کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر آدمی نے ایک عورت سے عدت میں شادی کی پھر اسے طلاق دے دی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20377
٢٠٣٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن زكريا عن الشعبي في امرأة تزوجت رجلًا فمكثت عنده سنتين ثم قدم زوجها فأخذها فطلقها الآخر قال: لا طلاق له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک عورت نے کسی آدمی سے شادی کی اور پھر دو سال اس کے پاس رہی۔ پھر اس کا شوہر آیا اور اس عورت کو لے گیا۔ پھر دوسرے آدمی نے اس کو طلاق دے دی تو اس کی طلاق کا اعتبار نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20377
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20377، ترقيم محمد عوامة 19583)
حدیث نمبر: 20378
٢٠٣٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: كل نكاح فاسد لا يثبت، فليس طلاقه فيه (بطلاق) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر نکاح فاسد کا کوئی اعتبار نہیں اور اس کی طلاق کی کوئی حیثیت نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20378
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20378، ترقيم محمد عوامة 19584)