کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص کسی چیز کے متعلق کرکے اپنی بیوی کو طلاق دینے کی قسم کھائے اور پھر دونوں کا اختلاف ہوجائے توکیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20331
٢٠٣٣١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى قال: سئل عن رجل قال لامرأته: إن لم أكن دفعت إليك كذاوكذا فأنت طالق ثلاثًا، قال: فحدثنا سعيد عن قتادة أنه قال: إن كانت له بينة، وإلا فقد بانت منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الاعلیٰ رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میں تجھے اتنا مال نہ دوں تو تجھے تین طلاقیں، اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت سعید رحمہ اللہ ، حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اگر آدمی کے پاس گواہی ہو تو ٹھیک ورنہ عورت بائنہ ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 20332
٢٠٣٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا يعلى بن عبيد عن عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء في امرأة قال لها زوجها: إن لم أنفق عليك عشرة دراهم كل شهر فأنت طالق ثلاثًا، فقالت المرأة: قد مضت ثلاثة أشهر (لم تنفق عليّ شيئًا، قال: القول ما قال الرجل، إلا أن تقيم المرأة البينة أنه) (١) لم ينفق عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میں تجھ پر ہر مہینے دس درہم خرچ نہ کروں تو تجھے تین طلاق۔ عورت نے دعویٰ کیا کہ اس نے تین مہینے سے مجھ پر کچھ خرچ نہیں کیا۔ اس صورت میں آدمی کا قول معتبر ہوگا البتہ اگر عورت خرچ نہ کرنے پر گواہی قائم کردے تو اس کی بات مانی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20333
٢٠٣٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن أبي إسحاق الكوفي عن الشعبي في رجل قال لغريمه: إن لم (أقضك) (١) حقك قبل غروب الشمس فامرأته طالق قال: فلقيه من الغد، فزعم أنه لم يعطه شيئًا قال: فقالت له امرأته: (قد) (٢) طلقتني قال: فخاصمته إلى الشعبي، فقال الشعبي: أما امرأتك فنُديِّنُك (فيها) (٣)، وأما الرجل فبينتك (٤) أنك دفعت إليه ماله، وإلا فأعطه حقه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص نے اپنے قرض خواہ سے کہا کہ اگر میں نے غروب شمس سے پہلے تیرا حق ادا نہ کیا تو میری بیوی کو طلاق۔ پھر وہ اس سے اگلے دن ملا اور اس نے کہا کہ اس نے کوئی چیز ادا نہیں کی۔ اس کی عورت نے اس سے کہا کہ تو نے مجھے طلاق دے دی ہے۔ پھر وہ یہ مقدمہ لے کر حضرت شعبی رحمہ اللہ کے پاس گئی۔ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا کہ جہاں تک تمہاری بیوی کا سوال ہے تو وہ ہم تمہاری دین داری پرچھوڑتے ہیں اور جہاں تک آدمی کی بات ہے تو تم گواہی لاؤ کہ تم نے اس کا حق ادا کردیا ہے ورنہ اس کا حق ادا کرو۔