حدیث نمبر: 20570
٢٠٥٧٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير نا إسماعيل عن قيس قال: سمعت خالد بن الوليد يقول: (لقد) (١) منعني (كثيرًا) (٢) من (القراءة) (٣) الجهادُ في سبيل اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں زیادہ جہاد کرنے کی وجہ سے میں بہت سا قرآن نہیں سیکھ سکا۔
حدیث نمبر: 20571
٢٠٥٧١ - حدثنا محمد بن (عبيد) (١) عن إسماعيل بن أبي خالد عن زياد عن خالد بن الوليد قال: ما كان في الأرض ليلة (أبشر) (٢) فيها بغلام، ويهدى إليّ (عروس) (٣) أنا لها محبٌ أحب إليّ من ليلة شديدة الجليد في سرية من المهاجرين أصبح بهم العدو، فعليكم بالجهاد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ روئے زمین پر ایسی رات جس میں مجھے ایک بیٹے کی خوشخبری دی جائے اور میری طرف ایک ایسی دلہن بھیجی جائے جس سے میں محبت رکھتا ہوں، اس رات سے زیادہ پسند نہیں، جو سخت مشقت والی ہو، میں مجاہدین کے ایک لشکر کے ساتھ اسے بسر کروں اور صبح کو انہیں لے کر دشمن پر حملہ کر دوں۔ پس تم پر جہاد لازم ہے۔
حدیث نمبر: 20572
٢٠٥٧٢ - حدثنا (الفضل) (١) بن دكين عن يونس بن أبي إسحاق عن (العيزار) (٢) ابن (حريث) (٣) قال: قال خالد بن الوليد: واللَّه ما أدري من أي ⦗٦١⦘ (يومي) (٤) (٥) (أقر؟) (٦) يوم أراد اللَّه أن يهدي (لي) (٧) فيه الشهادة، أو من يوم أراد اللَّه أن يهدي (٨) لي فيه كرامة (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ میں کس دن سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔ اس دن سے جس میں اللہ تعالیٰ مجھے شہادت عطا فرمائیں یا اس دن سے جس میں مجھے کوئی بڑا اعزاز دیا جائے۔
حدیث نمبر: 20573
٢٠٥٧٣ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب (عن) (١) محمد قال: نبئت أن عبد اللَّه بن سلام قال: إن (أدركني) (٢) وليس لي قوة (فاحملوني) (٣) على سرير -يعني القتال- حتى تضعوني بين الصفين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر لڑائی کا وقت آجائے اور مجھ میں اٹھنے کی طاقت نہ ہو تو مجھے اٹھا کر صفوں کے درمیان رکھ دینا۔
حدیث نمبر: 20574
٢٠٥٧٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن (الركين) (١) بن الربيع (الفزاري) (٢) عن أبيه عن (يسير) (٣) بن (عميلة) (٤) (عن) (٥) (خريم) (٦) بن ⦗٦٢⦘ (فاتك) (٧) الأسدي عن النبي ﷺ قال: "من أنفق نفقة في سبيل اللَّه (كتب) (٨) له (سبع) (٩) مائة ضعف" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اللہ کے راستے میں ایک درہم خرچ کیا اسے سات سو گنا اجر عطا کردیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 20575
٢٠٥٧٥ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة قال: نا ميسرة عن عكرمة عن ابن عباس قال: سألت (كعبًا) (١) عن جنة المأوى، [فقال: (أما) (٢) جنة المأوى] (٣) فجنة فيها طير (خضر) (٤) (ترتعي) (٥) فيها أرواح الشهداء (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے جنت الماویٰ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : کہ یہ وہ جنت ہے جس میں سبز پرندے ہیں کہ ان میں شہداء کی روحیں ہوں گی۔
حدیث نمبر: 20576
٢٠٥٧٦ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى أنا شيبان (عن فراس) (١) عن عطية عن أبي ⦗٦٣⦘ (سعيد) (٢) عن نبي اللَّه ﷺ (٣) قال: "المجاهد في سبيل اللَّه مضمون على اللَّه (إما) (٤) أن (يكفته) (٥) إلى مغفرته ورحمته، وإما أن يرجعه بأجر وغنيمة، ومثل المجاهد في سبيل اللَّه كمثل الصائم (٦) القائم لا (يفتر) (٧) حتى يرجع" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ اللہ کے رستے میں جہاد کرنے والے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذمہ لیا ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی مغفرت اور رحمت عطا فرمائیں گے یا وہ اجر اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لوٹ آئے گا۔ اللہ کے رستے میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو دن کو روزہ رکھے اور رات کو قیام کرے اور اپنے ان اعمال میں کوئی سستی نہ برتے۔
