کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
حدیث نمبر: 20530
٢٠٥٣٠ - حدثنا وكيع نا سفيان عن منصور عن أبي الضحى عن مسروق: ﴿أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ﴾ [الحديد: ١٩]، قال: هذه للشهداء خاصة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { أُولَئِکَ ہُمَ الصِّدِّیقُونَ وَالشُّہَدَائُ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ شہداء کے ساتھ خاص ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20530
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20530، ترقيم محمد عوامة 19727)
حدیث نمبر: 20531
٢٠٥٣١ - (١) [حدثنا وكيع نا سفيان عن برد عن مكحول قال: للشهداء (خاصة) (٢)] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شہداء کے ساتھ خاص ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20531
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20531، ترقيم محمد عوامة 19728)
حدیث نمبر: 20532
٢٠٥٣٢ - حدثنا وكيع نا سفيان عن برد عن مكحول قال: (للشهيد) (١) ست ⦗٤٢⦘ خصال يوم القيامة، يؤمن من عذاب (اللَّه) (٢)، ومن الفزع الأكبر، ويشفع في كذا وكذا من أهل بيته، ويَحلى (حلية) (٣) الأيمان، ويَرى مقعده من الجنة، ويُغفر له كل ذنب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شہید کو قیامت کے دن چھ انعام ملیں گے وہ اللہ کے عذاب سے مامون رہے گا۔ B وہ بڑے خوف (فزع اکبر) سے محفوظ رہے گا۔ C وہ اپنے گھر والوں میں سے اتنے اتنے لوگوں کی شفاعت کرے گا۔ D اسے ایمان کا زیور پہنایا جائے گا۔ E وہ جنت میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لے گا۔ F اس کے ہر گناہ کو معاف کردیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20532
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20532، ترقيم محمد عوامة 19729)
حدیث نمبر: 20533
٢٠٥٣٣ - حدثنا أبو بكر (١) (بن) (٢) عياش عن أبي إسحاق عن (علقمة) (٣) قال: غزوة لمن قد حج خير من عشر حجات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص حج کرچکا ہو اس کا ایک غزوہ دس حج کرنے سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20533
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20533، ترقيم محمد عوامة 19730)
حدیث نمبر: 20534
٢٠٥٣٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن مسروق قال: سألت ابن مسعود عن هذه الآية: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [آل عمران: ١٦٩]، فقال: أما إنا قد سألنا عن ذلك (١): أرواحهم (طير) (٢) خضر تسرح في الجنة في أيها (شاءت) (٣)، [ثم تأوي إلى قناديل معلقة (بالعرش) (٤)] (٥) (٦) فبينما هم كذلك (إذ اطلع) (٧) عليهم (ربك) (٨) ⦗٤٣⦘ فقال: سلوني (ما شئتم) (٩) فقالوا: يا ربنا، وماذا نسألك (و) (١٠) نحن نسرح في الجنة في أيها شئنا! قال [: فبينما هم كذلك إذ اطلع عليهم ربهم اطلاعة فقال: سلوني (١١) ما شئتم! فقالوا: يا ربنا (و) (١٢) ماذا نسألك ونحن نسرح في الجنة (في) (١٣) أيها شئنا! قال: فبينما هم كذلك إذ اطلع عليهم (ربهم) (١٤) اطلاعة فقال: سلوني ما شئتم! فقالوا: (يا) (١٥) ربنا (و) (١٦) ماذا نسألك ونحن نسرح في الجنة في أيها شئنا! (قال) (١٧)] (١٨): فلما (رأوا) (١٩) أنهم (لن يتركوا) (٢٠) قالوا: نسألك (أن) (٢١) ترد أرواحنا في أجسادنا (إلى الدنيا) (٢٢) حتى نقتل في سبيلك، (قال) (٢٣): فلما رأى أنهم لا يسألون إلا هذا تركهم (٢٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں سوال کیا : { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ } انہوں نے فرمایا کہ ہم نے اس بارے میں حضور ﷺ سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں ہوتی ہیں اور جنت میں جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی پھرتی ہیں۔ پھر وہ عرش سے لٹکے ہوئے قنادیل پر بیٹھی ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے جو تم چاہتے ہو وہ مانگو، وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم آپ سے اور کیا مانگیں ہم جنت میں سیر کر رہے ہیں اس کے علاوہ ہمیں اور کیا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم مجھ سے جو چاہتے ہو مانگو۔ وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم تجھ سے کیا مانگیں، ہم جنت میں سیر و تفریح کر رہے ہیں، اس کے علاوہ ہمیں کس چیز کی خواہش ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمائے گا کہ تم جو چاہتے ہو مجھ سے مانگو۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہم آپ سے کیا مانگیں، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں سیر کرتے ہیں ہمیں اور کیا چاہیے، پھر جب وہ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ضرور کچھ دینا چاہتے ہیں تو وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں واپس لوٹا دے تاکہ ہم جا کر تیرے راستے میں جہاد کریں۔ جب اللہ تعالیٰ دیکھیں گے کہ وہ جنت کی کوئی چیز مانگ ہی نہیں رہے تو اللہ تعالیٰ انہیں ان کے حال میں چھوڑ دیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20534
