦٧ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) عن صدقة بن المثنى قال: سمعت جدي (رياح) (٢) (بن الحارث) (٣) يذكر عن سعيد (بن زيد) (٤) بن عمرو بن نفيل يقول: واللَّه لمشهد (يشهده) (٥) الرجل منهم يومًا واحدًا في سبيل اللَّه مع رسول اللَّه ﷺ (٦) (أغبر) (٧) فيه وجهه، أفضل من عمل أحدكم ولو عمَّر عُمر نوح (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کی معیت میں اللہ کے راستے میں جہاد کی غرض سے ایک ایسا دن گذارنا جس میں چہرہ غبار آلود ہوجائے یہ عمر نوح ملنے پر ساری عمر عبادت کرنے سے افضل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20667
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20667، ترقيم محمد عوامة 19862)
حدیث نمبر: 20668
٢٠٦٦٨ - حدثنا خالد بن مخلد نا (إسماعيل بن) (١) جعفر بن أبي كثير حدثني العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يجتمع كافر وقاتله من المسلمين في النار" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جہنم میں کافر اور اس کا مسلمان قاتل جمع نہیں ہوسکتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20668
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ خالد والعلاء صدوقان، أخرجه أحمد (٨٨١٦)، ومسلم (١٨٩١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20668، ترقيم محمد عوامة 19863)
حدیث نمبر: 20669
٢٠٦٦٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن واصل بن السائب الرقاشي قال: سألني عطاء بن أبي (رباح) (١) (أي) (٢) دابة عليك مكتوبة؟ قال فقلت: فرس. قال: تلك الغاية القصوى من (الأجر) (٣) ثم ذكر أن (رسول) (٤) اللَّه ﷺ (قال) (٥): "ألا أدلكم على أحب عباد اللَّه إلى اللَّه بعد النّبيين والصديقين والشهداء قال: عبد مؤمن معتقل رمحه على فرسه يميل به النعاس (يمينًا وشمالًا) (٦) في سبيل اللَّه، يستغفر الرحمن ويلعن الشيطان قال: و (تُفْتَحُ) (٧) أبواب السماء فيقول اللَّه (لملائكته) (٨) انظروا إلى عبدي قال: فيستغفرون له قال: ثم قرأ: ﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ) (٩) بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [التوبة: ١١١] " إلى آخر الآية (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت واصل بن سائب رقاشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء بن رباح رحمہ اللہ نے مجھ سے سوال کیا کہ کون سی سواری ایسی ہے جس کو رکھنا فرض ہے ؟ میں نے عرض کیا : گھوڑا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ تو انتہائی اجر کی چیز ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے بندوں میں اللہ کے نزدیک انبیائ، صدیقین اور شہداء کے بعد سب سے زیادہ اجر کس کا ہے ؟ وہ مومن بندہ جو اللہ کے راستے میں گھوڑے پر سوار اپنے نیزے سے ٹیک لگائے بیٹھا ہے اور نیند کی وجہ سے کبھی دائیں ڈولتا ہے کبھی بائیں۔ وہ رحمن سے مغفرت طلب کرتا ہے اور شیطان پر لعنت کرتا ہے۔ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ میرے بندے کو دیکھو، فرشتے بھی اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی : : اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو اس بات پر خرید لیا ہے کہ ان کے لیے جنت ہے وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں۔ (التوبہ : ١١١)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20669
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ عطاء تابعي، وواصل ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20669، ترقيم محمد عوامة 19864)
حدیث نمبر: 20670
