کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: عورتوں کے ساتھ ہمدردی کرنے کابیان
حدیث نمبر: 20412
٢٠٤١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة قال: نا مسعر عن عمرو بن مرة عن (أبي) (١) (البختري) (٢) قال: اشتكى إبراهيم إلى ربه (درءًا) (٣) في ⦗٥٠٨⦘ خلق سارة فأوحى اللَّه (تعالى) (٤) إليه أن المرأة كالضلع، فإن (قومتها) (٥) كسرتها، وإن (تركتها) (٦) أعوجت (فالبس) (٧) على ما كان (فيها) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بختری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے حضرت سارہ کے اخلاق کی شکایت کی ، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ عورت پسلی کی طرح ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے اور اگر چھوڑ دو گے توٹیڑھا کردو گے۔ اس کی عادتوں کے باوجود اس کے ساتھ گزارا کرو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20412
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20412، ترقيم محمد عوامة 19614)
حدیث نمبر: 20413
٢٠٤١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا (هوذة) (١) بن خليفة قال: نا عوف عن رجل قال: سمعت سمرة بن جندب يخطب على منبر البصرة يقول: سمعت رسول اللَّه ﷺ (يقول) (٢): "إن المرأة خُلقت من ضلع، وإنك إن ترد إقامة الضلع (تكسره) (٣) فداوها تعش بها، (فداوها تعش بها) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن جندب رحمہ اللہ نے بصرہ کے منبر پر حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل فرمایا کہ عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، اگر تم پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے توتوڑ دو گے۔ تم اس کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے زندگی گزارو۔ تم اس کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے زندگی گزارو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20413
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20413، ترقيم محمد عوامة 19615)
حدیث نمبر: 20414
٢٠٤١٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن أبي طلق عن أبيه (عن) (١) أوس ابن (ثريب) (٢) قال: أكريت (الحاج) (٣) فدخلت المسجد الحرام، فإذا (عمر (و) (٤) جرير) (٥) قال: فقال عمر (لجرير: يا أبا عمرو) (٦) كيف تصنع (مع) (٧) نسائك؟ فقال: يا أمير المؤمنين! إني ألقى منهن شدة، ما أستطيع أن أدخل (بيت) (٨) (إحداهن) (٩) في غير يومها، ولا أُقبّل (ابن) (١٠) (إحداهن) (١١) في غير (يوم أمه) (١٢) إلا غضبن، قال: فقال عمر: إن كثيرًا منهن لا (يؤمِنّ) (١٣) باللَّه ولا (يؤمنّ) (١٤) للمؤمنين، لعلك أن تكون في حاجة (إحداهن) (١٥) (فتتهمك) (١٦) قال: فقال عبد اللَّه ابن مسعود وهو في القوم: يا أمير المؤمنين! أما تعلم أن إبراهيم شكا إلى ⦗٥١٠⦘ (ربه) (١٧) درءًا في خلق سارة قال: فقيل له: إن المرأة (مثل الضلع) (١٨) إن أقمتها كسرتها وإن تركتها اعوجت، فالبس أهلك على (ما فيهم) (١٩)، قال: فقال عمر لعبد اللَّه: إن في قلبك من العلم غير قليل، (قالها) (٢٠) ثلاث مرات، زاد فيه بعض ((أصحابه) (٢١) أظنه) (٢٢) سفيان: ما لم ير عليها (خربة) (٢٣) في دينها (٢٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوس بن ثریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کے ارادے سے مسجد حرام میں داخل ہوئے تو مسجد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت جریر رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابو عمرو رضی اللہ عنہ ! آپ کا اپنی عورتوں کے ساتھ کیسا رویہ ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے ان کی طرف سے بہت سختی کا سامنا ہے۔ میں ان میں سے کسی کے کمرے میں باری کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا۔ اگر میں ان میں سے کسی کے بچے کو بھی اس کی ماں کی باری کے علاوہ کسی اور دن چوم لوں تو وہ غصے میں آجاتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان میں بہت سی عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتیں اور نہ مومنین کو مانتی ہیں۔ بلکہ اگر تمہیں ان میں سے کسی کی کبھی ضرورت ہو تو وہ تم پر ہی الزام دھریں گی۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے امیر المومنین ! کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے اخلاق اور ان کی نافرمانی کی شکایت کی تھی تو ان سے کہا گیا تھا کہ عورت پسلی کی طرح ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو ٹیڑھا کردو گے۔ ان کی عادتوں کے باوجود ان کے ساتھ گزارہ کرو۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تمہارے دل میں بہت زیادہ علم ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20414
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20414، ترقيم محمد عوامة 19616)
حدیث نمبر: 20415
٢٠٤١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا حسين بن علي عن زائدة عن ميسرة عن أبي حازم عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "استوصوا بالنساء (١)، فإن المرأة خلقت من ضلع، وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه، (إن) (٢) ذهبت تقيمه كسرته وإن (تركته) (٣) لم (يزل) (٤) أعوج، استوصوا بالنساء (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ بھلائی کرو، عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، پسلی میں بھی سب سے ٹیڑھا حصہ اوپر والا ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے توتوڑ دو گے۔ اگر تم اسے چھوڑ دو گے تو وہ اور ٹیڑھی ہوتی جائے گی۔ عورتوں کے ساتھ بھلائی کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20415
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٣٣١)، ومسلم (١٤٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20415، ترقيم محمد عوامة 19617)
حدیث نمبر: 20416
٢٠٤١٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا (عبيدة) (١) بن حميد عن (ركين) (٢) عن نعيم بن حنظلة قال: قدم جرير بن عبد اللَّه على عمر فشكا إليه ما يلقى من النساء من سوء أخلاقهن، قال: فقال عمر: إني ألقى مثل ما تلقى منهن، إني لآتي، قال -السوق أو الناس- أشتري منهم الدابة أو الثوب، فتقول المرأة: إنما انطلق ينظر إلى (فتياتهم) (٣) أو يخطب إليهم، قال: فقال عبد اللَّه بن مسعود: أو ما تعلم (ما) (٤) شكا إبراهيم من درء في خلق سارة، فأوحى اللَّه إليه، إنما هي من ضلع، فخذ الضلع فأقمه، فإن استقام وإلا فالبسها على ما (فيها) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعیم بن حنظلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بیویوں کی بداخلاقی کی شکایت کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس پریشانی کا سامنا تمہیں ہے مجھے بھی ہے۔ میں جب کبھی بازار جاؤں یا لوگوں سے ملوں ، کوئی جانور یا کپڑا خریدوں تو کہنے لگتی ہیں کہ یہ بازار لڑکیوں کو دیکھنے جاتا ہے اور انہیں نکاح کا پیام دیتا ہے ! یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے اخلاق اور ان کی نافرمانی کی شکایت کی تھی تو ان سے کہا گیا تھا کہ عورت پسلی کی طرح ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو ٹیڑھا کردو گے۔ ان کی عادتوں کے باوجود ان کے ساتھ گزارہ کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20416
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن إلى عمر، نعيم بن حنظلة صدوق، أخرجه يعقوب في المعرفة ٢/ ٣١٦، وابن عساكر ٣٣/ ١٤٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20416، ترقيم محمد عوامة 19618)