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٨٧)، والترمذي (٣٠١١)، وابن ماجه (٢٨٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20534، ترقيم محمد عوامة 19731)
حدیث نمبر: 20535
٢٠٥٣٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن سالم بن أبي الجعد عن شرحبيل بن السمط قال: قلنا لكعب بن مرة: حدثنا يا كعب عن رسول اللَّه ﷺ (واحذر) (١)! فقال: سمعت رسول اللَّه ﷺ (٢) يقول: "ارموا، من بلغ (العدو) (٣) بسهم (رفعه) (٤) اللَّه به درجة"، فقال له عبد الرحمن (بن أبي النحام) (٥): يا رسول (اللَّه! و) (٦) ما الدرجة؟ قال: " (أما الدرجة) (٧) أما إنها ليست (بعتبة) (٨) (أبيك) (٩) ولكن ما بين الدرجتين مائة عام"، (١٠) يا كعب! حدثنا عن رسول اللَّه ﷺ (١١) واحذر! (قال) (١٢): سمعت رسول اللَّه ﷺ (يقول) (١٣): "من شاب في سبيل اللَّه (شيبة) (١٤) كانت له نورًا يوم القيامة، ⦗٤٥⦘ (ومن) (١٥) (رمى) (١٦) بسهم في سبيل اللَّه كان (كمن) (١٧) أعتق رقبة" (١٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شرحبیل بن سمط رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے کعب رضی اللہ عنہ ! ہمیں حضور ﷺ کی بیان کردہ کوئی حدیث سنائیں اور اللہ سے ڈریں ! حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ دشمن پر تیر چلاؤ۔ جس کا تیر دشمن کو لگ گیا اللہ تعالیٰ جنت میں اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتے ہیں۔ حضور ﷺ کا یہ ارشاد سن کر حضرت عبد الرحمن بن ابی نحام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ درجہ کتنا ہے ! حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ درجہ تمہارے باپ کی زمین جتنا نہیں بلکہ دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ ہم نے پھر کہا اے کعب رضی اللہ عنہ ! حضور ﷺ کی بیان کردہ کوئی حدیث سنائیں اور اس سے ڈریں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کے بال اللہ کے راستے میں سفید ہوئے اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا اور جس شخص نے اللہ کے راستہ میں تیر چلایا یہ اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک غلام آزاد کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20535
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20535، ترقيم محمد عوامة 19732)
حدیث نمبر: 20536
٢٠٥٣٦ - حدثنا وكيع نا محمد بن عبد اللَّه عن ليث (١) (بن) (٢) المتوكل (المحاربي) (٣) عن مالك بن عبد اللَّه (الخثعمي) (٤) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من اغبرت قدماه في سبيل اللَّه حرمه اللَّه على النار" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن عبد اللہ خثعمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کے قدم اللہ کے راستے میں گرد آلود ہوئے اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرام کردیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20536
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20536، ترقيم محمد عوامة 19733)
حدیث نمبر: 20537
٢٠٥٣٧ - حدثنا وكيع نا سفيان نا يحيى بن عمرو بن سلمة عن أبيه قال: قال عبد اللَّه: لئن أمتع بسوط في سبيل اللَّه أحب إلي من حجة في إثر حجة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ کے راستے میں اپنا کوڑا استعمال کروں یہ مجھے حج کے بعد حج کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20537
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ يحيى بن عمرو بن سلمة صدوق، أخرجه الطبراني (٨٥٧٥) و (٩١٥٨)، وابن المبارك في الجهاد (٢٢٦)، والخطيب في الموضح ١/ ٣٣٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20537، ترقيم محمد عوامة 19734)
حدیث نمبر: 20538
٢٠٥٣٨ - حدثنا وكيع نا إسماعيل عن قيس قال: سمعت سعدًا يقول: إني أول العرب رمى بسهم في سبيل اللَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں پہلا عرب ہوں جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20538
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20538، ترقيم محمد عوامة 19735)
حدیث نمبر: 20539
