حدیث نمبر: 20429
٢٠٤٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة ⦗٥١٥⦘ تبلغ به النبي ﷺ قال: "لا يحل لامرأة (أن) (١) تَحِدَّ على ميت فوق ثلاث إلا على (زوج) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت اپنے خاوند کے علاوہ کسی کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ نہیں مناسکتی۔
حدیث نمبر: 20430
٢٠٤٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن يحيى بن سعيد عن حميد ابن نافع أنه سمع زينب بنت أم سلمة (تحدث) (١) أنها سمعت أم سلمة وأم حبيبة (تذكران) (٢) أن امرأة أتت النبي ﷺ فذكرت أن ابنة لها توفي عنها زوجها، فاشتكت عينها فهي تريد أن تكحلها، فقال رسول اللَّه ﷺ: "قد كانت (إحداكن) (٣) (ترمي) (٤) بالبعرة (على) (٥) رأس الحول، وإنما هي أربعة أشهر وعشرًا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہ ما روایت کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ ایک خاتون حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ ان کی ایک بیٹی کا خاوند انتقال کرگیا ہے۔ اس کی آنکھ میں تکلیف ہے اور وہ سرمہ لگانا چاہتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ایک سال پورے ہونے پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی، اب تو عدت چار مہینے دس دن ہے۔ حضرت حمید رضی اللہ عنہ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ اونٹ کی مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں عورت خاوند کے انتقال کے بعد ایک بدترین کمرے میں جابیٹھتی تھی، ایک سال تک وہیں رہتی جب سال پورا ہوجاتا تو باہر نکلتی اور اپنے پیچھے اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی۔
حدیث نمبر: 20431
٢٠٤٣١ - قال حميد: فسألت زينب: ما رميها بالبعرة؟ فقالت: كانت امرأة في الجاهلية عمدت إلى (شر بيت) (١) لها فجلست فيه سنة، فإذا مرت السنة خرجت ورمت ببعرة من ورائها (٢).
حدیث نمبر: 20432
٢٠٤٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل (ويزيد) (١) بن هارون عن يحيى ابن سعيد عن نافع عن صفية بنت أبي عبيد أنها سمعت حفصة زوج النبي ﷺ (تحدث أن النبي ﷺ) (٢) قال: "لا يحل لامرأة تؤمن باللَّه واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث إلا على زوج" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لئے اپنے خاوند کے علاوہ کسی کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ منانا درست نہیں۔
حدیث نمبر: 20433
٢٠٤٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن هشام عن حفصة عن أم عطية قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا (يُحَد) (١) على ميت فوق ثلاث إلا المرأة تحد على زوجها أربعة أشهر وعشرًا، (٢) لا تلبس ثولًا مصبوغًا إلا ثوب عصب، ولا تكتحل ولا تطيب إلا عند (أدنى) (٣) طهرها (بُنبذة من قسط) (٤) أو أظفار" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا درست نہیں۔ البتہ عورت اپنے خاوند کا سوگ چار مہینے دس دن تک منائے گی۔ وہ رنگا ہوا کپڑا نہیں پہنے گی، صرف عصب شدہ کپڑا پہن سکتی ہے۔ سرمہ انہیں لگائے گی اور خوشبو بھی نہیں لگائے گی، البتہ اپنے طہر کے قریب ہونے پر قسط اور اظفار خوشبو تھوڑی سی لگا سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 20434
٢٠٤٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن التيمي عن أبي (مجلز) (١) قال: قال ابن عمر: المتوفى عنها زوجها تعتد أربعة أشهر وعشرًا، فقال رجل: إن هذا لكثير فقال ابن عمر: قد كن في الجاهلية (يحددن) (٢) أكثر من هذا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جس عورت کا خاوند انتقال کرجائے وہ چار مہینے دس دن عدت گزارے گی۔ ایک آدمی نے کہا کہ یہ بہت زیادہ ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جاہلیت میں عورتیں اس سے بھی زیادہ سوگ منایا کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 20435
٢٠٤٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبيدة عن ابن أبي ليلى عن نافع عن صفية بنت أبي عبيد أنها أخبرته أنها سمعت أم سلمة وعائشة وحفصة يقلن: قال رسول اللَّه ﷺ: " (لا يحل) (١) لامرأة تومن باللَّه واليوم الآخر تَحَدُّ على ميت فوق ثلاثة أيام، إلا على (٢) بعلها، فإنها تحد عليه أربعة أشهر وعشرًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہیں مناسکتی، سوائے اپنے خاوند کے، اس پر چار مہینے دس دن تک سوگ منائے گی