حدیث نمبر: 20450
٢٠٤٥٠ - حدثنا أبو بكر بن أبي (شيبة) (١) حدثنا أبو خالد (الأحمر) (٢) عن حجاج عن الحكم (عن مقسم) (٣) عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ بعث إلى مؤتة، فاستعمل زيدًا، فإن قتل (زيد) (٤) فجعفر (فإن) (٥) قتل (جعفر) (٦) فابن رواحة، قال: فتخلف ابن رواحة يجمّع مع النبي ﷺ (فرآه) (٧) النبي فقال: "ما خلفك؟) (٨) " فقال: أجمّع معك فقال: " (الغدوة) (٩) أو روحة في سبيل اللَّه خير من الدنيا وما فيها" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے مؤتہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت زید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار مقرر کیا، آپ نے حکم دیا کہ اگر زید رضی اللہ عنہ شہید ہوجائیں تو جعفر رضی اللہ عنہ کو امیر بنا لیا جائے اگر جعفر بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ کو امیر بنا لیا جائے۔ لشکر کی روانگی کے باوجود حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھنے کی غرض سے پیچھے رہ گئے، جب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو پوچھا کہ آپ پیچھے کیوں رہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ کے ساتھ جمعہ پڑھنے کی غرض سے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ایک صبح اور ایک شام لگانا دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 20451
٢٠٤٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع نا سفيان عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (الغدوة) (١) أو روحة في سبيل اللَّه خير من الدنيا وما فيها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ایک صبح اور ایک شام کا لگا دینا، دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 20452
٢٠٤٥٢ - حدثنا أبو عبد الرحمن (المقرئ) (١) (عن) (٢) سعيد بن أبي أيوب قال: نا (شرحبيل بن شريك) (٣) (المعافري) (٤) عن أبي عبد الرحمن الحبلي قال: سمعت أبا أيوب يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: " (الغدوة) (٥) في سبيل اللَّه أو روحة خير مما طلعت عليه الشمس وغربت" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ایک صبح اور ایک شام کا لگا دینا ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع اور غروب ہو۔
حدیث نمبر: 20453
٢٠٤٥٣ - حدثنا أبو بكر (قال: نا أبو خالد) (١) عن محمد بن عجلان عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "غدوة أو روحة في سبيل اللَّه خير من الدنيا (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام ساری دنیا سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 20454
٢٠٤٥٤ - حدثنا (وكيع) (١) قال: نا هشام بن عروة عن أبيه (عن أبي مراوح) (٢) عن أبي ذر قال: قلت يا رسول اللَّه أي العمل أفضل؟ قال: " (إيمان) (٣) باللَّه وجهاد في سبيله" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔
حدیث نمبر: 20455
٢٠٤٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن الشيباني عن الوليد بن (العيزار) (١) عن (سعد) (٢) بن إياس أبي عمرو الشيباني (عن) (٣) عبد اللَّه قال: سألت النبي ﷺ أي العمل أفضل؟ قال: "الصلاة لوقتها"، قال، قلت: ثم أي؟ قال: "بر الوالدين" قلت: ثم أي؟ قال: "الجهاد في سبيل اللَّه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے پوچھا : پھر کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ میں نے کہا پھر کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔
حدیث نمبر: 20456
٢٠٤٥٦ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن سماك عن النعمان بن بشير قال: مثل (الغازي) (٢) في سبيل اللَّه مثل الذي يصوم النهار ويقوم الليل حتى يرجع الغازي (متى) (٣) ما رجع (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا واپس آنے تک اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھے اور رات کو قیام کرے۔
حدیث نمبر: 20457
