حدیث نمبر: 20490
٢٠٤٩٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي عمرو (الشيباني) (١) عن (ابن) (٢) (محيريز) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "فارس (نطحة) (٤) أو نطحتان، ثم (لا) (٥) فارس بعدها (أبدًا) (٦)، والروم ذات القرون أصحاب بحر وصخر كلما ذهب قرن خلف قرن مكانه، هيهات إلى آخر الدهر (هم) (٧) أصحابكم ما كان في العيش خير" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن محیریز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فارس مسلمانوں سے ایک یا دو مرتبہ جنگ کرے گا پھر اس کے بعد مملکت فارس کا وجود نہ رہے گا۔ روم سینگوں والا ہے وہ سمندر اور چٹانوں کے مالک لوگ ہیں۔ جب ان کا ایک سینگ ختم ہوجاتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ آخری زمانے میں یہ ختم ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 20491
٢٠٤٩١ - حدثنا بشر بن مفضل عن عمارة بن أبي حفصة عن (حجر) (١) ⦗٢٥⦘ (عن) (٢) سعيد بن جبير: ﴿فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا (مَنْ) (٣) شَاءَ﴾ [الزمر: ٦٨] (قال) (٤): هم الشهداء، (ثنية) (٥) اللَّه حول العرش (متقلدين) (٦) السيوف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے یہ آیت تلاوت کی { فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الأَرْضِ إِلاَّ مَنْ شَائَ اللَّہُ } پھر فرمایا اس آیت میں مستثنیٰ لوگوں سے مراد شہداء ہیں، وہ اللہ کے عرش کے گرد رزق پانے والے لوگ ہیں اور وہ لوگ ہیں جنہوں نے تلواریں گردن میں لٹکا رکھی ہیں۔
حدیث نمبر: 20492
٢٠٤٩٢ - حدثنا عيسى (عن) (١) صفوان بن عمرو السكسكي عن عبد الرحمن ابن (جبير بن نفير) (٢) قال: لما اشتد (حزن) (٣) أصحاب النبي ﷺ على من أصيب مع زيد يوم مؤته، قال النبي ﷺ: "ليدركن المسيح من هذه الأمة أقواما إنهم (لمثلكم) (٤) أو (خير) (٥) (ثلاث مرات)، ولن يخزي اللَّه أمة أنا أولها، والمسيح آخرها" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن جبیر بن نفیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غزوہ مؤتہ میں حضرت زید رضی اللہ عنہ کی شہادت پر جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا دکھ حد سے بڑھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اس امت کی کچھ ایسی قومیں پائیں گی جو تمہاری طرح ہیں یا تم سے بہترین (یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی) اللہ تعالیٰ اس امت کو ہر گزر بےیارومددگار نہیں چھوڑے گا جس کے شروع میں میں ہوں اور اس کے آخر میں حضرت مسیح (علیہ السلام) ہیں۔
حدیث نمبر: 20493
٢٠٤٩٣ - حدثنا وكيع نا مسعر عن أبي بكر بن حفص أن رسول اللَّه ﷺ قرأ يوم بدر: ﴿سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ (السموات) (١)﴾ [الحديد: ٢١]، قال ⦗٢٦⦘ (مسعر) (٢): أما التي (في) (٣) آل عمران وأما التي في الحديد؟ فقال (رجل) (٤) إن (فتحتم) (٥) يا (رسول اللَّه) (٦)! فما (لمن) (٧) (لقي) (٨) هؤلاء فقاتل حتى (قتل) (٩)؟ فقال: "الجنة"، (فقال) (١٠): (١١) حسبي من الدنيا، و (في يده) (١٢) تمرات فألقاها ثم تقدم (فقتل) (١٣) (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن حفص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر میں { سابقوا إلَی مَغْفِرَۃٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ } ” یعنی اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف لپکو جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔ “ (حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ یا تو یہ سورة آل عمران کی آیت تھی یا سورة الحدید کی) ۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان سن کر ابن قسحم رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے رسول ! اس شخص کا کیا بدلہ ہے جو ان کافروں سے لڑے اور شہید ہوجائے، حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس کا بدلہ جنت ہے۔ ابن قسحم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دنیا کے بدلے میں جنت میرے لیے کافی ہے۔ ان کے ہاتھ میں کچھ کھجوریں تھیں، انہوں نے کھجوریں پھینکیں، آگے بڑھے اور دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔
حدیث نمبر: 20494
٢٠٤٩٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن حبيب بن أبي ثابت عن (نعيم) (١) بن أبي هند (قال) (٢) رجل يوم القادسية: (اللهم) (٣) إن (حدية سوداءُ بذية) (٤) فزوجني اليوم من الحور العين، ثم تقدم فقتل قال: فمروا عليه وهو معانقُ رجلٍ عظيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعیم بن ابی ہند رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں ایک آدمی نے اپنی بیوی کا نام لے کر دعا کی کہ اے اللہ میری بیوی رحمہ اللہ کالی اور پستہ قد ہے، آج جنت کی کسی حور سے میری شادی کرا دے۔ پھر وہ آگے بڑھے اور شہید ہوگئے۔ بعد میں جب ساتھیوں کا ان کی نعش سے گذر ہوا تو دیکھا کہ وہ ایک بڑے پہلوان سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 20495
٢٠٤٩٥ - حدثنا وكيع نا مسعر عن (سعد) (١) (بن) (٢) إبراهيم قال: مروا على رجل يوم القادسية وقد قطعت (يداه) (٣) ورجلاه وهو (يفحص) (٤) وهو يقول: ﴿مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا﴾ [النساء: ٦٩]، فقال رجل: من أنت يا عبد اللَّه؟ قال: أنا (امرؤ) (٥) من الأنصار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں لوگوں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے ہاتھ اور پاؤں کٹے ہوئے تھے، وہ تڑپ رہا تھا اور یہ آیت پڑھ رہا تھا : : ” وہ انبیائ، صدیقین، شہداء اور صالحین میں سے ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا۔ یہ بہترین ساتھی ہیں۔ “ ایک آدمی نے اس سے پوچھا تم کون ہو ؟ اے اللہ کے بندے ! اس نے کہا کہ میں ایک انصاری ہوں۔
حدیث نمبر: 20496
٢٠٤٩٦ - حدثنا محمد بن بشر نا مسعر عن علقمة بن مرثد قال: حدثني من سمع عمر بن عبد العزيز قال: مرت امرأة (بابنها) (١) وزوجها قتيلين، فأتت النبي ﷺ فقالت: (أنت) (٢) رسول اللَّه وقد أنزل اللَّه (عليك الوحي) (٣) فإن كان (هذان) (٤) منافقين (لم نبكيهما) (٥) (ولم (ننعمهما)) (٦) (٧) (عينًا) (٨)، وإن كانا غير منافقين ⦗٢٨⦘ قلنا فيهما ما نعلم، قال: " (أجل) (٩) لم يكونا منافقين، لقد (تلقيا) (١٠) بثمار الجنة، ولقد (تباشرت) (١١) بهما الملائكة"، قال: تقول (المرأة) (١٢): (الآن أحق ألا أبكيهما) (١٣) قال: "ألا إنك معهما" (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک غزوہ میں ایک عورت کا بیٹا اور اس کا خاوند فوت ہوگیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل کی۔ اگر یہ دونوں منافق تھے تو نہ ہم ان پر روئیں گے اور نہ ان کے بارے میں آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔ اگر یہ دونوں منافق نہیں تھے تو ہمیں ان کے بارے میں کچھ بتا دیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ دونوں منافق نہیں تھے۔ انہیں جنت کے پھل پیش کیے گئے اور فرشتوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس عورت نے کہا کہ پھر تو ضروری ہے کہ میں نہ روؤں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کہ اور سنو ! تم بھی ان کے ساتھ ہوگی۔
حدیث نمبر: 20497
٢٠٤٩٧ - حدثنا محمد بن بشر نا مسعر عن عون بن عبد اللَّه قال: مر (على) (١) رجل يوم القادسية (و) (٢) قد انتثر قصبه أو بطنه، فقال لبعض من مر عليه: ضم إلي منه (أدنو) (٣) (قيد) (٤) رمح أو رمحين في سبيل اللَّه قال: فمر عليه وقد فعل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں لوگوں کا گذر ایک ایسے شخص پر ہوا جس کا پیٹ پھٹا ہو اتھا اس کی آنتیں باہر نکلی ہوئی تھیں۔ اس نے ایک آدمی سے کہا کہ میری آنتیں اندر کردو تاکہ میں اللہ کے راستے میں مزید ایک یا دو نیزوں کی مقدار آگے بڑھ سکوں۔ چناچہ اس نے ایسا کردیا۔
حدیث نمبر: 20498