٢٠٦٧٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث بن سوار عن محمد بن سيرين عن أبي (عبيدة) (١) بن حذيفة قال: كان حذيفة بن اليمان وعبد اللَّه بن ⦗١١٠⦘ مسعود و (أبو) (٢) مسعود الأنصاري وأبو موسى (الأشعري) (٣) في المسجد فجاء رجل فقال: يا عبد اللَّه بن قيس! فسماه باسمه (فقال: أرأيت إن أنا أخذت سيفي فجاهدت به) (٤) أريد وجه اللَّه (تعالى) (٥) (فقتلت) (٦) وأنا على ذلك، (أين) (٧) أنا؟ قال: في الجنة قال حذيفة عند ذلك: استفهم (الرجل) (٨) وأفهمه، فليدخلن النار كذا وكذا يصنع ما قال هذا؟ فقال حذيفة: إن أخذت سيفك فجاهدت به (فأصبت) (٩) الحق (فقتلت) (١٠) وأنت على ذلك فأنت في الجنة ومن أخطأ الحق فقتل وهو على ذلك فلم يوفقه اللَّه ولم يسدده دخل (النار) (١١) قال القوم: (صدقت) (١٢) (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان رضی اللہ عنہ ، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ اور حضرت ا بو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مسجد میں تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : اے عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ ! اگر میں اپنی تلوار پکڑ کر اللہ کی رضا کے جذبے پر قائم رہتے ہوئے جہاد کروں اور اسی جذبہ پر قتل کردیا جاؤں تو میں کہاں جاؤں گا ؟ انہوں نے فرمایا : جنت میں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر فرمایا کہ اس شخص کی بات کو سمجھو اور اسے ٹھیک بات سمجھاؤ، کیونکہ بات کو غلط سمجھنے کی وجہ سے یہ جہنم میں بھی جاسکتا ہے۔ پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم نے حق کو درست طریقے سے سمجھا پھر اپنی تلوار لے کر اللہ کے راستے میں شہید ہوگئے تو جنت میں جاؤ گے لیکن اگر کوئی شخص حق کو سمجھنے میں غلطی کرے اور اس کو راہ حق کی ہدایت نہ ملے، اس پر وہ قتل ہوجائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔ اس پر سب لوگوں نے کہا کہ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20670
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أشعث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20670، ترقيم محمد عوامة 19865)
حدیث نمبر: 20671
٢٠٦٧١ - حدثنا عبد الرحيم عن أشعث عن ابن سيرين قال: كانوا يقولون: القتال في سبيل اللَّه خير من الجلوس، والجلوس خير من القتال على الضلال، ومن ⦗١١١⦘ (رابه) (١) شيء (فليتعده) (٢) إلى ما لا يريبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسلاف کہا کرتے تھے کہ اللہ کے راستے میں قتال کرنا گھر بیٹھنے سے بہتر ہے اور گھر بیٹھنا گمراہی کے راستے میں قتال کرنے سے بہتر ہے۔ جس آدمی کو کسی چیز میں شک ہو تو وہ شک سے بالا تر ہو کر معاملہ کو اختیار کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20671
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20671، ترقيم محمد عوامة 19866)
حدیث نمبر: 20672
٢٠٦٧٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن أبي إسحاق عن البراء بن (عازب) (١) قال: لما (أنزلت) (٢) هذه الآية: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (٣) وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [النساء: ٩٥]، قال رسول اللَّه ﷺ: "ادع (لي) (٤) زيدًا (وليجيئْني) (٥) (باللوح) (٦) (والدواة) (٧) " أو قال: "بالكتف (والدواة) (٨) "، (فقال) (٩): أكتب: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾، فقال (عمرو) (١٠) بن أم (مكتوم) (١١) وكان ضرير البصر: (يا رسول) (١٢) اللَّه (فبم) (١٣) تأمرني فإني لا ⦗١١٢⦘ أستطيع الجهاد؟ فأنزل (اللَّه) (١٤) (مكانه) (١٥): ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ }، { وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللہِ } حضور ﷺ نے فرمایا : کہ زید رضی اللہ عنہ کو بلاؤ اور اسے کہو کہ تختی اور دوات بھی لے آئے۔ “ پھر فرمایا لکھو { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ } یہ آیت سن کر ایک نابینا صحابی حضرت عمرو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں جہاد کی طاقت نہیں رکھتا، آپ مجھے کس بات کا حکم دیتے ہیں ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے { غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ } کو نازل فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20672
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ صرح أبو إسحاق بالتحديث عند الشيخين، أخرجه البخاري (٢٨٣١)، ومسلم (١٨٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20672، ترقيم محمد عوامة 19867)
حدیث نمبر: 20673