٢٠٤٥٧ - حدثنا عفان حدثنا (حماد) (١) بن سلمة عن ثابت عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (غدوة) (٢) أو روحة في سبيل اللَّه خير من الدنيا وما (فيها) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے راستہ میں ایک صبح ایک شام کا لگا دینا دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 20458
٢٠٤٥٨ - حدثنا جرير عن منصور عن أبي وائل عن سلمة بن سبرة عن (سلمان) (١) قال: إذا كان الرجل في سبيل اللَّه فأرعد (قلبه) (٢) من الخوف (تحاتت) (٣) خطاياه، (كما) (٤) (يتحات) (٥) عذق النخلة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اللہ کے راستے میں ہو اور خوف کی وجہ سے ا س کا دل کانپے تو اس کے گناہ ایسے گرتے ہیں جیسے کھجور کے خوشے سے کھجوریں گرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 20459
٢٠٤٥٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال: سمعت عروة بن (النزال) (١) يحدث عن معاذ بن جبل قال: (أقبلنا) (٢) مع رسول اللَّه ﷺ (من) (٣) غزوة تبوك ⦗٩⦘ فقلت: يا رسول اللَّه! أخبرني عن ذروته فقال: "أما ذروته فالجهاد في سبيل اللَّه، يعني ذروة الإسلام" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم غزوہ تبوک سے واپس آئے تو میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے اسلام کے کوہان کی چوٹی کے بارے میں بتا دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اسلام کے کوہان کی چوٹی اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 20460
٢٠٤٦٠ - حدثنا أبو (معاوية) (١) عن (سهيل) (٢) بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (تضمن) (٣) اللَّه لمن خرج في سبيله (لا يخرجه إلا) (٤) إيمان به وتصديق (لرسوله) (٥) أن يدخله الجنة أو يرجعه إلى منزله نائلا من أجر أو غنيمة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ جو شخص اللہ کے راستے میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اللہ کے رسول کی تصدیق کرتے ہوئے نکلا وہ یا تو اسے جنت میں داخل کرے گا یا اجر و غنیمت لے کر واپس لائے گا۔
حدیث نمبر: 20461
٢٠٤٦١ - حدثنا أبو معاوية عن (سهيل) (١) بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال: قالوا: يا رسول اللَّه أخبرنا بعمل (يعدل) (٢) الجهاد في سبيل اللَّه، قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تطيقونه"، قالوا: يا رسول اللَّه، أخبرنا (فلعلنا أن نطيقه) (٣) قال: ⦗١٠⦘ "مثل المجاهد في سبيل اللَّه كمثل الصائم القائم (القانت) (٤) بآيات اللَّه لا يفتُرُ من صيام ولا صدقة حتى يرجع المجاهد إلى أهله" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمیں ایسا عمل بتا دیجئے جو اللہ کے راستے میں جہاد کے برابر ہو ؟ آپ نے فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ بتا دیجئے، شاید ہم اس کی طاقت رکھتے ہوں ! حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو مجاہد کے واپس آنے تک روزہ رکھے اور اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہوئے راتوں کو قیام کرے وہ اس قیام و صیام میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے۔
حدیث نمبر: 20462
٢٠٤٦٢ - حدثنا أبو معاوية عن يحيى بن سعيد عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لقد هممت أن لا أتخلف عن سرية تخرج في سبيل اللَّه ولكن ليس عندي ما (أحملهم) (١)، (ولَوَددْتُ) (٢) أن أقْتَلَ في سبيل اللَّه ثمَّ أحيا ثم أُقْتَلَ ثم أحيا ثم أقتل (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے راستے میں نکلنے والے کسی لشکر سے پیچھے نہ رہوں، لیکن لوگوں کو بھیجنے کے سوا میرے پاس کوئی چارہ کار نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ مجھے اللہ کے راستے میں شہید کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، پھر شہید کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، پھر شہید کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20463
