کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
حدیث نمبر: 20610
٢٠٦١٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن عمر بن عبد اللَّه مولى (غفرة) (١) قال: (حدثنا) (٢) رجل من ولد عبد اللَّه بن عمر أن ابنًا لابن عمر رابط ثلاثين ليلة ثم ⦗٨١⦘ رجع، فقال له ابن عمر: أعزم عليك لترجعن فلترابطن (عشرًا) (٣) حتى تتم الأربعين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد اللہ مولیٰ غفرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے نے تیس دن جہاد کے لیے گذارے۔ جب واپس آئے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم واپس جاؤ اور دس دن مزید جہاد کے لیے گذارو تاکہ چالیس دن پورے ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20610
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20610، ترقيم محمد عوامة 19806)
حدیث نمبر: 20611
٢٠٦١١ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد (بن) (١) جابر قال: نا خالد ابن (معدان) (٢) قال: سمعت أبا (أمامة) (٣) وجبير بن نفير يقولان: (يأتي) (٤) على الناس (زمان) (٥) أفضل الجهاد الرباط، فقلت: (و) (٦) ما ذلك؟ فقال: إذا (انطاط) (٧) الغزو، وكثرت الغرائم، واستحلت الغنائم، فأفضل الجهاد (يومئذ) (٨) الرباط (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ اور حضرت جبیر بن نفیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس میں افضل جہاد رباط ہوگا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھا کہ ایسا کب ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کہ غزوے کم ہوجائیں گے، تاوان زیادہ ہوجائیں، مال غنیمت کو حلال سمجھا جانے لگے گا تو اس موقع پر افضل جہاد رباط ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20611
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20611، ترقيم محمد عوامة 19807)
حدیث نمبر: 20612
٢٠٦١٢ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن حميد (بن) (١) صخر عن يزيد بن عبد اللَّه بن قسيط وصفوان بن سليم (قالا) (٢): من مات مرابطًا مات شهيدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن عبد اللہ رحمہ اللہ اور صفوان بن سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص جہاد کے لیے سفر کرتا ہوا انتقال کر گیا تو اس نے شہادت کا درجہ پا لیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20612
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20612، ترقيم محمد عوامة 19808)
حدیث نمبر: 20613
٢٠٦١٣ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن بن حبيب المحاربي عن أبي أمامة الباهلي قال: لقد افتتح الفتوح أقوام ما كاتحما حلية سيوفهم الذهب ولا الفضة، إنما كانت حليتها (العلابي) (١) (والآنك) (٢) والحديد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ باہلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ قوموں کو بہت سی فتوحات حاصل ہوں گی۔ ان قوموں کی تلواروں کا زیور سونے یا چاندی کا نہیں بلکہ سرخ تانبے، سفید تانبے اور لوہے کا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20613
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٠٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20613، ترقيم محمد عوامة 19809)
حدیث نمبر: 20614
٢٠٦١٤ - حدثنا المحاربي (عن) (١) عبد الرحمن بن زياد بن أنعم (عن عبد اللَّه بن يزيد) (٢) عن عبد اللَّه بن (عمرو) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من صدع رأسه في سبيل اللَّه غفر اللَّه له ما تقدم من ذنبه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا کہ جس شخص کا اللہ کے راستے میں سر درد ہوا اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ سارے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20614
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال عبد الرحمن بن زياد الأفريقي، أخرجه سعيد بن منصور ١/ (٢٤٢٥)، وعبد بن حميد (٣٢٩)، والطبراني ١٣/ ٥٣، والبزار (٢٤٣٧)، وابن أبي عمر وأحمد بن منيع كما في المطالب العالية (١٩٣٧)، وابن عدي ٤/ ٢٨٠، والخطيب ١٢/ ١٠٠، والبيهقي في الشعب (٩٨٩٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20614، ترقيم محمد عوامة 19810)
حدیث نمبر: 20615
٢٠٦١٥ - حدثنا يحيى بن إسحاق نا يحيى بن أيوب عن (أبي) (١) (قبيل) (٢) قال: سمعت عبد اللَّه بن (عمرو وسئل) (٣): أي المدينتين يفتح أولًا (قسطنطينية) (٤) أو ⦗٨٣⦘ رومية؟ قال: فدعا عبد اللَّه بن عمرو بصندوق له حلق، فأخرج منه كتابًا (فجعل) (٥) يقرؤه قال: فقال: بينما (نحن) (٦) حول رسول اللَّه ﷺ (نكتب) (٧) (إذ) (٨) (سئل) (٩) أي المدينتين يفتح أولًا (قسطنطينية) (١٠) أو رومية؟ فقال النبي ﷺ: "بل مدينة هرقل (تفتح أولًا) (١١) " (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قبیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ پہلے قسطنطنیہ فتح ہوگا یا رومیہ ؟ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنا ایک حلقوں والا صندوق منگوایا اور اس میں سے ایک کتاب نکال کر پڑھنا شروع کردی۔ پھر فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھ کر لکھا کرتے تھے ایک مرتبہ آپ سے سوال کیا گیا کہ پہلے قسطنطنیہ فتح ہوگا یا رومیہ ؟ نبی پاک ﷺ نے فرمایا تھا کہ پہلے ہرقل کا شہر فتح ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20615