٢٠٤٩٨ - حدثنا وكيع نا يزيد عن إبراهيم بن العلاء (أبي) (١) هارون (الغنوي) (٢) عن رجل (يقال) (٣) له مسلم (بن) (٤) شداد عن عبيد بن عمير عن ⦗٢٩⦘ أبي ابن كعب قال: الشهداء في قباب في رياض (بفناء) (٥) الجنة، (يبعث لهم) (٦) حوت (وثور) (٧) يعتركان، يلهون بهما، (إذا) (٨) (احتاجوا) (٩) إلى شيء (عقر) (١٠) أحدهما صاحبه فأكلوا منه، فوجدوا طعم كل شيء من الجنة (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شہداء جنت کے باغیچوں میں گنبدوں میں ہوں گے۔ ان کے سامنے ایک مچھلی اور ایک اونٹ کا تماشا ہوگا جس سے وہ لطف اندوز ہوں گے۔ جب انہیں کسی کھانے کی چیز کی ضرورت ہوگی تو ان میں سے ایک دوسرے کو مار ڈالے گا۔ وہ اسے کھائیں گے اور جنت میں موجود ہر چیز کا ذائقہ محسوس کریں گے۔
حدیث نمبر: 20499
٢٠٤٩٩ - حدثنا وكيع نا الأعمش عن مجاهد عن يزيد بن (شجرة) (١) قال: السيوف مفاتيح الجنة، فإذا تقدم الرجل إلى العدو قالت الملائكة: اللهم (انصره) (٢)، وإن (تأخر) (٣) (قالت) (٤): اللهم اغفر له، (فأول) (٥) (قطرة) (٦) تقطر من دم السيف يغفر له (بها) (٧) كل ذنب وينزل عليه حوراوان ⦗٣٠⦘ (تمسحان) (٨) الغبار عن وجهه (وتقولان) (٩): قد (آن) (١٠) لك [ويقول لهما: (وإنكما) (١١)] (١٢) قد (آن) (١٣) لكما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن شجرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تلواریں جنت کی چابیاں ہیں، جب کوئی شخص دشمن کی طرف بڑھتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں کہ یا اللہ ! ا س کی مدد فرما۔ اگر وہ پیچھے ہٹتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے اللہ ! اسے معاف فرما۔ تلوار کا وار لگنے سے ہونے والے زخم سے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اس کے لیے جنت سے دو حوریں اترتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم تیرے لیے ہیں۔ وہ ان دونوں سے کہتا ہے کہ میں تمہارے لیے ہوں۔
حدیث نمبر: 20500
٢٠٥٠٠ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة (عن) (١) النبي ﷺ سئل: أي الأعمال خير (أو) (٢) أفضل؟ قال: "إيمان باللَّه ورسوله"، قيل: ثم أي؟ قال: "الجهاد في سبيل اللَّه"، (قيل) (٣): ثم أي قال: "حج مبرور" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوا ل کیا گیا کہ کون سا عمل بہتر یا افضل ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا کہ پھر کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، پھر پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے ؟ فرمایا : مقبول حج۔
حدیث نمبر: 20501
٢٠٥٠١ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك (عن) (١) الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (أفضل الشهداء) (٣) الذين يُلْقَوْنَ في الصف (٤) ⦗٣١⦘ (فلا يلفتون) (٥) وجوههم حتى (يقتلوا) (٦)، أولئك (يتلبَّطون) (٧) في الغرف العلى من الجنة، يضحك إليهم ربك، (إن ربك) (٨) إذا ضحك إلى قوم فلا حساب عليهم" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ افضل شہداء وہ ہیں جو کسی صف میں دشمن کے خلاف برسر پیکار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے چہرے نہیں پھیرتے اور شہید ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ جنت کے بالا خانوں میں عیش کریں گے۔ ان کا رب انہیں دیکھ کر مسکرائے گا۔ تمہارا رب جس قوم کو دیکھ کر مسکراتا ہے اس سے حساب نہیں لیتا۔
حدیث نمبر: 20502
٢٠٥٠٢ - حدثنا أبو أسامة نا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: رأيت رجلًا يريد أن (يشري) (١) نفسه يوم اليرموك، (وامرأته) (٢) تناشده، قال: ردوا هذه عني، فلو أعلم أنه يصيبها الذي (أريد) (٣) ما (نفست) (٤) عليها، إني واللَّه لئن استطعت (لا يمضي) (٥) (يومٌ) (٦) (يزول) (٧) هذا من مكانه، وأشار بيده إلى جبل، فإن (غلبتم) (٨) على جسدي فخذوه، قال قيس: فمررنا عليه فرأيته بعد ذلك (قُتل) (٩) في (تلك) (١٠) المعركة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک میں ایک آدمی خود کو موت کے لیے پیش کر رہا تھا اور اس کی بیوی اسے روک رہی تھی۔ اس شخص نے کہا اسے مجھ سے دور کردو۔ جو مقصد اس وقت میرے پیش نظر ہے اس میں ا س کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ پھر اس نے ایک پہاڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرا بس چلتا تو میں اسے ایک دن میں اس کی جگہ سے ہٹا دیتا۔ اگر تم میرا جسم حاصل کرسکو تو اسے دفنا دینا۔ حضرت قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعد میں ہم نے دیکھا کہ وہ جو شخص اس جنگ کے شہداء میں پڑا ہے۔
