کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی دومردوں اور ایک عورت کے سامنے اپنی بیوی کو طلاق دے، پھر دو گواہ مردوں میں سے ایک کا انتقال ہوجائے اور طلاق کے بارے میں ایک مرد اور ایک عورت گواہی دیں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20325
٢٠٣٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن زكريا عن الشعبي أنه سئل عن رجل (طلق امرأته) (١) عند رجلين وامرأة، (فشهد) (٢) أحد الرجلين والمرأة، وغاب الآخر قال: تُعزل عنه حتى يجيء الغائب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص دو مردوں اور ایک عورت کی موجودگی میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے، پھر ایک مرد اور عورت گواہی دیں جبکہ دوسرا مرد موجود نہ ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس غائب شخص کے آنے تک بیوی کو اس کے خاوند سے الگ رکھا جائے گا۔