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ يحيى بن أيوب صدوق، أخرجه أحمد (٦٦٤٥)، والحاكم ٤/ ٥٥٥، والطبراني في الأوائل (٦١)، والدارمي (٤٨٦)، وابن عبد الحكم في فتوح مصر ص ٢٥٧، ونعيم بن حماد في الفتن (١٣٤٤)، والداني في السنن الواردة في الفتن (٦٠٧)، والأزهري في تهذيب اللغة ٦/ ١٤٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20615، ترقيم محمد عوامة 19811)
حدیث نمبر: 20616
٢٠٦١٦ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبيه وعمه سمعهما يذكران قالا: قال (سلمان) (١) بن ربيعة: قتلت (بسيفي) (٢) هذا مائة (مستلئم) (٣) (كلهم) (٤) (يعبد) (٥) غير اللَّه، ما قتلت منهم رجلًا صبرًا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی اس تلوار سے سو ایسے آدمیوں کو قتل کیا ہے جو غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے میں نے ان میں سے کسی صاحب دین آدمی کو قتل نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20616
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20616، ترقيم محمد عوامة 19812)
حدیث نمبر: 20617
٢٠٦١٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن موسى بن سعيد عن أشياخه قال: قال أبو موسى: لقد (رأيتني) (١) خامس خمسة (أو) (٢) سادس ستة ما في يدي ولا رجلي ظفر إلا قد نصل (٣)، ثم قال: (ما خالف) (٤) إليّ ذكر هذا، اللَّه (يحرمني) (٥) بذلك (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خود دیکھا، میں ان پانچ یا چھ آدمیوں میں سے ایک تھا جن کے ہاتھوں اور پاؤں کا ہر ناخن نکل چکا تھا۔ پھر فرمایا کہ نہ جانے میں نے کیوں اس بات کو بیان کردیا میں تو اس کا اجر صرف اللہ سے چاہتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20617
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20617، ترقيم محمد عوامة 19813)
حدیث نمبر: 20618
٢٠٦١٨ - حدثنا حاتم بن وردان عن يونس عن الحسن عن النبي ﷺ: "ما من أحد يموت، له عند اللَّه خير يسره (١) أن يرجع إلى الدنيا ولا أنّ له مثل (نعيمها) (٢) إلا الشهيد، (فإنّه) (٣) مما يرى من الثواب يود أنه رجع فقتل" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سوائے شہید کے کسی کو یہ خصوصیت حاصل نہیں کہ جب اس کی روح نکلتی ہے تو وہ واپس دنیا کی طرف اور دنیا کی نعمتوں کی طرف جانے کی خواہش کرتا ہے اور وہ یہ خواہش اس لیے کرتا ہے کہ وہ جب شہادت کے اجر کو دیکھتا ہے تو خواہش کرتا ہے کہ واپس دنیا میں جائے اور دوبارہ اللہ کے راستے میں شہید ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20618
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20618، ترقيم محمد عوامة 19814)
حدیث نمبر: 20619
٢٠٦١٩ - حدثنا حاتم بن وردان عن برد عن مكحول قال: للشهيد عند اللَّه (ست) (١) خصال: يغفر (اللَّه) (٢) ذنبه عند أول قطرة تصيب الأرض من دمه، ويحلى حلة الإيمان، ويزوج (الحور) (٣) العين، ويفتح له باب من الجنة ⦗٨٥⦘ و (يجار) (٤) من عذاب القبر، و (يؤمن) (٥) من (الفزع) (٦) الأكبر (أو) (٧) فزع يوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شہید کو چھ طرح کا اجر ملتا ہے اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ B اسے ایمان کا زیور پہنایا جاتا ہے۔ C حورعین سے اس کی شادی کی جاتی ہے۔ D اس کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ E قبر کا عذاب اس سے ہٹا لیا جاتا ہے۔ F قیامت کے دن کی سختی سے وہ محفوظ ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20619
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20619، ترقيم محمد عوامة 19815)
حدیث نمبر: 20620
٢٠٦٢٠ - حدثنا بشر (بن) (١) مفضل عن مغيرة عن حبيب قال: سألت سالمًا عن المبارزة، فأكب (هنيهة) (٢) ثم رفع (رأسه) (٣) فقال: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ [الصف: ٤].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم رحمہ اللہ سے مبارزت کے بارے میں سوال کیا تو تھوڑی دیر انہوں نے سر کو جھکایا پھر اس آیت کی تلاوت کی : بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے رستے میں صف بنا کر اس طرح قتال کرتے ہیں جیسے کہ کوئی مضبوط عمارت ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20620
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20620، ترقيم محمد عوامة 19816)
حدیث نمبر: 20621