٢٠٥٣٩ - حدثنا يزيد بن هارون أنا يحيى بن سعيد (عن سعيد) (١) عن عبد اللَّه بن أبي قتادة عن أبيه قال: جاء رجل إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: (يا) (٢) رسول اللَّه! (إن) (٣) قتلت في سبيل (اللَّه) (٤) كفر اللَّه به (خطاياي) (٥) فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن قتلت في سبيل اللَّه (صابرًا) (٦) محتسبا مُقبلا غير مدبر كفر اللَّه به خطاياك إلا الدين، كذا قال لي (جبريل) (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ اگر میں اللہ کے راستے میں شہید ہو جاؤں تو کیا میرے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : کہ اگر تم صبر کرتے ہوئے، ثواب کی نیت کرتے ہوئے، آگے بڑھتے ہوئے اور پیچھے نہ دیکھتے ہوئے شہید ہوئے، تو قرض کے علاوہ تمہارے سارے اعمال معاف ہوجائیں گے۔ مجھے جبریل نے یونہی بتایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20539
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٨٥)، وأحمد (٢٢٥٤٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20539، ترقيم محمد عوامة 19736)
حدیث نمبر: 20540
٢٠٥٤٠ - حدثنا زيد بن حباب عن موسى بن عبيدة نا عبد اللَّه بن أبي قتادة عن أبيه قال: لما (أقبلنا) (١) من غزوة تبوك قال رسول اللَّه ﷺ: "من لقي منكم (أحدًا) (٢) من (المتخلفين) (٣) فلا (يكلمنه) (٤) ولا (يجالسنه) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم غزوہ تبوک سے واپس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی پیچھے رہ جانے والوں سے ملے تو نہ ان سے بات کرے اور نہ ان کی ہم نشینی اختیار کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20540
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ موسى بن عبيدة ضعيف، أخرجه ابن شبة في أخبار المدينة (٤٨٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20540، ترقيم محمد عوامة 19737)
حدیث نمبر: 20541
٢٠٥٤١ - حدثنا حماد بن خالد عن معاوية بن صالح عن يونس بن سيف عن (عمير) (١) بن (٢) الأسود قال: قال عمر: عليكم بالحج فإنه عمل صالح أمر اللَّه به والجهاد أفضل منه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم پر حج لازم ہے، یہ ایک نیک عمل ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، اور جہاد حج سے افضل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20541
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ معاوية بن صالح صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20541، ترقيم محمد عوامة 19738)
حدیث نمبر: 20542
٢٠٥٤٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان (عن عبد اللَّه بن مسلم) (١) عن ابن سابط (٢) عن عبد اللَّه بن عمرو قال: في الجنة قصر يدعى (عدن) (٣)، حوله (المروج) (٤) (و (البروج) (٥) له) (٦)، خمسة آلاف باب، لا يسكنه أو لا يدخله إلا نبي أو صديق أو شهيد أو (إمام) (٧) عادل (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک محل ہے جس کا نام عدن ہے۔ اس کے اردگرد چراگاہیں ہیں۔ اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں۔ ہر دروازے سے صرف نبی، صدیق، شہید یا عادل امام ہی داخل ہوسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20542
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد اللَّه بن مسلم، وأخرجه مرفوعًا البزار (٢٤٨٧)، وأبو نعيم في فضيلة العادلين (٢٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20542، ترقيم محمد عوامة 19739)
حدیث نمبر: 20543
٢٠٥٤٣ - حدثنا أبو (بكر) (١) بن (عياش) (٢) عن عامر عن (زر) (٣) قال: قال ⦗٤٨⦘ عبد اللَّه: النعاس (عند) (٤) (القتال) (٥) أمنة من اللَّه، و (عند) (٦) (الصلاة) (٧) من الشيطان، وتلا هذه الآية: (﴿إِذْ يُغَشِّيكُمُ) (٨) النُّعَاسَ أَمَنَةً مِنْهُ﴾ (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ کے وقت نیند آنا اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی طمانیت ہے اور نماز کے وقت نیند آنا شیطان کی طرف سے ہے۔ پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی : {إذْ یُغَشَاکُم النُّعَاسَ أَمَنَۃً مِنْہُ }
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20543
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الطبراني (٩٤٥١)، ومسدد كما في المطالب (٣٥٦٢)، وعبد الرزاق (٤٢١٩)، وفي التفسير ٢/ ٢٥٦، وابن جرير ٤/ ١٤١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20543، ترقيم محمد عوامة 19740)
حدیث نمبر: 20544
