حدیث نمبر: 20254
٢٠٢٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع بن الجراح عن موسى بن عبيدة عن محمد ابن كعب أن امرأة من أهل البادية كانت عند رجل من بني عمها، (فمات) (١) عنها فتزوجها رجل من الأنصار، فجاء بنو عم الجارية فقالوا: (نأخذ) (٢) ابنتنا، قالت: إني أنشدكم اللَّه أن تفرقوا بيني وبين ابنتي؛ فأنا الحامل؛ وأنا المرضع؛ وليس أحد (أخير) (٣) (لقرب ابنتي) (٤) مني، (فأبوا) (٥)، (فقالت) (٦): موعدكم رسول اللَّه ﷺ ثم قال: خيرك رسول اللَّه ﷺ فقولي: أختار اللَّه والإيمان ودار المهاجرين والأنصار فقال النبي: "والذي نفسي بيده! لا (تذهبون) (٧) بها (ما بقيت) (٨) عُنِقُي في مكانها". وجاءوا إلى أبي بكر فقضى لهم بها فقال بلال: يا خليفة رسول اللَّه، شهدت هؤلاء النفر وهذه المرأة عند رسول اللَّه ﷺ اختصموا، فقضى بها لأمها، ⦗٤٦٢⦘ (فقال أبو بكر) (٩): وأنا والذي نفسي بيده! (لا يذهبون) (١٠) بها ما دامت عنقي في (مكانها) (١١)، فدفعها إلى أمها (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیہات کی ایک عورت اپنے چچا زاد کے گھر میں تھی۔ (اس خاوند سے اس کی ایک بیٹی پیدا ہوئی) اس کے خاوند کا انتقال ہوگیا تو اس نے ایک انصاری مرد سے شادی کرلی۔ اس شادی کے بعد لڑکی کے چچا زاد آگئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کو لے جائیں گے۔ اس عورت نے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتی ہوں کہ تم میرے اور میری بیٹی کے درمیان میں نہ آؤ۔ میں نے اس کو پیٹ میں اٹھایا ہے اور میں نے اس کو دودھ پلایا ہے۔ مجھ سے بڑھ کر کوئی اس بچی کا استحقاق نہیں رکھتا۔ لوگوں نے اس کی بات کا انکار کیا تو اس نے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو اور فیصلہ کرالو۔ پھر اس خاتون نے اپنی بچی سے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اختیار دیں تو تم کہنا کہ میں نے اللہ کو، ایمان کو، مہاجرین اور انصار کے گھر کو اختیار کرلیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم ! جب تک میری جان ہے تم اسے نہیں لے جاسکتے۔ (حضور ﷺ کے وصال کے بعد) پھر وہ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے بچی کا فیصلہ اس کے خاندان والوں کے حق میں کردیا۔ اس پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! میری موجودگی میں یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے، یہ عورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچی کا فیصلہ عورت کے حق میں فرمایا تھا۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میر ی جان ہے جب تک میں زندہ ہوں تم اس بچی کو نہیں لے جاسکتے۔ پھر آپ نے وہ بچی اس کی ماں کو دے دی۔
حدیث نمبر: 20255
٢٠٢٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا يعلى بن عبيد عن زكريا عن الشعبي في جارية أرادت أمها أن تخرج بها من الكوفة فقال: عصبتها أحق بها من أمها إن خرجت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ کے پاس ایک مقدمہ لایا گیا کہ ایک خاتون اپنی بیٹی کو کوفہ سے نکالنا چاہتی تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر ماں بچی کو شہر سے نکالنا چاہتی ہے تو بچی کے عصبات اس کے زیادہ حقدار ہیں۔
حدیث نمبر: 20256
٢٠٢٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن يونس بن (عبد اللَّه) (١) بن ربيعة عن عمارة بن ربيعة الجرمي قال: غزا أبي نحو البحر في بعض تلك (المغازي) (٢)، فقتل فجاء عمي ليذهب بي (فخاصمته) (٣) أمي إلى علي قال: ومعي أخ لي صغير قال: فخيرني علي ثلاثًا فاخترت أمي فأبى عمي أن يرضى فوكزه علي بيده وضربه بدرته وقال: وهذا أيضا (لو) (٤) قد بلغ (خُيّر) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ بن ربیعہ جرمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد ایک سمندری غزوہ میں شہید ہوگئے۔ میرے چچا مجھے لینے کے لئے آگئے۔ میری والدہ اس مقدمہ کو لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ میرا چھوٹا بھائی بھی میرے ساتھ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے تین مرتبہ اختیار دیا تو میں نے اپنی والدہ کو اختیار کیا۔ میرے چچا نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں مکا مارا اور انہیں اپنا کوڑا مارا اور فرمایا کہ یہ فیصلہ ہوچکا اور جب یہ بالغ ہوگا تو اسے اختیار دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 20257
٢٠٢٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة قال: خيّر شريح غلامًا وجارية يتيمين، فاختارت الجارية (مواليها) (١)، واختار الغلام عمته فيما يحسب، فأجازه شريح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شریح رحمہ اللہ نے ایک یتیم لڑکے اور ایک یتیم لڑکی کو اختیار دیا۔ لڑکی نے اپنے موالی کو اور لڑکے نے اپنی پھوپھی کو اختیار کیا تو حضرت شریح نے اسے درست قرار دیا۔
حدیث نمبر: 20258
٢٠٢٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا (١) معاوية (بن) (٢) هشام قال: نا سفيان عن (عبد اللَّه) (٣) بن أبي السفر عن الشعبي في رضاع الصبي قال: أمه أحق به ما كانت في (المصر) (٤)، فإذا (أرادت) (٥) أن تخرج به إلى السواد فالأولياء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ بچے کو دودھ پلانے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر اس کی ماں اسی شہر میں ہو تو وہ زیادہ حقدار ہے اور اگر وہ شہر کو چھوڑنا چاہے تو اولیاء اس انتظام کے زیادہ حقدار ہیں۔