حدیث نمبر: 20577
٢٠٥٧٧ - حدثنا يزيد بن هارون أنا (حريز) (١) (بن) (٢) عثمان نا أبو منيب (الجرشي) (٣) أن رجلًا نزل على تميم وسافر معه فرآه قصرّ في السفر عما كان عليه في أهله فقال: رحمك اللَّه، أراك قد قصرت عما كنت عليه في أهلك؟ فقال: أو لا يكفيني أن (يكون) (٤) لي أجر صائم وقائم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو منیب جرشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا اور ان کے ساتھ اللہ کے راستے میں سفر پر نکلا۔ سفر میں نکل کر اس نے اپنے معمول کی عبادت سے کم عبادت کی۔ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اللہ تم پر رحم فرمائے ! تم نے اپنے معمول سے کم عبادت کیوں کی ؟ اس نے کہا : اس لیے کہ اللہ کے راستے میں نکلنے کی وجہ سے مجھے دن کو روزہ رکھنے والوں اور رات کو قیام کرنے والوں کے برابر ثواب مل رہا ہے وہ میرے لیے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 20578
٢٠٥٧٨ - حدثنا يزيد بن هارون أنا أبو هلال نا محمد بن سيرين قال: غارت (خيل) (١) (للمشركين) (٢) على سرح المدينة فخرج رسول اللَّه ﷺ وجاء أبو قتادة، ⦗٦٤⦘ وقد رجّل شعره فقال رسول اللَّه ﷺ: "إني لأرى شعرك (حبسك) (٣)؟ " فقال: لآتينك برجل سلم، قال: (و) (٤) كانوا يستحبون أن يوفروا شعورهم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مشرکین کے گھڑ سواروں نے مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کردیا۔ حضور رضی اللہ عنہان کو بھگانے کے لیے روانہ ہوئے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ تھوڑی دیر بعد آئے انہوں نے بالوں پر کنگھی کی ہوئی تھی۔ حضور رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ شاید تمہارے بالوں نے تمہیں روکے رکھا۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں آٔپ کے پاس ایک آدمی قیدی بنا کر لاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ بالوں کو درست رکھنا پسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 20579
٢٠٥٧٩ - حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن أبي حصين عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: لأن يكون لي ابن مجاهد في سبيل اللَّه أحب إلي من مائة ألف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا ایک بیٹا میرے نزدیک ایک لاکھ بیٹوں سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 20580
٢٠٥٨٠ - حدثنا وكيع نا أبو الأشهب عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "قال ربكم: من خرج مجاهدًا في سبيلي ابتغاء وجهي فأنا له ضامن، إن أنا قبضته في وجهه أدخلته الجنة، وإن أنا [(أرجعته) (١) أرجعته] (٢) بما أصاب من أجر وغنيمة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے جو شخص میرے راستے میں مجھے راضی کرنے کے لیے نکلے میں اس کا ضامن ہوں کہ اگر میں نے اس کی جان لے لی تو میں اسے جنت میں داخل کروں گا اور اگر میں اسے واپس لے آیا تو میں اسے اجر اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لاؤں گا۔
حدیث نمبر: 20581
٢٠٥٨١ - حدثنا (وكيع ثنا) (١) مالك بن مغول وسفيان عن سلمة بن (كهيل) (٢) عن أبي الزعراء قال: قال عبد اللَّه: ليأتين على الناس زمان يغبط الرجل فيه (بقلة حاذه) (٣) كما (يغبط) (٤) بكثرة ماله وولده، فقالوا: يا (أبا) (٥) عبد الرحمن! فما ⦗٦٥⦘ (خير) (٦) مال الرجل يؤمئذ؟ قال: فرس صالح، وسلاح صالح، يزولان مع العبد حيث زال (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں اہل و عیال کی کمی پر اسی طرح فخر کیا جائے گا جیسے اہل و عیال کی زیادتی پر فخر کیا جاتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا : اے ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ ! اس دن آدمی کا بہترین مال کیا چیز ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا : عمدہ گھوڑا اور عمدہ ہتھیار جو ہر جگہ اس کے ساتھ رہیں۔