٢٠٤٦٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن عمارة عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أعد اللَّه لمن خرج في سبيله -لا يخرج إلا (لجهاد) (١) في سبيلي وإيمان بي وتصديق (برسولي) (٢) - فهو علي ضامن أن أدخله الجنة وأن أرجعه إلى مسكنه الذي خرج منه نائلًا ما نال من أجر أو غنيمة" (٣) قال: والذي نفس محمد بيده! (لولا) (٤) أن أشق على المسلمين ما قعدت (خلاف) (٥) سرية تغزو في سبيل ⦗١١⦘ اللَّه أبدا، ولكن لا أجد سعة (فأحملهم) (٦) ولا يجدون سعة فيتبعوني، ولا تطيب أنفسهم فيتخلفون بعدي، والذي نفس محمد بيده لوددت (أني) (٧) (أغزو) (٨) في سبيل اللَّه فأقتل، ثم أغزو فأقتل، (ثم أغزو فاقتل) (٩) " (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے اس شخص سے وعدہ کیا ہے جو میرے راستہ میں مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے رسول کی تصدیق کرتے ہوئے جہاد کے لیے نکلے کہ میں اسے اپنی ذمہ داری پر جنت میں داخل کروں گا یا اسے اس کے گھر اجر و غنیمت کے ساتھ واپس لوٹاؤں گا۔ یہ فرما کر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے ! کہ اگر مجھے مسلمانوں پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا۔ لیکن چونکہ میرا یہاں رہنا ضروری ہوتا ہے اس لیے میں لوگوں کو روانہ کردیتا ہوں اور چونکہ ان کا جانا ضروری ہوتا ہے اس لیے وہ میری بات مان لیتے ہیں۔ ان کے دل اس بات پر خوش نہیں ہوتے کہ وہ مجھے پیچھے چھوڑ دیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے ! میری خواہش یہ ہے کہ میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں پھر مجھے شہید کیا جائے، پھر جہاد کروں پھر مجھے شہید کیا جائے، پھر جہاد کروں اور پھر مجھے شہید کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 20464
٢٠٤٦٤ - حدثنا هشيم بن (بشير) (١) أنا (مجالد) (٢) بن سعيد عن (أبي) (٣) (الوداك) (٤) عن أبي سعيد (٥) يرفع الحديا قال: "ثلاثة يضحك اللَّه إليهم: الرجل إذا قام من الليل يصلي، والقوم إذا صفوا في الصلاة، والقوم إذا صفوا في قتال العدو" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ تین آدمی ایسے ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ مسکراتا ہے ایک وہ آدمی جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے۔ دوسرے وہ لوگ جو نماز کے لیے صف بنائیں اور تیسرے وہ لوگ جو دشمن سے مقابلے کے لیے صف بنائیں۔
حدیث نمبر: 20465
٢٠٤٦٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور قال: سمعت ربعي ابن (حراش) (١)] (٢) يحدث عن زيد بن (ظبيان) (٣) يرفعه إلى أبي ذر عن النبي ﷺ قال: ⦗١٢⦘ "ثلاثة يحبهم اللَّه -فذكر- أحدهم (الرجل) (٤) كان في سرية فلقوا العدو فهزموا فأقبل بصدره حتى يقتل أو يفتح (بصدره) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ مسکراتا ہے۔ ان میں حضور ﷺ نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا جو کسی لشکر میں ہو، وہ دشمن سے برسر پیکار ہوں اور انہیں شکست ہوجائے لیکن یہ آدمی سینہ تان کر کھڑا ہوجائے اور شہید ہوجائے یا اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ فتح عطا فرما دیں۔
حدیث نمبر: 20466
٢٠٤٦٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن شعبة عن قتادة (و) (١) حميد عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما (من) (٢) نفس تموت لها عند اللَّه خير (يُسرُّهَا) (٣) (يتمنى) (٤) أن يرجع إلى الدنيا ولا أن لها الدنيا وما (فيها) (٥) إلا الشهيد فيتمنى أن يرجع فيقتل في سبيل اللَّه لما يرى من فضل الشهادة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بھی کوئی انسان مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا کچھ ضرور عطا فرما دیتے ہیں کہ دنیا میں واپس جانا یا دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب کا حصول اس کے نزدیک کوئی خوشگوار چیز نہیں ہوتی۔ سوائے شہید کے، کیونکہ وہ جب شہادت کا اجر دیکھے گا تو خواہش کرے گا کہ دنیا میں واپس چلا جائے اور اللہ کے راستہ میں شہید کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 20467