٢٠٥٤٤ - حدثنا (عبد اللَّه بن) (١) بكر السهمي عن (حميد) (٢) عن أنس أن أبا طلحة كان (يرمي) (٣) بين يدي رسول اللَّه و ﷺ، والنبي (٤) خلفه (فرفع) (٥) رسول اللَّه ﷺ رأسه [(ورفع) (٦) أبو طلحة رأسه] (٧) (٨) يقول: نحري دون نحرك (يا) (٩) رسول اللَّه (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے ساتھ کھڑے تیر چلا رہے تھے اور حضور ﷺ ان کے پیچھے تھے، حضور ﷺ نے سر مبارک بلند کر رکھا تھا، اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بھی اپنا سر بلند کر کے کہہ رہے تھے کہ اے اللہ کے رسول ! میں آپ سے پہلے نشانہ بنوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20544
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٨٨٠)، ومسلم (١٨١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20544، ترقيم محمد عوامة 19741)
حدیث نمبر: 20545
٢٠٥٤٥ - حدثنا عبد (اللَّه) (١) بن بكر عن حميد عن أنس عن أبي طلحة قال: كنت فيمن (أنزل) (٢) عليه النعاس يوم أحد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں غزوہ احد کے دن ان لوگوں میں سے تھا جن پر اللہ تعالیٰ نے سکون کی نیند طاری کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20545
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٥٦٢)، ومسلم (١٨١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20545، ترقيم محمد عوامة 19742)
حدیث نمبر: 20546
٢٠٥٤٦ - حدثنا عفان نا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن الزبير (بنحو) (١) حديث أبي طلحة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی روایت حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20546
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الترمذي بعد (٣٠٠٧)، وابن جرير في التفسير ٤/ ١٤١، والبزار (٩٨٣)، والضياء في المختارة ٣ (/٨٦٧)، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ٢٧٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20546، ترقيم محمد عوامة 19743)
حدیث نمبر: 20547
٢٠٥٤٧ - حدثنا أبو أسامة نا مصعب بن سليم (١) الزهري قال: نا أنس بن مالك قال: لما بعث أبو موسى على البصرة، كان ممن بعث معه (البراء، وكان من (وزرائه)) (٢) (٣) وكان يقول له: (اختر من) (٤) (عملي) (٥) فقال البراء: (ومعطي) (٦) أنت (ما) (٧) سألتك؟ قال: نعم! قال: أما إني لا أسألك إمارة مصر ⦗٥٠⦘ ولا (جباية) (٨)، ولكن أعطني (قوسي) (٩) ((ورمحي وفرسي) (١٠) وسيفي) (١١) (ودرعي) (١٢) والجهاد في سبيل (اللَّه) (١٣)، (فبعثه) (١٤) على (جيش) (١٥) (فكان) (١٦) أول من قتل (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو بصرہ بھیجا گیا تو ان کے ساتھ جانے والوں میں حضرت براء رحمہ اللہ بھی تھے۔ وہ ان کے نائبین اور وزراء میں سے تھے ۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہان سے فرمایا کرتے تھے کہ آپ اپنے لیے کوئی عہدہ منتخب کرلیجئے۔ حضرت براء رحمہ اللہ نے ان سے فرمایا کہ میں جو آپ سے طلب کروں گا آپ مجھے دیں گیْ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جی ہاں ! حضرت براء رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں آپ سے مصر اور اس کی نواحی بستیوں کی امارت نہیں مانگتا، بلکہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ مجھے میری کمان، میرا گھوڑا، میرا نیزہ اور میری تلوار دے دیں اور مجھے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے جانے دیں۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت براء رحمہ اللہ کو ایک لشکر کے ساتھ بھیج دیا۔ وہ اس لشکر کے سب سے پہلے شہید تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20547
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ مصعب بن سليم صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20547، ترقيم محمد عوامة 19744)
حدیث نمبر: 20548
٢٠٥٤٨ - حدثنا أبو أسامة نا مصعب بن سليم (١) عن أنس قال: (تمثل) (٢) (البراء) (٣) (ببيت) (٤) من شعر فقلت له: أي (أخي) (٥) تمثلت ببيت من شعر، لعلك لا تدري لعله آخر شيء تكلمت به؟ قال: لا أموت على فراشي، لقد قتلت من المشركين والمنافقين مائة رجل إلا (رجلًا) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت براء رحمہ اللہ نے ایک شعر گنگنایا۔ میں نے ان سے کہا اے بھائی ! آپ شعر گنگنا رہے ہیں، اگر یہ آپ کا آخری کلام ہو اتو کیا بنے گا ؟ انہوں نے فرمایا : کہ میں اپنے بستر پر نہیں مروں گا، میں نے ننانوے مشرکوں اور کافروں کو قتل کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20548
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ مصعب صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20548، ترقيم محمد عوامة 19745)
حدیث نمبر: 20549
