کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے ایک سال تک طلاق ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20425
٢٠٤٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن (سواء) (١) عن سعيد عن قتادة عن جابر بن زيد في رجل قال لامرأته: إن قربتك سنة فأنت طالق، قال: إن قربها قبل أن تمضي (الأربعة) (٢) أشهر فهي طالق ثلاثًا، وإن تركها حتى تمضي (الأربعة) (٣) أشهر فقد بانت منه بواحدة، ويتزوجها إن شاء؛ ولا يقربها حتى تمضي السنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میں ایک سال تک تیرے قریب آیا تو تجھے طلاق ہے۔ پھر اگر چار مہینے پورے ہونے سے پہلے وہ اس کے قریب آیا تو اسے تین طلاقیں ہوجائیں گی۔ اور اگر اسے چھوڑے رکھایہاں تک کہ چار مہینے گزر گئے تو عورت ایک طلاق کے ساتھ بائنہ ہوجائے گی اور آدمی اگر چاہے تو اس سے نکاح کرلے لیکن سال پورا ہونے سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20425
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20425، ترقيم محمد عوامة 19626)
حدیث نمبر: 20426
٢٠٤٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن سواء عن سعيد عن قتادة عن الحسن قال: إن قربها قبل أن تمضي أربعة أشهر فهي طالق ثلاثًا، فإن تركها حتى تمضي أربعة أشهر فقد بانت (منه) (١) بواحدة، ويتزوجها إن شاء ويدخل بها قبل أن تمضي السنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ چار مہینے پورے ہونے سے پہلے اس کے پاس آیا تو اسے تین طلاقیں ہوجائیں گی اور اگر اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ چار مہینے گزر گئے تو وہ ایک طلا ق کے ساتھ بائنہ ہوجائے گی۔ اور اگر چاہے تو اس سے شادی کرلے اور سال پورا ہونے سے پہلے اس سے جماع کرسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20426
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20426، ترقيم محمد عوامة 19627)
حدیث نمبر: 20427
٢٠٤٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن سواء عن سعيد عن حماد عن إبراهيم قال: إن قربها (قبل) (١) أن تمضي أربعة أشهر فهي طالق (ثلاثًا) (٢)، وإن تركها حتى تمضي (الأربعة) (٣) (أشهر) (٤) فقد بانت منه بواحدة، ولا يتزوجها حتى يمضي من السنة (أقل مما يدخل عليه الإيلاء، شهران أو ثلاثة ويتزوجها ولا يقربها حتى تمضي السنة) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ چار مہینے پورے ہونے سے پہلے اس کے قریب آیا تو اسے تین طلاقیں ہوجائیں گی۔ اور اگر چار مہینے تک اسے چھوڑے رکھا تو وہ ایک طلاق کے ساتھ بائنہ ہوجائے گی، اور وہ اس سے اس وقت تک شادی نہیں کرسکتا جب تک ایلاء سے کم دن یعنی دو یاتین مہینے نہ گزر جائیں۔ پھر وہ اس سے شادی کرلے لیکن ایک سال تک اس کے قریب نہ جائے۔ حضرت سعید رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20427
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20427، ترقيم محمد عوامة 19628)
حدیث نمبر: 20428
٢٠٤٢٨ - وذلك رأي (سعيد) (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20428
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20428، ترقيم محمد عوامة ---)