٢٠٤٦٧ - حدثنا أبو خالد عن حميد (عن) (١) أنس يرفعه قال: أتته امرأة قتل ابنها ولم يكن لها غيره وكان اسمه حارثة (فقالت) (٢): يا رسول اللَّه! إن يكن في ⦗١٣⦘ الجنة أصبر، وإن يكن (٣) غير ذلك فستعلم ما أصنع؟ فقال النبي ﷺ: "إنها (جنان) (٤) كثيرة وإنه في الفردوس الأعلى" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک جنگ میں ایک عورت کا بیٹا شہید ہوگیا جس کا نام حارثہ رضی اللہ عنہ تھا۔ اس عورت کا اپنے بیٹے کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ وہ عورت حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر میرا بیٹا جنت میں ہے تو میں صبر کروں گی۔ اگر وہ جنت کے علاوہ کہیں اور ہے تو میں ایسا ماتم کروں گی کہ سب کو پتہ چل جائے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جنتیں تو بہت سی ہیں اور وہ تو جنت الفردوس میں ہے۔
حدیث نمبر: 20468
٢٠٤٦٨ - حدثنا ابن نمير (قال) (١): حدثنا محمد بن إسحاق عن الحارث [(بن) (٢) (الفضيل) (٣)] (٤) عن محمود بن (لبيد) (٥) عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الشهداء على بارق نهر (بباب) (٦) الجنة، في قبة خضراء، يخرج عليهم رزقهم من الجنة (غدوة) (٧) وعشية" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شہداء بارق میں ہیں، بارق جنت کے دروازے پر ایک نہر ہے جو کہ ایک سبز گنبد میں ہے۔ شہداء کو صبح و شام ان کا رزق دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 20469
٢٠٤٦٩ - حدثنا ابن أبي عدي (عن ابن عون) (١) عن هلال بن أبي زينب عن شهر بن حوشب عن أبي هريرة قال: ذكر الشهداء (عند) (٢) النبي ﷺ فقال: "لا ⦗١٤⦘ تجف الأرض من دم (الشهيد) (٣) (حتى) (٤) تبتدره (٥) زوجتاه، كأنهما (ظئران) (٦) أضلتا (فصيليهما) (٧) في براح من الأرض، وفي يد كل واحد منهما حلة، خير من الدنيا وما (فيها) (٨) " (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے سامنے کچھ شہداء کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا ابھی شہید کا لہو زمین پر خشک نہیں ہوتا کہ جنت میں اس کی دو بیویاں اس طرح سے بےتاب ہو کر اس کا انتظا کرتی ہیں جیسے کسی دودھ پلانے والی ماں کا دوھ پیتا بچہ زمین پر گم ہوجائے اور وہ اس کو تلاش کرے۔ ان دونوں کے ہاتھوں میں (شہید کے استعمال کے لیے) ایسا قیمتی جوڑا ہوتا ہے جو ساری دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے زیادہ قیمتی ہے۔
حدیث نمبر: 20470
٢٠٤٧٠ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قالوا: يا رسول اللَّه! أي (الجهاد) (١) أفضل؟ قال: "من عقر جواده واهريق دمه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ سے سوال کیا گیا کہ افضل جہاد کس شخص کا ہے ؟ آپ نے فرمایا : کہ جس کا گھوڑا ہلاک ہوجائے اور اس کا اپنا خون بہہ چکا ہو۔
حدیث نمبر: 20471
٢٠٤٧١ - حدثنا (وكيع) (١) قال: نا المسعودي عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن الحارث عن (٢) عبد اللَّه بن عمرو قال: قال رجل: يا رسول اللَّه! أي ⦗١٥⦘ الجهاد أفضل؟ قال: "من عقر جواده وأهريق دمه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضور ﷺ سے سوال کیا گیا کہ افضل جہاد کس شخص کا ہے ؟ آپ نے فرمایا : کہ جس کا گھوڑا ہلاک ہوجائے اور اس کا اپنا خون بہہ چکا ہو۔
حدیث نمبر: 20472
٢٠٤٧٢ - حدثنا وكيع نا أسامة بن زيد عن (بعجة) (١) بن عبد اللَّه الجهني عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يأتي على الناس زمان يكون خير الناس (فيه) (٢) منزلة من أخذ بعنان فرسه في سبيل اللَّه، كلما سمع (هيعة) (٣) استوى على متنه ثم يطلب الموت في (مظانه) (٤)، ورجل في شعب من هذه (الشعاب) (٥) يقيم الصلاة ويؤتي الزكاة ويدع الناس إلا من خير" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اللہ کے نزدیک درجے کے اعتبار سے سب سے بہترین شخص وہ ہوگا جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ کر چل کھڑا ہو، جب بھی وہ کوئی خطرہ محسوس کرے تو لپک کر گھوڑے پر سوار ہوجائے۔ پھر موت کو موت کی جگہوں پر تلاش کرے۔ دوسرا وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں چلا جائے وہاں نماز قائم کرے، زکوٰۃادا کرے اور لوگوں کو خیر کی خاطر چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 20473