٢٠٦٧٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مجالد عن الشعبي عن مسروق قال: إن (الشهداء) (١) ذكروا عند عمر بن الخطاب قال: فقال عمر للقوم: ما ترون الشهداء؟ قال القوم: يا أمير المؤمنين! هم (من) (٢) يقتل في هذه (المغازي) (٣) قال: فقال (عمر) (٤) عند ذلك: إن شهداءكم (إذن) (٥) (لكثير) (٦)، إني أخبركم عن ذلك أن الشجاعة (والجبن) (٧) غرائز في الناس، يضعها اللَّه حيث يشاء، فالشجاع يقاتل من وراء من لا يبالي أن لا يؤوب إلى أهله، والجبان فار عن (حليلته) (٨)، ولكن الشهيد من احتسب بنفسه، والمهاجر من هجر ما نهى اللَّه عنه، والمسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ شہداء کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : کہ تم شہداء کن لوگوں کو سمجھتے ہو ؟ حاضرین نے کہا اے امیر المؤمنین ! جو جنگوں میں مارے جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس طرح تو تمہارے شہید اور بہت زیادہ ہوجائیں گے۔ میں تمہیں شہداء کے بارے میں بتاتا ہوں۔ بہادری اور بزدلی یہ لوگوں میں موجود خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ جس میں چاہتا ہے رکھتا ہے۔ بہادر آدمی اس بات کی پرواہ کیے بغیر قتال کرتا ہے کہ اس کے پیچھے والوں کا کیا ہوگا۔ بزدل اپنی موت سے بھاگتا ہے، شہید اپنی جان کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ مہاجر وہ ہے جو اللہ کے منع کردہ امور کو چھوڑ دے اور مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20673
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20673، ترقيم محمد عوامة 19868)
حدیث نمبر: 20674
٢٠٦٧٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه أن أول رجل سل سيفًا في سبيل اللَّه الزبيز (١) [(نفح) (٢) نفحة (من الشيطان) (٣)] (٤) (٥): أخذ رسول اللَّه (٦) فخرج الزبير يشق الناس بسيفه ورسول اللَّه ﷺ (٧) بأعلى (مكة) (٨) قال: فلقي النبي ﷺ فقال: "مالك يا زبير؟ " (قال) (٩): أخبرت أنك أخذت؟ قال: فصلى عليه ودعا له ولسيفه (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں سب سے پہلا تلوار چلانے والے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہیں، ایک مرتبہ یہ افواہ پھیلی کہ حضور ﷺ کو کافروں نے گرفتار کرلیا ہے، اس پر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تلوار پکڑ کر لوگوں میں سے گذرتے ہوئے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے بالائی حصہ میں تھے، ملاقات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پوچھا کہ اے زبیر ! کیا ہوا ؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ مجھے خبر ملی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کافروں نے پکڑ لیا ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے انہیں دعا دی اور ان کی تلوار کے لیے بھی دعا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20674
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20674، ترقيم محمد عوامة 19869)
حدیث نمبر: 20675
٢٠٦٧٥ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) نا شعبة عن أبي الفيض قال: سمعت سعيد بن جابر (الرعيني) (٢) عن أبيه يحسب (٣) (أن) (٤) أبا بكر شيع جيشًا فمشى معهم فقال: الحمد للَّه اغبرت أقدامنا في سبيله! قال: فقال رجل: إنما شيعناهم، فقال: إنما جهزناهم وشيعناهم و (دعونا لهم) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رعینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہایک لشکر کو رخصت کرتے ہوئے ان کے ساتھ چلے تو فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہمارے قدم اس کے راستے میں گرد آلود ہوگئے، ایک آدمی نے کہا کہ ہم تو محض ان کے پیچھے چلے ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے انہیں تیار کیا، ہم ان کے پیچھے چلے اور ہم نے ان کے لیے دعا کی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20675
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20675، ترقيم محمد عوامة 19870)
حدیث نمبر: 20676
