کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی شخص کسی حاملہ بیوی کوطلاق دے اور پھر وہ بچے کوجنم دے دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20381
٢٠٣٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن (بشر) (١) العبدي قال: (نا) (٢) عمرو بن ميمون عن أبيه قال: كانت أم كلثوم تحت الزبير بن العوام وكان رجلًا (شديدًا) (٣) على النساء، (فكرهته) (٤) فسألته أن يطلقها وهي حامل فأبى، (فلما) (٥) ضربها الطلق ألحت عليه في تطليقة فطلقها واحدة وهو يتوضأ، ثم خرج فأدركه إنسان فأخبره أن أم كلثوم قد وضعت حملها، قال: خدعتني خدعها اللَّه! (فأتى) (٦) النبي ﵇ فذكر ذلك له وأخبره بالذي صنعت فقال: "سبق كتاب اللَّه ⦗٤٩٨⦘ (فيها) (٧)، (اخْطبْهَا) (٨) "، فقال: (٩) لا ترجع (إلي) (١٠) أبدًا (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ عنہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ وہ عورتوں پر سختی کرنے والے آدمی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ انہیں ناپسند کرتی تھیں۔ انہوں نے حالت حمل میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے طلاق کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ جب انہیں درد زہ ہونے لگا تو انہوں نے ایک طلاق کا پرزور مطالبہ کیا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ وضو کررہے تھے انہوں نے ایک طلاق دے دی۔ جب وہ باہر آئے تو انہیں کسی نے بتایا کہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے بچے کو جنم دے دیا ہے۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ اس کا ناس کرے اس نے مجھے دھوکہ دیا ! پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س حاضر ہوئے اور ان سے قصہ عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب غالب آگئی، تم انہیں نکاح کا پیام بھیج سکتے ہو۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب وہ کبھی میرے نکاح میں واپس نہیں آئیں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20381
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ميمون تابعي، أخرجه إسحاق كما في المطالب (١٧٣٣)، والضياء في المختارة (٨٦٨)، والشاشي (٥٦)، وابن عساكر ١٨/ ٤٠٠، وابن شبة في أخبار المدينة (٨٦٢)، وابن سعد ٨/ ٢٣٠، ورواه ابن ماجه (٢٠٢٦)، وعبد الرزاق (١١٧٢١)، من حديث ميمون عن الزبير، ورواه البيهقي ٧/ ٤٢١، من حديث أم كلثوم بنت عقبة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20381، ترقيم محمد عوامة 19587)