کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک بچے کے دودھ کا انتظام مرد کے ذمہ ہے عورت کے ذمہ نہیں
حدیث نمبر: 20291
٢٠٢٩١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن إدريس عن ابن جريج عن عمرو ابن شعيب عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب أوقف بني عم (منفوس) (١) كلالة برضاعه على ابن (عم) (٢) له (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایسے بچے کے دودھ کا انتظام اس کے چچا زاد مردوں پر کیا جس کے باپ کے انتقال کے بعد اس کا کوئی مال باقی نہیں رہا تھا۔
حدیث نمبر: 20292
٢٠٢٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة (١) عن الحسن: ﴿وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ﴾ قال: على الرجال دون النساء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی آیت { وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِکَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بچے کے دودھ کا انتظام مرد کے ذمہ ہے عورت کے ذمہ نہیں۔
حدیث نمبر: 20293
٢٠٢٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر بن سليمان عن يونس عن الحسن سئل عن صبي له أم وعم، والأم موسرة والعم معسر (فقال) (١): النفقة على العم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اس بچے کی ماں مال دار ہے جبکہ چچا غریب ہے، دودھ کے انتظام کی ذمہ داری کس پر ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا کہ نفقہ چچاپرلازم ہے۔
حدیث نمبر: 20294
٢٠٢٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن مطرف عن إسماعيل (عن الحسن) (١) عن زيد بن ثابت قال: إذا كان عم وأم، فعلى الأم بقدر ميراثها، وعلى العم بقدر ميراثه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ماں بھی ہو اور چچا بھی تو ماں کی ذمہ داری اس کی میراث کے بقدر اور چچا کی ذمہ داری اس کی میراث کے بقدر ہوگی۔