حدیث نمبر: 20582
٢٠٥٨٢ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأعمش عن أبي (ظبيان) (١) قال: (غزا) (٢) أبو أيوب أرض الروم فمرض فقال: إذا أنا مت فإن صافقتم العدو فادفنوني تحت أقدامكم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ظبیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سرزمین روم میں جہاد کے لیے گئے اور وہیں بیمار ہوگئے۔ انہوں نے فرمایا کہ جب میں مرجاؤں اور تمہارا دشمن سے سامنا ہو تو مجھے اپنے پاؤں کے نیچے دفن کردینا۔
حدیث نمبر: 20583
٢٠٥٨٣ - حدثنا عيسى بن يونس عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: حدثني أبو سلام الدمشقي عن خالد بن زيد قال: كنت رجلًا راميًا فكان يمر بي عقبة بن عامر فيقول: يا خالد، أخرج بنا (نرمي) (١)، فلما كان ذات يوم (أبطأت) (٢) عنه فقال: يا خالد، تعال أخبرك ما قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه يدخل بالسهم الواحد ثلاثة نفر الجنة: صانعه (يحتسب) (٣) في صنعته الخير، والرامي به، (ومُنْبلُهُ) (٤) وليس اللهو إلا في ثلاث: تأديب الرجل فرسه، وملاعبته أهله ورميه بقوسه ونبله، ومن ⦗٦٦⦘ ترك الرمي بعدما علمه فهي نعمة تركها أو كفرها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک ماہر تیر انداز تھا۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ جب کبھی میرے پاس سے گزرتے تو فرماتے کہ اے خالد ! چلو آؤ تیر اندازی کرتے ہیں۔ ایک دن میں نے کچھ سستی کی تو انہوں نے فرمایا : کہ اے خالد رضی اللہ عنہ ! آؤ میں تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سناتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ اس کے بنانے والے کو اگر اس نے اس کے بنانے میں خیر کا ارادہ کیا۔ اس کے چلانے والے کو اور اس کے سیدھا کرنے والے کو۔ دل لگی کے تین کام ایسے ہیں جن میں ثواب ملتا ہے۔ ایک آدمی کا اپنے گھوڑے کو سدھانا، دوسرا آدمی کا اپنی بیوی سے صحبت کرنا اور تیسرا کمان سے تیر پھینکنا اور اس کو سیدھا کرنا۔ جس شخص نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اسے چھوڑ دیا۔ اس نے اس نعمت کی ناشکری کی۔
حدیث نمبر: 20584
٢٠٥٨٤ - حدثنا عيسى بن يونس بن أبي إسحاق أخبرني أبي عن رجال من بني سلمة قالوا: لما صرف معاوية عينه التي (تمر) (١) على قبور الشهداء، (فأجريت) (٢) عليهما -يعني (على) (٣) قبر عبد اللَّه بن (عامر) (٤) بن (حرام) (٥) وعلى قبر عمرو ابن (الجموح) (٦) - (فبرز) (٧) قبراهما (فاستصرخ) (٨) عليهما (فأخرجناهما) (٩) (يتثنيان) (١٠) تثنيًا كأنهما ماتا بالأمس، عليهما بردتان قد (غطي) (١١) بهما على ⦗٦٧⦘ (وجهيهما) (١٢)، وعلى أرجلهما شيء من نبات الأرض (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسحاق بنو سلمہ رحمہ اللہ کے کچھ آدمیوں سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چشمے کا پانی احد کے شہداء کی قبروں کی طرف آگیا۔ اس کی وجہ سے حضرت عبدا للہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کی قبر ظاہر ہوگئی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ ان حضرات کی قبروں کو کسی دوسری جگہ منتقل کردیا جائے۔ جب ہم نے ان حضرات کے مبارک جسموں کو قبروں سے نکالا تو وہ اس طرح تازہ تھے جیسے کل ہی ان کا انتقال ہوا ہو۔ ان کے چہرے والے حصوں کو چادر سے اور پاؤں کو اذخر نامی گھاس سے ڈھانپا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 20585
