کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کے نام خط لکھا اور اس میں اسے طلاق کا اختیار دیا اس نے خط پڑھا لیکن کوئی بات نہ کی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20346
٢٠٣٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن حجاج قال: أخبرني من سمع إبراهيم (وأتاه) (١) رجل بكتاب، فقال: إن (رجلًا) (٢) كتب إلى امرأته (فجعل) (٣) أمرها بيدها، فقرأت الكتاب، ثم وضعته تحت الفراش، فقامت ولم تقل شيئًا، قال: لا شيء لها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ کے پاس ایک آدمی ایک خط لے کر آیا اور اس نے کہا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کے نام ایک خط لکھا اور اس میں اسے طلاق کا اختیار دیا، عورت نے خط پڑھا اور اسے بستر کے نیچے رکھ دیا۔ پھر وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی اور کوئی بات نہ کی تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ عورت کا اختیار باقی نہیں رہا۔