٢٠٦٢١ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن أبي صالح عن ابن عباس: ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [البقرة: ١٩٥]، قال: أنفق في سبيل اللَّه ولو بمشقص (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { وَلاَ تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إلَی التَّہْلُکَۃِ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ کے رستے میں خرچ کرو خواہ تیر کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20621
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ والمشقص: نصل السهم إذا كان طويلًا، انظر: النهاية ٢/ ٤٩٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20621، ترقيم محمد عوامة 19817)
حدیث نمبر: 20622
٢٠٦٢٢ - حدثنا وكيع (عن) (١) سفيان عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: إذا لقيت فانهد (٢)، فإنما نزلت هذه الآية في النفقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارا دشمن سے سامنا ہو تو خوب توانا ہو کر دلیری سے اس پر حملہ کرو کیونکہ یہ آیت تو خرچ کے بارے میں نازل ہوئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20622
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20622، ترقيم محمد عوامة 19818)
حدیث نمبر: 20623
٢٠٦٢٣ - حدثنا (محمد) (١) (بن) (٢) مروان البصري عن عمارة (٣) قال: شُج ⦗٨٦⦘ النبي ﷺ (في وجهه) (٤) وكسرت رباعيته، وذلق من العطش حتى جعل يقع على (ركبتيه) (٥) وتركه أصحابه، فجاء أبي بن خلف يطلق بدم أخيه أمية بن خلف فقال: (أين) (٦) هذا الذي يزعم أنه نبي فليبرز (لي) (٧)، (فإن) (٨) كان نبيًا قتلني، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أعطوني الحربة" (فقالوا) (٩): يا رسول اللَّه! وبك حراك؟ قال: "إني (قد) (١٠) استسقيت اللَّه دمه"، فأخذ الحربة ثم مشى إديه فطعنه فصرعه عن (دابته) (١١)، وحمله أصحابه (فاستنقذوه) (١٢) فقالوا: ما نرى (بك) (١٣) بأسًا! فقال: " (إنه) (١٤) قد استسقى اللَّه دمي إني لأجد لها ما لو كان على مضر وربيعة لوسعتهم" (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ فرماتے ہیں کہ غزوہ أحد میں نبی پاک ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا تھا اور آپ کے سامنے والے دانت بھی ٹوٹ گئے تھے۔ آپ پیاس کی شدت سے بےچین ہو کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے تھے اور آپ کے بہت سے ساتھی بھی ادھر ادھر منتشر ہوگئے تھے۔ اس جنگ میں ابی بن خلف اپنے بھائی امیہ بن خلف کا بدلہ لینے کے لیے موجود تھا۔ اس نے للکار کر کہا کہ وہ شخص جو اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے، وہ میرے سامنے آئے، اگر وہ واقعی نبی ہے تو وہ مجھے مار ڈالے گا۔ اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ مجھے نیزہ دو ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ تو شدید پیاس اور گرمی کا شکار ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کا خون پلائے گا۔ آپ نے نیزہ پکڑا، اس کی طرف تشریف لے گئے اور اسے نیزہ مار کر سواری سے نیچے گرا دیا۔ اس کے ساتھی اسے بچا کرلے گئے اور اسے تسلی دی کہ تمہیں زیادہ چوٹ نہیں آئی۔ اس نے کہا کہ انہوں نے اللہ سے میرا خون مانگا ہے، مجھے اس زخم کی اتنی تکلیف ہو رہی ہے کہ اگر قبیلۂ مضر اور قبیلہ ربیعہ میں تقسیم کردی جائے تو سب بےچین ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20623
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20623، ترقيم محمد عوامة 19819)
حدیث نمبر: 20624
٢٠٦٢٤ - حدثنا (زيد) (١) بن (حباب) (٢) عن الضحاك بن عثمان نا الحكم ⦗٨٧⦘ ابن ميناء عن أبي هريرة أنه سمعه يقول قال (٣) رسول اللَّه ﷺ: " (غَدْوَةُ) (٤) (في سبيل اللَّه أو روحة) (٥) خير من الدنيا وما (فيها) (٦) " (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ایک صبح اور ایک شام کا لگا دینا، جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20624
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٠٨٨٣)، وابن ماجه (٢٧٥٥)، وابن المبارك في الجهاد (١٨)، وإبن أبي عاصم في الجهاد (٦١)، والترمذي (١٦٤٩)، وأصله عند مسلم (١٨٢٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20624، ترقيم محمد عوامة 19820)
حدیث نمبر: 20625
٢٠٦٢٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نميرنا محمد بن إسحاق عن أبي مالك بن ثعلبة عن عمر بن الحكم بن ثوبان عن أبي هريرة قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "ما (تعدون) (١) الشهيد؟ " قال: (فقالوا) (٢): المقتول في سبيل اللَّه، قال: "إن شهداء أمتي (إذن) (٣) لقليل! القتيل في سبيل اللَّه شهيد، [[والخار عن (دابته) (٤) في سبيل اللَّه شهيد (والغرق في سبيل اللَّه شهيد) (٥)، [والطعن (في سبيل اللَّه) (٦) شهيد، والمبطون في سبيل اللَّه شهيد] (٧)، (والمجنوب في سبيل اللَّه شهيد) (٨)]] (٩) يعني (قرحة (١٠) ⦗٨٨⦘ ذات الجنب" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تم شہید کسے سمجھتے ہو ؟ لوگوں نے کہا : کہ جو اللہ کے راستے میں مارا جائے۔ آپ نے فرمایا : کہ اس طرح تو میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں جان دینے والا بھی شہید ہے، اللہ کے راستے میں سواری سے گر کر ہلاک ہونے والا بھی شہید ہے، اللہ کے راستے میں ڈوبنے والا بھی شہید ہے، اللہ کے راستے میں طاعون کا شکار ہونے والا بھی شہید ہے، اللہ کے راستے میں پیٹ کی بیماری سے مرنے والا بھی شہید ہے، اور اللہ کے راستے میں پھوڑے کا شکار ہو کر مرنے والا بھی شہید ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20625
