کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ میں ضرور بضرور تجھ پربہت زیادہ غصہ ڈھاؤں گا تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20259
٢٠٢٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن حماد قال: سمعته يقول: قلت لإبراهيم: ما الإيلاء؟ قال: [أن يحلف (لا) (١) يكلمها، ولا يجامعها، ولا يجمع رأسه رأسها] (٢) وليغيظنها [أو ليسوءنها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ ایلاء کیا چیز ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ آدمی اس بات کی قسم کھالے کہ وہ بیوی سے بات نہیں کرے گا، اس سے جماع نہیں کرے گا، اس کا اور اس کی بیوی کا سر جمع نہیں ہوں گے۔ یا وہ اس پر ضرور بضرور بہت زیادہ غصہ ڈھائے گا یا وہ اس کے ساتھ بہت برا سلوک کرے گا۔
حدیث نمبر: 20260
٢٠٢٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن مبارك عن معمر عن خصيف عن الشعبي في رجل قال لامرأته: واللَّه لأسوءنك قال: إن كان يعني بذلك امرأة يتزوجها، أو جارية يتسراها فليس بشيء، وإن كان يعني الجماع فهو إيلاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ خدا کی قسم میں تیرے ساتھ بہت برا سلوک کروں گا، اگر اس جملے سے اس کی مراد یہ تھی کہ وہ کسی اور عور ت سے شادی کرے گا یا کسی باندی سے جماع کرے گا تو یہ کوئی چیز نہیں اور اگر مراد جماع نہ کرنے کی نیت تھی تو یہ ایلاء ہے۔
حدیث نمبر: 20261
٢٠٢٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود عن شعبة قال: سمعت الحكم يقول في الرجل قال لامرأته: واللَّه لأسوءنك، فتركها أربعة أشهر (قال) (١): (هو) (٢) إيلاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ خدا کی قسم ! میں تیرے ساتھ بہت برا سلوک کروں گا اور پھر چا ر مہینے تک اسے چھوڑے رکھا تو یہ ایلاء ہے۔