٢٠٥٤٩ - حدثنا يزيد بن هارون أنا حميد عن أنس بن مالك أن عمه غاب عن قتال بدر فقال: غبت عن أول قتال قاتله رسول اللَّه ﷺ واللَّه لئن أراني اللَّه قتال المشركين ليرين اللَّه ما أصنع؟ فلما كان يوم أحد انكشف المسلمون فقال: اللهم إني أعتذر إليك مما صنع هؤلاء، يعني المسلمين، (وأبرأ) (١) إليك مما جاء به هؤلاء، يعني المشركين، ثم تقدم فلقيه سعد (بأخراها) (٢) دون أحد، فقال (له) (٣) (سعد) (٤): أنا معك، قال سعد: فلم (أستطع) (٥) (أن) (٦) أصنع (كما) (٧) صنع ووجد فيه (بضع) (٨) وعشرون ضربة بسيف، وطعنة (برمح) (٩) و (رمية) (١٠) بسهم فكنا نقول: فيه وفي أصحابه نزلت: ﴿فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ﴾ [الأحزاب: ٢٣] (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے چچا کسی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں پہلی لڑائی میں تو شریک نہ ہوسکا، لیکن اگر اللہ نے مجھے دوبارہ کافروں سے لڑنے کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ! پھر غزوہ أحد میں جب مسلمان بکھر گئے تو میرے چچا نے کہا کہ اے اللہ ! میں مسلمانوں کے قتل پر تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور کافروں کے قتل پر براءت کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر وہ آگے بڑھے تو انہیں احد کے پاس حضرت سعد رضی اللہ عنہ ملے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جیسی لڑائی انہوں نے کی میں ایسی لڑائی کی طاقت نہ رکھتا تھا۔ ان کے جسم میں بیس سے زیادہ تلواروں، نیزوں اور تیروں کے نشان تھے۔ ہم ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے : : ” ان میں سے بعض نے تو اپنی منت کو پورا کردیا اور بعض انتظار کر رہے ہیں۔ “ (الاحزاب : ٢٣)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20549
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٨٠٥)، ومسلم (١٩٠٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20549، ترقيم محمد عوامة 19746)
حدیث نمبر: 20550
٢٠٥٥٠ - حدثنا هاشم بن القاسم (عن) (١) عبد الرحمن (بن ثوبان) (٢) حدثنا حسان بن عطية عن أبي منيب الجرشي عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (بعثت) (٣) بين يدي الساعة (بالسيف) (٤) حتى يُعْبَدَ اللَّه وحده لا (يُشْرَك) (٥) به (شيء) (٦)، و (جعل) (٧) رزقي تحت ظل رمحي، وجعل الذلة والصغار على من خالف أمري، (و) (٨) من تشبه بقوم فهو منهم" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے قیامت سے پہلے تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور ا س کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، میرا رزق میرے نیزے کے نیچے ہے ۔ میری مخالفت کرنے والے کا مقدر ذلت اور رسوائی ہے۔ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20550
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد الرحمن بن ثوبان، أخرجه أحمد (٥١١٥)، وأبو داود (٤٠٣١)، وعبد بن حميد (٨٤٨)، والبيهقي في شعب الإيمان (١١٩٩)، والطبراني في مسند الشاميين (٢١٦)، وابن الأعرابي في المعجم (١١٣٧)، والذهبي في سير أعلام النبلاء ١٥/ ١٠٩، وابن حجر في تغليق التعليق ٣/ ٤٤٥، وسيأتي ٥/ ٣٢٢ برقم [٢٠٥٨٧] عن طاووس مرسلًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20550، ترقيم محمد عوامة 19747)
حدیث نمبر: 20551
٢٠٥٥١ - حدثنا عفان نا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن مرة عن عبد اللَّه قال النبي ﷺ: "عجب رينا من رجلين: رجل (قام من) (١) فراشه (٢) ولحافه من بين (حِبِّهِ) (٣) وأهله إلى صلاته (رغبة) (٤) فيما عندي وشفقة ⦗٥٣⦘ مما عندي، ورجل غزا في سبيل اللَّه (تعالى) (٥) ففر أصحابه فعلم ما عليه في الفرار وما له في الرجوع فرجع حتى أهريق دمه فيقول اللَّه (تعالى) (٦) لملائكته: يا ملائكتي، انظروا إلى عبدي رجع حتى أهريق دمه، رغبة فيما عندي وشفقة مما عندي" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے۔ ایک وہ آدمی جو اپنی محبوب بیوی، بستر اور لحاف کو چھوڑ کر میری چاہت اور میرے انعامات کی خواہش میں نماز کے لیے کھڑا ہوجائے۔ دوسرا وہ آدمی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے، اس کے ساتھ بھاگ جائے، اسے میدان جنگ سے بھاگنے کا وبال یاد آئے اور وہ واپس جانے کے بجائے دشمن پر لپکے اور شہید ہوجائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ اے فرشتو ! میرے اس بندے کو دیکھو، یہ دشمن کی طرف میری چاہت اور میرے انعامات کی خواہش میں واپس گیا اور شہید ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20551
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ ولا يصح الاعتماد على المراسيل في توهينه، ورواية حماد عن عطاء قبل الاختلاط، أخرجه أحمد (٣٩٤٩)، وابن حبان (٢٥٥٧)، وأبو داود (٢٥٣٦)، والحاكم ٢/ ١١٢، والبيهقي ٦/ ٤٩، والطبراني (١٠٣٨٣)، وابن أبي عاصم في السنة (٥٦٩)، وأبو يعلى (٥٣٦١)، والشاشي (٨٧٦)، وأبو نعيم ٤/ ١٦٧، والبغوي ٩٣٠، والبيهقي ٩/ ٤٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20551، ترقيم محمد عوامة 19748)