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20625، ترقيم محمد عوامة 19821)
حدیث نمبر: 20626
٢٠٦٢٦ - حدثنا وكيع عن هشام بن الغاز عن عبادة (بن (نسي) (١) عن عبادة) (٢) بن الصامت أن النبي ﷺ قال: "ما (تِعدُّون) (٣) الشهيد فيكم؟ " قالوا: الذي يقاتل في سبيل اللَّه [فيقتل، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن شهداء أمتي (إذن) (٤) لقليل! القتيل في سبيل اللَّه شهيد] (٥) (والمطعون شهيد) (٦) والمبطون شهيد، والمرأة تموث (بجمع) (٧) -يعني حاملًا- شهيد" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ تم شہید کسے سمجھتے ہو ؟ انہوں نے کہا جو اللہ کے راستے میں قتال کرے اور جان دے دے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس طرح تو میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں مرنے والا شہید ہے، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، بچے کو جنم دیتے ہوئے مرنے والی عورت بھی شہید ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20626
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20626، ترقيم محمد عوامة 19822)
حدیث نمبر: 20627
٢٠٦٢٧ - حدثنا وكيع (قال) (١): نا أبو العميس عن عبد اللَّه (بن عبد اللَّه) (٢) ⦗٨٩⦘ ابن (٣) (جبر) (٤) بن عتيك عن أبيه عن جده أن النبي ﷺ (٥) عاده في مرضه فقال قائل من أهله: إنا (كنا) (٦) لنرجوا أن تكون وفاته (قتل) (٧) شهادة في سبيل اللَّه! فقال: "إن شهداء أمتي (إذن) (٨) (لقليل) (٩)، القتيل في سبيل اللَّه (شهيد) (١٠)، والمبطون شهيد، والمطعون شهيد، والمرأة تموت بجمع شهيد، والحرق والغرق و (المجنوب) (١١) شهيد". يعني قرحة ذات (الجنب) (١٢) (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ جبر بن عتیک رضی اللہ عنہ کے مرض الوفات میں ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو ان کے گھر والوں نے عرض کیا کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ ان کا انتقال اللہ کے راستے میں شہادت سے ہوگا۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس طرح تو میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں جان دینے والا بھی شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، بچے کو جنم دیتے ہوئے مرنے والی عوت شہید ہے، جل کر، ڈوب کر اور پھوڑے سے مرنے والا بھی شہید ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20627
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20627، ترقيم محمد عوامة 19823)
حدیث نمبر: 20628
٢٠٦٢٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن التيمي عن أبي عثمان (عن) (١) عامر بن ⦗٩٠⦘ مالك عن صفوان بن أمية قال: الطاعون شهادة، والغرق شهادة، والبطن والنفساء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفوان بن امیہ فرماتے ہیں کہ طاعون شہادت ہے، ڈوبنا شہادت ہے، پیٹ کی بیماری سے اور عورت کا بچے کو جنم دیتے ہوئے مرنا شہادت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20628
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20628، ترقيم محمد عوامة 19824)
حدیث نمبر: 20629
٢٠٦٢٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن إبراهيم بن مهاجر عن طارق بن شهاب قال: قال عبد اللَّه: إن (ممن) (١) يغرق في البحور، ويتردى من الجبال، وتأكله السباع لشهداء عند اللَّه يوم القيامة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو لوگ سمندر میں غرق ہوجاتے ہیں، یا پہاڑوں سے گرجاتے ہیں، یا جانور انہیں کھا جاتے ہیں، یہ سب لوگ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک شہداء شمار کیے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20629
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ إبراهيم بن مهاجر صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20629، ترقيم محمد عوامة 19825)
حدیث نمبر: 20630
٢٠٦٣٠ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن محمد عن امرأة مسروق (عن مسروق) (١) قال: الطاعون والبطن والنفساء والغرق وما أصيب به مسلم فهو (له) (٢) شهادة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طاعون ، پیٹ کی بیماری، حمل، غرق اور ان کو پہنچنے والی ہر تکلیف شہادت کا سبب ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20630
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20630، ترقيم محمد عوامة 19826)