٢٠٥٨٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأسود بن قيس عن (نبيح) (١) عن جابر قال: قال لي (٢) أبي عبد اللَّه: أي بُني، لولا نُسيّات أخلفهن من بعدي من (بنات) (٣) وأخوات (لأحببت) (٤) أن أقدمك أمامي، ولكن كن في (نظاري) (٥) المدينة قال: فلم ألبث أن جاءت بهما عمتي قتيلين -يعني أباه وعمه- قد (عرضتهما) (٦) على بعير (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ اے میرے بیٹے ! اگر مجھے ان بچیوں کی فکر نہ ہوتی تو میں میدان جنگ میں تمہیں اپنے سے پہلے بھیجتا، لیکن ان کی دیکھ بھال کے لیے تم یہاں مدینہ میں رہ جاؤ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ دنوں بعد میری پھوپھی میرے والد اور میرے چچا کی نعشوں کو ایک اونٹ پر لاد کرلے آئیں۔
حدیث نمبر: 20586
٢٠٥٨٦ - حدثنا وكيع (عن) (١) سفيان عن سالم عن سعيد بن جبير: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾، قال: لما أصيب حمزة بن عبد المطلب ومصعب بن عمير يوم أحد قالوا: ليت إخواننا يعلمون ما أصبنا من الخير، كي يزدادوا (رغبة) (٢) فقال اللَّه: أنا أبلغ عنكم فنزلت: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (١٦٩) فَرِحِينَ﴾ إلى ⦗٦٨⦘ قوله: (﴿الْمُؤْمِنِينَ﴾) (٣) (٤) [آل عمران: ١٦٩ - ١٧٠، ١٧١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی آیت : : ” جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل کر دئیے جائیں انہیں مردہ شمار نہ کرو، وہ زندہ ہیں اور انہیں اللہ کے یہاں رزق دیا جاتا ہے۔ “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب غزوہ احد میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے تو انہوں نے شہادت کے بعد کہا کہ کاش ہمارے بھائیوں کو اس خیر کا علم ہوجائے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں ان تک تمہارا یہ پیغام پہنچاتا ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ فَرِحِینَ } سے لے کر { المؤمنین } (آل عمران : ١٦٩) تک آیت نازل فرمائی۔
حدیث نمبر: 20587
٢٠٥٨٧ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن (سعيد) (١) (بن جبلة) (٢) عن طاوس أن النبي ﷺ قال: "إن اللَّه بعثني بالسيف بين يدي الساعة، (وجعل) (٣) رزقي (٤) تحت ظل رمحي، وجعل الذل والصغار على من خالفني، ومن تشبه بقوم فهو منهم" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت سے پہلے مجھے تلوار دے کر بھیجا ہے، اللہ نے میرے رزق کو میرے نیزے کے نیچے رکھا ہے، میرے مخالفت کرنے والے کا مقدر ذلت اور رسوائی ہے، جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرلی وہ ان میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 20588
٢٠٥٨٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن سماك عن (عبد) (١) اللَّه بن (شداد) (٢) أن رسول اللَّه ﷺ قال (لسعد) (٣) بن معاذ وهو يكيد بنفسه: "جزاك اللَّه خيرا من سيد قوم، فقد (صدقت) (٤) اللَّه ما وعدته، واللَّه صادقك ما وعدك" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ حالت نزع میں تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا : اے قوم کے سردار ! اللہ تجھے بہترین بدلہ عطا فرمائے، تو نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کر دکھایا اور اللہ نے تجھ سے جو وعدہ کیا ہے اللہ اسے بھی سچا کر دکھائے گا۔
حدیث نمبر: 20589