٢٠٤٧٣ - حدثنا أبو أسامة عن زكريا بن أبي زائدة عن أبي إسحاق عن البراء قال: جاء رجل من بني (النبيت) (١) إلى النبي ﷺ فقال: أشهد أن لا إله إلا اللَّه وأشهد أنك عبده ورسوله، ثم تقدم (فقاتل) (٢) حتى قتل، فقال النبي ﷺ: "عمل هذا يسيرًا وأجر كثيرًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھا، اس نے قتال کیا اور شہید ہوگیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس نے عمل تو تھوڑا کیا لیکن اجر بہت سا کما لیا۔
حدیث نمبر: 20474
٢٠٤٧٤ - حدثنا زيد بن حباب عن جعفر بن سليمان الضبعي نا أبو عمران الجوني عن أبي بكر بن أبي موسى الأشعري قال: سمعت أبي تجاه العدو يقول: سمعت رسول اللَّه ﷺ: "إن السيوف مفاتيح الجنة"، فقال له رجل (رث) (١) الهيئة: أنت سمعت هذا من رسول اللَّه ﷺ؟ قال: نعم! فسل سيفه وكسر غمده والتفت إلى أصحابه، وقال: أقرأ عليكم السلام، ثم تقدم إلى العدو فقاتل حتى قتل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن ا بی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد نے دشمن کا آمنا سامنا ہونے پر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تلواریں جنت کی چابیاں ہیں۔ یہ حدیث سن کر ایک پراگندہ حالت کے حامل شخص نے کہا کہ اے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ! کیا یہ بات آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہاں، میں نے سنی ہے۔ اس پر اس آدمی نے اپنی تلوار نکالی اور نیام کو توڑ کر اپنے ساتھیوں کو سلام کیا پھر دشمن کی طرف بڑھا اور ان سے لڑتا رہا ، یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔
حدیث نمبر: 20475
٢٠٤٧٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد قال: قام (يزيد) (١) بن (شجرة) (٢) في أصحابه فقال: إنها قد أصبحت عليكم من بين أخضر وأحمر وأصفر، وفي البيوت ما فيها، فإذا لقيتم العدو غدًا فقُدُما قدما، فإني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "ما تقدم رجل من خطوة إلا تقدم إليه الحور العين، فإن تأخر (استترت) (٣) منه، وإن استشهد كانت أولُ (نضحة) (٤) كفارةَ خطاياه، وتنزل إليه اثنتان من (الحور) (٥) العين (تنفضان) (٦) عنه التراب وتقولان له: مرحبًا قد (آني) (٧) ⦗١٧⦘ لك، ويقول: مرحبًا قد آنى لكما" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت یزید بن شجرہ رحمہ اللہ ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں میں کھڑے ہوئے تھے اور ان سے فرمایا کہ تم پر تمہارے گھروں میں سبز، سرخ، اور زرد نعمتیں برس رہی ہیں، کل جب تم دشمن کی طرف بڑھو تو ایک ایک قدم رکھ کر آگے بڑھنا، کیونکہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب آدمی دشمن کے مقابلہ میں ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو موٹی آنکھوں والی حوریں اس کی طرف بڑھتی ہیں اور جب وہ پیچھے ہٹتا ہے تو حوریں بھی اس سے پردہ کرلیتی ہیں۔ جب وہ شہید ہوجاتا ہے تو اس کے خون کا پہلا قطرہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ اس کے شہید ہونے کے بعد دو حوریں اس کے پاس آتی ہیں اور اس سے مٹی صاف کرتی ہیں اور اسے کہتی ہیں کہ تجھے خوش آمدید ! ہم تیرے لیے ہیں، وہ کہتا ہے تمہیں مبارک ہو میں تمہارے لیے ہوں۔
حدیث نمبر: 20476
٢٠٤٧٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن موسى (١) أبي جعفر الثقفي عن سالم (بن) (٢) أبي (الجعد) (٣) عن (سبرة) (٤) (بن) (٥) أبي فاكهة (و) (٦) كان من أصحاب النبي ﷺ، قال: (سمعت) (٧) رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن الشيطان قعد لابن آدم (بأَطْرُقِهِ) (٨)، فقعد له بطريق الإسلام فقال: تسلم وتدع دينك ودين آبائك؟ ثم قعد له بطريق الهجرة فقال: تهاجر وتدع مولدك، فتكون كالفرس في طَوْلهِ؟ ثم قعد له بطريق الجهاد فقال: تجاهد فتقتل (فتزوج) (٩) (امرأتك) (١٠) ⦗١٨⦘ و (يقسم) (١١) (ميراثك) (١٢) "، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "فمن فعل ذلك ضمن اللَّه له الجنة إن قتل أو مات غرقا أو حرقا (أو أكله) (١٣) السبع" (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سبرہ بن ابی فاکہہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاک ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ شیطان ابن آدم کے راستوں میں بیٹھ جاتا ہے۔ کبھی وہ اسلام کے راستے میں بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تو اسلام قبول کرلے گا اور اپنے اورا پنے آباء و اجداد کے دین کو چھوڑ دے گا تو یہ بڑے گھاٹے کا سودا ہوگا۔ پھر ہجرت کے راستے میں بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تو ہجرت کرے گا تو اپنے جائے پیدائش کو چھو ڑ دے گا اور اس گھوڑے کی طرح ہوجائے گا جو بیڑیوں میں بندھا ہو۔ پھر جہاد کے راستے میں بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تو جہاد کرے گا تو مرجائے گا۔ پھر تیری بیوی کی کہیں شادی ہوجائے گی اور تیری میراث تقسیم ہوجائے گی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شیطانی وساوس کے باوجود جس شخص نے یہ اعمال جاری رکھے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہے خواہ وہ شہید ہوجائے یا ڈوب کر مرجائے یا جل کر مرجائے یا اسے درندے کھا لیں۔
حدیث نمبر: 20477
٢٠٤٧٧ - حدثنا يزيد بن هارون أنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن محمد ابن عبد اللَّه بن عتيك عن أبيه قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من خرج مجاهدًا في سبيل اللَّه، "ثم جمع أصابعه (الثلاث) (١) ثم قال: "وأين المجاهدون؟ فخر عن دابته (فمات) (٢) فقد وقع أجره على اللَّه، أو لسعته دابة فقد وقع أجره على اللَّه، ومن مات حتف أنفه فقد وقع أجره على اللَّه، ومن قتل (قعصًا) (٣) فقد استوجب (المآب) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا۔ یہ فرما کر آپ نے اپنی تین انگلیوں کو جمع فرمایا اور پھر ارشاد فرمایا کہ جہاد کرنے والے کہاں ہیں ؟ اور وہ اپنی سواری سے گر کر مرگیا تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ اس کا اجر ثابت ہوگیا، یا اسے کسی چیز نے ڈس لیا تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ثابت ہوگیا، یا وہ طبعی موت مرگیا تو اس کا اجر بھی ثابت ہوگیا اور اگر کوئی دشمن کا وار سہہ کر مرا تو اس نے اچھے ٹھکانے کو پالیا۔
حدیث نمبر: 20478
٢٠٤٧٨ - حدثنا شبابة عن ابن أبي ذئب عن سعيد بن خالد عن إسماعيل ⦗١٩⦘ (ابن) (١) عبد الرحمن بن أبي (ذوئب) (٢) عن عطاء بن يسار عن ابن عباس أن النبي ﷺ خرج عليهم وهم جلوس فقال: "ألا أخبركم بخير الناس منزلًا؟ " قلنا: بلى يا رسول اللَّه! قال: "رجل ممسك برأس (فرسه) (٣) في سبيل اللَّه حتى يقتل أو يموت، ألا أخبركم بالذي يليه؟ " قالوا: بلى يا رسول اللَّه! قال: "رجل معتزل في شعب يقيم الصلاة ويؤتي الزكاة يعتزل شر الناس" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ لوگوں کے پاس تشریف لائے، سب لوگ بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے نزدیک سب سے بہترین مرتبہ کس شخص کا ہے ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ضرور ارشاد فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بہترین درجہ اس شخص کا ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے کو پکڑے جا رہا ہو اور وہ شہید کردیا جائے یا مرجائے۔ میں تمہیں بتاؤں اس کے بعد کس شخص کا مرتبہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا ضرور بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں سے کنارہ کش ہو کر کسی گھاٹی میں رہتا ہو، نماز قائم کرتا ہو او زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور لوگوں کے شر سے محفوظ رہتا ہو۔
حدیث نمبر: 20479