حدیث نمبر: 20631
٢٠٦٣١ - حدثنا (همام نا عفان) (١) نا محمد بن (جحادة) (٢) أن أبا حصين حدثه أن أبا صالح حدثه أن أبا هريرة حدثه قال: جاء (رجل) (٣) إلى النبي ﷺ (٤) فقال: يا ⦗٩١⦘ رسول اللَّه! علمني عملا يعدل الجهاد، قال: "لا أجده" [(ثم) (٥) قال: "هل تستطيع إذا خرج المجاهد أن تدخل مسجدك فتقوم لا تفتر، وتصوم] (٦) (و) (٧) لا تفطر"، قال: لا أستطيع (ذلك) (٨)، فقال أبو هريرة: إن فرس المجاهد ليستن في طوله (فتكتب) (٩) (له) (١٠) (حسناته) (١١) (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو جہاد کے برابر ہو۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں تو کسی ایسے عمل کو نہیں جانتا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ جب مجاہد نکل جائے تو مسجد میں جاؤ اور بغیر سستی کے نماز پڑھو اور بغیر افطار کیے مسلسل روزے رکھو ؟ اس نے کہا : میں تو اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مجاہد کا گھوڑا اپنی رسی میں چکر لگاتا ہے پھر بھی مجاہد کے لیے ثواب لکھا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20631
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٧٨٥)، ومسلم (١٨٧٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20631، ترقيم محمد عوامة 19827)
حدیث نمبر: 20632
٢٠٦٣٢ - حدثنا محمد بن بشر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما من رجل أو ما من أحد ينفق زوجين في سبيل اللَّه إلا (١) خَزَنَةُ الجنة يوم القيامة (يدعونه) (٢) (تعال) (٣) [يا (فلان) (٤) (تعال) (٥)] (٦) هذه خير،، فقال أبو بكر: أي رسول اللَّه! هذا الذي لا (توى) (٧) ⦗٩٢⦘ عليه فقال: "إني أرجو أن تكون منهم" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بھی کوئی شخص دو چیزیں اللہ کے راستے میں خرچ کرے گا تو قیامت کے دن بہت سے نگہبان فرشتے اسے بلائیں گے کہ اے فلاں ! ادھر آ جا ، ادھر خیر ہے یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! ایسے شخص کے لیے تو کوئی ہلاکت نہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ تم انہی لوگوں میں سے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20632
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه ابن حبان (٤٦٤١)، وبنحوه البخاري (٢٨٤١)، ومسلم (١٠٢٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20632، ترقيم محمد عوامة 19828)
حدیث نمبر: 20633
٢٠٦٣٣ - حدثنا وكيع نا الربيع عن الحسن قال: قال (رجل) (١) لعمر: يا خير الناس! قال: لست بخير الناس، ألا (أخبرك) (٢) بخير الناس؟ قال: بلى! يا أمير المؤمنين! قال: رجل من أهل البادية له (صرمة) (٣) من إبل (أو) (٤) غنم، أتى بها (مصرًا) (٥) من (الأمصار) (٦) فباعها، ثم أنفقها في سبيل اللَّه، وكان بين المسلمين وبين عدوهم (فذاك) (٧) خير الناس (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لوگوں میں بہترین شخص کہہ کر مخاطب کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سے بہترین شخص نہیں۔ بلکہ لوگوں میں بہترین گاؤں میں رہنے والا وہ شخص ہے جس کے پاس اونٹوں یا بکریوں کا ریوڑ ہو، وہ اسے لے کر شہر کی طرف آئے اور پھر انہیں بیچ کر ان کی قیمت اللہ کے راستے میں خرچ کرے، اور مسلمانوں اور مسلمانوں کے دشمنوں کے درمیان برسر پیکار ہوجائے یہ شخص لوگوں میں سب سے بہتر شخص ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20633
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20633، ترقيم محمد عوامة 19829)
حدیث نمبر: 20634
٢٠٦٣٤ - حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن عمرو (عن) (١) (صفوان) (٢) بن سليم عن حصين بن اللجلاج عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يجتمع الشح والإيمان في جوف رجل مسلم، ولا غبار في سبيل اللَّه ودخان جهنم في ⦗٩٣⦘ (جوف) (٣) رجل" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ ایمان اور بخل ایک مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہوسکتے اور اللہ کے رستے کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک مسلمان میں جمع نہیں ہوسکتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20634
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20634، ترقيم محمد عوامة 19830)
حدیث نمبر: 20635
٢٠٦٣٥ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن (حصين) (١) عن سالم يرفعه إلى (معاذ) (٢) (قال) (٣): من شاب شيبة في سبيل اللَّه كانت له نورا يوم القيامة، ومن رمى بسهم في سبيل اللَّه رفعه اللَّه به درجة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کے بال اللہ کے راستے میں سفید ہوئے یہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوں گے اور جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر چلایا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند فرمائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20635