٢٠٦٧٦ - حدثنا ابن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن (إسماعيل) (٢) بن أبي خالد عن قيس أو غيره (٣) قال: بعث أبو بكر جيشًا إلى الشام فخرج يشيعهم على رجليه فقالوا: يا خليفة رسول اللَّه، (أن) (٤) لو ركبت قال: (إني) (٥) احتسب (خطاي) (٦) في سبيل اللَّه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لشکر روانہ فرمایا اور آپ پیدل ان کے ساتھ چلے۔ لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! آپ سوار ہوجائیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اللہ کے راستے میں اپنے قدم چلانا چاہتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20676
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20676، ترقيم محمد عوامة 19871)
حدیث نمبر: 20677
٢٠٦٧٧ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن أبي إسحاق قال: (لما) (١) (أسلم) (٢) عكرمة بن أبي جهل (أتى) (٣) النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه! واللَّه لا أترك مقاما قمته (ليصد) (٤) (به) (٥) عن سبيل اللَّه إلا قمت مثليه في سبيل اللَّه، ولا أترك نفقة (أنفقتها ليصد) (٦) بها عن سبيل اللَّه (إلا أنفقت مثليها في سبيل اللَّه) (٧) ⦗١١٥⦘ فلما كان يوم اليرموك نزل (فترجل) (٨) فقاتل قتالًا شديدًا، فقتل (فوجد) (٩) به (بضع وسبعون) (١٠) من بين طعنة ورمية وضربة (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرلیا تو وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے اللہ کے راستے سے روکنے میں جتنی طاقت خرچ کی ہے میں اللہ کے راستے کی طرف لانے میں اس سے دوہری طاقت خرچ کروں گا اور میں نے اللہ کے راستے سے روکنے میں جتنا مال خرچ کیا ہے میں اللہ کے راستے میں اس سے دوگنا مال خرچ کروں گا۔ جنگ یرموک میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہاپنی سواری سے اترے اور پیدل لڑتے ہوئے زبردست لڑائی کی اور شہید ہوگئے۔ ا ن کے جسم پر نیزوں، تیروں اور تلواروں کے ستر سے زیادہ زخم تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20677
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو إسحاق لم يدرك ذلك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20677، ترقيم محمد عوامة 19872)
حدیث نمبر: 20678
٢٠٦٧٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نميرنا هشام بن سعد قال: حدثني قيس بن بشر (التغلبي) (١) قال: كان أبي (جليسًا) (٢) لأبي الدرداء بدمشق، وكان بدمشق رجل من أصحاب رسول اللَّه ﷺ يقال له ابن (الحنظلية) (٣) من الأنصار، وكان الرجل متوحدًا، (قل) (٤) ما يجالس الناس، إنما هو يصلي فإذا انصرف فإنما هو تسبيح وتهليل حتى يأتي أهله، (فمر بنا) (٥) ذات يوم ونحن (عند) (٦) أبي الدرداء فسلم فقال له أبو الدرداء: (كلمة) (٧) تنفعنا ولا تضرك! قال: قال رسول اللَّه ﷺ: ["المنفق على الخيل في سبيل اللَّه كباسط يديه بالصدقة لا يقبضها"، ثم مر بنا يومًا آخر، فسلم، فقال أبو الدرداء: كلمة تنفعنا ولا تضرك، قال: قال رسول اللَّه ﷺ] (٨): ⦗١١٦⦘ "إنكم قادمون على (إخوانكم) (٩)، (فأصلحوا) (١٠) (رحالكم) (١١) وأصلحوا لباسكم حتى تكونوا كأنكم شامة في الناس فإن اللَّه لا يحب الفُحش (ولا) (١٢) التفحش" (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن بشر تغلبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد دمشق میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھے تھے۔ دمشق میں ابن حنظلیہ رضی اللہ عنہ نام کے ایک گوشہ نشین انصاری صحابی بھی موجود تھے۔ وہ لوگوں سے بہت کم میل جول رکھتے تھے۔ وہ نماز سے فارغ ہوتے تو تسبیح و تہلیل کرتے اپنے گھر چلے جاتے۔ ایک مرتبہ وہ ہمارے پاس سے گذرے ، ہم حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انہوں نے سلام کیا تو حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیجئے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو اس کے بتانے سے کوئی نقصان نہ ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے پر خرچ کرنے والا ایسا ہے جیسے صدقہ کو مسلسل بلا روکے جاری رکھنے والا۔ پھر وہ ایک دن ہمارے پاس سے گذرے اور سلام کیا تو حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کوئی ایسی بات بتا دیجئے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے بھائیوں سے ملاقات کرنی ہو تو اپنی سواریاں اور اپنا لباس درست کرلیا کرو تاکہ لوگوں میں بیٹھے ہوئے برے نہ لگو۔ اللہ تعالیٰ برے کام کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20678