حدیث نمبر: 20552
٢٠٥٥٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد اللَّه بن عبد الرحمن عن أنس قال: اتكأ رسول اللَّه ﷺ عند ابنة ملحان قال: فأغفى فاستيقظ وهو يتبسم قال: (فقالت) (١): يا رسول اللَّه (صلى اللَّه عليك) (٢) مم (ضحكك؟) (٣) قال: "من أناس من أمتي (يغزون) (٤) هذا (البحر) (٥) الأخضر، مثلهم (مثل) (٦) الملوك على الأسرة" قال: فقالت يا رسول اللَّه! ادع اللَّه أن يجعلني منهم، فقال: "اللهم اجعلها منهم"، ⦗٥٤⦘ قال: فنكحت عبادة بن الصامت فركبت مع ابنة (قرظة) (٧) فلما (قفلت) (٨) وقصت بها دابتها (فقتلتها) (٩) فدفنت ثمَّ (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر ٹیک لگائے تشریف فرما تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند طاری ہوگئی، کچھ دیر بعد آپ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔ حضرت بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ سبز سمندر میں جہاد کریں گے، قیامت کے دن وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! دعا فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل فرما دے۔ حضور ﷺ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! اسے بھی ان میں شامل فرما دے۔ اس کے بعد ان کا نکاح حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوگیا۔ بعد ازیں وہ اپنے بیٹے حضرت قرظہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سوار ہو کر سمندری سفر پر روانہ ہوئیں، واپس آتے ہوئے اپنی سواری سے گر کر شہید ہوگئیں اور وہیں دفن ہوئیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20552
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٧٨٨)، ومسلم (١٩١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20552، ترقيم محمد عوامة 19749)
حدیث نمبر: 20553
٢٠٥٥٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن خالد بن (أبي) (١) مسلم عن عبد اللَّه بن عمرو قال: لئن أغزو في البحر غزوة (أحب) (٢) إلي من (أن) (٣) أنفق (قنطارًا) (٤) متقبلا في سبيل اللَّه ﷿ (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں ایک لڑائی لڑنا میرے نزدیک اللہ کے راستے میں بہت سا مال خرچ کرنے سے بہتر ہے جو قبول ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20553
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20553، ترقيم محمد عوامة 19750)
حدیث نمبر: 20554
٢٠٥٥٤ - حدثنا وكيع عن سعيد بن عبد العزيز عن علقمة بن شهاب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من لم يدرك الغزو معي فليغز في البحر، فإن (غزوة البحر) (١) أفضل من غزوتين في البر وإن شهيد (البحر له (أجر شهيدي)) (٢) (٣) البر، إن أفضل ⦗٥٥⦘ الشهداء عند اللَّه أصحاب الوكوف"، قالوا: يا رسول اللَّه ﷺ (٤) وما أصحاب الوكوف؟ قال: "قوم (تكفأ بهم) (٥) مراكبهم في سبيل اللَّه" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جسے میرے ساتھ جنگ کا موقع نہ مل سکا اسے چاہیے کہ سمندری جہاد میں حصہ لے ، کیونکہ ایک سمندری جنگ خشکی پر لڑی جانے والی دو جنگوں سے افضل ہے۔ سمندر میں شہید ہونے والے کے لیے خشکی کے دو شہیدوں کے برابر اجر ہے۔ اللہ کے نزدیک افضل شہدائ، ” اصحاب الو کو ف “ ہیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ! ” اصحاب الو کو ف “ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : کہ جن کی سواریاں الٹ جائیں اور اس سے وہ شہید ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20554
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ علقمة بن شهاب تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20554، ترقيم محمد عوامة 19751)
حدیث نمبر: 20555
٢٠٥٥٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن يحيى بن سعيد (عمّن) (١) سمع عطاء بن
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سمندری جہاد سے زندہ سلامت واپس آنے والا اس عابد کی طرح ہے جو خشکی پر لڑتے ہوئے خون میں لوٹ پوٹ ہو کر شہید ہوچکا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20555
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20555، ترقيم محمد عوامة 19752)
حدیث نمبر: 20556
٢٠٥٥٦ - يسار عن عبد اللَّه بن عمرو قال: المائد في البحر غازيًا كالمتشحط في دمه (شهيدًا) (١) في البر (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20556
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20556، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 20557