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20635، ترقيم محمد عوامة 19831)
حدیث نمبر: 20636
٢٠٦٣٦ - حدثنا حسين (بن علي) (١) عن زائدة عن منصور عن (شقيق) (٢) عن مسروق قال: ما من حال (أحرى) (٣) أن يستجاب للعبد فيه إلا أن يكون في سبيل اللَّه من أن يكون عافرا وجهه ساجدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کے لیے دعا کی قبولیت کا سب سے زیادہ اہم مقام وہ ہوتا ہے جب وہ اللہ کے راستے میں ہو یا جب اس نے اپنے چہرے کو سجدے کی حالت میں مٹی پر رکھا ہوا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20636
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20636، ترقيم محمد عوامة 19832)
حدیث نمبر: 20637
٢٠٦٣٧ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة قال: أسلم الزبير وهو ابن ⦗٩٤⦘ (ست) (١) (عشرة) (٢) سنة ولم يتخلف عن غزوة غزاها رسول اللَّه ﷺ (وَقتل) (٣) وهو ابن بضع (و) (٤) ستين سنة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو اس وقت ان کی عمر سولہ برس تھی۔ وہ حضور ﷺ کے ساتھ ہر غزوہ میں شریک رہے اور ساٹھ سال سے کچھ زائد ان کی عمر تھی جب انہیں شہید کیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20637
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ هشام تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20637، ترقيم محمد عوامة 19833)
حدیث نمبر: 20638
٢٠٦٣٨ - حدثنا وكيع نا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: لما أتى أبو عبيدة الشام (حُصر) (١) هو وأصحابه (وأصابهم) (٢) جهد شديد، قال: فكتب إلى عمر، فكتب إليه عمر: (سلام) (٣) (عليك) (٤)، أما بعد: فإنه لم (تكن) (٥) شدة إلا جعل اللَّه بعدها مخرجا، (و) (٦) لن يغلب عسر (يسرين) (٧)، (وكتب) (٨) إليه: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ [آل عمران: ٢٠٠]، قال: فكتب إليه أبو عبيدة سلام! أما بعد فإن اللَّه ﵎ قال: ﴿اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ﴾ [الحديد: ٢٠]، إلى آخر الآية، قال: فخرج عمر بكتاب ⦗٩٥⦘ أبي (عبيدة) (٩) (فقرأه) (١٠) على الناس فقال: يا أهل المدينة! (إنما) (١١) كتب أبو عبيدة يعرض بكم، ويحثكم على الجهاد، قال زيد: فقال أبي: (فإني) (١٢) (لقائم) (١٣) في السوق إذ (أقبل) (١٤) قوم مبيضين، قد اطلعوا (١٥) (من الثنية) (١٦)، (فيهم) (١٧) حذيفة بن اليمان (يبشرون) (١٨) الناس قال: فخرجت أشتد حتى دخلت على عمر فقلت: يا أمير المؤمنين! أبشر بنصر اللَّه والفتح! فقال عمر: اللَّه أكبر، رب (قائل: لو كان) (١٩) خالد بن الوليد (٢٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ شام آئے تو ان کا اور ان کے ساتھیوں کا محاصرہ کرلیا گیا۔ اس وقت وہ شدید تکلیف کا شکار ہوئے۔ انہوں نے مشکل کی اس گھڑی میں مدد کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط کا جواب ان الفاظ کے ساتھ دیا : ” اما بعد ! اللہ تعالیٰ نے ہر مشکل کے بعد آسانی رکھی ہے، ایک مشکل دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آسکتی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو یہ آیت بھی لکھ بھیجی : اے ایمان والو ! صبر کرو اور صبر کی تلقین کرو۔ (آل عمران : آخری آیت) حضر ت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پھر دوبارہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں یہ آیت لکھ بھیجی : : جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل ، تماشا، زینت، باہمی تفاخر اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی حرص ہی تو ہے۔ (الحدید : ٢٠) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا یہ خط لوگوں کو پڑھ کر سنایا پھر فرمایا کہ اے مدینہ کے لوگو ! ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ تمہیں جہاد کی دعوت دے رہے ہیں۔ حضرت اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بازار میں کھڑا تھا کہ سفید لباس والے کچھ لوگ گھاٹی سے نیچے اترے ہوئے نظر آئے، ان میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ لوگوں کو فتح کی خوشخبری دے رہے تھے۔ میں خوشی سے سرشار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور میں نے کہا اے امیر المؤمنین ! فتح کی خوشخبری ہو ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور فرمایا کہ کاش خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی فتح کی خوشخبری دینے والا بھی آجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20638
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ هشام بن سعد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20638، ترقيم محمد عوامة 19834)
حدیث نمبر: 20639
٢٠٦٣٩ - حدثنا وكيع نا سفيان عن برد عن مكحول قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه جعل رزق هذه الأمة في (سنابك) (١) خَيْلهَا وأزجُّة رماحها ما لم يزرعوا فإذا زرعوا (صاروا) (٢) من الناس" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کا رزق گھوڑے کے کھروں اور نیزوں کے نیچے رکھ دیا ہے جب تک یہ زراعت نہیں کرتے۔ جب یہ زراعت کریں گے تو عام لوگوں کی طرح ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20639