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20678، ترقيم محمد عوامة 19873)
حدیث نمبر: 20679
٢٠٦٧٩ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم قال: قال عبد الرحمن بن (يزيد) (١): (اغدوا) (٢) بنا حتى نجتعل قال: فغدوت إليه فقال (لي) (٣): إني قرأت البارحة سورة (براءة) (٤) فوجدتها تحث على الجهاد قال: فخرج.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن یزید رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ ہمارے پاس آؤ تاکہ ہم مال غنیمت کے حصے بنائیں۔ میں صبح ان کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رات کو سورة التوبہ کی تلاوت کی یہ سورت جہاد کی ترغیب دے رہی ہے۔ یہ فرما کر وہ جہاد کے لیے روانہ ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20679
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20679، ترقيم محمد عوامة 19874)
حدیث نمبر: 20680
٢٠٦٨٠ - حدثنا ابن علية (عن ابن عون) (١) عن ابن سيرين قال: (قال) (٢) (ابن) (٣) عمر في (الجعالة) (٤): لا أبيع نصيبي (من) (٥) الجهاد ⦗١١٧⦘ (ولا) (٦) أغزو على (أجر) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں جہاد میں حاصل ہونے والا حصہ فروخت نہیں کرتا اور میں مال کے لیے جہاد نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20680
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20680، ترقيم محمد عوامة 19875)
حدیث نمبر: 20681
٢٠٦٨١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الزبير بن عدي عن الشقيق بن (العيزار) (١) قال: سألت ابن الزبير (عن) (٢) (الجعائل) (٣) (فقال) (٤): (إن أخذتها) (٥) (فأنفقها) (٦) في سبيل اللَّه، وتركها أفضل (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مال غنیمت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تمہیں مل جائے تو اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور نہ لو تو بہتر ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو فرمایا کہ میں تو بغیر محنت کے وہی چیز لیتا ہوں جو اللہ مجھے دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20681
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20681، ترقيم محمد عوامة 19876)
حدیث نمبر: 20682
٢٠٦٨٢ - (و) (١) سألت ابن عمر فقال: لم أكن لأرتشي إلا ما رشاني اللَّه (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20682
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20682، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 20683
٢٠٦٨٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن (عبيد) (١) بن الأعجم ⦗١١٨⦘ قال: سألت ابن عباس (عن) (٢) الجعائل (قال) (٣): إن جعلتها في سلاح أو كراع في سبيل اللَّه فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن اعجم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مال غنیمت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تم اس مال کو کسی ہتھیار یا گھوڑے پر خرچ کرو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر کسی غلام یا باندی میں خرچ کردو تو مناسب بات نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20683
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20683، ترقيم محمد عوامة 19877)
حدیث نمبر: 20684
٢٠٦٨٤ - (قال) (١): وإن جعلتها في عبد أو أمة فهو غير طائل (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20684
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20684، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 20685