٢٠٤٧٩ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن محمد بن إسحاق عن إسماعيل بن أمية عن أبي الزبير عن ابن عباس زاد فيه ابن إدريس عن أبي الزبير عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لما أصيب إخوانكم (٢) جعل اللَّه أرواحهم في أجواف طير خضر، (ترد أنهارها) (٣) وتأكل (من) (٤) ثمارها، وتسرح في الجنة حيث شاءت، (فلما) (٥) رأوا (حسن) (٦) (مقيلهم) (٧) ومطعمهم ومشربهم". ⦗٢٠⦘ قالوا: يا ليت قومنا يعلمون (بما) (٨) صنع اللَّه لنا، كي يرغبوا في الجهاد ولا (ينكلوا) (٩) عنه! فقال: "اللَّه تعالى: فإني مخبر عنكم ومبلغ إخوانكم، ففرحوا واستبشروا بذلك، فذلك قوله تعالى: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ (أَمْوَاتًا) (١٠) بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [آل عمران: ١٦٩]، إلى قوله تعالى: ﴿وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ (الْمُؤْمِنِينَ) (١١)﴾ " (١٢) [آل عمران: ١٧١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے بھائی شہید ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی روحیں سبز پرندوں میں ڈال دیتا ہے۔ وہ جنت کی نہروں پر جاتے ہیں جنت کا پھل کھاتے ہیں اور جنت میں جہاں چاہتے ہیں سیر کرتے ہیں جہاں اپنے عمدہ ٹھکانے اور بہترین کھانے پینے کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کاش ہماری قوم ان چیزوں کو جان لے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے پیدا کی ہیں۔ تاکہ وہ بھی جہاد کا شوق رکھیں اور اس سے پیچھے نہ ہٹیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں تمہارے بھائیوں کو ان باتوں سے مطلع کردیتا ہوں۔ اور پھر وہ خوش ہوجاتے ہیں اور مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس سے مرا قرآن مجید کی یہ آیات ہیں۔ ترجمہ : جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا، وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ اللہ کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے۔ جو کچھ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور شہید ہو کر ان میں شامل نہیں ہو سکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں کہ قیامت کے دن ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے اور اللہ کے انعامات اور فضل سے خوش ہوا ہے اور اس سے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (آل عمران : ١٦٩۔ ١٧١)
حدیث نمبر: 20480
٢٠٤٨٠ - حدثنا وكيع نا سفيان عن زيد العمي عن أبي إياس معاوية بن قرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لكل أمة رهبانية ورهبانية هذه الأمة الجهاد في سبيل اللَّه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایاس معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر امت کی ایک رہبانیت ہوتی ہے اور میری امت کی رہبانیت اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 20481
٢٠٤٨١ - حدثنا وكيع نا ثور عن عبد الرحمن بن (أبي عوف) (١) عن مجاهد بن رباح عن ابن عمر قال: ألا أنبئكم بليلة هي أفضل من ليلة القدر؟ حارس حرس في سبيل اللَّه ﷿ في (أرض) (٢) خوف، لعله ألا يؤوب إلى أهله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں تمہیں ایسی رات بتاتا ہوں جو شب قدر سے بھی زیادہ افضل ہے ؟ اس پہرے دار کی رات ہے جو اللہ کے راستے میں ایسی جگہ پہرہ دے جہاں سے اسے اپنے گھر والوں کے پاس واپس نہ جانے کا خوف ہو۔
حدیث نمبر: 20482
٢٠٤٨٢ - حدثنا وكيع نا علي بن مبارك عن يحيى بن أبي كثير عن (عامر العقيلي) (١) عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أول ثلاثة يدخلون الجنة: الشهيد، ورجل (عفيف) (٢) متعفف ذو (عيال) (٣)، (و) (٤) عبدٌ أحسن عبادة ربه وأدى حق (مواليه) (٥)، وأول ثلاثة يدخلون النار أمير مسفط وذو (ثروة) (٦) لا يؤدي حقه، وفقير فخور" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں سب سے پہلے تین شخص داخل ہوں گے۔ ایک شہید، دوسرا پاک دامن اور اہل و عیال کے باوجود سوال سے بچنے والا اور تیسرا وہ غلام جس نے اپنے رب کی بہترین عبادت کی اور اپنے آقاؤں کا حق بھی ادا کیا۔ اسی طرح تین شخص سب سے پہلے جہنم میں جائیں گے ایک ظالم امیر اور دوسرا وہ مالدار جو مال کا حق ادا نہ کرے اور تیسرا غریب متکبر۔
حدیث نمبر: 20483