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مكحول تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20639، ترقيم محمد عوامة 19835)
حدیث نمبر: 20640
٢٠٦٤٠ - حدثنا عفان عن سليمان بن كثير حدثني ابن شهاب عن عطاء بن يزيد عن أبي سعيد الخدري قال: قيل يا رسول اللَّه! أي المؤمنين أفضل؟ قال: "مؤمن مجاهد في سبيل اللَّه بنفسه وماله، (ومؤمن) (١) اعتزل في شعب من الجبال"، أو قال: "شعبة كفى الناس شره" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے سوال کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے افضل مومن کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ مومن جو اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کر رہا ہو، اور وہ مومن جو لوگوں سے کنارہ کش ہو کے پہاڑ کی ایک گھاٹی میں جا کر بیٹھ گیا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20640
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ سليمان ضعيف في الزهري، أخرجه أحمد (١١٥٣٥)، وأبو داود (٢٤٧٧)، والحاكم ٢/ ٧١، وأبو عوانة ٥/ ٥٦، وابن أبي عاصم في الجهاد (٣٧)، وأخرجه عن الزهري من غير طريق سليمان: البخاري (٢٧٨٦)، ومسلم (١٨٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20640، ترقيم محمد عوامة 19836)
حدیث نمبر: 20641
٢٠٦٤١ - حدثنا عفان نا (عبيد اللَّه) (١) بن (إياد) (٢) (عن إياد) (٣) عن أبي كبشة البراء بن قيس (السكوني) (٤) قال: كنت جالسًا مع سعد وهو يحدث أصحابه فقال في آخر حديثه: أيها الناس! إن اللَّه أراد بكم اليسر ولم يرد بكم العسر واللَّه (واللَّه) (٥) لغزوة في سبيل اللَّه احب إلي من حجتين (ولحجة أحجها) (٦) (ببيت) (٧) اللَّه أحب إلي من عمرتين، ولعمرة اعتمرها أحب إلي من ثلاثة (أبيتهن) (٨) ⦗٩٧⦘ (ببيت) (٩) المقدس (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو کبشہ براء بن قیس سکونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا تھا وہ اپنے ساتھیوں سے بیان فرما رہے تھے۔ اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے فرمایا کہ اللہ تم سے آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اللہ تعالیٰ تم سے مشکل کا ارادہ نہیں فرماتا۔ خدا کی قسم ! خدا کی قسم ! اللہ کے راستے میں ایک غزوہ دو حج کرنے سے زیادہ افضل ہے، ایک حج میرے نزدیک دو مرتبہ عمرے کرنے سے بہتر ہے اور ایک عمرہ میرے نزدیک تین مرتبہ بیت المقدس جانے سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20641
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20641، ترقيم محمد عوامة 19837)
حدیث نمبر: 20642
٢٠٦٤٢ - حدثنا زيد بن حباب [حدثني عبد الرحمن بن شريح عن (عبيد اللَّه) (١) ابن المغيرة عن أبي (فراس) (٢) يزيد بن رباح] (٣) مولى عمرو بن (العاص) (٤) أنه سمع عبد اللَّه بن (عمرو) (٥) يقول: إن اللَّه يضحك إلى أصحاب البحر مرارًا، (حين) (٦) (يستوي) (٧) في مركبه ويخلي أهله وماله، وحين (يأخذه) (٨) (الميد) (٩) في مركبه، وحين يوجه (١٠) (البر) (١١) فيشرف إليه (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سمندر والوں پر کئی مرتبہ مسکراتا ہے، ایک جب وہ اپنے اہل و عیال اور مال کو چھوڑ کر اپنی کشتی پر بیٹھتا ہے، دوسرا جب اس کی کشتی سمندر میں ہچکولے کھاتی ہے اور تیسرا جب اسے خشکی نظر آتی ہے اور وہ اس کی طرف جھانکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20642
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبيد اللَّه بن المغيرة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20642، ترقيم محمد عوامة 19838)
حدیث نمبر: 20643
٢٠٦٤٣ - حدثنا هشيم عن أبي الأشهب العطاردي عن الحسن قال: (كان) (١) ⦗٩٨⦘ رسول اللَّه ﷺ: "إذا كان في الصف في القتال (لم) (٢) يلتفت" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دورانِ قتال جب کسی صف میں کھڑے ہوتے تھے تو دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20643
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20643، ترقيم محمد عوامة 19839)
حدیث نمبر: 20644
٢٠٦٤٤ - حدثنا غندر عن عثمان بن (غياث) (١) عن عكرمة قال: سمعته يقول في هذه الآية: ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ (وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ) (٢)﴾ [البقرة: ١٥٩]، قال: أرواح الشهداء في طير بيض (فقاقيع) (٣) في الجنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی آیت { وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْیَائٌ وَلَکِنْ لاَ تَشْعُرُونَ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ شہداء کی روحیں پانی کے بلبلوں کی طرح جنت میں سفید پرندوں میں ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20644