٢٠٥٥٧ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن يحيى بن سعيد أخبرني (مخبر) (٢) عن عطاء بن يسار عن عبد اللَّه بن (عمرو) (٣) قال: غزوة في البحر أفضل من عشر غزوات في البر، من جاز البحر غازيا (فكأنما) (٤) جاز الأودية كلها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سمندر کا ایک غزوہ خشکی کے دس غزوات سے افضل ہے۔ جس نے جنگ فرماتے ہوئے سندر کو عبور کیا گویا اس نے زمین کی تمام وادیوں کو عبور کرلیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20557
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20557، ترقيم محمد عوامة 19753)
حدیث نمبر: 20558
٢٠٥٥٨ - حدثنا أبو أسامة نا جرير بن حازم عن أيوب عن عكرمة قال: خرج ابن عباس غازيًا في البحر وأنا معه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سمندری جہاد پر روانہ ہوئے میں ان کے ساتھ تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20558
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20558، ترقيم محمد عوامة 19754)
حدیث نمبر: 20559
٢٠٥٥٩ - حدثنا حفص بن (غياث) (١) عن ليث عن مجاهد قال (٢): لا يركب البحر إلا حاج أو غاز أو معتمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حاجی، مجاہد اور عمرے کا ارادہ کرنے والے کے علاوہ کوئی سمندر کا سفر نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20559
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20559، ترقيم محمد عوامة 19755)
حدیث نمبر: 20560
٢٠٥٦٠ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أن عمر بن الخطاب قال: عجبت لراكب البحر و (عجبت لتاجر) (١) هجز (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے سمندری سفر کرنے والے اور تجارت کی خاطر ہجرت کرنے والے پر بہت تعجب ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20560
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20560، ترقيم محمد عوامة 19756)
حدیث نمبر: 20561
٢٠٥٦١ - حدثنا وكيع نا سفيان عن ليث عن نافع عن ابن عمر قال: لا (يسألني) (١) اللَّه عن جيش ركبوا البحر أبدًا، (يعني التغرير) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے سمندر کا سفر کرنے والے لشکر کے بارے میں سوال نہیں کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20561
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ ليث ضعيف
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20561، ترقيم محمد عوامة 19757)
حدیث نمبر: 20562
٢٠٥٦٢ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) نا (حريز) (٢) بن عثمان (عن) (٣) عبد الرحمن بن ميسرة عن أبي راشد (الحبراني) (٤) أنه وافى (المقداد) (٥) جالسًا على [تابوت من (توابيت) (٦) (الصيارفة) (٧)] (٨) وقد ⦗٥٧⦘ (فضل) (٩) عنه (عظمًا) (١٠) فقلت له: (لقد) (١١) (أعذر) (١٢) اللَّه إليك يا (أبا) (١٣) الأسود، قال: (أبت) (١٤) علينا سورة (البحوث) (١٥) يعني سورة التوبة: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: ٤١] (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
ا بو راشد حبرانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت مقداد رحمہ اللہ کے ساتھ ایک جہادی سفر میں ایک تابوت پر سوار تھا۔ ان کا جسم اتنا وزنی اور زیادہ تھا کہ تابوت سے لٹک رہا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اے ابو اسود رحمہ اللہ : اللہ تعالیٰ نے آپ جیسے لوگوں کو معذور قرار دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ سورة البراء ۃ یعنی سورۃ التوبہ کی آیت { انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاَ } نے ہمارے معذور ہونے کا انکار کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20562
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد الرحمن بن ميسرة هو أبو سلمة الشامي ثقة على الصحيح، وأبو راشد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20562، ترقيم محمد عوامة 19758)
حدیث نمبر: 20563
٢٠٥٦٣ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عباد بن عبد اللَّه بن الزبير عن أبيه عن جده قال: أخبرني أبي (الذي) (١) (أرضعني) (٢) من بني مرة، قال: كأني أنظر إلى جعفر يوم مؤتة، نزل (عن) (٣) فرس له شقراء (فعرقبها) (٤) ثم مضى فقاتل حتى قتل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے بنو مرہ کے رضاعی والد نے مجھے بتایا کہ انہوں نے جنگ مؤتہ میں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے شقراء گھوڑے سے اترے، اس کی کونچیں کاٹیں اور لہراتے ہوئے شہید ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20563