٢٠٤٨٣ - حدثنا وكيع (حدثنا سفيان) (١) عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن اللَّه ليضحك إلى رجلين يقتل أحدهما الآخر كلاهما يدخل الجنة، يقاتل هذا في سبيل اللَّه فَيُسْتَشْهَدُ، ثم يتوب اللَّه على قاتله فيُسلم فيقاتل في سبيل اللَّه فيُسْتَشْهَدُ" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان دو آدمیوں پر ہنستا ہے جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرے اور وہ دونوں جنت میں جائیں گے۔ وہ اس طرح کہ ایک اللہ کے راستے قتال کرتا ہوا شہید ہوجاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ دوسرے کو ہدایت دیتا ہے اور وہ اسلام قبول کر کے اللہ کے راستے میں لڑتا ہوا شہید ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 20484
٢٠٤٨٤ - حدثنا وكيع نا مغيرة بن زياد عن مكحول قال: (جاء) (١) رجل إلى النبي ﷺ فقال يا رسول اللَّه! إن الناس قد غزوا، (وحبسني شيء) (٢)، (فدلني) (٣) على عمل يلحقني بهم قال: "هل تستطيع قيام الليل؟ " قال: أتكلف ذلك! (قال) (٤): "هل تستطيع صيام النهار؟ " قال: نعم! قال: "فإن إحياءك (ليلتك) (٥)، وصيامك نهارك كنومة أحدهم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ لوگوں نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور میں کسی مجبوری کی وجہ سے رہ گیا، مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے کہ میں ان کے برابر ہو جاؤں، حضور ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم رات کو قیام کرنے کی طاقت رکھتے ہو ؟ اس نے کہا : میں ایسا کرلوں گا۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا تم ہر دن کو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہو ؟ اس شخص نے کہا کہ جی ہاں ! میں ایسا کرلوں گا، حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا رات کو قیام کرنا اور دن کو روزہ رکھنا ان کی نیند کے برابر نہیں ہوسکتا۔
حدیث نمبر: 20485
٢٠٤٨٥ - حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن ثمامة بن عبد اللَّه بن أنس (عن أنس) (١) قال: (أتيت) (٢) على ثابت بن قيس يوم اليمامة وهو (متحنط) (٣) فقلت: ⦗٢٣⦘ أي عم! ألا ترى ما لقي الناس؟ فقال: الآن يا ابن أخي (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جنگ یمامہ کے دن حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟ انہوں نے فرمایا : اے بھتیجے ! اب پتہ چلا ہے، اب پتہ چلا ہے۔
حدیث نمبر: 20486
٢٠٤٨٦ - حدثنا عيسى بن يونس عن (الأوزاعي) (١) عن عثمان بن أبي (سودة) (٢) وتلا (هذه) (٣) الآية: ﴿(وَ) (٤) وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (١٠) أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ﴾، قال: هم أولهم رواحا إلى المسجد وأولهم خروجًا في سبيل اللَّه ﷿.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن ابی سودہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی { وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ أُولَئِکَ الْمُقَرَّبُونَ } پھر فرمایا کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسجد کی طرف سب سے پہلے جاتے ہیں اور اللہ کے راستے میں سب سے پہلے نکلتے ہیں۔
حدیث نمبر: 20487
٢٠٤٨٧ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن حسان (بن) (١) عطية عن (فروة) (٢) (اللخمي) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أيما سرية خرجت فرجعت وقد (أخفقت) (٤) فلها أجرها مرتين" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فررہ لخمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی جماعت اللہ کے راستے میں جائے اور بغیر مال غنیمت کے واپس آئے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔
حدیث نمبر: 20488
٢٠٤٨٨ - حدثنا عيسى عن الأوزاعي عن حسان (بن عطية) (١) قال: من (بات) (٢) حارسًا -حرس ليلة- أصبح وقد تحاتت خطاياه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسان بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اللہ کے راستے میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری، صبح کو اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص ساری رات پہرہ دے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 20489
٢٠٤٨٩ - قال الأوزاعي قال مكحول: (بات) (١) حتى يصبح تحاتت عنه خطاياه.
…