٢٠٦٨٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن أبي بكر بن عمرو بن عتبة (١) قال: خرج على الناس بعث في (زمن) (٢) معاوية (فكتب) (٣) معاوية إلى جرير بن عبد اللَّه: إنا قد وضعنا عنك البعث وعن ولدك، (قال) (٤): فكتب إليه جرير: إني بايعت رسول اللَّه ﷺ على (النصح) (٥) والطاعة والنصح للمسلمين فإن (ننشط) (٦) ⦗١١٩⦘ نخرج فيه وإلا (قوينا) (٧) من يخرج (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عمرو بن عتبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگوں کو ایک مرتبہ زبردستی جہاد کے لیے بھیجا گیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو خط میں لکھا کہ ہم نے آپ کو اور آپ کے بیٹے کو زبردستی نہیں بھیج رہے۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر امیر کی اطاعت و فرمانبرداری اور مسلمانوں کی خیر خواہی کی بیعت کی ہے۔ اگر ہمیں بھیجا جائے گا تو ہم جائیں گے وگرنہ جانے والوں کو قوت فراہم نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20685
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو بكر بن عمرو روى عنه جماعة من أهل العلم ولم يذكر فيه البخاري ولا ابن أبي حاتم جرحًا وذكره ابن سعد في طبقة التابعين، وأخرجه الطبراني (٢٥٠٨)، والبخاري في الكنى ص ١٢، والطحاوي في شرح المشكل ٨/ ٣١٤، والمروزي في تعظيم الصلاة ٢/ ٦٩١، والمرفوع من طريقه، وأخرجه البخاري (٢١٥٧)، وبنحوه مسلم (٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20685، ترقيم محمد عوامة 19878)
حدیث نمبر: 20686
٢٠٦٨٦ - حدثنا ابن نمير نا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: سئل الأسود عن الرجل يجعل له ويجعل هو أقل مما جعل له (ويستفضل) (١) قال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی مجاہد کو مال غنیمت میں غیر مجاہد سے زیادہ حصہ ملے لیکن وہ اس زیادہ حصے کو کم سمجھے اور زیادہ کا مطالبہ کرے تو یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، حضرت شریح رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور جو تمہیں شک میں نہ ڈالے اسے اپنا لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20686
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20686، ترقيم محمد عوامة 19879)
حدیث نمبر: 20687
٢٠٦٨٧ - وسئل شريح عن ذلك فقال: ح ما (يريبك) (١) إلى ما لا (يريبك) (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20687
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20687، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 20688
٢٠٦٨٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن سعيد بن عبد العزيز عن مكحول أنه كان لا يرى بالجعل في القبيلة بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ مال غنیمت میں سے کوئی زیادہ حصہ کسی خاص قبیلے کو دینے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20688
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20688، ترقيم محمد عوامة 19880)
حدیث نمبر: 20689
٢٠٦٨٩ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن معدان بن (حدير) (١) الحضرمي (عن) (٢) (عبد الرحمن) (٣) بن (جبير بن نفير) (٤) الحضرمي عن أبيه قال: قال رسول ⦗١٢٠⦘ اللَّه ﷺ: "مثل الذين يغزون من أمتي ويأخذون الْجُعْلَ (يتقوُّون) (٥) به على عدوهم كمثل أم موسى ترضع ولدها وتأخذ أجرها" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن نفیر حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے وہ لوگ جو جہاد کرتے ہیں اور جہاد کر کے مال غنیمت میں دوسرے مجاہدین سے زیادہ حصہ لیتے ہیں اور دشمن کے خلاف اسے بطور طاقت کے استعمال کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی سی ہے جو اپنے بیٹے کو دودھ پلاتی تھیں اور (فرعون سے) اس کا عوض لیتی تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20689
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل مجهول؛ معدان مجهول، وعبد الرحمن تابعي، أخرجه سعيد بن منصور ١/ (٢٣٦١) وأبو داود في المراسيل (٢٣٢)، والبيهقي ٩/ ٢٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20689، ترقيم محمد عوامة 19881)