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ صرح ابن إسحاق بالتحديث عند البيهقي ٩/ ٨٧، والطبراني (١٤٦٢)، وأبي نعيم في الحلية ١/ ١١٨، وابن عساكر ٦٨/ ٨٨، وأخرجه أبو داود (٢٥٧٣)، وابن سعد ٤/ ٣٧، والحاكم ٣/ ٢٠٩، وابن الأثير ١/ ٤٢٢، والطحاوي في شرح المشكل ١٢/ ١٠٧، وابن جرير في التاريخ ٢/ ١٥١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20563، ترقيم محمد عوامة 19759)
حدیث نمبر: 20564
٢٠٥٦٤ - حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن الوليد عن أبي بكر بن عمرو بن (عتبة) (١) عن (ابن) (٢) عمر قال: أتيت على (عبد اللَّه) (٣) بن (مخرمة) (٤) صريعًا عام اليمامة فوقفت عليه فقال: يا (٥) عبد اللَّه بن عمر! هل أفطر الصائم؟ قلت: نعم! قال: (فاجعل) (٦) لي في هذا (المجن) (٧) (ماء) (٨) لعلي أفطر، (قال) (٩): فأتيت الحوض وهو مملوء دمًا فضربته (بحجفة) (١٠) (معي) (١١) ثم (اغترفت) (١٢) فيه فأتيته فوجدته قد (قضى) (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں، میں حضرت عبد اللہ بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ زخموں سے چور زمین پر پڑے تھے۔ میں ان کے پاس کھڑا ہوا تو انہوں نے پوچھا : اے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ! کیا روزے دار نے افطار کرلیا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا کہ پھر مجھے اس ڈھال میں پانی دے دو تاکہ میں افطار کرلوں۔ میں پانی لینے حوض پر گیا تو وہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے خون کو الگ کر کے پانی لیا، جب میں ان کے پاس آیا تو ان کی روح پرواز کرچکی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20564
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20564، ترقيم محمد عوامة 19760)
حدیث نمبر: 20565
٢٠٥٦٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هاشم بن هاشم سمعت سعيد بن المسيب يقول: كان سعد بن أبي وقاص أشد المسلمين بأسًا يوم أحد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے غزوہ احد میں تمام مسلمانوں سے بڑھ کر لڑائی کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20565
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20565، ترقيم محمد عوامة 19761)
حدیث نمبر: 20566
٢٠٥٦٦ - حدثنا معاوية (بن) (١) عمرو عن زائدة عن الأعمش عن أبي خالد (الوالبي) (٢) عن جابر بن سمرة قال: أول الناس رمى بسهم في سبيل اللَّه (٣) سعد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں سب سے پہلے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے تیر چلایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20566
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20566، ترقيم محمد عوامة 19762)
حدیث نمبر: 20567
٢٠٥٦٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي حبيبة عن أبي الدرداء أن رجلًا أوصى بشيء في سبيل اللَّه فقال: يعطي المجاهدين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اللہ کے راستے میں کوئی چیز خرچ کرنے کی وصیت کی تو وہ چیز مجاہدین کو دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20567
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20567، ترقيم محمد عوامة 19763)
حدیث نمبر: 20568
٢٠٥٦٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن الأعمش (عن شمر) (١) عن شهر عن أبي الدرداء قال: من صام يومًا في سبيل اللَّه كان بينه وبين النار خندق كما بين السماء والأرض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اللہ کے راستے میں ایک روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ایسی خندق بنا دیتے ہیں جس کا فاصلہ زمین و آسمان کے خلاء کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20568
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ شهر فيه ضعف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20568، ترقيم محمد عوامة 19764)
حدیث نمبر: 20569
٢٠٥٦٩ - حدثنا محمد بن بشر نا مسعر عن حبيب بن أبي ثابت عن يحيى بن جعدة قال: قال عمر: لولا أن (أسير) (١) في سبيل اللَّه، أو أضع (جنبي للَّه) (٢) في التراب، أو أجالس قومًا يلتقطون طيب الكلام كما يلتقط طيب (التمر) (٣) ⦗٦٠⦘ (لأحببت) (٤) أن أكون قد لحقت باللَّه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں اللہ کے راستے میں نہ چلوں، میں اللہ کے راستے میں اپنی پیشانی کو مٹی پر نہ رکھوں اور ان لوگوں کی ہم نشینی اختیار نہ کروں جو اچھے کلام کو اس طرح چنتے ہیں جیسے عمدہ کھجوروں کو چنا جاتا ہے تو میری خواہش ہوگی کہ میرا انتقال ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20569
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20569، ترقيم محمد عوامة 19765)