حدیث نمبر: 20503
٢٠٥٠٣ - حدثنا أبو أسامة نا كهمس (بن الحسن) (١) عن أبي العلاء (عن ابن الأحمس) (٢) قال: قلت لأبي ذر: حديث بلغني عنك عن نبي اللَّه، قال: هات! إني لا (أخالني) (٣) (أن) (٤) (أكذب) (٥) على رسول اللَّه ﷺ بعد إذ سمعته منه، قال: قلت: ذكرت: "ثلاثة يحبهم اللَّه"، قال: سمعته وقلته! "أما (الذين يحب) (٦) اللَّه، فرجل لقي فئة فانكشفت (فئته) (٧)، فقاتل من ورائهم حتى يقتل أو يفتح اللَّه له، ورجل أسرى مع قوم حتى (يجيئون) (٨) (لأرضٍ) (٩) فنزلوا فقام يصلي حتى (أيقظهم) (١٠) (لرحيلهم) (١١)، ورجل كان له جار سوء (فيصبر) (١٢) على أذاه" (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن احمس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے آپ کا بیان کردہ ایک ارشاد نبوی ﷺ پہنچا ہے۔ انہوں نے فرمایا : بیان کرو، میرے خیال میں، میں نے کبھی حضور ﷺ کی طرف کسی جھوٹی بات کو منسوب نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ آپ نے بیان کیا ہے کہ تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس بات کو سنا ہے اور بیان کیا ہے کہ جن تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے ان میں ایک تو وہ آدمی جو کسی جماعت سے قتال کرے، وہ جماعت غالب آنے لگے تو یہ پھر بھی ان سے لڑتا ہوا شہید ہوجائے یا اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے فتح عطا فرما دیں۔ دوسرا وہ آدمی جو رات کو لوگوں کے ساتھ سفر کرے، جب وہ سب تھک کر لیٹ جائیں تو یہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور پھر لوگوں کو آگے بڑھنے کے لیے جگائے۔ تیسرا وہ آدمی جس کا پڑوسی کوئی برا شخص ہو اور وہ اس کی تکالیف پر صبر کرے۔
حدیث نمبر: 20504
٢٠٥٠٤ - حدثنا أبو أسامة نا إسماعيل (عن) (١) قيس عن (مدرك) (٢) بن عوف الأحمسي قال: كنت عند عمر إذ جاءه رسول النعمان بن مقرن فسأله عمر عن الناس فقال: (أصيب) (٣) فلان وفلان (و) (٤) آخرون لا أعرفهم. فقال عمر: لكن اللَّه يعرفهم، فقال: يا أمير المؤمنين (و) (٥) رجل شرى نفسه، فقال مدرك بن عوف: ذلك واللَّه خالي يا أمير المؤمنين! (٦) زعم (الناس) (٧) أنه (ألقى) (٨) بيده إلى التهلكة، فقال عمر: كذب أولئك (و) (٩) لكنه ممن اشترى (الآخرة) (١٠) بالدنيا (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مدرک بن عوف احمسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ نعمان بن مقرن رحمہ اللہ کا قاصد آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے مجاہدین کی صورت حال پوچھی تو اس نے بتایا کہ فلاں فلاں شخص شہید ہوگئے اور کچھ ایسے لوگ بھی شہید ہوئے جنہیں میں نہیں جانتا۔ اس شخص نے کہا کہ اے امیر المؤمنین ! ایک آدمی ایسا بھی تھا جو خود کو موت کے لیے پیش کر رہا تھا۔ اس پر حضرت مدرک بن عوف رحمہ اللہ نے کہا کہ اے امیر المؤمنین ! خدا کی قسم وہ میرے ماموں تھے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے خود کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈالا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں یہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے دنیا کے بدلے آخرت کو خرید لیا۔
حدیث نمبر: 20505
٢٠٥٠٥ - حدثنا وكيع نا الأعمش عن أبي وائل عن سلمة بن سبرة عن (سلمان) (١) قال: إذا (زحف) (٢) العبد في سبيل (اللَّه) (٣) وضعت خطاياه على ⦗٣٤⦘ رأسه فتحات، كما يتحات عذق النخلة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اللہ کے راستے میں چلتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر پر رکھے جاتے ہیں اور پھر اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح کھجوروں کا خوشہ جھڑتا ہے۔