٢٠٥٨٩ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون عن محمد قال: جاءت (كتيبة) (١) من قبل (المشرق) (٢) (٣) من (كتائب) (٤) الكفار، فلقيهم رجل من الأنصار فحمل عليهم فخرق الصف حتى خرج ثم (كر) (٥) راجعًا، (فصنع) (٦) (مثل) (٧) ذلك مرتين أو ثلاثًا، فإذا سعد بن هشام (٨) (فذكر) (٩) ذلك لأبي هريرة فتلا هذه الآية: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ﴾ [البقرة: ٢٠٧] (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ کفار کا ایک لشکر مشرق کی طرف سے آیا تو انصار کے ایک آدمی نے ان پر حملہ کیا اور ان کی صفوں کو چیرتا ہوا دوسری طرف سے نکل گیا، پھر پیچھے سے ان پر حملہ آور ہوا اور ان کی صفوں کو چیرتا ہوا باہر نکل آیا۔ اس نے دو یا تین مرتبہ ایسا کیا، جب دور سے دیکھا گیا تو وہ حضرت سعد بن ہشام تھے۔ اس بات کا ذکر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی : : کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا کی خاطر اپنے نفس کو فروخت کردیتے ہیں۔ (البقرۃ : ٢٠٧)
حدیث نمبر: 20590
٢٠٥٩٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبيه (عن جده) (١) (عبد الرحمن) (٢) بن عوف (أنه) (٣) أتي بطعام قال شعبة: أحسبه كان صائمًا، ⦗٧٠⦘ (فقال) (٤) عبد الرحمن: قتل حمزة (ولم) (٥) (نجد) (٦) ما (نكفنه) (٧) وهو خير (مني) (٨)، وقتل مصعب بن عمير وهو خير مني، ولم (نجد) (٩) ما (نكفنه) (١٠)، (و) (١١) قد أصبنا ما أصبنا، (قال شعبة) (١٢): (أو) (١٣) قال: أعطينا منها (ما أعطينا) (١٤) ثم قال عبد الرحمن: إني لأخشى أن تكون قد عجلت لنا طيباتنا في الدنيا، قال شعبة: وأظنه قام (ولم) (١٥) يأكل (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہایک مرتبہ روزے سے تھے، ان کے پاس کھانا لایا گیا تو انہوں نے فرمایا : کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ان کو کفنانے کے لیے ہمارے پاس کپڑا نہیں تھا ، حالانکہ وہ مجھ سے بہتر تھے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ان کو کفنانے کے لیے بھی ہمارے پاس کپڑا نہیں تھا حالانکہ وہ بھی مجھ سے بہتر تھے۔ اب دنیا کا بہت سا مال و متاع ہمارے قبضہ میں آگیا ہے ۔ اس کے بعد حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے ڈر ہے کہ ہمیں ہمارا اجر دنیا ہی میں نہ دے دیا گیا ہو۔ حضرت شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں وہ اٹھ گئے اور انہوں نے کھانا نہیں کھایا۔
حدیث نمبر: 20591
٢٠٥٩١ - حدثنا وكيع بن الجراح نا كهمس عن سيار بن (منظور) (١) عن أبيه قال: حدثني (ابن) (٢) (عبد اللَّه) (٣) بن سلام قال: تجهزت غازيًا فلما وضعت رجلي في رجلي في (الغرز) (٤) قال لي أبي: يا بني اجلس! قلت: ألا كان هذا قبل ⦗٧١⦘ أن (أتجهز) (٥) وأنفق؟ قال: أردت أن يكتب لي أجر غاز، وإنها كربة تجيء من هاهنا وأشار بيده نحو الشام -فإن أدركتها فسوف تراني كيف (أفعل) (٦)، وإن لم أدركها (فعجل) (٧) (إليها) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں جہاد کی تیاری کر کے نکلنے لگا تو میرے والد نے مجھ سے فرمایا : ٹھہر جاؤ اے میرے بیٹے ! میں نے کہا آپ مجھے پہلے نہیں روک سکتے تھے جب میں نے تیاری نہیں کی تھی اور اس پر روپے خرچ نہیں کیے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں چاہتا تھا کہ تمہارے لیے مجاہد کا اجر لکھ دیا جائے۔ انہوں نے شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرف سے ایک مصیبت آنے والی ہے اگر میں نے اسے پا لیا تو تم دیکھو گے میں اس میں کیا کرتا ہوں اور اگر میں اسے نہ پاسکا تو تم جھپٹ کر اس کی طرف لپکنا۔
حدیث نمبر: 20592
٢٠٥٩٢ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عبيد بن الحسن عن ابن (معقل) (١) قال: أراد ابن لعبد اللَّه بن سلام (الغزو) (٢) (فأشرف) (٣) إليه أبوه فقال: يا بني لا تفعل، فإن (صريخ) (٤) الشام إذا (جاء بلغ) (٥) كل مسلم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے جہاد کے لیے جانے کا ارادہ کیا تو حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیٹا ابھی نہ جاؤ، شام سے ایک جنگ آنے والی ہے جو ہر مسلمان کو اپنی زد میں لے گی۔
حدیث نمبر: 20593