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20644، ترقيم محمد عوامة 19840)
حدیث نمبر: 20645
٢٠٦٤٥ - حدثنا عبد اللَّه بن (المبارك) (١) عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن محمد بن إبراهيم عن ابن (٢) (عتيك) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أما ما (يُحب من) (٤) الخيلاء (فالرجل) (٥) (يختال) (٦) (بسيفه) (٧) عند القتال، وعند الصدقة ولا ⦗٩٩⦘ يحب المرح" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دو موقع پر فخر کو پسند کیا جاسکتا ہے ایک اس آدمی کا فخر جو قتال کے وقت تلوار اٹھا کر اکڑ کر چلے اور دوسرا اللہ کے راستے میں صدقہ پر فخر، البتہ تکبر اور غرور کو پسند نہیں کیا جاسکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20645
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20645، ترقيم محمد عوامة 19841)
حدیث نمبر: 20646
٢٠٦٤٦ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) أخبرني موسى بن (عبيدة) (٢) قال: أخبرني محمد بن أبي (منصور) (٣) عن (السمط) (٤) بن عبد اللَّه ((عن) (٥) سلمان) (٦) أنه كان في جند من المسلمين، (فأصابهم) (٧) حصر وضر، فقال (سلمان) (٨) لأمير الجند: ألا أخبرك بما سمعت (من) (٩) رسول اللَّه ﷺ (يكون) (١٠) عونًا لك على هذا (الجند) (١١)؟ سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من رابط يوما أو ليلة في سبيل اللَّه كان عدل صيام شهر وصلاته الذي لا يفطر ولا ينصرف إلا لحاجة، ومن مات مرابطا في سبيل اللَّه أجري له أجره حتى يقضي اللَّه بين أهل الجنة والنار" (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمط بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے ایک لشکر میں تھے، مسلمانوں کو حصار اور تکلیف کا سامنا ہوا تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے امیر لشکر سے کہا میں آپ کو حضور ﷺ کا ایک فرمان سناتا ہوں جو اس لشکر کے معاملے میں آپ کے لیے مدد کا سبب ہوگا۔ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے ایک دن یا ایک رات اللہ کے راستے میں جہاد کی غرض سے گذاری یہ اس کے لیے اس مہینہ کے برابر ہیں جس میں وہ مسلسل روزے رکھے اور مسلسل نماز پڑھے، جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہواشہید ہوگیا اسے اس وقت تک اس شہادت کا اجر ملتا رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ اہل جنت اور اہل جہنم کو ان کا بدلہ دینے سے فارغ نہ ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20646
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ موسى بن عبيدة ضعيف، وأخرجه بنحوه مسلم (١٩١٣)، وأحمد (٢٣٧٢٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20646، ترقيم محمد عوامة 19842)
حدیث نمبر: 20647
٢٠٦٤٧ - حدثنا زيد بن حباب (نا) (١) أبو (سنان) (٢) سعيد بن سنان قال: أخبرني موسى بن أبي كثير الأنصاري أن عمر بن الخطاب قال: في قوله تعالى: ﴿مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا﴾ [الحديد: ١١]، قال: [النفقة في سبيل اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی آیت { مَنْ ذَا الَّذِی یُقْرِضُ اللَّہَ قَرْضًا حَسَنًا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20647
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20647، ترقيم محمد عوامة 19843)
حدیث نمبر: 20648
٢٠٦٤٨ - حدثنا زيد بن حباب أخبرنا موسى بن عبيدة أخبرنا أيوب بن خالد الأنصاري في قوله (تعالى) (١): ﴿مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا﴾، قال] (٢): من ربط (فرسًا) (٣) في سبيل اللَّه (فهو يقرض اللَّه قرضًا حسنًا) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب بن خالد انصاری رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے قول { مَنْ ذَا الَّذِی یُقْرِضُ اللَّہَ قَرْضًا حَسَنًا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جس نے اللہ کے راستے میں استعمال کرنے کے لیے گھوڑا پالا وہ قرض حسن دینے والا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20648
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20648، ترقيم محمد عوامة 19844)
حدیث نمبر: 20649
٢٠٦٤٩ - حدثنا زيد بن حباب (نا) (١) موسى بن عبيدة عن عبد اللَّه بن عبد اللَّه بن حكيم بن حزام قال: من أنفق (زوجين) (٢) في سبيل اللَّه لم يأت بابًا من أبواب الجنة إلا فتح له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ بن حکیم بن حزام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے اللہ کے راستے میں زوجین کو خرچ کیا وہ جنت کے جس دروازے سے بھی جائے گا وہ اس کے لیے کھول دیا جائے گا۔ راوی موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے شیوخ سے سنا ہے کہ زوجین سے مراد دینار اور درہم ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20649
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20649، ترقيم محمد عوامة 19845)