حدیث نمبر: 20506
٢٠٥٠٦ - حدثنا وكيع نا شعبة عن أبي سليمان عن أنس قال: سمعته يقول: "غدوة في سبيل اللَّه أفضل من عشر حجج لمن قد حج" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستہ میں ایک صبح دس حج کرنے سے افضل ہے۔
حدیث نمبر: 20507
٢٠٥٠٧ - حدثنا وكيع نا سفيان عن آدم بن علي قال: سمعت عبد اللَّه بن عمر يقول: سفرة -يعني (غزوة) (١) في سبيل اللَّه- أفضل من خمسين حجة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستہ میں ایک لڑائی پچاس مرتبہ حج کرنے سے افضل ہے۔
حدیث نمبر: 20508
٢٠٥٠٨ - حدثنا وكيع (نا) (١) محمد بن عبد (اللَّه) (٢) (الشعيثي) (٣) عن مكحول قال: إن في الجنة لمائة درجة، ما بين الدرجة إلى الدرجة كما بين السماء (إلى) (٤) الأرض أعدها اللَّه للمجاهدين في سبيل اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنگ میں سو درجے ہیں۔ دو درجوں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان خلاء ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان درجوں کو اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے بنایا ہے۔
حدیث نمبر: 20509
٢٠٥٠٩ - حدثنا وكيع نا سفيان عن أبي الضحى قال: أول آية (أنزلت) (١) من براءة ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [التوبة: ٤١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوضحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سورة البراء ۃ کی پہلی آیت یہ نازل ہوئی : : ” نکلو ! ہلکے ہو یا بوجھل، اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو۔ “
حدیث نمبر: 20510
٢٠٥١٠ - حدثنا زيد بن الحباب ثني عبد الرحمن بن شريح نا قيس بن الحجاج عن (حنش) (١) بن علي (الصنعاني) (٢) قال: سمعت ابن عباس يقول في قوله تعالى: ﴿الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً﴾ [البقرة: ٢٧٤]، قال: على الخيل في سبيل اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { الَّذِینَ یُنْفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَعَلاَنِیَۃً } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد اللہ کے راستہ میں گھوڑوں پر خرچ کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 20511
٢٠٥١١ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) نا رجاء بن أبي سلمة نا سليمان بن موسى الدمشقي أنه سمع (سهل) (٢) بن عجلان يقول في قوله تعالى: ﴿الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً﴾، قال: على الخيل في سبيل اللَّه، قال: ثم ذكر من ربط فرسًا في سبيل اللَّه -لم (يربطه) (٣) رياء ولا سمعة- كان من الذين ينفقون أموالهم بالليل والنهار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سھل بن عجلان باہلی رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت : { الَّذِینَ یُنْفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَعَلاَنِیَۃً } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد اللہ کے راستے میں گھوڑوں پر خرچ کرنا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں گھوڑا باندھے اور اس میں کسی قسم کی ریا یا شہرت پسندی کی آمیزش نہ ہو تو یہ ان لوگوں میں سے ہوگا جو اپنا مال دن رات اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 20512
٢٠٥١٢ - حدثنا وكيع عن مسعر عن محمد بن عبد الرحمن مولى آل طلحة عن عيسى بن طلحة عن أبي هريرة قال: لا يجتمع (غبار) (١) في سبيل اللَّه ودخان جهنم في (منخر) (٢) عبد أبدًا، (ولن) (٣) يلج النار رجل بكى من خشية اللَّه (٤) حتى ⦗٣٦⦘ يلج اللبن في (الضرع) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک ناک میں جمع نہیں ہوسکتے۔ اللہ کے خوف سے رونے والے کا جہنم میں داخل ہونا اسی طرح ناممکن ہے جس طرح تھنوں میں دودھ کا واپس جانا۔
حدیث نمبر: 20513
