کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر ایک شخص کا انتقال ہوجائے اور اس کی بیوی حاملہ ہو تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20310
٢٠٣١٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن سيار عن الشعبي في المتوفى عنها وهي حامل قال: يُنفق عليها من جميع المال حتى تضع، ثم يقسم الميراث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی حاملہ کا خاوند انتقال کرجائے تو بچے کی پیدائش تک اس پر کل مال میں سے خرچ کیا جائے گا پھر میراث تقسیم کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20310
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20310، ترقيم محمد عوامة 19520)
حدیث نمبر: 20311
٢٠٣١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا مات الرجل وامرأته حبلى لم يقسم الميراث حتى تضع.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کسی حاملہ کا خاوند انتقال کرجائے تو بچے کی پیدائش تک میراث تقسیم نہیں کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20311
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20311، ترقيم محمد عوامة 19521)
حدیث نمبر: 20312
٢٠٣١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن جويبر عن الضحاك قال: يقسم ويترك نصيب ذكر، فإن كانت أنثى رد على الورثة، وإن كان ذكرًا كان له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حاملہ کا خاوند انتقال کرجائے تو میراث تقسیم کردی جائے گی، اور ایک لڑکے کا حصہ چھوڑ دیا جائے گا اگر لڑکی پیدا ہوئی تو باقی ماندہ حصہ ورثاء میں تقسیم ہوگا اور اگر لڑکا ہوا تو اس کو مل جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20312
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20312، ترقيم محمد عوامة 19522)