کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر ایک آدمی اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے پھر لعان سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے تو کیا وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے؟
حدیث نمبر: 20299
٢٠٢٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء قال: يتوارثان ما لم (يتلاعنا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک لعان نہ ہو ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20299
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20299، ترقيم محمد عوامة 19510)
حدیث نمبر: 20300
٢٠٣٠٠ - [حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: يتوارثان ما لم (يتلاعنا) (١)] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک لعان نہ ہو ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20300
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20300، ترقيم محمد عوامة 19511)
حدیث نمبر: 20301
٢٠٣٠١ - [حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: إذا مات أحدهما قبل اللعان (توارث) (١)] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب لعان سے پہلے دونوں میں سے کوئی ایک مرگیا تو وہ وارث ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20301
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20301، ترقيم محمد عوامة 19512)
حدیث نمبر: 20302
٢٠٣٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم قال: يرثها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرد عورت کا وارث ہوگا۔ حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرد کو کوڑے لگائے جائیں گے اور وہ وارث ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20302
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20302، ترقيم محمد عوامة 19513)
حدیث نمبر: 20303
٢٠٣٠٣ - وقال (الحكم) (١): يضرب (٢) ويرثها.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20303
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20303، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 20304
٢٠٣٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن خالد عن عكرمة قال: في رجل قذف امرأته (فماتت) (١) قبل أن يلاعنها قال: إن (كذب) (٢) نفسه جُلد (وورثها) (٣) وإن أقام شهودا ورث، وإن حلف لم يرث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ عورت لعان سے پہلے انتقال کرگئی تو اگر وہ آدمی اپنی تکذیب کردے تو اسے کوڑے لگائے جائیں گے اور وہ وارث ہوگا اور اگر وہ گواہ پیش کردے تو وارث ہوگا اور اگر قسم کھائے تو وارث نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20304
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20304، ترقيم محمد عوامة 19514)
حدیث نمبر: 20305
٢٠٣٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن جابر بن زيد أنه قال: إذا مات أحدهما قبل الملاعنة، إن هي أقرت بها رجمت وصار إليها الميراث، وإن التعنت ورثت، وإن لم تقر (بواحد) (١) (منهما) (٢) فلا ميراث لها ولا عدة عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ان دونوں میں سے کوئی ایک لعان سے پہلے مرگیا اور پھر اگر عورت زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کیا جائے گا اور میراث اس کے مال میں شامل ہوگی اور اگر وہ لعان کرے تو وارث ہوگی۔ اگر وہ ان دونوں چیزوں میں سے کسی کا اقرار نہ کرے تو اسے میراث نہیں ملے گی اور اس پر عدت بھی لازم نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20305
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20305، ترقيم محمد عوامة 19515)
حدیث نمبر: 20306
٢٠٣٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا (١) إسماعيل بن علية عن معمر عن الزهري في رجل قذف امرأته ثم ماتت قال: يرثها ولا ملاعنة بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی اور پھر وہ مرگئی تو آدمی اس عورت کا وارث ہوگا اور دونوں کے درمیان لعان نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20306
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20306، ترقيم محمد عوامة 19516)
حدیث نمبر: 20307
٢٠٣٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن عبد الملك عن عطاء قال: يجلد ولا ملاعنة بعد الموت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں اسے کوڑے لگائے جائیں گے اور موت کے بعدلعان نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20307
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20307، ترقيم محمد عوامة 19517)
حدیث نمبر: 20308
٢٠٣٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا (محمد) (١) بن فضيل عن أشعث عن الشعبي قال: إذا قذفها ثم ماتت قبل أن يلاعنها قال: إن شاء أكذب نفسه وورث، وإن شاء لاعن ولم يرث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ لعان سے پہلے مرگئی تو اگر وہ چاہے تو اپنی تکذیب کردے اور وارث ہوجائے اور اگر چاہے تو لعان کرلے ا س صورت میں وار ث نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20308
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20308، ترقيم محمد عوامة 19518)
حدیث نمبر: 20309
٢٠٣٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن أشعث عن الحكم (عن إبراهيم) (١) قال: يتوارثان ما لم (يتلاعنا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک لعان نہ ہو ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20309
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20309، ترقيم محمد عوامة 19519)