٢٠٥١٣ - حدثنا يحيى بن آدم عن (قطبة) (١) بن عبد العزيز عن الأعمش عن عدي بن ثابت عن سالم بن أبي الجعد قال: (أريهم) (٢) النبي ﷺ (٣) في النوم فرأى (جعفرًا) (٤) (ملكًا) (٥) ذا جناحين (مضرجًا) (٦) (بالدماء) (٧)، وزيد مقابله على السرير، وابن رواحة جالس معهما (كأنهما) (٨) (معرضان) (٩) عنه (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابی جعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ صحابہ کرام خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھائے گئے۔ آپ نے دیکھا کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہایک فرشتے کی صورت میں ہیں اور ان کے پیروں پر خون لگا ہوا ہے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہان کے سامنے ایک تخت پر بیٹھے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ بیٹھے ہیں لیکن ان دونوں حضرات کا رخ حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ سے دوسری طرف ہے۔
حدیث نمبر: 20514
٢٠٥١٤ - حدثنا مالك بن إسماعيل نا زهير نا داود بن عبد اللَّه الأودي أن وبرة ⦗٣٧⦘ أبا كرز (الحارثي) (١) (حدثه) (٢) (أنه) (٣) سمع الربيع بن زيد يقول: (بينما) (٤) رسول اللَّه ﷺ يسير، إذ هو بغلام من قريش شاب معتزل (من) (٥) الطريق (يسير) (٦) فقال رسول اللَّه ﷺ: "أليس ذلك (فلانًا؟) (٧) "، قالوا: بلى! قال: "فادعوه"، (قال) (٨): "ما لك اعتزلت (من) (٩) الطريق؟ " قال: (يا) (١٠) رسول (اللَّه) (١١) (١٢)! (كرهته للغبار) (١٣) قال: "فلا (تعتزله) (١٤) فوالذي نفس محمد بيده إنه (لذريرة) (١٥) الجنة" (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے جا رہے تھے کہ قریش کا ایک لڑکا رستے سے ذرا ہٹ کر چل رہا تھا۔ آپ نے اسے دیکھ کر اس کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ فلاں لڑکا نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں وہی ہے۔ آپ نے اسے بلا کر اس سے پوچھا کہ تم راستے سے ہٹ کر کیوں چل رہے ہو ؟ ا س نے کہا : کہ میں غبار سے بچنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ راستے سے ہٹ کر نہ چلو کیوں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے ! یہ غبار جنت کی خوشبو ہے۔
حدیث نمبر: 20515
٢٠٥١٥ - حدثنا ابن فضيل عن أبيه عن موسى بن أبي عثمان عن أبي العوام عن أبي أيوب أنه (أقام) (١) عن الجهاد عامًا واحدًا فقرأ هذه الآية: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ (فغزا من) (٢) عامه وقال: ما رأيت في هذه الآية من رخصة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عوام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کسی وجہ سے ایک سال جہاد پر نہ جاسکے۔ پھر انہوں نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی : { انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاَ } ” نکلو ! ہلکے ہو یا بوجھل۔ “ پھر آپ ایک سال تک حج کرتے رہے اور فرماتے تھے اس آیت کے بعد کسی قسم کی رخصت باقی نہیں رہتی۔
حدیث نمبر: 20516
٢٠٥١٦ - حدثنا سفيان بن عيينة عن حصين عن أبي مالك قال: أول شيء نزل من براءة ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سورة البرائۃ کی سب سے پہلے یہ آیت نازل ہوئی : { انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاَ }
حدیث نمبر: 20517
٢٠٥١٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن إسماعيل بن أبي خالد عن أبي صالح ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾، قال: الشيخ و (الشاب) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاَ } سے مراد ہے جوان اور بوڑھے سب نکلیں۔
حدیث نمبر: 20518
٢٠٥١٨ - حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن الحسن قال: شيوخًا وشبابًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اس کی تشریح جوان اور بوڑھوں سے اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس کی تشریح ہوشیار اور نادان سے کی ہے۔
حدیث نمبر: 20519
٢٠٥١٩ - قال قتادة: (نشاطًا) (١) وغير نشاط.