٢٠٥٩٣ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: سمعت خالد بن الوليد قال: (اندقت) (١) في يدي يوم مؤتة (تسعة) (٢) (أسياف) (٣) فما (صبرت) (٤) في ⦗٧٢⦘ يدي إلا (صفيحة) (٥) يمانية (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ موتہ میں جو تلواریں میرے ہاتھ سے ٹوٹیں۔ صرف ایک یمنی مضبوط تلوار باقی رہی جس نے میرا ساتھ دیا۔
حدیث نمبر: 20594
٢٠٥٩٤ - حدثنا يزيد بن هارون أنا المسعودي عن أبي إسحاق قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ يسأله (أن) (١) (يعطيه) (٢) سيفًا [فقال لعلي: "إن (أعطيتك) (٣) سيفًا تقوم به في (الكيول) (٤) "، قال: فأعطاه رسول اللَّه ﷺ سيفًا] (٥) فجعل يضرب به المشركين وهو يقول: إني (امرء) (٦) (بايعني) (٧) خليلي … ونحن عند أسفل (النخيل) (٨) (ألا) (٩) (أقوم) (١٠) الدهر في (الكيول) (١١) … أضرب بسيف اللَّه والرسول (١٢)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ مجھے ایک تلوار دیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں تلوار دوں لیکن تم پچھلی صف میں کھڑے ہو جاؤ۔ حضور ﷺ نے اس کو تلوار دی وہ مشرکین سے لڑائی کرتا جاتا تھا، ساتھ ساتھ یہ شعر پڑھتا تھا۔ : میں وہ شخص ہوں کہ مجھ سے میرے خلیل نے کھجور کے درختوں کے نیچے کھڑے ہو کر یہ وعدہ لیا ہے کہ میں پچھلی صف میں نہ کھڑا رہوں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی تلوار کو لے کر دشمنوں سے جنگ کروں۔
حدیث نمبر: 20595
٢٠٥٩٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأعمش عن (خيثمة) (١) عن عبد اللَّه بن (عمرو) (٢) قال: يأتي على الناس (زمان) (٣) لا يبقى مؤمن إلا (لحق) (٤) بالشام (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضڑت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ہر مومن شام چلا جائے گا۔
حدیث نمبر: 20596
٢٠٥٩٦ - حدثنا يزيد بن هارون نا جرير بن حازم عن الزبير بن (الخريت) (١) عن عكرمة عن ابن عباس قال: كان فرض على المسلمين أن يقاتل الرجل منهم العشرة من المشركين، قوله: ﴿إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا﴾، فشق ذلك عليهم، فأنزل اللَّه التخفيف فجعل على (الرجل) (٢) يقاتل الرجلين قوله تعالى: ﴿إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ﴾ [الأنفال: ٦٥]، فخفف (عنهم ذلك) (٣) ذلك ونقصوا من النصر بقدر ذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلے مسلمانوں پر اس بات کو فرض قرار دیا گیا تھا کہ ایک آدمی دس مشرکوں سے قتال کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اگر تم میں بیس صبر کرنے والے ہیں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو ہیں تو وہ ہزار پر غالب آئیں گے۔ یہ بات مسلمانوں پر دشوار گذری تو اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما دی کہ ایک آدمی دو مشرکوں سے قتال کرے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ : اگر تم میں سو صبر کرنے والے ہیں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے۔ بعد میں ان پر اس میں بھی تخفیف کردی گئی اور مدد میں اسی کے بقدر کمی کردی گئی۔
حدیث نمبر: 20597
٢٠٥٩٧ - [حدثنا عيسى بن يونس عن أبي بكر الغساني عن حبيب بن ⦗٧٤⦘ (عبيد) (١) قال: قال كعب (٢): أحب البلاد إلى اللَّه الشام، وأحب الشام إليه القدس، وأحب القدس إليه جبل بنابلس، ليأتين على الناس زمان يتماسحونه بينهم بالحبال] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو سب ملکوں سے پسندیدہ ملک شام ہے، شام میں سب سے محبوب جگہ القدس ہے۔ قدس میں سب سے محبوب جگہ جبل نابلس ہے۔ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ رسیوں کے ذریعے لین دین کریں گے۔
حدیث نمبر: 20598
