کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی آدمی کے بارے میں دو شخص گواہی دیں کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے پھر قاضی ان دونوں کے درمیان جدائی کرادے ، اس کے بعد دونوں گواہوں میں سے ایک اپنی گواہی سے رجوع کرلے توکیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20351
٢٠٣٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن يزيد بن (زادي) (١) مولى (يحيلة) (٢) ⦗٤٨٨⦘ عن الشعبي أنه سئل عن رجل شهد عليه رجلان بطلاق امرأته ففرق القاضي (بينهما) (٣)، فرجع أحد الشاهدين وتزوجها الآخر، قال: فقال الشعبي: مضى القضاء و (لا) (٤) يلتفت إلى رجوع الذي رجع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کے بارے میں دو شخص گواہی دیں کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، پھر قاضی ان دونوں کے درمیان جدائی کرادے ، اس کے بعد دونوں گواہوں میں سے ایک اپنی گواہی سے رجوع کرلے اور دوسرا اس عورت سے شادی کرلے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ قضاء نافذ ہوچکی اب رجوع کرنے والے کے قول کا اعتبار نہیں ہوگا۔