حدیث نمبر: 20520
٢٠٥٢٠ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن منصور عن الحكم: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾، قال: مشاغيل وغير مشاغيل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ نے آیت قرآنی { انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاَ } کی تفسیر مصروف اور فارغ سے کی ہے۔
حدیث نمبر: 20521
٢٠٥٢١ - حدثنا أبو أسامة عن مالك بن مغول عن إسماعيل عن عكرمة قال: الشيخ (والشاب) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر جوان اور بوڑھوں سے کی ہے۔
حدیث نمبر: 20522
٢٠٥٢٢ - حدثنا شبابة عن ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾، (قالوا) (١): فينا الثقيل وذو الحاجة و (الضعفة) (٢) والمشتغل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ { انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاَ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ہم میں مریض، ضرورت مند، کمزور اور مصروف لوگ ہیں۔
حدیث نمبر: 20523
٢٠٥٢٣ - حدثنا حفص بن غياث عن عمرو (عن) (١) الحسن قال: شيوخًا وشبابًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جوان اور بوڑھے ہیں۔
حدیث نمبر: 20524
٢٠٥٢٤ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن مكحول قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من صام يومًا في سبيل اللَّه بوعد من النار مائة خريف" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اللہ کے راستے میں ایک روزہ رکھا وہ جنت سے سو خریف دور کردیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 20525
٢٠٥٢٥ - حدثنا ابن نمير (عن سفيان) (١) عن (السمي) (٢) عن النعمان بن أبي عياش عن (أبي) (٣) سعيد الخدري قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يصوم عبد يومًا في ⦗٤٠⦘ سبيل اللَّه إلا باعد اللَّه بذلك اليوم عن وجهه النار سبعين (خريفا) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص اللہ کے راستے میں روزہ رکھتا ہے تو اس کی وجہ سے ستر خریف جہنم سے دور کردیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 20526
٢٠٥٢٦ - حدثنا أبو معاوية عن سفيان (١) عن النعمان عن أبي سعيد (نحوه) (٢) ولم يرفعه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کا اپنا قول بھی یہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 20527
٢٠٥٢٧ - حدثنا وكيع نا ربيع بن صبيح عن يزيد بن أبان عن أنس بن مالك قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من صام يوما في سبيل اللَّه باعده (اللَّه) (١) (من) (٢) جهنم سبعين عامًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اللہ کے راستے میں ایک روزہ رکھا۔ اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر خریف دور فرما دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 20528
٢٠٥٢٨ - حدثنا وكيع نا قيس عن (شمر) (١) بن عطية عن شهر بن حوشب عن أبي الدرداء قال: من صام يومًا في سبيل اللَّه (كان) (٢) بينه وبين جهنم (خندق) (٣) ⦗٤١⦘ أبعد مما بين السماء والأرض (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو دردائ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اللہ کے راستے میں ایک روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے ایک خندق دور فرما دیں گے اور اس خندق کا فاصلہ زمین و آسمان کے درمیانی خلاء کے برابر ہے۔
حدیث نمبر: 20529
٢٠٥٢٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء قال: سمعت (يعقوب) (١) (ابن) (٢) عاصم بن عروة بن مسعود يحدث عن عبد اللَّه بن عمرو (قال) (٣): في الجنة قصر يقال له: عدن، فيه خمسة آلاف باب، على كل باب خمسة آلاف (حبرة) (٤) قال يعلى: (أحسبه) (٥) قال: لا يدخله إلا نبي أو صديق أو (شهيد) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک محل ہے جس کا نام عدن ہے۔ اس میں پانچ ہزار دروازے ہیں۔ ہر دروازے پر پانچ ہزار پردے ہیں۔ اس میں صرف نبی، صدیق یا شہید داخل ہوں گے۔
…