٢٠٥٩٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن أبي بكر عن أبي الزاهرية قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "معقل المسلمين من الملاحم دمشق، ومعقلهم من (الدجال) (١) بيت المقدس ومعقلهم من ياجوج وماجوج بيت (الطور) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زاھریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنگوں کے زمانے میں مسلمانوں کا ٹھکانہ دمشق، دجال کے مقابلے میں ان کا ٹھکانہ بیت المقدس اور یاجوج ماجوج کے مقابلے میں ان کا ٹھکانہ بیت الطور ہے۔
حدیث نمبر: 20599
٢٠٥٩٩ - حدثنا يحيى بن إسحاق (١) حدثني يحيى بن أيوب عن يزيد بن أبي حبيب (أن) (٢) عبد الرحمن بن (شماسة) (٣) (المهري) (٤) أخبره عن زيد بن (ثابت) (٥) قال: بينما (نحن) (٦) حول رسول اللَّه ﷺ (نؤلف) (٧) القرآن من ⦗٧٥⦘ (الرقاع) (٨) (إذ) (٩) قال: "طوبى للشام، (طوبى للشام) (١٠) "، قيل يا رسول اللَّه: (ولماذا؟) (١١) (قال) (١٢): "لأن (ملائكة) (١٣) الرحمن باسطة أجنحتها عليها" (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثا بت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور ﷺ کے گرد بیٹھے قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا : شام کے لیے خوشخبری، شام کے لیے خوشخبری۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! شام کے لیے خوشخبری کیوں ہے ؟ آپ نے فرمایا : کہ شام پر فرشتوں نے اپنے پر پھیلا رکھے ہیں۔
حدیث نمبر: 20600
٢٠٦٠٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن حسان بن عطية قال: (مال) (١) مكحول وابن (أبي) (٢) زكريا إلى خالد بن (معدان) (٣) وملت معهما (فحدثنا) (٤) عن جبير (بن) (٥) نفير قال: قال لي جبير: انطلق بنا (إلى) (٦) (ذي) (٧) (مخمر) (٨) وكان (رجلًا) (٩) من أصحاب النبي ﷺ فانطلقت معه فسأله ⦗٧٦⦘ جبير (عن الهدنة) (١٠) فقال: سمعت (رسول) (١١) اللَّه ﷺ (١٢) يقول: " (ستصالحكم) (١٣) الروم (١٤) (ثم) (١٥) (تغزون) (١٦) (١٧) أنتم (وهم) (١٨) (عدوا) (١٩) فتنصرون (وتغنمون) (٢٠) وتسلمون ثم (تنصرفون) (٢١) حتى (تنزلوا) (٢٢) (بمرج) (٢٣) ذي تلول مرتفع، فيرفع رجل من أهل النصرانية الصليب فيقول: [غلب الصليب! فيغضب (رجل) (٢٤) من المسلمين، فيقوم] (٢٥) إليه فيدقه، فعند ذلك (تغدر) (٢٦) الروم (ويجمعون) (٢٧) ⦗٧٧⦘ (للملحمة) (٢٨) (٢٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسان بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں، حضرت مکحول رحمہ اللہ اور حضرت ابن ابی زکریا رحمہ اللہ ، حضرت خالد بن معدان رحمہ اللہ کی طرف گئے۔ انہوں نے ہمیں حضرت جبیر بن نفیر رحمہ اللہ کے حوالے سے ایک حدیث سنائی کہ حضرت جبیر رحمہ اللہ نے مجھ سے فرمایا کہ چلو ایک صحابی حضرت ذوخمر کے پاس جائیں۔ میں جبیربن قصیر کے ساتھ ان کے پاس حاضر ہوا۔ حضرت جبیر نے ان سے ” ہدنہ “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اہل روم عنقریب تم سے امن والی صلح کریں گے، پھر تم اور وہ دشمنوں کے ساتھ جنگیں کرو گے، ا ن جنگوں میں تم کامیاب ہو جاؤ گے اور تمہیں مال غنیمت اور سلامتی حاصل ہوگی، پھر تم ٹیلوں والی ایک سر زمین پر ٹھہرو گے تو وہاں ایک عیسائی صلیب کو بلند کر کے کہے گا کہ صلیب غالب آگئی۔ اس پر مسلمانوں کے ایک آدمی کو غصہ آئے گا اور وہ اس صلیب کو توڑ دے گا۔ اس موقع پر اہل روم صلح ختم کردیں گے اور لڑائی کے لیے جمع ہوں گے۔
حدیث نمبر: 20601
٢٠٦٠١ - [حدثنا عيسى بن يونس عن أبي بكر بن عبد اللَّه عن أشياخه قال: قال عمر: وفروا الأظفار في أرض العدو، فإنها سلاح] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ میں ناخن لمبے رکھو کیونکہ یہ بھی ایک ہتھیار ہے۔
حدیث نمبر: 20602
٢٠٦٠٢ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن حسان بن عطية عن أبي الدرداء قال: إذا عرض عليكم الغزو فلا تختاروا (أرمينية) (١) (فإن بها) (٢) (عذابًا) (٣) (من) (٤) عذاب (اللَّه) (٥) (القر) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہیں جہاد کی پیش کش کی جائے تو ارمینیہ کا انتخاب مت کرنا کیونکہ وہاں اللہ کی طرف سے سخت سردی کا عذاب نازل ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 20603
٢٠٦٠٣ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: غزونا أرض الروم ومعنا حذيفة، وعلينا رجل من قريش، فشرب الخمر (فأردنا) (١) أن (نحدّه) (٢) فقال حذيفة: تحدون أميركم وقد ⦗٧٨⦘ (دنوتم) (٣) من عدوكم (فيطمعون) (٤) فيكم، فقال: (لأشربنها) (٥) وإن كانت محرمة، (ولأشربن) (٦) على (رغم) (٧) من (رغم) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سرزمین روم میں جہاد کیا، اس وقت ہمارا امیر ایک قریشی تھا، اس نے شر اب پی تو ہم نے اس پر حد جاری کرنا چاہی۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تم اپنے امیر پر حد جاری کرو گے حالانکہ تم دشمن کے قریب ہو، اس طرح تو دشمن تم پر چڑھ دوڑے گا ؟ اس امیر نے کہا کہ میں ضرور شراب پیوں گا اگرچہ یہ حرام ہے اور میں ضرور شراب پیوں گا خواہ کسی کو برا لگے۔
حدیث نمبر: 20604
٢٠٦٠٤ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن (المطعم) (١) (بن المقدام) (٢) عن أبي هريرة قال: إذا (رابطت) (٣) ثلاثًا فليتعبد المتعبدون ما شاؤوا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر یہی تین دن جہاد کی تیاری میں گذار لوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ عبادت کرنے والے کتنی عبادت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 20605
٢٠٦٠٥ - حدثنا عيسى بن يونس عن هشام بن (الغاز) (١) عن مكحول عن سلمان قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "رباط يوم في سبيل اللَّه خير من صيام شهر وقيامه، ومن مات مرابطًا أجير من فتنة القبر، وجرى عليه صالح عمله إلى يوم القيامة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ایک دن جہاد کی تیاری میں گذارنا ایک مہینے کے روزے اور ایک مہینے کی عبادت سے بہتر ہے۔ جس شخص کا انتقال جہاد کی تیاری میں ہوا اسے قبر کے عذاب سے بچایا جائے گا اور اس کے لیے نیک اعمال کا ثواب قیامت تک جاری رہے گا۔
حدیث نمبر: 20606
٢٠٦٠٦ - حدثنا عيسى بن يونس عن هشام بن (الغاز) (١) قال: حدثني عطاء (الخراساني) (٢) عن أبي هريرة بمثله إلا أنه قال: ساحل البحر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 20607
٢٠٦٠٧ - حدثنا يحيى بن إسحاق عن ليث بن سعد عن أبي عقيل عن أبي صالح مولى عثمان بن عفان عن عثمان أنه قال على المنبر: أيها (الناس) (١) سمعت (من) (٢) رسول اللَّه ﷺ حديثًا (كتمتكموه) (٣) كراهية (أن) (٤) يفرقكم عني، سمعت (٥) رسول اللَّه ﷺ يقول: "رباط يوم (في سبيل اللَّه) (٦) خير من (٧) ألف يوم فيما سواه من المنازل، (فلختر) (٨) كل (امرئ) (٩) (لنفسه) (١٠) ⦗٨٠⦘ ما شاء" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی جو میں نے تم سے اس لیے چھپائی تاکہ تم مجھ سے دور نہ چلے جاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں سرحدوں کی ایک دن کی نگرانی دوسری جگہوں پر ایک ہزار دن کی نگرانی سے بہتر ہے، پس ہر شخص اپنے لیے جو چاہے منتخب کرلے۔
حدیث نمبر: 20608
٢٠٦٠٨ - حدثنا وكيع قال: نا داود بن قيس عن (عمرو) (١) بن عبد الرحمن العسقلاني عن أبي هريرة قال: تمام الرباط أربعون يومًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رباط چالیس دن کا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 20609
٢٠٦٠٩ - [حدثنا عيسى بن (يونس عن) (١) معاوية بن يحيى الصدفي عن يحيى بن الحارث (الذماري) (٢) عن مكحول قال: (قال) (٣) رسول اللَّه ﷺ: " (تمام) (٤) الرباط أربعون يومًا] (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رباط (سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری) چالیس دن کا ہوتا ہے۔
…